جنگل میں دھنک - منیر نیازی

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 12, 2007

  1. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,733
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    آئینہ بن کر کبھی اُن کو بھی حیراں دیکھیے
    اپنے غم کو اُن کی صورت سے نمایاں دیکھیے

    اس دیارَ چشم و لب میں دل کی یہ تنہائیاں
    اِن بھرے شہروں میں بھی شامِ غریباں دیکھیے

    عمر گزری دل کے بُجھنے کا تماشا کر چکے
    کس نظر سے بام و در کا چراغاں دیکھیے

    دیکھیے اب کے برس کیا گُل کھِلاتی ہے بہار
    کتنی شدّت سے مہکتا ہے گلستاں دیکھیے

    اے منیر اِس انجمن میں چشمِ لیلٰی کا خیال
    سردیوں کی بارشوں میں برق لرزاں دیکھیے
     
  2. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,733
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    ہنسی چُھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیا
    یہ اِک جھلک کا تماشا جگر جلا بھی گیا

    اُٹھا، تو جا بھی چکا تھا، عجیب مہماں تھا
    صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا

    غضب ہوا جو اندھیرے میں جل اُٹھی بجلی
    بدن کسی کا طلسمات کچھ دِکھا بھی گیا

    نہ آیا کوئی لبِ بام، شام ڈھلنے لگی
    وفورِ شوق سے آنکھوں میں خون آ بھی گیا

    ہوا تھی، گہری گھٹا تھی، حنا کی خوشبو تھی
    یہ ایک رات کا قصّہ لہو رُلا بھی گیا

    چلو چلیں منیر، اب یہاں رہیں بھی تو کیا
    وہ سنگ دل تو یہاں سے کہیں چلا بھی گیا
     
  3. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,733
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ گر رہا
    جب تک رہا میں ساتھ مرے یہ ہُنر رہا

    صبحِ سفر کی رات تھی، تارے تھے اور ہوا
    سایہ سا ایک دیر تلک بام پر رہا

    میری صدا ہوا میں بہت دُور تک گئی
    پر میں بُلا رہا تھا جیسے، بے خبر رہا

    گزری ہے کیا مزے سے خیالوں میں زندگی
    دُوری کا یہ طلسم بڑا کارگر رہا

    خوف آسماں کے ساتھ تھا سر پر جھکا ہوا
    کوئی ہے بھی یا نہیں ہے، یہی دل کو ڈر رہا

    اُس آخری نظر میں عجب درد تھا منیر
    جانے کا اُس کے رنج مجھے عمر بھر رہا
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک باغی بیٹے کی تصویر

    باپ مرتا جا رہا تھا، ماں بہت دلگیر تھی
    چپ تھی بس جیسے وہ کوئی خواب کی تصویر تھی

    ہر طرف پیروں کے سائے، شام تھی تنہا بہت
    اور بیٹا باپ کے اس حال پر رویا بہت

    دیکھ کر اک دوسرے کو کوئی بھی بولا نہیں
    کیا تھا ن کے سخت دل میں، راز یہ کھولا نہیں

    دل دکھی تھے، نظریں گہرے غم نصیبوں کی طرح
    پھر بھی دونوں لگ رہے تھے دو رقیبوں کی طرح
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میرے دشمن کی موت

    تیغ لہو میں ڈوبی تھی اور پیڑ خوشی سے جھوما تھا
    بادِبہاری چلی جھوم کے جب اس نے مجھے دیکھا تھا
    گھایل نظریں اُس دشمن کی ایسے مجھ کو تکتی تھیں
    جیسے انہونی کوئی دیکھی ان کمزور نگاہوں نے

    یہ انصاف تو بعد میں ہوگا، کیا جھوٹا کیا سچّا ہے
    کون یقین سے کہہ سکتا ہے، کون برا کون اچھا ہے
    لیکن پھر بھی ایک بار تو میرا دل بھی کانپاتھا
    کاش یہ سب کچھ کبھی نہ ہوتا میں نے دکھ سے سوچا تھا
    گھایل نظریں اُس دشمن کی گہری سوچ میں کھوئی تھیں
    جیسے انہونی کوئی دیکھی ان کمزور نگاہوں نے

    کون ہوں میں اور کون تھا وہ جس پر ہونی نے وار کیا
    کون تھا وہ جس شخص کو میں نے بھری بہار میں مار دیا
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گیت

    اے صاحبِ جمال
    اب آ کے دیکھ تیرے لیے کیا ہے میرا حال
    اے صاحبِ جمال

    کچھ رحم کر نہ اتنے تغافل سے کام لے
    آ اور مسکرا کے مرا ہاتھ تھام لے
    تیرے بغیر مجھ کو تو جینا ہوا محال
    اے صاحبِ جمال

    دنیا سے دور، اس کی بھری محفلوں سے دور
    چوکھٹ پہ تیری آ کے گرا ہوں غموں سے چور
    پردہ اھا کے سُن بھی ذرا اب مرا سوال
    اے صاحبِ جمال
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گیت
    نیلے نیلے آسمان پر بادل ہیں چمکیلے
    جانے کیا دیکھا گوری نے ہو گئے نین نشیلے
    نیلے نیلے آسمان پر۔۔۔۔۔

    سایہ بن کر دل سے گزری یاد گئی برساتوں کی
    یا دیکھی تصویر نظر نے پیار میں ڈوبی راتوں کی
    نیلے نیلے آسمان پر۔۔۔۔۔

    روشنیاں سی چمک رہی ہیں آھ کسی کی نگاہوں میں
    چلی ہوا دیوانی ہو کر، پھول برس گئے راہوں پر
    نیلے نیلے آسمان پر۔۔۔۔۔

    اُڑی مہک کالے بالوں سے، جیسے دور اندھیرے میں
    پھلواری کوئی کھلی ہوئی ہو دیواروں کے گھیرے میں
    نیلے نیلے آسمان پر۔۔۔۔۔
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پرانے گھر کا گیت

    شام ہوئی گھر آ باورے، شام ہوئی گھر آ
    تو نے سفر میں کیا کچھ دیکھا ہم کو بھی تو سنا باورے
    شام ہوئی گھر آ

    کیسے کیسے لوگ ملے تھے، کیا تھا ان کا نام
    کہاں کہاں کی خاک اُڑائی، کہاں کیا بسرام
    کون تھا جس نے تیرے دل سے مجھ کو دیا بھلا، باورے
    شام ہوئی گھر آ

    پچھلے پہر کا چاند تھا کتنا چپ چپ اور اداس
    اک سایہ کاموش کھڑا تھا دیواروں کے پاس
    یاد ہے اس نے تجھے کہا تھا ’’آج رات مت جا‘‘، باورے
    شام ہوئی گھر آ
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گیت

    کب تک چلتا رہے گا راہی ان انجانی راہوں میں
    کب تک شمع جلے گی غم کی ان بے چین نگاہوں میں

    وہ بھی بھول گیا ہوگا تجھے دنیا کے جنجالوں میں
    کتنا بدل گیا ہے توٗ بھی آتے جاتے سالوں میں
    گا کوئی گیت خوشی کا پاگل، کیا رکھّا ہے آہوں میں

    مل بھی گیا وہ، پھر کیا ہوگا؟ لاکھوں ملتے دیکھے ہیں
    یہ گلزار تو رات کی چُپ میں سب نے کھِلتے دیکھے ہیں
    رات کٹی تو خاک اڑتی ہے پیار کی جلوہ گاہوں میں
    کب تک ۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گیت

    کس کو ڈھونڈھنے گھر سے نکلی ۔۔ اے راتوں کی ہوا
    کہاسں ہیں تیرے من کے موہن۔۔ کچھ تو بھید بتا
    اے راتوں کی ہوا

    اس کی کھوج میں چلتے چلتے تھکیں گے تیرے پاؤں
    پھر بھی دور رہے گا تجھ سے اس پریتم کا گاؤں
    چھوڑ یہ دکھ کا کھیل بانوری۔۔ گھر کو واہس جا
    اے راتوں کی ہوا

    پربت کے نیلے جھرنوں کو اپنے گیت سنا
    اونچے اونچے پیڑوں والے بن کی ہنسی اُڑا
    اے راتوں کی ہوا
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گیت

    چاروں کھونٹ مُرلیا باجے، دھن موہن متواری

    جمنا تٹ پر آن براجے سانورے شیام مراری
    چاروں کھونٹ مُرلیا باجے، دھن موہن متواری
    جس کو سن کر سوچ میں کھوئی گئی بربدا بن کی ناری
    چاروں کھونٹ مُرلیا باجے، دھن موہن متواری

    جنم جنم سے یہی مرلیا موہ کے گیت سنائے
    برندا بن کی ناری کو جمنا کے تٹ پہ بلائے
    کیسے کوئی لاج کے بندھن توڑ کے پریت نبھائے
    گرج گرج کے جی کو جلاتی آئی بدریا کاری
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گیت

    شور کرتے گونجتے گھنگھور کالے بادلو
    لاؤ اس بھولے سمے کی دل جلاتی شام کو
    شور کرتے گونجتے گھنگھور کالے بادلو

    ہونٹ جلتے دیپ، آنکھیں رنگ کی پچکاریاں
    اپنے اپنے دھیان میں دوبی سجیلی ناریاں
    اس رسیلی راس کو بس دور سے تکتے رہو
    شور کرتے گونجتے گھنگھور کالے بادلو

    بانسری کی دھن کہیں سوٗنے بنوں میں کھو گئی
    رادھِکا موہن کا رستہ تکتے تکتے سو گئی
    ڈھونڈھ کر لاؤ کہیں سے اس سلونے شیام کو
    شور کرتے گونجتے گھنگھور کالے بادلو
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گیت

    جس نے مرے دل کو درد دیا
    اُس شکل کو میں نے بھلایا نہیں

    اک رات کسی برکھا رت کی
    کبھی دل سے ہمارے مٹ نہ سکی
    بادل میں جو چاہ کا پھول کھِلا
    وہ دھوپ میں بھی کمھلایا نہیں
    جس نے مرے دل کو درد دیا
    اُس شکل کو میں نے بھلایا نہیں

    کجرے سے سجی پیاسی آنکھیں
    ہر دوار سے درشن کو جھانکیں
    پر جس کو ڈھونڈھتے میں ہارا
    اُس روپ نے درس دکھایا نہیں
    جس نے مرے دل کو درد دیا
    اُس شکل کو میں نے بھلایا نہیں

    ہر راہ پہ سندر نار کھڑی
    چاہت کے گیت سناتی رہی
    جس کے کارن میں کوی بنا
    وہ گیت کسی نے سنایا نہیں
    جس نے مرے دل کو درد دیا
    اُس شکل کو میں نے بھلایا نہیں
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جنگل میں دھنک حصے کا اختتام
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس کو مجھ سے حجاب سا کیا ہے
    آئینے میں سراب سا کیا ہے
    آنکھ نشّے میں مست سی کیوں ہے
    رُخ پہ زہرِ شباب سا کیا ہے
    گھر میں کوئی مکیں نہیں لیکن
    سیڑھیوں پر گلاب سا کیا ہے
    کوئی تھا، اب نہیں ہے اور میں ہوں
    سوچتا ہوں یہ خواب سا کیا ہے
    شام ہے، شہر ہے، فصیلیں ہیں
    دل میں پھر اضطراب سا کیا ہے
    اے منیرؔ اس زمیں کے سر پر
    آسماں کا عذاب سا کیا ہے
     

اس صفحے کی تشہیر