جنگل میں دھنک - منیر نیازی

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 12, 2007

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جنگل میں دھنک

    منیر نیازی مرحوم​
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک آدمی

    کل دیکھا اک آدمی اٹا سفر کی دھول میں
    گم تھا اپنے آپ میں، جیسے خوشبو پھول میںٕ
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ماضی

    یہ کہنہ محل، جس کے رنگیں دریچوں سے لپٹی ہوئی عشقِ پیچاں کی بیلیں
    منڈیروں، ستونوں پہ پھیلی ہوئی سبز کائی
    سرِ شام چلتے ہوئے سرد جھونکوں میں مسکاریاں بھر رہی ہے
    جہاں اب ہوا، اُس کے پائیں چمن کے خزاں دیدہ پیڑوں کی شاخوں
    پہ سرگوشیوں کے شگوفے کھلانے سے شرما رہی ہے
    یہاں۔۔۔ ایک دن تھا کہ شیریں صداؤں کے جھنڈ
    آرزوؤں کے بھٹکے ہوئے قافلوں کے لیے راحتوں کے نشاں تھے
    یہاں ہر دریچہ
    حسیں، ہمہماتے، وفا کیش چہروں کی آماجگہ تھا
    یہ باغ ان گنت خوشبوؤں، چہچہاتے پرندوں،
    گھنیرے درختوں کی اک دلنشیں جلوہ گہ تھا
    یہ چپ چاپ سنگیں عمارت تب اتنی پُرانی نہیں تھی
    مگر آج جس سمت دیکھو
    نگاہوں کے کشکول میں
    سوٗنے بام و در و سقف
    سوکھے درختوں سے جھڑ کر گرے زرد پتّوں، چٹختی ہوئی ٹہنیوں کے سوا کچھ نہیں ہے!!
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    توٗ

    وہاں، جس جگہ پر صدا سو گئی ہے
    ہر اک سمت اونچے درختوں کے جھنڈ
    ان گنت سانس روکے ہوئے چُپ کھڑے ہیں
    جہاں ابر آلود شام اُڑتے لمحوں کو روکے ابد بن گئی ہے
    وہاں، عشقِ پیچاں کی بیلوں میں لپٹا ہوا اک مکاں ہو!
    اگر میں کبھی راہ چلتے ہوئے اس مکاں کے دریچوں کے نیچے سے گزروں
    تو اپنی نگاہوں میں اک آنے والے مسافر کی
    دھُندلی تمنّا لیے توٗ کھڑی ہو!!
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    قفسِ رنگ

    بہت دن ہوئے
    میں نے اک بادلوں سے بھری صبح کو
    خوابگہ کے دریچے سے جھانکا
    تو پائیں چمن کا ہر اک پھول
    حیرت زدہ لڑکیوں کی لجائی ہوئی آنکھ کی طرح
    میری طرف تک رہا تھا!!

    مجھے بھول کر
    اپنے بستے گھروندوں میں ہنستی ہوئی لڑکیو!
    مجھ کو اس بادلوں سے بھری صبح کے
    گہری حیرت میں گُم، شرم آلود پھولوں کی مانند
    تمھیں دیکھ کر کانپ اُٹھنے کی
    وہ اوّلیں ساعتیں یاد ہیں
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سائے


    کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہے
    ہر اک سایہ اک آنکھ ہے
    جس میں عشرت کدوں، نا رسا خواہشوں،
    ان کہی دل نشیں داستانوں کا ملبہ لگا ہے
    مگر آنکھ کا سحر
    پلکوں کی چلمن کی ہلکی سی جنبش ہے
    اور کچھ نہیں ہے
    کسی آنکھ کا سحر دائم نہیں ہے

    ہر اک سایہ
    چلتی ہوا کا پر اسرار جھونکا ہے
    جو دوُر کی بات سے
    دل کو بے چین کر کے چلا جائے گا
    ہر کوئی جانتا ہے
    ہواؤں کی باتیں کبھی دور تک رہنے والی نہیں ہیں
    کسی آنکھ کا سحر دائم نہیں ہے
    کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہے
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایسی کئی شامیں

