جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے

ساجداقبال

محفلین
[align=center:0bb2a6fe70]جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے
میں نے نظروں کی طرح سر بھی جھکارکھاہے

برتنو! آج مرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے تم کو توہمیشہ سے دُھلا رکھا ہے

پہلے بیلن نے بنایا تھا میرے سر پہ گومڑ
اور اب چمچے نے میرے گال سجا رکھا ہے

سارے کپڑے تو جلا ڈالے ہیں بیگم نے
تن چھپانے کو بنیان پھٹا رکھا ہے

وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹھہرا
جس نے خود کو ابھی شادی سے بچا رکھا ہے

پی جا اس مار کی تلخی کو بھی ہنس کر یونہی
مار کھانے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے​
ماخذ[/align:0bb2a6fe70]
 
رضوان آپ بھی بات کو کھول کر رکھ دیتے ہیں۔

ساجد کب تک مقدر کے سکندر رہو گے آخر یہ سکندری جانی ہے۔
 

پاکستانی

محفلین
وہ کہتے ہیں نا کہ شادی ایک ایسا میوہ ہے جس نے کھا لیا وہ بھی پچھتائے جس نے نہ کھایا ہو وہ بھی پچھتائے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
لیکن پاکستانی بھائی، ہم ٹھہرے وہی کہ جب تک غلطی نہ کریں گے، سیکھیں گے نہیں (اب اس ساری بات کو ایک لفظ میں نہ بیان کر دیجیئے گا :wink:)
 

ساجداقبال

محفلین
ہائے سچ مچ ہماری سکندری کو نظر لگ گئی۔ اس دفعہ جب گاؤں گیا تو والدین نے خوشخبری یا بدخبری سنائی کہ ایک عدد آپ کیلئے پسند فرمالی ہے۔
فی الحال تو لڈو ہی پھوٹ رہے ہیں۔
 

حسن علوی

محفلین
جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ھے!!!

---------------------------پیروڈی------------------------

جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ھے
میں نے نظروں کی طرح ‌سر بھی جُھکا رکھا ھے

برتنوں‌! آج میرے سر پہ برستے کیوں‌ہو
میں دھو دھا کے تمہیں کتنا سجا رکھا ھے

پہلے بیلن نے بنایا میرے سر پر گُومڑ
اب چِمٹے نے میرا گال سُجا رکھا ھے

سارے کپڑے تو جلا ڈالے میری بیگم نے
زیبِ تن کرنے کو بنیان پھٹا رکھا ھے

اے کنوارو! یونہی آباد رہو شاد رہو
ہم کو بیگم نے تو سُولی پہ چڑھا رکھا ھے

وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹھہرا!
جس نے خود کو یہاں شادی سے بچا رکھا ھے

حقِ نسواں کی جو لیڈر ہیں بتائیں تو ذرا
کس نے سرتاج کو جوتی پہ اُٹھا رکھا ھے

روز لیتی ھے تلاشی وہ پولیس کی مانند
پوچھتی ھے کہاں پیسوں کو چُھپا رکھا ھے

پی جا اس مار کی تلخی کو بھی ہنس کے اکبر
مار کھانے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ھے۔
 
Top