سید عاطف علی

لائبریرین
در نگنجد عشق در گفت و شنید
عشق دریائیست قعرش ناپدید


عشق (کا موضوع) کفتگو میں نہیں سما تا۔(کیونکہ) عشق وہ دریا ہے کہ جس کی گہرائی ہی معلوم نہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
بشکست غمت پشتم با این همه عزم آن است
تا جان بوَدم در تن روی از تو نگردانم
(انوری ابیوَردی)

تمہارے غم نے میری کمر توڑ دی ہے، (لیکن) اس کے باوجود (میرا‌‌) عزم یہ ہے کہ جب تک میرے جسم میں جان ہے میں تم سے رخ نہیں موڑوں گا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ناصر اگر تو مثل نداری بہ عاشقی
معشوق ہم بہ حُسن ندارد مثالِ خویش


ناصر بخاری

ناصر اگر تُو عاشقی میں کوئی مثال نہیں رکھتا تو جس سے عشق کیا ہے وہ بھی حُسن میں اپنی کوئی مثال نہیں رکھتا۔
 

اکمل زیدی

محفلین
اکمل زیدی صاحب، اگر ایک یا دو اشعار ہوتے تو ضرور اُن کا ترجمہ کرنے کی کوشش کرتا، لیکن اس طویل نظم کا ترجمہ میری استطاعت سے باہر ہے۔ معذرت خواہ ہوں۔

بہت شکریہ آپ کی توجہ کا ... دراصل کچھ مخصوص حصہ کے معنی سے تو آشنائی ہوگئی تھی سوچا شاید اسی طرح کے مطالب اور موجود ہوں اسی لیے پوری تحریر یہاں ترجمے کے لیے دی آپ صرف نیچے دیے ہوئے حصّے کا ترجمہ کردیں...نوازش ہوگی ..

علم حق را در قفا انداختی
بہر نانی نقد دین در باختی
گرم رو در جستجوی سرمہ ئی
واقف از چشم سیاہ خود نہ ئی
آب حیوان از دم خنجر طلب
از دہان اژدہا کوثر طلب
’’ق‘‘
سنگ اسود از در بتخانہ خواہ
نافہ ی مشک از سگ دیوانہ خواہ
سوز عشق از دانش حاضر مجوی
کیف حق از جام این کافر مجوی
مدتی محو تک و دو بودہ ام
رازدان دانش نو بودہ ام
باغبانان امتحانم کردہ اند
محرم این گلستانم کردہ اند
گلستانی لالہ زار عبرتی
 

حسان خان

لائبریرین
بہت شکریہ آپ کی توجہ کا ... دراصل کچھ مخصوص حصہ کے معنی سے تو آشنائی ہوگئی تھی سوچا شاید اسی طرح کے مطالب اور موجود ہوں اسی لیے پوری تحریر یہاں ترجمے کے لیے دی آپ صرف نیچے دیے ہوئے حصّے کا ترجمہ کردیں...نوازش ہوگی ..

علم حق را در قفا انداختی
بہر نانی نقد دین در باختی
گرم رو در جستجوی سرمہ ئی
واقف از چشم سیاہ خود نہ ئی
آب حیوان از دم خنجر طلب
از دہان اژدہا کوثر طلب
’’ق‘‘
سنگ اسود از در بتخانہ خواہ
نافہ ی مشک از سگ دیوانہ خواہ
سوز عشق از دانش حاضر مجوی
کیف حق از جام این کافر مجوی
مدتی محو تک و دو بودہ ام
رازدان دانش نو بودہ ام
باغبانان امتحانم کردہ اند
محرم این گلستانم کردہ اند
گلستانی لالہ زار عبرتی
ان اشعار کا اردو ترجمہ اور تشریح یہاں پر موجود ہے:
http://iqbalurdu.blogspot.com/2011/04/asrar-e-khudi-22-andz-meer-e-nijat.html
 

حسان خان

لائبریرین
ازبسکه باغبانان کردند پنبه در گوش
هر چُغذ در گلستان مرغِ سخن‌سرایی‌ست

(سیّدای نَسَفی)
چونکہ باغبانوں نے کانوں میں روئی ڈال لی ہے اس لیے اب گلستان میں ہر الّو ایک سخن سرا پرندہ بنا بیٹھا ہے۔
 

اکمل زیدی

محفلین

حسان خان

لائبریرین
بہت مشکور ہوں مگر وہ سائٹ کھولنے سے قاصر ہوں کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر مناسب ہوگا اگر اس کا ترجمہ یہاں پیسٹ کردیا جائے ..
وہاں ترجمہ یونیکوڈ میں نہیں، بلکہ تصویری شکل میں ہے، لہٰذا اُسے نقل کر کے یہاں چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
قاآنی کا ایک قصیدہ مخمس کی شکل میں ہے ۔اس کے ایک بند کے آخری دو مصرعے:

دو زلفِ مشکبارِ اُو ، بہ چشمِ اشکبارِ من
چو چشمہ ای کہ اندر اُو شناکنند مار ہا


اس کی دو مشکبار زلفوں (کا عکس) میر ی اشکبار آنکھ میں اس طرح ہے کہ جیسے یہ چشمہ ہے اور اس میں سانپ نہارہے ہیں ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اشکم ولے بہ پائے عزیزاں چکیدہ ام
خارم ولے بہ سایۂ گُل آرمیدہ ام


رھی معیری

میں آنسو ہوں لیکن اپنے عزیزوں ہی کے قدموں میں ٹپکا ہوں، میں کانٹا ہوں لیکن سایۂ گُل ہی میں رہا ہوں۔
 

mohsin ali razvi

محفلین
ہر کجا رفتم غبارِ زندگی درپیش بُود
یارب این خاکِ پریشاں از کجا برداشتم
؛؛؛؛؛؛؛
منتظر ہے میری ھر جا یہ غبار زندگی
میں کھاں سے لے کے آئی یہ پریشاں خاک غم
علیشا رضوی [ عامل شیرازی ]
 

حسان خان

لائبریرین
طُرفه حالی‌ست که آن آتشِ سوزندهٔ من
دورتر می‌رود و بیش‌ترم می‌سوزد
(میرزا اسدالله تبریزی)

ایک عجیب صورتِ حال ہے کہ وہ میری جلانے والی آگ (یعنی معشوق) پہلے سے زیادہ دور جا رہی ہے لیکن مجھے پہلے سے زیادہ جلا رہی ہے۔

حالِ دنیا را بپرسیدم من از فرزانه‌ای
گفت یا خوابی‌ست یا وهمی‌ست یا افسانه‌ای
(ادیب سمرقندی)

میں نے کسی دانشمند سے دنیا کا حال پوچھا۔ اُس نے (جواب میں) کہا: "یا تو یہ ایک خواب ہے، یا ایک وہم ہے، یا پھر ایک افسانہ ہے۔"
 

mohsin ali razvi

محفلین
حالِ دنیا را بپرسیدم من از فرزانه‌ای
گفت یا خوابی‌ست یا وهمی‌ست یا افسانه‌ای
(ادیب سمرقندی)
حالت دنیا جوپوچھی ھُم نے اک عالم سے جی
کھدیا افسانہ ہے یہ خواب ہے یا وھم ھے
علیشا رضوی
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ہر کجا رفتم غبارِ زندگی درپیش بُود
یارب این خاکِ پریشاں از کجا برداشتم
؛؛؛؛؛؛؛
منتظر ہے میری ھر جا یہ غبار زندگی
میں کھاں سے لے کے آئی یہ پریشاں خاک غم
علیشا رضوی [ عامل شیرازی ]

بہت خوب!! لیکن غبار مذکر ہے ، مونث نہیں ۔:)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
حالِ دنیا را بپرسیدم من از فرزانه‌ای
گفت یا خوابی‌ست یا وهمی‌ست یا افسانه‌ای
(ادیب سمرقندی)
حالت دنیا جوپوچھی ھُم نے اک عالم سے جی
کھدیا افسانہ ہے یہ خواب ہے یا وھم ھے
علیشا رضوی

بہت خوب! کیا بات ہے! یہ سلسلہ جاری رکھئے ۔ ماشاءاللہ ۔

اس شعر کے ترجمے کےبارے میں ایک چھوٹے سے نکتے کی طرف توجہ دلاؤں گا آپ کی ۔ حالِ دنیا اور حالتِ دنیا دو مختلف تصورات ہیں ۔ فارسی شعر میں حالِ دنیا سے مراد دنیا کی حقیقت یا اصل ہے جبکہ حالتِ دنیا وہ ظاہری کیفیت ہے دنیا کی جو ہمیں نظر آرہی ہے ( یعنی لوٹ مار، بدنظمی ، الیکشن اور دیگر آفات ۔ وغیرہ وغیرہ) ۔ :):):)

میری طرف سے بہت داد قبول کیجئے اس کاش پر ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
کدام حُسن و جمالے کہ آں نہ عکسِ تو است
کدام شاہ و امیرے کہ اُو گدائے تو نیست


مولانا رُومی

وہ کونسا حُسن و جمال ہے کہ جو تیرا (تیرے حُسن و جمال کا) عکس نہیں ہے؟ وہ کونسا بادشاہ اور امیر ہے کہ جو تیرا گدا نہیں ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
با صبوری کار‌های مشکل آسان می‌شود
درد چون با صبر معجون گشت درمان می‌شود

(واعظ قزوینی)
صبر کے ساتھ مشکل کام آسان ہو جاتے ہیں؛ درد جب صبر کے ساتھ مخلوط ہو جائے، دوا بن جاتا ہے۔
 

اکمل زیدی

محفلین
با صبوری کار‌های مشکل آسان می‌شود
درد چون با صبر معجون گشت درمان می‌شود

(واعظ قزوینی)
صبر کے ساتھ مشکل کام آسان ہو جاتے ہیں؛ درد جب صبر کے ساتھ مخلوط ہو جائے، دوا بن جاتا ہے۔
اسی پر مولا علی کا نہج البلاغہ میں قول ہے کے "صبر وہ سواری ہے جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی "
 
Top