    ابھی سرد بوجھل ہوا جی اٹھے گی
    ابھی ناریل کے درختوں پہ، ساحل پہ
    چھا جائے گا اک نشیلا اندھیرا
    معطّر لبوں، مدھ بھری دھیمی باتوں
    کے انبوہ ہر سمت آوارہ ہوں گے
    ابھی آرزوؤں کے بے حرف کتبے
    اُبھر آئیں گے

    بے گل و برگ یادوں کی اجڑی ہوئی بستیوں سے
    یہیں تیرگی میں،
    مَیں چپ چاپ گزرے زمانوں کی قبروں کو گنتا رہوں گا
    بہت دور۔۔۔ ظلمت کے قاصد ستارے چمکتے رہیں گے
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہزار داستان

    جدھر بھی دیکھیں
    مہکتے ہونٹوں کے سرخ گلشن کھِلے ہوئے ہیں
    جہاں بھی جائیں
    حیا کے نشّے سے چوٗر آنکھیں
    دلوں میں گہری اداسیوں کو اُتارتی ہیں
    ہزار گوشے ہیں
    جن سے پاگل بنانے والی
    سیاہ زلفوں کی مست خوشبو اُمڈ رہی ہے
    مگر وہ اک ایسا پیارا چہرہ
    جو ایک رُت کے اداس جھونکے
    کے ساتھ آ کر
    چلا گیا ہے
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہوا کا گیت

    مرا راستہ روکنے کی نہ کوشش کرو
    میں ہوا ہوں
    مری کھوج میں جنگلوںم گلستنانوں، پہاڑوں، پرانے مکانوں
    میں جاؤ گے تو ایک جانکاہ دُکھ کے سوا
    اور کچھ بھی نہیں مل سکے گا
    سیہ کالی راتوں میں
    ہلکی سی آہٹ پہ اٹھ کر
    سلگتی نگاہوں سے چاروں طرف تکنے والو
    کوئی تم میں ایسا بھی ہے؟
    جو رواں ندّیوں، راہ چلتی صداؤں کو بانہوں کے گھیرے میں لے کر دکھا دے
    چلے جانے والوں کو اک بار واپس بُلا کر دکھا دے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کوششِ رائگاں

    ابھی چاند نکلا نہیں
    وہ ذرا دیر میں اِن درختوں کے پیچھے سے ابھرے گا
    اور آسماں کے بڑے دشت کو
    پار کرنے کی اک اور کوشش کرے گا
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    فریب

    شام ہونے کو ہے
    شام ہوتے ہی سُکھ سے بھری اک صدا
    جنگلوں سے گزرتی ہوئی آئے گی
    دشتِ غُربت کی ٹھنڈی ہوا
    اپنے پیاروں سے دور
    اجنبی راستوں پر بھٹکتے دلوں کو سُلا جائے گی
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نارسائی

    مرا دل محبت کا بھوکا
    بلند، اونچے پیڑوں کے جنگل
    میں چلتے ہوئے رہرووں سے یہ کہتا ہے:
    ’مجھ کو اُٹھا لو۔۔۔
    مجھے اپنے ساتھ اُن المناک رستوں میں لے کر چلو
    جن میں ہر آرزو شام کی راگنی بن گئی ہے
    جہاں ہر صدا بھیگے سایوں کی خاموش محراب میں چھُپ گئی ہے
    حسیں رہروو!
    میں تمھارے اکیلے گھروں میں
    تمھاری حزیں چاہتوں کے غم افروز گیتوں پہ رویا کروں گا‘

    مرا دل محبّت کا بھوکا
    اسی طرح صدیوں سے چاہت کا کشکول لے کر
    گھنے جنگلوں کے حسیں رہرووں سے کہے جا رہا ہے:
    "نجھے ساتھ لے کر چلو۔۔
    اجنبی راستوں پر بھٹکتے ہوئے اجنبی دوستو!‘
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خوشبو کے رنگ

    خوشبو کے اس جھونکے میں
    کچھ اونچے سرد مکانوں کی
    اک لمبی چور گلی ہے
    اُس میں اک آواز کا جادو
    رنگ جمانے آیا
    ریشمی کپروں کا انگارہ
    آگ لگانے آیا
    بھولی ہوئی شکلوں کا بادل
    نیر بہانے آیا
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گلِ صد رنگ

    کبھی چمکتے ہوئے چاند کی طرح روشن
    کبھی طویل شبِ ہجر کی طرح غمگیں
    شعاعِ لعلِ حنا کی طرح مہکتی ہوئیں
    کبھی سیاہیٕ کوہٕ ندا میں پردہ نشیں

    سنبھل کے دیکھ طلسمات ان نگاہوں کا
    دلِ تباہ کی رنگیں پناہ گاہوں گا
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گوہرِ مراد

    شاموں کی بڑھتی تیرگی میں
    برکھا کے سونے جنگل میں
    کبھی چاند کی مٹتی روشنی میں
    رنگوں کی بہتی نہروں میں
    ان اونچی اونچی کھڑکیوں والے
    اجڑے اجڑے شہروں میں
    کن جانے والے لوگوں کی
    یادوں کے دئے جلاتے ہو؟
    کن بھولی بِسری شکلوں کو
    گلیوں میں ڈھونڈھنے جاتے ہو؟
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    موسمِ بہار کی دوپہر

    ہلکی ہلکی گرم ہوا میں ہلکی ہلکی گرد
    ویراں مسجد کے پیچھے تھوہر کی سبز قطار
    اس کے عقب میں لال اور نیلے پھولوں کے انبار
    اونچے اونچے پیڑ ہیں جیسے لمبے لمبے مرد

    یا سنسان قلعے کی خاکی، اُجڑی سی دیوار
    جس کے نیچے چھپے ہوئے کچھ دشمن کے سردار
    ہاتھ میں پکڑے جگمگ کرتے سورج کی تلوار
    چور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں رنگوں کا تہوار
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    زندگی

    شام کو سورج خود اپنے ہی لہو کی دھاریوں میں ڈوب کر
    دیکھتا ہے بجھتی آنکھوں سے سوادِ شہر کے سونے کھنڈر
    اس کو لے جائے گی پل بھر میں فنا کے گھاٹ پر
    رات کے بحرِ سیہ کی موج ہے گرمِ سفر

    دیکھتی آنکھوں سے اُفق کے سرد ساحل پر اندھیرا چھائے گا
    ڈوبتا سورج ابھی بھولے دنوں کی داستاں بن جائے گا

    سرسراتے ریشمی سایوں سے بھر جائے گی ہر اک رہگزر
    نازنیں آنکھوں کی صورت ٹمٹمائیں گے خیالوں کے نگر
    تہز سانسوں کی پہک اُڑتی پھرے گی رات بھر
    توٗ بھی خوش ہو، میرے دل!، نوحہ گرٕ شام و سحر!!
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    زندگی

    شام کو سورج خود اپنے ہی لہو کی دھاریوں میں ڈوب کر
    دیکھتا ہے بجھتی آنکھوں سے سوادِ شہر کے سونے کھنڈر
    اس کو لے جائے گی پل بھر میں فنا کے گھاٹ پر
    رات کے بحرِ سیہ کی موج ہے گرمِ سفر

    دیکھتی آنکھوں سے اُفق کے سرد ساحل پر اندھیرا چھائے گا
    ڈوبتا سورج ابھی بھولے دنوں کی داستاں بن جائے گا

    سرسراتے ریشمی سایوں سے بھر جائے گی ہر اک رہگزر
    نازنیں آنکھوں کی صورت ٹمٹمائیں گے خیالوں کے نگر
    تہز سانسوں کی پہک اُڑتی پھرے گی رات بھر
    توٗ بھی خوش ہو، میرے دل!، نوحہ گرٕ شام و سحر!!
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پُر اسرار چیزیں

    جب بھی تارا گرے گا اس پر
    اُس کا دل تو کانپے گا
    نئی نئی خواہش کا چیتا
    بڑے زور سے ہانپے گا
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک پتّے سے خطاب


    اتنا اونچا اُڑ رے پتّے
    جتنے اونچے تارے ہیں
    جو دھرتی کو دور سے تکتی
    آنکھ کو کتنے پیارے ہیں
     

اس صفحے کی تشہیر