فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 7, 2008

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,723
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    از شرابِ نابِ ساقی چوں طہارت کردہ ام
    از ہمہ خبث و خباثت در اماں خواہم شدن
    (حافظِ ہندی)

    میں نے چونکہ ساقی کی شرابِ ناب سے طہارت کی ہے اس لیے میں تمام ناپاکیوں سے محفوظ ہو جاؤں گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    گریزد از صفِ ما ہر کہ مردِ غوغا نیست
    کسے کہ کشتہ نشد از قبیلہٴ ما نیست

    نظیری نیشاپوری

    ہر وہ کہ جو ظلم کے خلاف احتجاج اور فریاد کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ہماری صفوں سے چلا جائے کہ جو جان نہ دے وہ ہمارے قبیلے میں سے نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,723
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شبِ تاریک و بیمِ موج و گِردابی چنین هایل
    کجا دانند حالِ ما سبک‌بارانِ ساحل‌ها؟
    (حافظ شیرازی)

    شبِ تاریک، خوفِ موج اور ایک ایسا ہولناک گِرداب۔۔۔۔ ساحلوں پر موجود سَبُک بار افراد ہمارا حال کہاں جانیں؟
    × سَبُک بار = وہ شخص جس کے شانوں پر بار سَبُک (ہلکا) ہو

    یہ کالی رات، طوفاں سر پہ، منہ پھاڑے بھنور آگے
    دل اس بِپتا کو جانے کیا سبکبارانِ ساحل کا
    (مولوی احتشام الدین حقی)
     
    آخری تدوین: ‏جون 5, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • غمناک غمناک × 1
  4. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,479
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    شبِ معراج عروجِ تو از افلاک گزشت
    بمقامے کہ رسیدی ۔ ۔۔نہ رسد ہیچ نبی
    مدحِ رسول صلی اللہ تعالےعلیہ وسلم میں غالباۛ حافظ کا شعر ہے۔
    اس پر والد صاحب کی ایک نعتیہ تضمین بھی یاد آرہی ہے۔
    آسمانوں سے بلند آج تری جلوہ گری
    بمقامے کہ رسیدی ۔ نہ رسد ہیچ نبی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  5. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,479
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    سراب تشنہ‌لباں را کند بیابا ں مرگ
    خوشا دلے کہ بہ دنبا ل آرزو نہ رود ۔۔۔۔ (صائب)
    سراب پیاس کے ماروں کو اجل بن جاتی ہے۔
    شاباش اے وہ دل جو خواہش کے پیچھے نہیں رہتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  6. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,818
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جناب محمد وارث اور دیگر فارسی دوست احباب کی توجہ درکار ہے۔
    میرزا غالب کی فارسی مثنوی ’’چراغِ دَیر‘‘ مطبوعہ صورت میں یا انٹرنیٹ پر کہیں دستیاب ہے؟ پاکستان میں تو اپنی سی کوشش کر چکا۔ اعجاز عبید صاحب کوئی اتہ پتہ بتا سکتے ہیں؟
    بہت نوزش!۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    انٹرنیٹ پر تو شاید نہ ہو آسی صاحب، میں کلیات غالب فارسی دیکھنے کی کوشش ضرور کرونگا۔
     
  8. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    تو نظر باز نہ ای، ورنہ تغافل نگہ ست
    تو زباں فہم نہ ای، ورنہ خموشی سخن است

    ظہوری ترشیزی

    تو ہی نظر باز نہیں ورنہ (جان جاتا کہ اسکا) تغافل ہی نگاہ ہے، تو ہی زبان فہم نہیں ہے ورنہ (سمجھ جاتا کہ اسکی) خاموشی ہی سخن ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 2
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مستِ تو ام از بادہ و جام آزادم
    صیدِ تو ام از دانہ و دام آزادم
    مقصودِ من از کعبہ و بتخانہ تویی
    ورنہ من از ایں ہر دو مقام آزادم

    رباعی از صوفی ابواسماعیل عبداللہ انصاری ہروی

    میں فقط تیرا ہی مست ہو سو شراب و جام سے آزاد ہوں، میں تو تیرا ہی صید ہوں اور دانہ و دام سے آزاد ہوں۔ کعبے اور بتخانے میں میرا مقصود تو ہی ہے وگرنہ میں ان دونوں مقامات سے آزاد ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  10. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
    محترم جناب محمد حارث اور جناب سید عاطف صاحب، آپکی کی شیئر کی ہوئی فارسی تراجم کا شدت سے انتظار رھتا ہے۔ امید کے یہ سلسلہ جاری و ساری رہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  11. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    چشمے دارم ہمہ پُر از صورتِ دوست
    بادیدہ مرا خوش است چوں دوست درُوست
    از دیدہ و دوست فرق کردن نہ نکوست
    یا اُوست درونِ دیدہ یا دیدہ خود اُوست

    رباعی از ابوحامد اوحدالدین معروف بہ اوحدی کرمانی

    میری آنکھوں میں ہر وقت دوست کی صورت ہی بسی ہوئی ہے، سو میں خوش ہوں کہ میری آنکھوں میں دوست بستا ہے۔ آنکھوں اور دوست میں تفریق کرنا کسی کام کا نہیں کیونکہ یا تو وہ آنکھوں میں بستا ہے یا وہ خود ہی آنکھیں ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,479
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    رفتم کہ خار از پا کشم ۔ محمل نہاں شد از نظر
    یک لحظہ غافل گشتم و ۔ صد سالہ راہم دور شد
    چلتے ہوئے ایک کانٹا نکالنے کے کیے ایک لمحے کے لیے ٹہرا اور محمل نگاہ سے اوجھل ہو گیا ۔
    میرا ایک لمحے کا غافل ہونے نے مجھے سو سالوں کی مسافت پیچھے کر دیا ۔
    یہ شعر کئی طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ نہ جانے اس کی اصلی صورت کون سی ہے۔اور کس کا ہے ۔والد صاحب اسی طڑح پڑھتے تھے۔نازکی سے مضمون عرفی کاسا لگتا ہے۔ممکن ہےکسی اور کا ہو۔لیکن نزاکت کا کمال طاق ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
  13. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,723
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    یہ بہت ہی مشہور شعر ہے عاطف بھائی۔ اب اس کی بارے میں تو کوئی استاد ہی مصدقہ طور پر بتا سکتا ہے کہ یہ کس کا شعر ہے، لیکن لغتنامہ دہخدا کے مطابق یہ کسی 'ملک قمی' کا شعر ہے۔

    http://www.vajehyab.com/dehkhoda/محمل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,479
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    جی برادر حسان ۔۔۔۔ ملک قمی صاحب ہی کا ہوگا۔محض شعر کے رنگ سے تو شاعر کا اندازہ نا ممکن ہی ہوگا۔ مذکورہ شعر کا ایک اور ویریئنٹ اس طرح بھی مشہور ہے
    رفتم كہ خار از پا كشم ۔۔۔ محمل ز چشمم دور شد
    يك لحظہ من غافل شدم ۔صد سالہ راہم دور شد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  15. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    گواہ اینکہ نہ رند و نہ زاہدیم بس است
    پیالہٴ تہی و سبحہٴ گسستہٴ ما

    حُسین خان اسیری اصفہانی

    ہم نہ رند ہیں اور نہ ہی زاہد، اور اس (دعوے) پر گواہی یہی ہے کہ ہمارا جام خالی ہے اور تسبیح ٹوٹی ہوئی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  16. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,479
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    واہ واہ ۔۔۔بہت خوب وارث صاحب۔۔۔کیا پر لطف ادائیگی ہے۔۔۔مرحوم والد صاحب کے اشعار بے اختیار زبان پر آگئے ۔ (یہ یوم مزدور پہ ایک مشاعرہ کے لیے لکھے گئے تھے ردیف بوجھ)
    میں کسے تائب کہوں ۔کس کو کہوں توبہ شکن
    لوگ پھرتے ہیں لیے اب خالی پیمانوں کا بوجھ
    ٹانک آئے گا کہیں ۔ دیر و حرم کے درمیاں
    ہے گراں اب شیخ پر تسبیح کے دانوں کا بوجھ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  17. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ واہ، لاجواب، کیا ہی اچھے اشعار ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اے شوخ بیا در دلِ درویش نشیں
    اے کانِ نمک بر جگرِ ریش نشیں
    در ہجرِ تو دامنم گلستاں شدہ است
    یک دم بہ کنارِ کشتہٴ خویش نشیں

    رُباعی از صُوفی خلیل طالقانی

    اے شوخ کبھی آ اور درویش کے دل میں بھی ٹھکانہ کر، اے کانِ نمک آ اور اس پارہ پارہ جگر پر اور اثر کر، تیرے ہجر میں میرا دامن ﴿تار تار ہو کر﴾ گلستان کا منظر پیش کر رہا ہے سو کبھی ایک لحظے کیلیے اپنے شہید کے پہلو میں بھی بیٹھ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  19. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,723
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ضربتے باید کہ جانِ خفتہ برخیزد ز خاک
    نالہ کے بے زخمہ از تارِ رباب آید بروں
    (علامہ اقبال)

    سوتے ہوئے لوگوں کے خاک سے اٹھنے کے لیے ضربت لازم ہے؛
    رباب کے تاروں پر چوٹ کیے بغیر کب اُس سے نالے کی آواز آتی ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  20. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,620
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ظلمت را بر رُخ پریشاں کردہ ای
    زیرِ ظلمت ماہِ تاباں کردہ ای

    از قد ومت بسترِ شب خواب را
    رشکِ اورنگِ سلیماں کردہ ای

    از گُل و برگِ لب و رُخسار خود
    صحنِ عالم را گُلِستاں کردہ ای

    از فروغِ مے رُخ گُلنار را
    شعلہٴ شمعِ شبستاں کردہ ای
    حُسین انجُم

    زُلفوں کو جب بھی رُخ پہ پریشاں سا کردیا
    ظُلمت کے پیچھے چاند کو تاباں سا کردیا

    آئے تمھارے، رات سُہانے سے خواب نے
    مسند کو میری تختِ سلیماں سا کردیا

    رُخسارِگُل نما تِرے، پتّی سی ہونٹ نے
    عالم تمام کو ہی گلُِسْتاں سا کردیا

    دی یوں فروغِ مے وہ گلنار رُخ نے آج
    میرا غریب خانہ شبِستاں سا کردیا

    (ترجمہ طارق شاہ )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر