1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 7, 2008

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ایک «کشمیری» شاعر «اَوجی کشمیری» اپنی مثنوی «ساقی‌نامه» کی ایک بیت میں شراب کی حسرت میں کہتے ہیں:

    چُنین تا به کَی تَرکِ ساغر کُنیم
    لبِ دل ز خونِ جِگر تر کُنیم
    (اَوجی کشمیری)


    ہم کب تک اِس طرح ساغرِ [مَے] کو تَرک کرتے رہیں اور لبِ دل کو خونِ جِگر سے تر کریں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مندرجۂ ذیل دو فارسی ابیات پادشاہِ غازی «ظهیرالدین محمد بابُر» سے بھی منسوب ہیں، اور «سُلطان بایسُنغُر» کے ایک فرزندزادے «محمد ناصر میرزا 'ناصری گورکان'» سے بھی:

    آمد بهار و دل‌شُده‌ای را که یار نیست
    پروایِ لاله‌زار و هوایِ بهار نیست
    در روزگار فتنه بسی ‌دیده‌ام ولی
    چشمِ تو فتنه‌ای‌ست که در روزگار نیست


    بہار آ گئی، [لیکن] جس [عاشقِ] دِل‌باختہ کے نزد یار نہیں ہے، اُس کو لالہ‌زار کی پروا اور بہار کی آرزو نہیں ہے۔۔۔۔ میں نے زمانے میں فِتنے کئی دیکھے ہیں، لیکن تمہاری چشم اِک ایسا فِتنہ ہے کہ جو زمانے میں نہیں ہے۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    هرگز دِلم به غیرِ تو مایل نمی‌شود
    وز دیده نقشِ رُویِ تو زایل نمی‌شود
    (نامی کشمیری)


    میرا دل تمہارے بجُز ہرگز کسی شخص پر مائل نہیں ہوتا۔۔۔ اور [میری] چشم سے تمہارے چہرے کا نقش زائل نہیں ہوتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    دستم بُریده باد، چه کار آیدم بِگو
    در گردنِ بُتان چو حَمایل ‌نمی‌شود

    (نامی کشمیری)

    [خُدا کرے کہ] میرا دست کٹ جائے!!۔۔۔ اگر میرا دست زیباؤں اور خُوب‌رُویوں کی گردن پر آویزاں نہیں ہوتا تو بتاؤ وہ میرے کِس کار آئے گا؟! [لہٰذا یہی بہتر ہے کہ وہ کٹ کر میرے تن سے جُدا ہو جائے!]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «کشمیریوں» کے مِلّی وطن «کشمیر» کی سِتائش میں تیموری پادشاہ «نورالدین جهان‌گیر» کے ملِک‌الشُعَراء «طالِب آمُلی» کی ایک بیت:

    گر این نمونهٔ جنّت به خواب بیند حُور
    دلش ز لذّتِ سَیرِ بهشت گردد سیر

    (طالب آمُلی)

    اگر حُور اِس نمونۂ جنّت (یعنی کشمیر) کو خواب میں دیکھ لے تو اُس کا دل سَیرِ بہشت کی لذّت سے سیر ہو جائے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «طالب آمُلی» نے ایک بیت میں دِیارِ «کشمیر» کو «مجمعِ خُوبانِ دل‌ربا» کہہ کر یاد کیا ہے:

    بِیا که مجمعِ خُوبانِ دل‌ربا این‌جاست
    کرشمه‌ها همه این‌جا و نازها‌ این‌جاست

    (طالب آمُلی)

    [کشمیر میں] آؤ کہ خُوبانِ دل‌رُبا کی جائے اِجتِماع اِس جگہ ہے۔۔۔ تمام عِشوے اِس جگہ، اور [تمام] ناز و ادائیں اِس جگہ ہیں۔

    ===========

    «کشمیر» اور «کشمیریوں» پر سلام ہو کہ جن کی سِتائش میں ہمارے فارسی شُعَراء رطْب‌اللِسان رہے ہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ہماری فارسی شاعری میں «ماهِ مُحرّم» غم کا زمانہ جبکہ «جشنِ نَوروز» شادمانی کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ تیموری پادشاہ «نورالدین جهان‌گیر» کی سِتائش کی غرَض سے «طالب آمُلی» نےعیدِ نَوروز کے موقع پر ایک مدحیہ قصیدہ لِکھا تھا۔ اُس میں سے ایک دُعائیہ بیت دیکھیے:

    چهار فصلِ جهان باد تا بُوَد ایّام
    به دشُمنانْت مُحرّم به دوستان نَوروز

    (طالب آمُلی)

    [خُدا کرے کہ] جب تک ایّام اور دہر موجود ہے، دُنیا کے چار موسم تمہارے دُشمنوں کے لیے مُحرّم اور [تمہارے] دوستوں کے لیے نَوروز رہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «سُلطان محمود غزنوی» کے برادر «عَضُدالدّوله امیر یوسف سِپه‌سالار» کے لیے ایک دُعائیہ بیت:

    کامران باد به جنگ اندر با زورِ علی
    پادشا باد به مُلک اندر با عدلِ عُمَر
    (فرُّخی سیستانی)


    [خُدا کرے کہ] وہ جنگ کے اندر «حضرتِ علی» کے زور و قُوّت کے ساتھ کام‌یاب و کام‌ران ہو!۔۔۔ [خُدا کرے کہ] وہ مُلک و مملَکت کے اندر «حضرتِ عُمَر» کے عدل کے ساتھ پادشاہ ہو!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    وزید بادِ بهار و نویدِ یار آمد
    بِیار باده که یار آمد و بهار آمد
    (مُحسِن فانی کشمیری)


    بادِ بہار چلی اور مُژدۂ یار آ گیا۔۔۔ شراب لے آؤ کہ یار آ گیا اور بہار آ گئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  10. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    چرخ را زآه من زِیان چه بُوَد؟
    پیل را از پشه لگَد چه رسد؟

    (خاقانی شِروانی)

    فلک کو میری آہ سے کیا ضرر ہو گا!۔۔۔ فِیل کو مچّھر کی لات کیا لگے گی!
    (یعنی مچّھر کی لات فِیل کو کیا محسوس ہو گی اور اُس کو اِس لات سے کیا ضرر پہنچے گا! لہٰذا فلک کی گردِشِ کج اور اُس کے سِتم کے باعث آہ و زاری کرنا بےفائدہ ہے۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ایک «کشمیری» شاعر «مُحسِن فانی کشمیری» کی ایک خَمریّہ بیت:

    به سنگِ شیشهٔ مَی توبه‌ام بهار شِکست
    خوش آن بهار که هم توبه هم خُمار شِکست

    (مُحسِن فانی کشمیری)

    بہار نے شیشۂ شراب کے سنگ سے میری توبہ توڑ دی۔۔۔ خوشا وہ بہار کہ جس نے توبہ بھی، اور خُمار بھی توڑ دیا!

    × خُمار = شراب کا نشہ و مستی زائل ہو جانے کے بعد لاحِق ہونے والی کیفیتِ سر درد و کسالت، جس میں شراب کی دوبارہ طلب و خواہش محسوس ہوتی ہے؛ ہینگ‌اوور
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فارسی شعری روایات میں پرندۂ «هُما» کو سعید و مُبارک تصوُّر کیا جاتا ہے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس شخص کے سر پر اُس پرندے کا سایہ پڑ جائے، وہ پادشاہ ہو جاتا ہے۔ دیارِ «کشمیر» کے شاعر «مُحسِن فانی کشمیری» ایک بیت میں اپنے محبوب سے مُخاطِب ہو کر کہتے ہیں:

    فانی به یُمنِ عشقِ تو مُلکِ بقا گرفت

    از سایهٔ هُمای گدا پادشا شوَد
    (مُحسِن فانی کشمیری)

    «فانی» نے تمہارے عشق کی برَکت سے مُلکِ بقا کو حاصل کر لیا [اور تسخیر کر لیا]۔۔۔ «ہُما» کے سائے سے گدا پادشاہ ہو جاتا ہے۔
    (یعنی اِس بیت میں یار کے عشق کو سایۂ «ہُما» تصوُّر کیا گیا ہے۔)
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 5, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اسلام میں، خُصوصاً شیعی اسلام میں، «آلِ عَبا» اُن پانچ اشخاص (حضرتِ مُحمّد، حضرتِ علی، حضرتِ فاطِمہ، حضرتِ حسَن، حضرتِ حُسین) کو کہتے ہیں کہ جن کو، روایات کے مُطابق، حضرتِ رسول نے ایک موقع پر عَبا و چادر کے زیر میں یکجا کیا تھا، اور یہ پانچ اشخاص شیعی اسلام کے مُقدّس‌ترین اشخاص ہیں۔ «کشمیر» کے ایک شیعی‌مذہب شاعر «میرزا داراب بیگ جویا کشمیری» ایک بیت میں کہتے ہیں:

    مدد جو در حوادث دایم از آلِ عبا جویا
    ز صرصر آفتی نبْوَد چراغِ زیرِ دامن را

    (میرزا داراب بیگ جویا کشمیری)

    اے «جویا»! حوادث میں دائماً «آلِ عبا» سے مدد تلاش کرو، کیونکہ جو چراغ زیرِ دامن ہو، اُس کو صرصَر (یعنی بادِ تُند و شدید) سے کوئی آفت نہیں پہنچتی۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 6, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  14. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تهی کردم ز اشک و آه اِمشب سینهٔ خود را
    ز نقد و جِنس خالی ساختم گنجینهٔ خود را
    (میرزا داراب بیگ جویا کشمیری)


    میں نے اِس شب خود کے سینے کو اشک و آہ سے خالی کر دیا
    میں نے خود کے گنجینے کو مال و متاع سے خالی کر دیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    دریغ آن روزگارِ شادمانی
    دریغ آن در تنعُّم زندگانی
    کُجا رفت آن که طبعم شادمان بود
    اُمیدم حاصل و بختم جوان بود

    (عُبَید زاکانی)
    ہائے وہ زمانۂ شادمانی!۔۔۔ ہائے وہ ناز و نعمت میں زندگانی!۔۔۔ کہاں چلا گیا وہ [وقت] کہ [جب] میری طبیعت شادمان تھی، [اور] میری اُمید [مجھ کو] حاصِل اور میرا بخت جوان تھا۔۔۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 6, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «شاه شیخ ابواِسحاق» کی مدح میں ایک بیت:

    به یُمنِ معدلتِ پادشاهِ بنده‌نواز
    بهشتِ رُویِ زمین است خِطّهٔ شیراز
    (عُبَید زاکانی)


    پادشاہِ بندہ‌نواز کے عدل و اِنصاف کی برَکت سے «خِطّهٔ شیراز» بہشتِ رُوئے زمین ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تیموری پادشاہ «ظهیرالدین محمد بابُر» کی ایک فارسی بیت:

    هیچ کس چون من خراب و عاشق و رُسوا مباد
    هیچ محبوبی چو تو بی‌رحم و بی‌پروا مباد
    (ظهیرالدین محمد بابُر)


    [خُدا کرے کہ] کوئی بھی شخص میری مانند بداحوال و تباہ و عاشق و رُسوا نہ ہو!۔۔۔۔ [خُدا کرے کہ] کوئی بھی محبوب تمہاری مانند بے‌رحم و بے‌پروا نہ ہو!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «صامِت بُروجَردی» کے ایک عاشورائی نَوحے کے ایک بند میں «حضرتِ زَینب» اپنے برادر «حضرتِ حُسین» سے کہتی ہیں:

    منِ بی‌کس چه کُنم بی‌تو در این وادیِ پُرغم
    غیرِ تو دادرَسی نیست مرا در همه عالَم
    مکُن از آتشِ هجران جِگرم خون کمرم خم
    نکُند در تو اثر آهِ دلِ بی‌اثرِ من
    مرو ای تاجِ سرِ من، سُویِ میدان ز برِ من
    شهِ والا‌گُهَرِ من
    (صامِت بُروجَردی)


    میں بے‌کس [خواہر] اِس وادیِ پُرغم میں تمہارے بغیر کیا کروں [گی]؟
    تمہارے بجُز کُل عالَم میں میرا کوئی فریادرَس نہیں ہے
    آتشِ ہجراں سے میرے جِگر کو خون، اور میری کمر کو خم مت کرو
    میری بے‌اثر آہِ دل تم پر اثر نہیں کرتی
    اے میرے تاجِ سر! میرے پہلو سے میدان کی جانب مت جاؤ!
    اے میرے شاہِ بُزُرگوار و عالی‌نسَب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  19. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اِسلام کی اِبتداء سے لے کر بیسویں عیسوی صدی تک اِسلامی دُنیا میں کئی شیعی‌مذہب سلطنتیں اور پادشاہیاں آئیں۔ لیکن کوئی بھی سلطنت «صفوی سلطنت» کے بقَدر سخت‌گیر و شِدّت‌پسند اِثناعشری شیعی سلطنت نہیں گُذری۔ «صفَویوں» کے دو سخت‌ترین دُشمنان مغرب کی سَمت میں «عُثمانیان» اور شُمال‌مشرق کی سَمت میں «اُزبَکان» تھے اور یہ دونوں بھی اُسی قدر شدید سُنّی تھے، جس قدر شدید شیعی «صفَویان» تھے۔ لہٰذا اُس زمانے میں مشرقِ وُسطیٰ اُن سلطنتوں کے درمیان فِرقہ‌پرستانہ مُخاصمت و جنگ و جدل کا مُکرّراً شاہد رہا۔

    «فخری هِرَوی» کی کتاب «روضة‌السّلاطین» میں نظر آیا ہے کہ صفوی سلطنت کے پادشاہِ دُوُم «شاه طهماسْب صفَوی» جس وقت «ماوراءالنّهر»‌ کے حاکِم «عُبَیدالله خان اُزبک» کے ساتھ جنگ و پَیکار کرنے کے لیے «عراقِ عجم» سے «خُراسان» آئے تھے، تو اُنہوں نے «عُبَیدالله خان» کو ایک فارسی رُباعی بھیجی تھی جس میں اُنہوں نے سُنّی «عُبَیدالله خان» کو "دُشمنِ دین" اور اُن کے خلاف جنگ کو "غزا" (یعنی کافر کے خلاف جِہاد) لِکھا تھا۔۔۔ اُن کی وہ رُباعی دیکھیے:

    ما کرده توکُّل به خُدا آمده‌ایم
    با دُشمنِ دین بهرِ غزا آمده‌ایم
    ای خصم! تو هم یک قدمی پیش‌تر آی
    بِنْگر ز کُجا تا به کُجا آمده‌ایم

    (شاه طهماسب صفوی)

    ہم خُدا پر توکُّل کر کے آ گئے ہیں۔۔۔ ہم دُشمنِ دین کے ساتھ غزا [کرنے] کے لیے آئے ہیں۔۔۔ اے دُشمن! تم بھی ذرا ایک قدم آگے آؤ۔۔۔ نِگاہ کرو کہ [جنگ کرنے کے لیے] ہم کہاں سے کہاں تک آ گئے ہیں۔۔۔۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 8, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تیموری پادشاہ «ظهیرالدین محمد بابُر» کی ایک فارسی بیت:

    هر دم از شوقِ تواَم می‌شود افزون گِریه
    می‌کنم در هوَسِ لعلِ لبت خون گِریه
    (ظهیرالدین محمد بابُر)


    تمہارے اِشتِیاق سے ہر لمحہ میرے گِریے میں اِضافہ ہو جاتا ہے۔۔۔ میں تمہارے لعلِ لب کی آرزو میں خُون گِریہ کرتا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر