1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 7, 2008

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «کشمیریوں» کے مِلّی وطن «کشمیر» کی سِتائش میں تیموری پادشاہ «نورالدین جهان‌گیر» کے ملِکُ‌الشُعَراء «طالِب آمُلی» کی ایک بیت:

    هر کس پَیِ تماشا کردند خوش فضایی
    رِضوان فضایِ جنّت، طالب فضایِ کشمیر
    (طالب آمُلی)


    ہر شخص نے سَیر و تماشا [و اِقامت] کے لیے کوئی فَضا مُنتَخَب کر لی [ہے]۔۔۔ «رِضوان» نے فضائے جنّت، [جبکہ] «طالِب» نے فضائے «کشمیر»۔
    × رِضوان = دربانِ بہشت کا نام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تیموری پادشاہ «ظهیرالدین محمد بابُر» کے پِسَر «کامران میرزا» کی ایک فارسی بیت:

    بی سگانِ کُویِ جانان زندگانی مُشکِل است

    زندگی بی صُحبتِ یارانِ جانی مُشکِل است
    (کامران میرزا)

    کُوچۂ جاناں کے سَگوں (کُتّوں) کے بغیر زِندگانی مُشکِل ہے۔۔۔ یارانِ جانی (یعنی یارانِ خُوب و صمیمی و مُخلِص) کی صُحبت کے بغیر، زِندگی مُشکِل ہے۔
    (یعنی شاعر سگِ کُوئے محبوب کو اپنا یارِ جانی تصوُّر کرتا ہے۔)
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 15, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «بیدِ مجنون» درختِ بید کی اُس نَوع کو کہتے ہیں جس کی شاخیں سرنِگوں اور زمین کی جانب آویزاں ہوتی ہیں۔۔ بانیِ سلطنتِ دُرّانی «احمد شاہ دُرّانی (ابدالی)» نے اپنی ایک فارسی بیت میں اُس درخت کا نام لیا ہے:

    نمی‌پُرسی اگر از من بِبین حالِ دل و جانم
    که از غیرت فُتاده بر زمین چون بیدِ مجنونم
    (احمد شاه دُرّانی)


    [اے یار!] اگر تم مجھ سے [میرا حال] نہیں پوچھتے تو [خود ہی] میرے دِل و جان کا حال دیکھ لو!۔۔۔۔ کہ مَیں رشک و غیرت سے زمین پر «بیدِ مجنوں» کی مانند گِرا ہوا ہوں۔

    =============

    × مصرعِ اوّل کا یہ متن بھی نظر آیا ہے:

    "‌نمی‌پُرسی ز من امّا بِبین حالِ دل و جانم"

    تم مجھ سے نہیں پوچھتے لیکن [خود ہی] میرے دِل و جان کا حال دیکھو!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    آمدِ موسمِ بہار کی شادمانی میں کہی گئی ایک بیت:

    آمد بهارِ دل‌کَش و گُل‌هایِ تر شِگُفت
    دل‌ها از آن نشاط ز گُل بیش‌تر شِگُفت
    (امیر علی‌شیر نوایی)


    بہارِ دل‌کَش آئی، اور گُل‌ہائے تر و تازہ کِھل گئے۔۔۔ دِل اُس شادمانی کے باعث گُل سے بیش‌تر کِھل گئے۔ (یعنی آمدِ بہار کے موقع پر جس قدر گُل کِھلے تھے، بہار اور گُلوں کی شادمانی کے باعث اُس سے کئی زیادہ کثرت و قُوّت کے ساتھ مردُم کے دِل کِھل اُٹھے ہیں)۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    دُرّانی پادشاہ «تیمور شاه دُرّانی» کی ایک غزل کا مطلع:

    جانِ ما را این قدر در هجرِ خود جانان مسوز
    جانِ من جانِ مرا در آتشِ هجران مسوز
    (تیمور شاه دُرّانی)


    اے جاناں! ہماری جان کو اپنے ہجر میں اِس قدر مت جلاؤ!۔۔۔ اے میری جان! میری جان کو آتشِ ہجراں میں مت جلاؤ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شود گر عُضْو عُضْوَم در رهش خاک
    نگردد عشقش از یادم فراموش
    (تیمور شاه دُرّانی)


    اگر میرے [جِسم کا] ہر ایک عُضْو اُس کی راہ میں خاک ہو جائے، [تو بھی] اُس کا عشق میری یاد سے فراموش نہ ہو گا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    حاکمِ ماوراءالنّہر «ابوالغازی عُبَیدالله خان اُزبَک» کی ایک فارسی بیت:

    چون نظر کردم گُلی رُویِ تواَم آمد به یاد
    بُویِ گُل بِشْنیدم و بُویِ تواَم آمد به یاد

    (عُبَیدالله خان 'عُبَیدی')

    جب مَیں نے اِک گُل پر نظر کی تو مجھ کو تمہارا چہرہ یاد آ گیا ۔۔۔ مَیں نے بُوئے گُل سُونگھی اور مجھ کو تمہاری خوشبو یاد آ گئی۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شنیدمت که نظر می‌کنی به‌حالِ ضعیفان
    تبم گرفت و دلم خوش به انتظارِ عیادت
    (سعدی شیرازی)

    میں نے سنا کہ تو بیماروں کے حال پر نگاہ کرتا ہے۔میں تب (بخار) میں گرفتار ہوگیا اور میرا دل (میری) عیادت (پر تمہارے آنے) کے انتظار پر خوش ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    از کوه سنگی چون فتد، صد سنگ را بی‌جا کند
    مردی چو نامردی کند، صد مرد را رسوا کند
    (لایق شیرعلی)

    جب کوہ سے ایک سنگ (پتھر) گرا تو صد (سو) سنگوں کو بےجا کردیتا (جگہ سے ہٹا دیتا) ہے ۔ ایک مرد اگر ناجوانمردی و بزدلی کرتا ہے تو صد مردوں کو رسوا کردیتا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 19, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  10. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نادان چو دانایی کند، احسن بگوییمش همه
    اما چه بتوان کرد اگر نادانیی دانا کند؟
    (لایق شیرعلی)

    نادان اگر عقلمندی کرے تو ہم سب اسے بہتر و نیکوتر کہتے ہیں اما کیا کیا جائے اگر دانا کوئی نادانی کرے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    هر کس تواند رود را با جوی‌ها سازد جدا
    آن کیست کز دریادلی یک قطره را دریا کند؟
    هر کس تواند مرده را بر خاک بسپارد، ولی
    آن کیست خاکِ مرده را تاجِ سرِ دنیا کند؟
    (لایق شیرعلی)

    ہر کوئی دریا کو نہروں سے جدا کرسکتا ہے (اما) وہ کون ہے جو دریا دلی سے ایک قطرے کو دریا کرے؟
    ہر کوئی مردہ کو خاک کے سپرد (دفن کر) سکتا ہے لیکن وہ کون ہے جو خاکِ مردہ کو دنیا کے سر کا تاج کرے؟


    حسان خان یہاں خاکِ مردہ مرکبِ توصیفی ہے یا مرکبِ اضافی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  12. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بر دری گر پا نهادم، قصدِ من آن در نبود
    قصدِ من آن بود، تا شاید درِ دل وا کنم
    (لایق شیرعلی)

    اگر کسی دروازے پر میں نے پاوں رکھا تو میرا مقصود وہ دروازہ نہیں تھا بلکہ میرا مقصد یہ تھا کہ شاید دل کا دروازہ وا کردوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بگذرم بی‌درد و حسرت چون بگیرم دستِ دوست
    چون سرِ دشمن به دست افتاد، زیرِ پا کنم
    (لایق شیرعلی)

    جب میں دوست کا ہاتھ پکڑوں تو بغیر درد اور حسرت کے گزر جاتا ہوں۔ جب دشمن کا سر میرے ہاتھ میں آ جائے تو پاوں کے نیچے کر دیتا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  14. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    خوش‌بخت آن کسی‌ست، که در جاده‌ی حیات
    رشک و حسد به یار و برادر نداشته‌است
    (لایق شیرعلی)

    خوش نصیب وہ ہے جو جادہٗ زندگی میں دوست اور برادر سے حسد و رشک نہ رکھتا ہو۔

    تاجیکستان میں کاربردہ روسی رسم الخط میں:
    Хушбахт он касест, ки дар ҷодаи ҳаёт
    Рашку ҳасад ба ёру бародар надоштаст
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  15. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شعرِ مرا با ناز خوان در بزمِ گل‌رخان
    خالی ببینی هر گهی جایِ نشستِ من
    (لایق شیرعلی)

    گل‌رخوں کی محفل میں جب کبھی میرے بیٹھنے کی جگہ خالی دیکھو تو میرے شعر کو ناز و تفاخر سے خوانو!

    تاجیکستان میں کاربردہ روسی رسم الخط میں:
    Шеъри маро ба ноз хон дар базми гулрухон,
    Холӣ бубинӣ ҳар гаҳе ҷои нишасти ман
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    چه بخت است اینکه گر یک‌دم کنم جا پهلویِ شمعی
    چو سایه می‌شود پیدا رقیبی هم به پهلویم!؟
    (فضولی بغدادی)

    کیسی قسمت ہے کہ اگر کسی شمع کے پہلو میں ایک لحظہ رہوں تو کوئی رقیب میرے پہلو میں سایہ کی مانند ظاہر ہوجاتا ہے!۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  17. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ز جان بیرون نمی‌شد لذتِ عشقت به آسانی
    مرا گفتی که: «ترکِ عشقِ من کن» ترکِ جان کردم
    (فضولی بغدادی)

    جان سے تیرے عشق کی لذت آسانی سے بیرون نہیں آرہی تھی۔(جب) تو نے مجھے کہا کہ ’’میرا عشق تَرک کردے‘‘، میں نے جان کو ترک کردیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  18. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    کسی کز شربتِ وصلت نیابد ذوقِ رسوایی
    چه می‌داند که می در عقلْ نقصان می‌کند یا نه؟
    (فضولی بغدادی)

    جو تیرے وصل کے شربت سے رسوائی کا ذوق نہیں حاصل کرتا، وہ کیا جانے کہ شراب عقل کو نقصان پہنچاتی ہے یا نہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  19. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بهرِ درمان، دردِ سر دادن طبیبان را چه سود
    چون مریضِ عشق جز مردن ندارد چاره‌ای؟
    (فضولی بغدادی)

    درمان و علاج کے لئے طبیبوں کو دردِ سر دینے کا کیا فائدہ جب مریضِ عشق کا مرنے کے سوا کوئی علاج نہیں ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    885
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بنده‌ام گو تاج خواهی بر سرم نِه یا تبر
    هر چه پیشِ عاشقان آید ز معشوقان نکوست
    (سعدی شیرازی)

    میں (تیرا) بندہ ہوں، خواہ تاج میرے سر پر رکھنا (یعنے مجھے بزرگ و عزیر کرنا) چاہتے ہو یا تبر(یعنے خوار و ذلیل کرنا چاہتے ہو)۔ عاشقوں کو معشوقوں سے جو کچھ بھی پیش آتا ہے، خوب و روا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر