خوبصورت نظمیں

umeedaurmohabbat نے کہا:
محبت مر بھی سکتی ہے۔۔۔

بہم رہ کر ،
اگر بڑھ جائیں ، دل کے فاصلے یکدم ،
بچھڑ جانے کا پھر یہ فیصلہ کر بھی سکتی ہے
محبت مر بھی سکتی ہے۔

(فاخرہ بتول)



امید، پہلے تو کہیں یہ بھی پوسٹ‌کی تھی نظم

محبت مر نہیں سکتی

اب محبت مار بھی دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کس بات کو درست سمجھا جائے :)
 

شائستہ

محفلین
ظفری نے کہا:
شائستہ جی آپ کو میری عمر کے علاوہ بھی سب خبر ہے ۔۔ پھر بھی پوچھتیں ہیں کہ میں ہوں کہاں ۔۔ ؟ :wink:

اور ۔۔ نوید بھائی آپ کی پرخلوص محبت اور توجہ کا بہت بہت شکریہ ۔
وہ تو پتا ہے لیکن پوچھا اس لیے کہ آپ غائب تھے محفل سے
 

شائستہ

محفلین
ہجر کے ماہتاب ، سن
ہم بھی ہیں‌ تیرے ہم سفر
ہم سے بھی کوئی بات کر
ہم تو تیرے رفیق ہیں
ہم سے نہ اجتناب کر

دشت فراق یار میں
ازلوں کے ہمرکاب سن
ہجر کے ماہتاب سن
بخت میں‌ جب نہ چین ہو

وقت سے کیا گلہ کریں
اس سے کہاں ملا کریں
راہ میں‌ اس کو روک لیں
کیسے یہ حوصلہ کریں

تو تو ہمارے ساتھ چل
تو تو ہمارے خواب سن
ہجر کے ماہتاب سن
تاروں میں‌انتشار ہے

کسی کی نگاہ کے سبب
اپنی ہی چاہ کے سبب
ہم نے جسے گنوا دیا
شدت راہ کے سبب

اس کے فراق کا
ہم سے کبھی حساب سن
ہجر کے ماہتاب سن
 

شائستہ

محفلین
یہ نظم میری پسندیدہ نظموں میں سے ایک ہے

سائیاں میرے اچھے سائیاں

سائیاں ذات ادھوری ہے
سائیاں بات ادھوری ہے
سائیاں رات ادھوری ہے
سائیاں مات ادھوری ہے
دشمن چوکنا ہے لیکن
سائیاں گھات ادھوری ہے

سائیاں تیرے گاون میں
دکھ کی سیاہ فضاون مین
نامانوس ہواون میں
لوگوں اور بلاوں مین
قید ہوے ہیں مدت سے
ہم بےکار دعاون مین

سائیاں رنج ملال بہت
دیوانے بےحال بہت
قدم قدم پر جال بہت
پیار محبت کال بہت
اور اسی عالم میں سائیاں
گزر گے ہیں سال بہت
ابھی ادھی لکھی ہے
 

عبدالجبار

محفلین
رت جگا

۔۔۔۔۔۔۔رت جگا

کل رات کہ پچھلے پہر
مجھے اِک سپنا آیا
اس سپنے میں تجھ کو اپنا پایا
مگر!
صبح ہوتے ہی
وہ سپنا ٹوٹ گیا
بکھر گیا۔۔۔۔۔۔
اور اس کی کرچیاں
میری روح میں پیوست ہو گئیں
سو میں نے اب سوچا ہے
کہ شب بھر جاگوں گا
تا کہ نہ تیرے خواب آئیں
نہ میری آنکھوں میں سمائیں
اور نہ میری روح کرچی کرچی ہو
 

جاویداقبال

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

نصیحت:-
میں نے اقبال سے ازراہ نصیحت یہ کہا
عامل روزہ ہے تو،اورنہ پابند نماز

توبھی ہے شیوہء ارباب ریامیں کامل
دل میں لندن کی ہوس لب پہ ترے ذکرحجاز

جھوٹ بھی مصلحت آمیز تیراہوتاہے
تیرا انداز تعلق بھی سراپا اعجاز

ختم تقریر تری مدحت سرکارپہ ہے
فکرروشن ہے تیرا موجد آئین نیاز

درحکام بھی تجکو مقام محمود
پالسی بھی تری پیچیدہ تراز زلف ایاز

اورلوگوں کی طرح توبھی چھپاسکتاہے
پردہء خدمت دیں میں ہوس جاہ کاراز

نظر آجاتاہے مسجدمیں بھی توعید کے دن
اثر وعظ سے ہوتی ہے طبیعت بھی گذار

دست پرورد ترے ملک کے اخبار بھی ہیں
چھیڑنافرض ہے جن پر تری تشہیر کاراز

اس پہ طرہ ہے کہ توشعربھی کہہ سکتاہے
تیری مینائے سخن میں ہے شراب شیراز

علامہ اقبال(رحمۃ اللہ علیہ)


والسلام
جاویداقبال
 
محبت اب نہیں ہوگی۔ ۔ ۔ ۔

ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشم حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ابر باراں میں

یہ نا آباد وقتوں میں
دل نا شاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گزر جائیں گے جب یہ دن
ان کی یاد میں ہوگی

محبت اب نہیں ہوگی۔ ۔ ۔ ۔
کچھ دن بعد میں ہوگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(امجد اسلام امجد)
ََِِِِٰ
 

عمر سیف

محفلین
میں بھی کتنا پاگل ہوں نا !
جب بھی رات کو گھر آتا ہوں
اپنے دروازے پہ دستک دیتے لمحے
اکثر میری سوچ یہ مجھ سے کہتی ہے
آج تو دروازہ کھولے گی
مجھ کو دیکھ کہ مسکائے گی
میرا ماتھا چومے گی
شرمائے گی
گھر میں داخل ہو کر میں بھی کوئی شرارت کر دونگا
تو خود میں سمٹ کر رہ جائے گی
میں بھی کتنا پاگل ہوں نا
کیا کیا سوچا کرتا ہوں
میں بھی کتنا پاگل ہوں نا !
(وصی شاہ)
 

شائستہ

محفلین
umeedaurmohabbat نے کہا:
محبت اب نہیں ہوگی۔ ۔ ۔ ۔

ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشم حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ابر باراں میں

یہ نا آباد وقتوں میں
دل نا شاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گزر جائیں گے جب یہ دن
ان کی یاد میں ہوگی

محبت اب نہیں ہوگی۔ ۔ ۔ ۔
کچھ دن بعد میں ہوگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(امجد اسلام امجد)
ََِِِِٰ
بہت خوبصورت نظم ہے
 

شائستہ

محفلین
شائستہ نے کہا:
یہ نظم میری پسندیدہ نظموں میں سے ایک ہے

سائیاں میرے اچھے سائیاں

سائیاں ذات ادھوری ہے
سائیاں بات ادھوری ہے
سائیاں رات ادھوری ہے
سائیاں مات ادھوری ہے
دشمن چوکنا ہے لیکن
سائیاں گھات ادھوری ہے

سائیاں تیرے گاون میں
دکھ کی سیاہ فضاون مین
نامانوس ہواون میں
لوگوں اور بلاوں مین
قید ہوے ہیں مدت سے
ہم بےکار دعاون مین

سائیاں رنج ملال بہت
دیوانے بےحال بہت
قدم قدم پر جال بہت
پیار محبت کال بہت
اور اسی عالم میں سائیاں
گزر گے ہیں سال بہت
ابھی ادھی لکھی ہے

سائیاں ہر سو درد بہت
موسم موسم سرد بہت
راستہ راستہ گرد بہت
چہرہ چہرہ زردبہت
اور ستم ڈھانے کی خاطر
تیرا اک اک فرد بہت

سائیاں تیرے شہر بہت
گلی گلی میں زہر بہت
خوف زدہ ہے دہر بہت
اس پر تیرا قہر بہت
کالی راتیں اتنی کیوں
ہم کو ایک ہی پہر بہت



سائیاں دل مجبور بہت
روح بھی چور و چور بہت
پیشانی بےنور بہت
اور لمحےمغرور بہت
ایسے مشکل عالم میں
تو بھی ہم سے دور بہت

سائیاں راہیں تنگ بہت
دل کم ہیں اور سنگ بہت
پھر بھی تیرے رنگ بہت
خلقت ساری تنگ بہت
سائیاں تم کو اتے ہیں
بہلانے کے ڈھنگ بہت
 

دوست

محفلین
اچھی لگیں نظمیں۔
امید اورمحبت کی بھی اور شائستہ کی بھی۔
جاوید بھائی کا پیش کیا ہوا کلام اقبال سے انتخاب بھی اچھا تھا۔
اور وصی شاہ میرا ہمیشہ پسندیدہ شاعر رہا ہے۔شکریہ ضبط اتنی اچھی شئیرنگ پر۔
 

شائستہ

محفلین
شکریہ ، دوست جی اور نوید
نوید اگلی قسط حاضر ہے نظم کی

سائیاں میرے تارے گم
رات کے چند سہارے گم
سارے جان سے پیارے گم
انکھین گم نظارے گم
ریت میں انسو ڈوب گے
راکھ میں ہوے شرارے گم

سائیاں میری راتیں گم
ساون اور برساتیں گم
لب گم گشتہ باتیں گم
بینای گم جھاتیں گم
جیون کے اس صحرا میں
سب جیتں ، سب ماتیں گم

سائیاں جان بیمار ہوئی
صدموں سے دوچار ہوئی
ہر شے سے بےزار ہوئی
پریتم دل ازار ہوئی
ہر اک سپنا سنگ ہوا
ہر خواہش دیوار ہوئی

سائیاں رشتے ٹوٹ گئے
سائیاں اپنے چھوٹ گئے
سچ گئے اور جھوٹ گئے
تیز مقدر پھوٹ گئے
جانے کیسے ڈاکو تھے جو
لٹے ہووں کو لوٹ گئے

سائیاں خواب اداس ہوئے
سرخ گلاب اداس ہوئے
دل بے تاب اداس ہوئے
دور سحاب اداس ہوئے
جب سے صحرا چھوڑ دیا
ریت ، سراب اداس ہوئے

سائیاں تنہا شاموں میں
چنے گے ہیں باموں میں
چاہت کے الزاموں میں
شامل ہوے غلاموں میں
اپنی ذات نہ ذاتوں میں
اپنا نام نہ ناموں میں

سائیاں ویرانی کے صدقے
اپنی یزدانی کے صدقے
جبر انسانی کے صدقے
لمبی زندانی کے صدقے
سائیاں میرے اچھے سائیاں
اپنی رحمانی کے صدقے

سائیاں میرا درد گھٹا
سائیاں میرے زخم بجھا
سائیاں میرے عیب مٹا
سائیاں کوئی نوید سنا
اتنے کالے موسم میں
سائیاں اپنا اپ دیکھا

سائیاں میرے اچھے سائیاں
سائیاں میرے دولے سائیاں
سائیاں میرے پیارے سائیاں
سائیاں میرے بیبے سائیاں
 

فرذوق احمد

محفلین
چھيڑے کبھي ميں نے لب و رخسار کے قصے
گا ہےگل و بلبل کي حکايات کو نکھارا
گا ہے کسي شہزادے کے افسانے سنائے
گا ہے کيا دنيائے پرستاں کا نظارا

ميں کھويا رہا جن و ملائک کے جہاں ميں
ہر لحظہ اگر چہ مجھے آدم نے پکارا

احمد فراز
 

نوید ملک

محفلین
میرے من میں دیپ جلا سائیں
کبھی رات اندھیری بھی ٹوٹے
کبھی صبح صادق بھی پھوٹے
کبھی چمکے تیری ضیا سائیں
میرے من میں دیپ جلا سائیں

ہو رنج بہاراں جیسا بھی
ہو بادو باراں جیسا بھی
ہو جتنی تیز ہوا سائیں
میرے من میں دیپ جلا سائیں

کبھی جھوٹ نہ بول سکو مولا
کبھی کفر نہ تول سکومولا
میں کروں ہمیش وفا سائیں
میرے من میں دیپ جلا سائیں

جبار قہر خدا سائیں
رحمٰن رحیم سدا سائیں
میرے بےپروا خفا سائیں
میرے من میں دیپ جلا سائیں

سب پردے آپ ہٹا سائیں
سب ظلمت آپ مٹا سائیں
سب راستے آپ دیکھا سائیں
میرے من میں دیپ جلا سائیں
میری تجھ سے یہی دعا سائیں

(فرحت عباس شاہ)
 

عمر سیف

محفلین
تیرے سائے میں کئی اور بھی تھے میرے سوا
گلشنِ وقت میں کھلتے ہوئے لمحوں کے گلاب
دل کے بے رحم سرابوں میں بکھر سکتے تھے
میں نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کے بے آب سحاب
خواہشِ وصل کے ساگر کو بھی بھر سکتے تھے
میں بہت گہرے سمندر میں اتر آیا تھا
ساحلوں کا میری آنکھوں میں‌ فقط سایہ تھا
سلسلے اور بھی تھے تیری نگاہوں میں‌کہیں
دب رہا تھا کوئی نغمہ میری آہوں میں کہیں
جی رہا تھا کوئی عالم تیری تنہائی کے ساتھ
اپنے ہونٹوں میں تیرے زخم کا سیماب لیے
چمک اٹھے تھے ستارے تیری زیبائی کے ساتھ
اپنی آنکھوں میں تیری یاد کا مہتاب لیے
میں‌ نے سوچا ہی نہ تھا جانِ جہاں تیرے سوا
تیرے سائے میں کئی اور بھی تھے میرے سوا
سلسے اور بھی تھے تیری نگاہوں میں‌ کہیں
دب رہا تھا کوئی نغمہ میری آہوں میں‌ کہیں
( ذیشان حیدر )
 

ظفری

لائبریرین
نیند سے بوجھل جلتی آنکھیں
لمبی بنجر جاگتی راتیں
جب بھی میں‌کوئی سپنا دیکھوں
سپنا دیکھ کے ڈر جاتا ہوں
سپنے اکثر دکھ دیتے ہیں
اُلجھے اُلجھے روز و شب میں
ناواقف بیگانے سارے
ان میں جب کوئی اپنا دیکھوں
ملنے سے بھی کتراتا ہوں
اپنے اکثر دکھ دیتے ہیں​
 
Top