جنگل میں دھنک - منیر نیازی

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 12, 2007

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بسنت رُت

    کام دیو کی دھنُش سے نکلے موہن تیکھے بان
    سُکھ ساگر کی لہریں آئیں چڑھتے چندر سمان
    نگر نگر میں چھڑا ہوا ہے مدھر ملن کا راگ
    سدا سہاگن چنچل ناریں ہنس ہنس کھیلیں پھاگ
    سرد ہوا میں کھلی ہوئی ہے ہرے رنگ کی گھاس
    کُنج کُنج میں جاگ رہی ہے پیلے پھول کی باس
    پھر بھی لاکھوں سندریوں کا کومل من ہے اداس
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مدھر مِلن

    گھر کی منڈیروں پر گھر آئی کالی گھور گھٹا
    بوندوں کی رِم جھِم میں سارے شہر کا شور مِٹا
    بجلی نے نیلے پربت کو لہو لہان کیا

    چھت پر پازیبوں میں دُکھ کا ساگر دوب گیا
    لاج کی خوشبو کا سندیسہ چاروں اور بڑھا
    بجلی نے نیلے پربت کو لہو لہان کیا
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پرتگیا

    کیسے میٹھے بول سنے ہیں پھر بھی خاموش رہا ہوں
    اپنے ہی غم کے نشّے کی تانوں سے مدہوش ہوا ہوں

    آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جب اس نے پرنام کیا تھا
    اُس کی اندھی پوجا کا میں نے یہ انعام دیا تھا

    چلی گئی تو میں نے دل کو یہ کہہ کر سمجھایا تھا
    وہ اک شام کا سایہ تھا جو مجھے منانے آیا تھا

    جو ہونا تھا ہو بھی چکا ہے اب میں اور نہ درد سہوں گا
    میں بھی اب سے شام کا سایہ بن کر اُس کے ساتھ رہوں گا
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جاگو موہن پیارے


    چھپے گن کی اوٹ میں اس کے نینوں جیسے تارے
    دکھ کا سندیسہ لے کر آئے چاہت کے ہرکارے
    آئی نہ ملنے رادھا رانی لاکھ جتن کر ہارے
    رات گزر گئ سپنوں والی جاگو موہن پیارے
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سارے روپ


    ہنس ہنس پریت جگاتے دیکھا
    جھوٹی قسمیں کھاتے بھی

    اپنی چاہ میں روتے دیکھا
    ناطہ توڑ کے جاتے بھی

    گہری شام کی بجلی بن کر
    پربت پر لہراتے بھی

    ساون کی منہ زور ہوا میں
    چھت کے دیے جلاتے بھی
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دوٗری کا گیت

    نیل گگن کا گہرا ساگر
    تارے بہتے جاتے ہیں
    اپنے اپنے دُکھ کی کہانی
    مجھ سے کہتے جاتے ہیں

    ان کے جی کو روگ لگا ہے
    چندرماں کی دوری کا
    لیکن کس سے ٹوٹ سکا ہے
    بندھن اس مجبوری کا

    اسی اداسی کے تیروں کو
    دل پر سہتے جاتے ہیں
    نیل گگن کا گہرا ساگر
    تارے بہتے جاتے ہیں
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    راستے کی سوچ

    شام بھی سونے پنگھٹ جیسی گہرے گہرے بادل تھے
    اب بھی مجھ کو یاد ہے جب میں چلا تھا چھُپ کے مدھوبن سے

    کتنی دیر لگائی میں نے بگڑے کام بنانے میں
    بیت گئے ہیں کئی زمانے جا کر واپس آنے میں

    کیسے اس کے دل سے میں یہ گہری بات بھلاؤں گا
    کیا منہ لے کر میں اپنی رادھا کے سامنے جاؤں گا
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    راستے کی تھکن


    آس پاس کوئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے
    شام بھی جیسے کسی پرانے سوگ میں ڈوٗبی آئی ہے
    پل پل بجلی چمک رہی ہے اور میلوں تنہائی ہے

    کتنے جتن کیے ملنے کو پھر بھی کتنی دوری ہے
    چلتے چلتے ہار گیا میں پھر بھی راہ ادھوری ہے
    گھایل ہے آواز ہوا کی اور دل کی مجبوری ہے
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جنگل میں زندگی


    پُر اسرار بلاؤں والا
    سارا جنگل دشمن ہے
    شام کی بارش کی ٹپ ٹپ
    اور میرے گھر کا آنگن ہے

    ہاتھ میں اک ہتھیار نہیں ہے
    باہر جاتے ڈرتا ہوں
    رات کے بھوکے شیروں سے
    بچنے کی کوشش کرتا ہوں
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جنگل کا جادو

    جس کے کالے سایوں میں ہے وحشی چیتوں کی آبادی
    اس جنگل میں دیکھی میں نے لہو میں لتھڑی اک شہزادی

    اس کے پاس ہی نگے جسموں والے سادھو جھوم رہے تھے
    پیلے پیلے دانت نکالے نعش کی گردن چوم رہے تھے

    ایک بڑے سے پیڑ کے اوپر کچھ گِدھ بیٹھے اونگھ رہے تھے
    سانپوں جیسی آنکھیں میچے خون کی خوشبو سونگھ رہے تھے
    \
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سُندر بن میں ایک رات

    رات تھی گہرے راز سی
    چھپی ہوئی آواز سی
    میں بھی رستہ بھول کے
    چھوڑ کے ساتھی پھول سے
    دیکھ کے بڑھتی رات کو
    سر پر چڑھتی رات کو
    ڈر کر دھوکا کھا گیا
    اس جنگل میں آ گیا
    یہاں عجب ہی حال تھا
    بن تھا گہرے جال سا
    سبز کے اندر لال سا
    پیڑ تھے کچھ نمناک سے
    گم سم اور غمناک سے
    اونچے ہیبت ناک سے
    اوپر چاند کی روشنی
    نیچے گہری تیرگی
    شیر دھاڑا دیر تک
    جنگل گونجا دیر تک
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اداس کرنے والی آواز

    آدھی رات اور ایسا موسم
    ساری دنیا سوتی ہے

    دور سے آتی تیز ہوا
    خوشبو کے ہار پروتی ہے

    چھپ کر دیکھوں کون ہے یہ
    جو پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سفر سے روکنے والی آواز


    ’’ٹھہر جانا۔۔۔ ٹھہر جانا۔۔۔۔‘‘
    بلاتی ہے ارے ناداں
    مجھے آواز گھایل سی

    سنبھل جانا۔۔ نہ رک جانا
    صدا ہے یہ ارے ناداں
    ہوا میں اڑتے بادل کی
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سفر سے روکنے والی آواز


    ’’ٹھہر جانا۔۔۔ ٹھہر جانا۔۔۔۔‘‘
    بلاتی ہے ارے ناداں
    مجھے آواز گھایل سی

    سنبھل جانا۔۔ نہ رک جانا
    صدا ہے یہ ارے ناداں
    ہوا میں اڑتے بادل کی




    ویران درگاہ میں آواز

    اک بڑی درگاہ تھی اور ہلکی ہلکی چاندنی
    مسکراہٹ جیسے پیلے آدمنی کی نعش کی

    چلتے چلتے میں نے کوئی سرسراہٹ سی سنی
    ہولے ہولے پاس آئی ایک آہٹ سی سنی

    دور تک کچھ بھی نہ تھا معبد کے سایے کے سوا
    میری اپنی چاپ سے ہی میرا دل ڈرنے لگا

    خوف سے گھبرا کے میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی
    اُف خدا! یہ سانس جیسے اک قیامت بن گئی

    دیر تک جیسے سفر کرتی ہے گنبد کی صدا
    تھا اثر ایسا ہی کچھ اس میری آہِ سرد کا

    صحن سارا سہمی سہمی آہٹوں سے بھر گیا
    بڑھ رہا ہو چھپ کے جیسے دشمنوں کا قافلہ

    ’’کون ہے؟‘‘ میں اک عجب موجودگی سے ڈر گیا
    جیسے کوئی تھا وہاں پر، پھر بھی وہ روپوش تھا

    ’’کون ہے؟‘‘ ۔۔ ’’کون ہے؟‘‘ ۔۔’’کون ہے؟‘‘
    یوں جواب آتا رہا جیسے کوئی بے چین لَے

    ’’کیا کہاں کوئی نہیں ہے؟‘‘
    میں نے پھر ڈر کر کہا

    ’’کوئی ہے ۔۔ کوئی نہیں ہے
    کوئی ہے ۔۔ کوئی نہیں ہے۔۔‘‘
    دیر تک ہوتا رہا
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک اور خواہش

    خواہشیں ہیں دل میں اتنی جتنے اس دنیا میں غم

    شوق سے جلتی جبینیں اور جادو کے صنم
    مہرباں سرگوشیاں، نا مہربانی کے ستم
    آنکھ کے پُر پیچ رستے، ریشمی زلفوں کے خم

    اصل میں کیا ہے یہ سب؟ کچھ بھی پتہ چلتا نہیں
    چاند جیسے آسماں کا جو کبھی ڈھلتا نہیں
    شعلہ جیسے وہم کا، بجھتا نہیں جلتا نہیں

    لاکھ کوشش کر چکا ہوں پھر بھی کچھ سمجھا نہیں
    لاکھ شکلیں دیکھ لی ہیں پھر بھی کچھ دیکھا نہیں

    گر خبر مل جائے مجھ کو اس نرالے راز کی
    ٹوٹ جایے حد کہیں تخئیل کی پرواز کی
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جبر کا اختیار

    تاج پہن کر شاہ بنوں یا گلیوں کا رہگیر
    دِیا بنوں اور جلوں ہوا میں یا زہریلا تیر
    میرے بس میں ہے اب سب کچھ، موت ہے میری اسیر
    آسماں میرے پاؤں تلے ہے، مٹھی میں تقدیر
    مجھ کو گھایل کر نہیں سکتی چاہت کی شمشیر
    کتنے جتن سے توڑی میں نے خواہش کی زنجیر
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وجود کی اہمیت

    توٗ ہے تو پھر میں بھی ہوں
    میں ہوں تو یہ سب کچھ ہے
    دکھ کی آگ بھی، موت کا غم بھی
    دل کا درد اور آنکھ کا نم بھی

    میں جو نہ ہوتا
    میری طرح پھر کون
    جہاں کے
    اتنے غموں کا بوجھ اٹھاتا
    دوزخ کے شعلوں میں جل کر
    شعروں کے گلزار کھِلاتا
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    فنا اور بقا

    ابھی ان گنت دلربا صورتیں ہیں
    جو مٹّی کے ذرّوں، ہوا کے جھکوروں، فلک کے ستاروں، گُلوں کے تعطّر میں پوشیدہ و نادمیدہ پڑی ہیں
    کبھی شام آئے گی
    جب ہر جگہ ان کی باتوں کی بجتی ہوئی گھنٹیوں کے مدھُر شور کی لَے سے بھر جائے گی
    ہر گلی ان کے نازک دبے پاؤں چلنے کی آہٹ کے جادو میں کھو جائے گی
    ہر بجھی صبح ان کے تنفّس کی جلتی ہوئی خوشبوؤں سے مہک جائے گی
    [پھر اسی طرح جیسے تم اب میرے پہلو میں چپ بیٹھی شرما رہی ہو
    کبھی رات آئے گی
    جب وہ بھی سولہ سنگھاروں سے سج کر
    کسی پریمی کی میٹھی سنگت میں بیٹھی
    خود اپنی ہی سوچوں سے شرمائیں گی
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں اور میرا خدا

    لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کام
    بھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرام
    ایک طرف آواز اکا سورج، ایک طرف اس کا انجام
    ایک طرف جسموں کی خوشبو، ایک طرف اس کا انجام
    بن گیا قاتل میرے لیے تو اپنی ہی نظروں کا نام
    سب سے بڑا ہے نام خدا کا اس کے بعد ہے میرا نام
    میں اور میرا سایہ
    ایک دفعہ میں آگے بھاگا
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں اور میرا سایہ

    ایک دفعہ میں آگے بھاگا
    اور وہ میرے پیچھے
    ایک دفعہ وہ آگے آگے
    اور میں اس کے پیچھے
     

اس صفحے کی تشہیر