1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

امیر مینائی خیالِ لب میں ابرِ دیدہ ہائے تر برستے ہیں ۔ امیر مینائی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 12, 2010

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    غزل

    خیالِ لب میں ابرِ دیدہ ہائے تر برستے ہیں
    یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

    خدا کے ہاتھ ہم چشموں میں ہے اب آبرو اپنی
    بھرے بیٹھے ہیں دیکھیں آج وہ کس پر برستے ہیں

    ڈبو دیں گی یہ آنکھیں بادلوں کو ایک چھینٹے میں
    بھلا برسیں تو میرے سامنے کیونکر برستے ہیں

    جہاں ان ابروؤں پر میل آیا کٹ گئے لاکھوں
    یہ وہ تیغیں ہیں جن کے ابر سے خنجر برستے ہیں

    چھکے رہتے ہیں‌ مے سے جوش پر ہے رحمتِ ساقی
    ہمارے میکدے میں غیب سے ساغر برستے ہیں

    جو ہم برگشتۂ قسمت آرزو کرتے ہیں پانی کی
    زہے بارانِ رحمت چرخ سے پتھر برستے ہیں

    غضب کا ابرِ خوں افشاں ہے ابرِ تیغِ قاتل بھی
    رواں ہے خون کا سیلاب لاکھوں سر برستے ہیں

    سمائے ابرِ نیساں خاک مجھ گریاں کی آنکھوں میں
    کہ پلکوں سے یہاں بھی متصل گوہر برستے ہیں

    وہاں ہیں سخت باتیں، یاں امیر آنسو پر آنسو ہیں
    تماشا ہے اِدھر، موتی اُدھر پتھر برستے ہیں

    (امیر مینائی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    واہ واہ ! بہت ہی عمدہ جناب ۔۔خوش رہیں۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ کاشفی صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد شعیب خٹک

    محمد شعیب خٹک معطل

    مراسلے:
    314
    بہت خوب
    لیکن شاید کچھ ٹائپنگ مسٹیکس ہیں۔
    نظر ثانی فرما لیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    شکریہ خٹک صاحب! کچھ نشاندہی فرمائیں گے تو شاید کچھ اصلاح کر سکوں۔ ویسے آپ کو کہاں غلطی محسوس ہوئی؟
     
  6. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    شکریہ سخنور بھائی غزل واقعی بہت خوب ہے ۔ اور مجھے تو کہیں کوئی غلطی محسوس نہیں ہوئی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پسند فرمانے کے لئے بہت شکریہ پیاسا صحرا!
     
  8. محمد شعیب خٹک

    محمد شعیب خٹک معطل

    مراسلے:
    314
    "چھکے رہتے ہیں"

    یہ "چھکے" کا کیا مطلب ؟
     
  9. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    چھکے رہتے ہیں یعنی غافل رہتے ہیں۔
    چھَکا دینا ۔ سیر کر دینا، غنی اور بے پرواہ کر دینا۔
    ساقی تری نگاہ نے ایسا چھکا دیا
    غم دو جہاں کا بس ترے یک جام سے گیا
    (منتظر)

    چھکاؤں میں تجھے رندوں کو تُو چھکائے جا
    یہی ہے جام سے ہر دم کلام شیشے کا
    (ناسخ)

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. محمد شعیب خٹک

    محمد شعیب خٹک معطل

    مراسلے:
    314
    بہت بہت شکریہ سخنور صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    واہ کیا چھکا چھک غزل ہے۔ بہت شکریہ حضور!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    دو اور امیر مینائی کے چھکے بھی ہیں۔ اسے بھی دیکھیے گا۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    امیر مینائی کے چھکے؟؟؟ گویا میرؔ کے بعد اب امیرؔ پر بھی تحقیق کا دفتر کھولنا پڑے گا:rolleyes:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر