تسنن، تقدس اور تصنع

راحیل فاروق نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 18, 2016

  1. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,789
    موڈ:
    Cheerful
    تعجب نہیں کہ آپ اسلامی تہذیب کی اصطلاح اور تفصیل اور مذاہب کی تہذیب پر اثرات سے واقف نہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  2. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,950
    ۔۔۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 20, 2016
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • غمناک غمناک × 1
  3. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,910
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    فکر نہ کریں عنوان کے تین الفاظ میں سے صرف ایک کا مطلب معلوم ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,950
    ۔۔۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 20, 2016
    • غمناک غمناک × 1
  5. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,910
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    تین لائنوں سے زیادہ اردو پڑھنے سے میری آنکھوں میں تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. اے خان

    اے خان محفلین

    مراسلے:
    4,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    آنکھوں کا علاج کیجئے۔ یہ بیماری کہی زیادہ نہ ہوجائے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  7. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,523
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واہ واہ قبلہ آپ نے تو قصہ ہی مکا دیا کیا کہنے بہت اعلٰی۔۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,910
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    ڈاکٹر کے پاس گیا تھا اس نے اردو سے پرہیز کا کہا ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غمناک غمناک × 1
  9. اے خان

    اے خان محفلین

    مراسلے:
    4,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    اس پرہیز سے تو پرہیزنہ کرنا ٹھیک رہےگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,789
    موڈ:
    Cheerful
    پھر کیا فیصلہ کیا ؟
     
  11. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,910
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    یہاں لمبے لمبے مضامین نہ پڑھنے سے وقت اورآنکھوں دونوں کی بچت ہو رہی ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  12. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,789
    موڈ:
    Cheerful
    صاحب دھاگہ کی طرف سے لکھا یہ مضمون اگرچہ مکمل طور پر قابل اتفاق نہ بھی ہو تب بھی ایک اچھا مضمون ہے۔ جذبات کو ایک طرف رکھ کر تجزیہ اور "برین سٹارمنگ" کی کوشش ہی سہی جو عموما اردو نیٹ پر دیکھائی نہیں دیتی ، اگر کہیں نظر آئے تو اسے جزوی طور پر ہی سہی لیکن قابل تعریف یا کم از کم قابل تبصرہ ضرور سمجھنا چاہیے۔
    آپ کی طرف سے ایسے تبصرے مجھے کچھ عجیب لگے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  13. محمدابوعبداللہ

    محمدابوعبداللہ محفلین

    مراسلے:
    1,299
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    لائن لمبییی کر لیا کریں
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  14. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,910
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    آپ سے متفق ہوں کہ مضمون دلچسپ ہے مگر صاحب تحریر کو میرے تنقیدی سٹائل پر کچھ بنیادی اعتراضات ہیں جس کی وجہ سے اس پر باقاعدہ تبصرہ نہیں کیا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. ادب دوست

    ادب دوست معطل

    مراسلے:
    3,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت شکریہ راحیل بھائی آپ نے اس تفصیل سے میری بے ربط گفتگو کو دیکھا، اور پھر مفصل جواب بھی عنایت فرمایا۔
    پڑھنے والوں کیلئے وضاحت ضروری ہے کہ یہ گفتگو دو پہلوں سے دیکھی جارہی ہے، اول تو اس میں وہ اصول ہے جس کے تحت قبلہ راحیل بھائی نے اپنا زاویہء خیال اس تحریر کی صورت پیش کیا، دوم ، وہ دلائل اور نظائر ہیں جو مذکورہ اصول کے ذیل میں جمع کئے گئے ہیں۔
    راحیل بھائی جیسا کہ آپ نے ابتدائی اصول کے بارے میں وضاحت فرمائی ہے ، تو اس وضاحت سے بات صاف ہوگئی ہے اور جو صورت آپ نے بتلائی ہے اب اس میں ہمارا آپ سےاختلاف دور ہوگیا اور خدشات رفع ہوگئے۔
    ہم نہ صرف تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کی رائے درست ہے بلکہ ذرا سے تغیر کے ساتھ ہمارا اپنا نظریہ بھی یہی ہے کہ "تکلف" ایک بیماری ہے ۔ ع۔
    اے ذوق، تکلف میں تکلیف سراسر
    آرام سے ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا
    آپ کا لفظ تقدیس ہے ہمارا تکلف۔ تو یہ بہت معمولی فرق ہے۔ اکابرین کے یہ جملے تاریخ کی کتب میں ہم آپ ، سبھی کی نظروں سے گزریں ہیں کہ قرون اولیٰ کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس دور میں تکلف نہیں تھا۔
    اب ذرا دیکھتے ہیں دوسری سمت کہ جہاں دلائل اور نظائر کی بات ہے۔ راحیل بھائی، اصول سے اتفاق ہونے کے باوجود آپ کی توجہ ایک اہم معاملے کی جانب مبذول کرنا چاہوں گا، وہ یہ کہ جیسا کہ ہم سب کے علم میں ہے کہ قرون اولیٰ میں تقدیس کے حوالے سے بہت حساس مزاج پایا جاتا تھا۔ مثال کے طور سے صحابہءکرام اونچی آواز میں بات نہ کرنا، پھر اسی مسئلہ میں سورت الحجرات بھی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی طرح واقعات موجود ہیں جس سے اس دور کا طرز معاشرت واضح طور پر اس بات پر گواہ نظر آتا ہے کہ اس دور میں بے پناہ تقدس پایا جاتا تھا۔ ویسے تو اس کی بہت سی مثالیں آپ کے ذہن میں تازہ ہوجائیں گی اگر کہیں گے تو کچھ مثالوں کی طرف میں بھی اشارہ کردوں گا، الغرض اس اولین دور کے متعلق یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہاں اللہ کے نبی ﷺ کے حوالے سے تقدس کا فقدان کسی صورت نہیں تھا۔ دوسرے درجہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ڈانٹ پڑ جاتی ہے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے معاملے پر نامور صحابہ کرام کو تنبیہ کردی جاتی ہے۔ تو وہ بنیادی سطح کی تقدیس تو قائم تھی۔پھر یہ کہ عام مسلمانوں میں بھی حفظِ مراتب موجود تھا، پھر العتدال فی مراتب الرجال عربوں کا پہلے سے قاعدہ ہے ، اور ایک عرب ہی کیا دنیا بھر میں یہی اصول کارفرما ہے، تقریباََ تمام ادیان اور تمام اوقوام میں اصول عام ہے۔ اسلام میں اس پر زیادہ سختی ہے۔ یعنی صرف آواز کے اونچا ہونے پر تمام اعمال کا اکارت ہوجانا بہت بڑی وعید ہے جبکہ اس میں یہ قید بھی نہیں کہ آواز حق میں ہے یا مخالفت میں، یعنی اگر موافقت بھی ہے تب بھی اونچی آواز میں بات کر ہی نہیں سکتے۔
    راحیل بھائی جہاں تک حدیث قرطاس کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں شروحات حديث میں آپ کا مطالعہ مجھ سے بہتر ہوگا، میں یہاں اس لئے عرض کرنے سے کترا رہا ہوں کہ کہیں اس سے پہلو نکال کر فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوا نہ دی جانے لگے۔ لہذا اس مسئلے کو تو آپ خود طے کیجئے یا ان بکس کی خاطر اٹھا رکھیں ۔ مگر یہ طے ہے کہ اس سے وہ بات صادق نہیں آتی جس کی طرف آپ کی تحریر میں اشارہ موجود ہے۔
    صلح حدیبیہ میں غالباََ آپ قربانی والے معاملے پر چلے گئے، میں نے سفیر مقرر کرنے والے معاملے کا حوالہ دیا تھا۔ راحیل بھائی گردن وردن کسی کی نہیں جاتی مسلمانوں کی کتب میں تمام واقعات موجود ہیں ان کی شروحات بھی موجود ہیں جو کھلے راستے پر چلنے کی عادی ہیں اور "برڈ آئی ویو" سے معاملے کو دیکھنے کے قائل ہیں وہ اسی طرف جاتے ہیں جن کے اذہان میں زیغ ہے ان کا معاملہ دوسرا ہے، آخر مستشرقین نے سوالات اٹھائے ہیں نا؟ پھر ان کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ خیر، موضوع کی طرف آتے ہیں۔
    تو صلح حدیبیہ میں میں نے بیعتِ رضوان سے پہلے مکہ میں سفیر مقرر کرنے والے معاملے کی طرف اشارہ کیا تھا، پھر یہ تو ایک واقعہ ہے میں تو اس سے بڑھ کر یہ عرض کررہا تھا کہ پوری مدنی زندگی میں ایسے واقعات بھر پڑے ہیں جن میں آپ ﷺ سے بے تکلف اپنی بات کہی گئی آپ ﷺ نے کبھی تسلیم کی کبھی رد کی ۔ یہی وہ معاملہ جس میں میرا خیال یہ ہے کہ اس معاشرے کا بے تکلف ہونا ظاہر ہوتا ہے نہ کہ بے تقدیس ہونا۔ کیونکہ تقدیس کے حوالے سے تو اس معاشرے میں حساسیت زیادہ تھی۔ جی آپ نے درست پڑھا ، زیادہ تھی۔ ہمارے معاشرے کی نسبت زیادہ تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ تقدیس کے بلاواسطہ تعلق ایمان سے ہے اور ایمان اس معاشرے میں زیادہ تھا۔ یہ تو فقط نظری دلیل ہے عملی دلیل اس کے علاوہ ہے۔
    اس معاملے میں تو آپ سے اتنا ہی عرض کرونگا کہ عربی لغت کا مطالعہ، اصول ترجمہ کا مطالعہ، اصول تفسیر کا مطالعہ۔۔ اس سلسلے میں وہ باتیں اور وہ حقائق سامنے لاسکتا ہے جس پر آج تک اہل علم، ایمان رکھتے ہیں، ان چیزوں سے صرف نظر کرکے لفظ کو دیکھنا میرا خیال ہے درست معاملہ نہیں۔ اچھا خیر یہ تو ہوا لفظ کی تفہیم کا معاملہ اب آیئے ذرا اس دلیل کی سمت کہ یہ کیونکہ جمع کی گئی،
    بحث یہ تھی کہ اسلام انسان کو "فرشتہ" ہونے کا درس نہیں دیتا، جس پر میرا کہنا یہ تھا کہ "انسان اور فرشتہ" نہیں بلکہ "انسان اور صالح انسان" کا فرق اسلام ملحوظِ خاطر رکھتا ہے ۔ اس ضمن میں حضرت موسیٰ علیہ سلام والی بات کس تناظر میں لائی گئی ہے میں اس تک نہیں پہنچ سکا، اور اگر مجرد حالت میں دیکھا بھی جائے تب بھی اس کا ربط مجھے سمجھ نہیں آسکا۔
    ابو محجن رضی اللہ عنہ کے معاملے میں میں یہ عرض کررہا تھا کہ ، آپ کو کئی بار اس فعل پر حد جاری ہوچکی تھی، یعنی آپ کے ایمان کی وجہ سے آپ کے اس فعل کو آپ کے دور میں قبول نہیں کیا گیا بلکہ بار بار حد جاری کی گئ، ادھر آپ ثقیف کے جوان تھے، جن کی وجہ سے عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حبیب النجار کے درجے تک پہنچے، سزا کے خوف سے کوئی کام چھوڑنا غیرت کا مسئلہ ہوسکتا تھا، پھر قادسیہ میں ایک ماحول تھا جس سے آپ اچھی طرح واقف ہیں تفصیلات بے سود ہیں، اس ماحول میں ابو محجن رضی اللہ عنہ نے جو تقویت پہنچائی، اپنا لہو دیا،ویسے اس میدان میں بھی آپ اپنے اسی فعل کی بنیاد پر قید تھے یعنی اس ماحول میں بھی یہ برداشت نہیں کیا گیا تھا۔ پھر ایک حقیقت اور نفسیاتی معاملہ یہ ہے راحیل بھائی کہ انسان کی فطرت ہے کہ جس شے جس شخص جس نظریے جس بات کیلئے انسان قربانی دیتا ہے مشکل جھیلتا ہے انسان کو اس سے محبت ہوجاتی ہے۔ ویسے تو عموماََ یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو آپ کیلئے قربانی دے آپ کو اس سے محبت ہوتی ہے مگر نفسیاتی حقیقت یہ کہ جس کیلئے آپ قربانی دیں آپ کو اس سے محبت زیادہ ہوتی ہے ، مثال اس کی والدین اور بچوں میں ایک دوسرے کیلئے محبت کے جذبے ہیں ۔ والدین بچوں کیلئے قربانی دیتے ہیں اور محبت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ بچے بھی والدین سے محبت کرتے ہیں مگر والدین کی محبت بہرحال فائق ہے۔ اس تناظر میں عرض ہے کہ ابو محجن رضی اللہ عنہ نے دن بھر کی مشقت اور زخموں سے دین کیلئے وہ محبت حاصل کی جو مطلوب تھی، اور اسی بنیاد پر چشمِ نم جب سالار کے سامنے آئے تو ایک جذباتی منظر تھا، ادھر سے ارشاد ہوا کہ اب سزا نہیں دونگا تو نے حق ادا کردیا (یہ سزا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے کہنے سے فقط قادسیہ کے میدان میں موقوف ہوسکتی تھی۔ یہ مملکت اسلامی کی جانب سے عطا کردہ پروانہ نہیں تھا، یعنی یہ حضرت عمر کی رخصت نہیں تھی) اور ادھر انہوں نے محبت کے جذبے سے سرشار قسم کھائی کہ اب یہ فعل نہیں ہوگا۔
    آپ کا یہ کہنا کہ
    ویسے ہی قبول کی جانے والی بات ہے اس کیلئے آپ کو اس معاملے سے دلیل پکڑنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیونکہ اس معاملے سے وہ دلیل نہیں نکلتی جو آپ کا نکتہء نظر ہے ، ہاں اس کیلئے بہت سے دوسرے دلائل ہو سکتے ہیں اور ویسے وہ کوئی ایسی بات نہیں جس کیلئے آپ کو دلیل پیش کرنی پڑے یہ ایک عام بات ہے جسے بغیر کسی دلیل کے بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔


    درست تسلیم ، آپ نے وضاحت فرمائی ہماری تشفی ہوئی۔ ہم کچھ اور سمجھے تھے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں ۔ زحمت پر معذرت۔

    ویسے اس بحث سے ہٹ کر بتارہا ہوں کہ غالب کا یہ شعر مجھے بے انتہا پسند ہے، شاید مجھے اردو زبان میں اس سے اچھا شعر اور کوئی نہیں لگتا (اگر ہو بھی تو اس کی فہرست میں پانچ دس شعر ہی اور ہونگے بس)

    یہ تو اچھی بات ہے دراصل راحیل بھائی میں اس حوالے سے کچھ جذباتی ہوں اس لئے اس موضوع پر بات نہیں کی تھی کہ مبادا کوئی سخت جملہ ادا ہوجائے، خیر اس پر کبھی تفصیل سے بات کریں گے۔

    اب تھک گیا ہوں ، باقی بعد میں عرض کرونگا۔
    کوئی بات ناگوار گزرے تو مجھے یہ سمجھ کر معاف کردیجئے گا کہ آپ کا دوست ہوں،
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 21, 2016
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. ادب دوست

    ادب دوست معطل

    مراسلے:
    3,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    "تھوڑے" کہہ کر آپ نے کسر نفسی کا مظاہرہ کیا ہے:):)
    میں قسم کھا کر کہتا ہوں ، میں نے کسی خاص مقصد کے تحت پوسٹ نہیں کیا تھا ، میرے ذہن میں یہ باتیں نہیں ہوتی ہیں ، بلکہ عموماََ لوگ اس طرح کی باتیں نہیں سوچتے ، فرقہ وارانہ سوچ تو کوفت کا باعث ہے۔ آوازِ گدا کا موضوع کے الیکڑک پر تنقید تھا اس کے باوجود احباب سے معذرت کے ساتھ زمرہ بھی تبدیل کروا دیا تھا اور عنوان بھی بدل دیا تھا۔ اب اس پر اشارہ کرنا نامناسب نہیں ہے ؟
    اور جوش کا کلام، ارے یار حد ہے، اس میں کونسی بات ایسی تھی جو کسی ایک کو ناگوار لگتی، پھر جوش کا کلام تھا ایک ادبی چیز تھی ۔
    حقیقت؟؟ میاں معاف کرنا یہ انداز درست نہیں ہے، آپ کی باتوں کا جواب دینے کا معاملہ تو یہ کہ ہمیں بھی اسی دلدل میں اتار لیا جائے ۔ خواہ کچھ بھی ہوجائے ہم نہ فرقہ وارانہ گفتگو کی طرف مائل ہونگے اور نہ ہی کسی طور فرقہ پرستانہ رویے کی تائید کر سکیں گے۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 20, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,950
    ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ ایک اسلامی موضوع ہے :barefoot: راحیل بھائی زیادہ تر شاعری کی اصطلاحات پر ہی لکھتے ہیں.. :barefoot:
    اتنا بھی بورنگ نہیں تھا جتنا ہم سمجھ رہے تھے، بہت اچھا لکھا!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. راحیل فاروق

    راحیل فاروق محفلین

    مراسلے:
    1,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے، اے خدا!
    ایسی ہی ایک بات حال ہی میں نظر سے گزری تھی۔
    ایک صاحب کے باس کافی سخت تھے۔ ہر وقت کی چخ چخ کو ان صاحب نے ایک عرصہ نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ پھر ایک دن باس نے انھیں طلب کر کے کہا، "بھائی، میں شرمندہ ہوں۔ میں نے تمھیں بہت تنگ کیا ہے مگر آفرین ہے تم پر کہ تم کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لائے۔"
    وہ صاحب خوش ہو کر بولے، "تربیت کا فیض ہے، سر۔ ابا جی اکثر کہا کرتے تھے کہ حسنِ اخلاق سے کمینے سے کمینہ انسان بھی موم ہو جاتا ہے!"
     
    • پر مزاح پر مزاح × 7
  19. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    4,455
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    آپ شاید اپنی ذاتی لغت سے موازنہ کر رہے ہیں ...اسی لئے کسر نفسی لگ رہا ہے . . . :) کچھ بے ادبیاں انشاء پردازی کے پردے میں بھی ہوتی ہیں مگر اسی طرح جواب دینے پر قادر نہیں ...بےادب دوست جو ٹہرے . . . :)
    میں بلکل بھی اس کا حوالہ نہ دیتا اگر آپ کی تحریر میں ذکر نہ ہوتا تو . . .
    آپ اپنی کسوٹی پر مرے انداز کو پرکھینگے تو کبھی صحیح نہیں لگے گا ....

    آخری بات ۔ ۔
    کسی زمانے میں ہمیں ذاکر نائیک بڑا پسند ہوا کرتا تھا میں بہت معترف ہوا کرتا تھا ...اس کی قابلیت کا پھر . . .پھر..... یوں ہوا کے ................... اب سمجھ آیا صرف علم رکھنا کمال نہیں . . . .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  20. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    4,455
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    برا نہیں ماننا بھائی صاحب . .. مگر جگت ہر جگہ نہیں ماری جاتی . . .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر