تسنن، تقدس اور تصنع

عثمان

محفلین
تہذیب و ثقافت بذات خود نہ اسلامی ہوتی ہے نہ کافرانہ۔ اسلام نے کسی ملک کی تہذیب کو ثقافت کو نہیں چھیڑا البتہ فلاح معاشرے کے جو اصول بتائے ہیں ان کو پار کرنا ضرور ناپسندیدہ ہے۔ اسلام کے نزدیک بھی اور خود انسان کے نزدیک بھی۔
تعجب نہیں کہ آپ اسلامی تہذیب کی اصطلاح اور تفصیل اور مذاہب کی تہذیب پر اثرات سے واقف نہیں۔
 
واقعی ہمارا آج کا مؤدب اسلام اپنی اصل کو کہاں پہنچ سکتا ہے کہ جس میں
مولا علی نے واری تیری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے

صدیق بلکہ غار میں جاں اس پہ دے چکے
اور حفظ جاں تو جان فروض غرر کی ہے ۔

ہاں تو نے ان کو جان انہیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے۔

واہ واہ قبلہ آپ نے تو قصہ ہی مکا دیا کیا کہنے بہت اعلٰی۔۔۔۔
 

عثمان

محفلین
یہاں لمبے لمبے مضامین نہ پڑھنے سے وقت اورآنکھوں دونوں کی بچت ہو رہی ہے۔
صاحب دھاگہ کی طرف سے لکھا یہ مضمون اگرچہ مکمل طور پر قابل اتفاق نہ بھی ہو تب بھی ایک اچھا مضمون ہے۔ جذبات کو ایک طرف رکھ کر تجزیہ اور "برین سٹارمنگ" کی کوشش ہی سہی جو عموما اردو نیٹ پر دیکھائی نہیں دیتی ، اگر کہیں نظر آئے تو اسے جزوی طور پر ہی سہی لیکن قابل تعریف یا کم از کم قابل تبصرہ ضرور سمجھنا چاہیے۔
آپ کی طرف سے ایسے تبصرے مجھے کچھ عجیب لگے۔
 

زیک

مسافر
صاحب دھاگہ کی طرف سے لکھا یہ مضمون اگرچہ مکمل طور پر قابل اتفاق نہ بھی ہو تب بھی ایک اچھا مضمون ہے۔ جذبات کو ایک طرف رکھ کر تجزیہ اور "برین سٹارمنگ" کی کوشش ہی سہی جو عموما اردو نیٹ پر دیکھائی نہیں دیتی ، اگر کہیں نظر آئے تو اسے جزوی طور پر ہی سہی لیکن قابل تعریف یا کم از کم قابل تبصرہ ضرور سمجھنا چاہیے۔
آپ کی طرف سے ایسے تبصرے مجھے کچھ عجیب لگے۔
آپ سے متفق ہوں کہ مضمون دلچسپ ہے مگر صاحب تحریر کو میرے تنقیدی سٹائل پر کچھ بنیادی اعتراضات ہیں جس کی وجہ سے اس پر باقاعدہ تبصرہ نہیں کیا۔
 
صد فی صد متفق!

آپ نے شاید مذاقاً ارشاد کیا ہے مگر واللہ میرے لیے یہ واقعی اعزاز کی بات ہے۔ میں جس قدر آپ کو جانتا ہوں اس بنیاد پر میرا یہ خیال ہے کہ یہ گفتگو کم از کم میرے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ کسی دانا کا فرمان ہے کہ ایماندارانہ مباحثے میں ہارنے والا زیادہ فائدے میں رہتا ہے۔ :):):)

میرا خیال ہے کہ میں آپ کو اپنی بات سمجھا نہیں سکا۔ میرا ادعا ہرگز یہ نہیں تھا کہ جرات و بےباکی قوموں کے عروج کا واحد سبب ہوتی ہے اور تقدیس ان کے زوال کی واحد وجہ۔ میں نے صرف اس قدر عرض کرنا چاہا تھا کہ عروج کے دور کی ایک بڑی خصوصیت جو خواہ مخواہ فاتح اور خوش بخت قوموں میں پیدا ہو جاتی ہے وہ بےباکی ہے۔ بالکل اسی طرح زوال کی علامات میں سے ایک بہت بڑی علامت بےجا تقدیس و تکریم بھی ہوتی ہے۔ علامت اور سبب کا فرق میں اچھی طرح پہچانتا ہوں۔ میں نے ان خصوصیات کو سبب ہرگز قرار نہیں دیا۔

---

کسی اور نے اس حدیث سے یہ پہلو نہیں نکالا تو اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کی کماحقہ ضرورت پیش نہ آئی ہو۔ مگر یہ دلیل کچھ صائب نہیں معلوم ہوتی کہ چونکہ پہلے ایسا نہیں کیا گیا تو اب کرنا نامناسب ہے۔ اگر میرے استناد میں کوئی منطقی غلطی ہے تو اسے واضح فرمائیے ورنہ یہ بیان کیجیے کہ رسالت مآبﷺ کے سرھانے اس اختلاف کو آپ سرتابی کے برخلاف تسلیم و اطاعت کے خانے میں کس طرح بٹھائیں گے؟
دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ صحابہ کے مابین اختلاف ہونے تک تو سبھی مکاتبِ اسلام متفق ہیں۔ بعد کے معاملات پر بحث ہوتی ہے اور اسی وجہ سے یہ حدیث مشہور بھی ہے کہ کیا ہوا اور کیا ہونا چاہیے تھا۔ میں نے تو ایک طرح سے متفق علیہ بات کی جانب توجہ دلائی ہے جس میں کسی کو شبہ یا اعتراض نہیں۔ میرا استدلال صرف اس قدر ہے کہ اس نوعیت اور درجے کا اختلاف صرف اسلام کی عطا کردہ جرات کے طفیل ہی ممکن ہو سکتا تھا۔

حدیبیہ کا معاملہ تو مجھے انتہا کا معلوم ہوتا ہے۔ میں نے طوالت اور گردن زنی کے خوف سے فقط ایک ایک مثال پر اکتفا کیا ہے۔ مگر یہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ یہ بےباکی نہیں ہے، یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ خاتون کے اس اعلان میں کہ کوئی بھی شرعی عیب نہ ہونے کے باوجود میں اپنے شوہر کو پسند نہیں کرتی، اہلِ نظر کے لیے بہت سے اشارے پنہاں ہیں۔ اسی لیے جنابِ رسولﷺ نے بھی کریدنے کی بجائے معاملے کو فیصل کر دینا زیادہ مناسب سمجھا۔ جہاں تک بےباکی کا تعلق ہے تو وہ شاید اکیسویں صدی کے کراچی میں بسنے والے ادب دوست بھائی کو نہ معلوم ہوتی ہو مگر اس معاشرے کے تناظر کو ملوظ رکھا جائے جس کا یہ قصہ ہے تو یہ ایک واقعہ ہی شاید اسلام کی پوری انقلابی روح کو سامنے لانے کو کافی ہو گا۔

---

پروفیسر غازی علم دین کی کتاب "لسانی مطالعے" کے بارے میں سوال



بہت ڈرتے ڈرتے بات واضح کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ جان کی امان تو معلوم ہے کہ اس زمانے میں ملتی نہیں۔ مگر اللہ کے آسرے پر اعلائے کلمۃ الحق کی کوشش کرنی ضروری ہے۔ جو مثال میں دینے جا رہا ہوں اس میں اگر آپ غور فرمائیں تو لسانی تاویلات سے لے کر بشریت کے تقاضوں تک ہر شے آ جائے گی۔
جنابِ موسیٰؑ کلیم اللہ جب فرعون کے دربار میں تشریف لے گئے ہیں تو اس نے نہایت غصے کا اظہار کیا۔ کہنے لگا کہ تم تو وہی نہیں جسے ہم نے پالا پوسا اور بڑا کیا۔ اور پھر تم نے ہمارے ساتھ وہ کیا جو تم نے کیا۔ اس پر قرآن کے الفاظ میں حضرتؑ نے یہ فرمایا:
قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ
الشعراء-۲۰
(انھوں نے فرمایا کہ میں نے وہ کام تب کیا جب میں "ضالین" میں سے تھا۔)
اب ذرا سورۂِ فاتحہ کی آخری آیت دیکھیے:
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ
زیادہ حدِ ادب۔
میں اپنے وہ جملے حوالے کے لیے پھر نقل کیے دیتا ہوں جن پر آپ نے اس ضمن میں اعتراض فرمایا تھا:


---

جنابِ ابو محجنؓ کی نظیر اس لیے پیش نہیں کی گئی کہ یہ روش خاکم بدہن لازمۂِ مسلمانی ہے۔ بلکہ صرف یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ انسان اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ بھی اچھا مسلمان ہو سکتا ہے۔ اس بات میں آپ کو کلام ہے تو وضاحت سے ارشاد فرمائیے۔
---
---
---
یہ تو تھا پچھلا مراسلہ جو آپ کے حکم کے موافق ہم نے چھپا لیا تھا۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔ :):):)

ہم نے اپنے معاشرے کو عرب جاہلانہ معاشرے سے کاملاً مماثل نہیں قرار دیا۔ بلکہ اس سے ملتا جلتا قرار دیا ہے:

رہا سوال یہ کہ مماثلت کی بنیادیں کیا ہیں تو وہ واضح کرنے میں مجھے واقعی تامل تھا۔ میں نہیں چاہ رہا تھا کہ اس بحث میں کسی شخص، مسلک یا رویے وغیرہ کو مثال کے طور پر پیش کروں۔ اس لیے اشاروں پر اکتفا کرنا مناسب سمجھا۔ اب بھی زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتا ہوں کہ مآخذِ اسلامیہ سے جو نظائر میں نے پیش کیے ہیں ان سے کہیں زیادہ بین اور متعدد مثالیں انھی کتب میں میرے موقف کی تائید میں موجود ہیں۔ ضرورت صرف اسلام کو درسی نکتۂِ نظر سے ہٹ کر دیکھنے کی ہے۔

مجھے اس میں کلام نہیں کہ یہ پرانی بات نہیں۔ مگر اب بہرحال یہ ناممکن ہے۔

اپنی قوم کے دفاع کے لیے آپ کے جذبات کی میں قدر کرتا ہوں۔ اب اگر غالبؔ کے ساتھ زیادتی کا حکم نہ لگائیں تو میں عرض کروں:
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
قوم سے تجھ کو محبت ہی سہی !​
ویسے میرے ایک مضمون سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ میرا رویہ اہلِ وطن کے لیے خدانخواستہ معاندانہ کبھی نہیں رہا۔ جو نقد زیرِ نظر ہے یہ بھی میں نے اپنے تئیں فقط تجزیے اور تنقیح کی غرض سے لکھا ہے۔ :):):)

یہ بہت بڑی مجبوری ہے۔ آپ بجا فرماتے ہیں۔
---
---
باقی احباب کے خیالات پر کچھ رائیں محفوظ ہیں جو عند الضرورت ظاہر کروں گا۔ ویسے امید ہے کہ کسی حد تک تو یہ جوابات سبھی سے متعلق ہوں گے۔
دل آزاری اور ممکنہ کوتاہی پر معذرت خواہ ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ ان معروضات کو کسی بدنیتی پر محمول کرنے کی بجائے ایک طالبِ حق کی آشفتگیاں خیال کر کے حسبِ ضرورت اصلاح عمل میں لائی جائے گی۔ :):):)
بہت شکریہ راحیل بھائی آپ نے اس تفصیل سے میری بے ربط گفتگو کو دیکھا، اور پھر مفصل جواب بھی عنایت فرمایا۔
پڑھنے والوں کیلئے وضاحت ضروری ہے کہ یہ گفتگو دو پہلوں سے دیکھی جارہی ہے، اول تو اس میں وہ اصول ہے جس کے تحت قبلہ راحیل بھائی نے اپنا زاویہء خیال اس تحریر کی صورت پیش کیا، دوم ، وہ دلائل اور نظائر ہیں جو مذکورہ اصول کے ذیل میں جمع کئے گئے ہیں۔
راحیل بھائی جیسا کہ آپ نے ابتدائی اصول کے بارے میں وضاحت فرمائی ہے ، تو اس وضاحت سے بات صاف ہوگئی ہے اور جو صورت آپ نے بتلائی ہے اب اس میں ہمارا آپ سےاختلاف دور ہوگیا اور خدشات رفع ہوگئے۔
ہم نہ صرف تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کی رائے درست ہے بلکہ ذرا سے تغیر کے ساتھ ہمارا اپنا نظریہ بھی یہی ہے کہ "تکلف" ایک بیماری ہے ۔ ع۔
اے ذوق، تکلف میں تکلیف سراسر
آرام سے ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا
آپ کا لفظ تقدیس ہے ہمارا تکلف۔ تو یہ بہت معمولی فرق ہے۔ اکابرین کے یہ جملے تاریخ کی کتب میں ہم آپ ، سبھی کی نظروں سے گزریں ہیں کہ قرون اولیٰ کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس دور میں تکلف نہیں تھا۔
اب ذرا دیکھتے ہیں دوسری سمت کہ جہاں دلائل اور نظائر کی بات ہے۔ راحیل بھائی، اصول سے اتفاق ہونے کے باوجود آپ کی توجہ ایک اہم معاملے کی جانب مبذول کرنا چاہوں گا، وہ یہ کہ جیسا کہ ہم سب کے علم میں ہے کہ قرون اولیٰ میں تقدیس کے حوالے سے بہت حساس مزاج پایا جاتا تھا۔ مثال کے طور سے صحابہءکرام اونچی آواز میں بات نہ کرنا، پھر اسی مسئلہ میں سورت الحجرات بھی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی طرح واقعات موجود ہیں جس سے اس دور کا طرز معاشرت واضح طور پر اس بات پر گواہ نظر آتا ہے کہ اس دور میں بے پناہ تقدس پایا جاتا تھا۔ ویسے تو اس کی بہت سی مثالیں آپ کے ذہن میں تازہ ہوجائیں گی اگر کہیں گے تو کچھ مثالوں کی طرف میں بھی اشارہ کردوں گا، الغرض اس اولین دور کے متعلق یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہاں اللہ کے نبی ﷺ کے حوالے سے تقدس کا فقدان کسی صورت نہیں تھا۔ دوسرے درجہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ڈانٹ پڑ جاتی ہے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے معاملے پر نامور صحابہ کرام کو تنبیہ کردی جاتی ہے۔ تو وہ بنیادی سطح کی تقدیس تو قائم تھی۔پھر یہ کہ عام مسلمانوں میں بھی حفظِ مراتب موجود تھا، پھر العتدال فی مراتب الرجال عربوں کا پہلے سے قاعدہ ہے ، اور ایک عرب ہی کیا دنیا بھر میں یہی اصول کارفرما ہے، تقریباََ تمام ادیان اور تمام اوقوام میں اصول عام ہے۔ اسلام میں اس پر زیادہ سختی ہے۔ یعنی صرف آواز کے اونچا ہونے پر تمام اعمال کا اکارت ہوجانا بہت بڑی وعید ہے جبکہ اس میں یہ قید بھی نہیں کہ آواز حق میں ہے یا مخالفت میں، یعنی اگر موافقت بھی ہے تب بھی اونچی آواز میں بات کر ہی نہیں سکتے۔
راحیل بھائی جہاں تک حدیث قرطاس کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں شروحات حديث میں آپ کا مطالعہ مجھ سے بہتر ہوگا، میں یہاں اس لئے عرض کرنے سے کترا رہا ہوں کہ کہیں اس سے پہلو نکال کر فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوا نہ دی جانے لگے۔ لہذا اس مسئلے کو تو آپ خود طے کیجئے یا ان بکس کی خاطر اٹھا رکھیں ۔ مگر یہ طے ہے کہ اس سے وہ بات صادق نہیں آتی جس کی طرف آپ کی تحریر میں اشارہ موجود ہے۔
صلح حدیبیہ میں غالباََ آپ قربانی والے معاملے پر چلے گئے، میں نے سفیر مقرر کرنے والے معاملے کا حوالہ دیا تھا۔ راحیل بھائی گردن وردن کسی کی نہیں جاتی مسلمانوں کی کتب میں تمام واقعات موجود ہیں ان کی شروحات بھی موجود ہیں جو کھلے راستے پر چلنے کی عادی ہیں اور "برڈ آئی ویو" سے معاملے کو دیکھنے کے قائل ہیں وہ اسی طرف جاتے ہیں جن کے اذہان میں زیغ ہے ان کا معاملہ دوسرا ہے، آخر مستشرقین نے سوالات اٹھائے ہیں نا؟ پھر ان کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ خیر، موضوع کی طرف آتے ہیں۔
تو صلح حدیبیہ میں میں نے بیعتِ رضوان سے پہلے مکہ میں سفیر مقرر کرنے والے معاملے کی طرف اشارہ کیا تھا، پھر یہ تو ایک واقعہ ہے میں تو اس سے بڑھ کر یہ عرض کررہا تھا کہ پوری مدنی زندگی میں ایسے واقعات بھر پڑے ہیں جن میں آپ ﷺ سے بے تکلف اپنی بات کہی گئی آپ ﷺ نے کبھی تسلیم کی کبھی رد کی ۔ یہی وہ معاملہ جس میں میرا خیال یہ ہے کہ اس معاشرے کا بے تکلف ہونا ظاہر ہوتا ہے نہ کہ بے تقدیس ہونا۔ کیونکہ تقدیس کے حوالے سے تو اس معاشرے میں حساسیت زیادہ تھی۔ جی آپ نے درست پڑھا ، زیادہ تھی۔ ہمارے معاشرے کی نسبت زیادہ تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ تقدیس کے بلاواسطہ تعلق ایمان سے ہے اور ایمان اس معاشرے میں زیادہ تھا۔ یہ تو فقط نظری دلیل ہے عملی دلیل اس کے علاوہ ہے۔
اس معاملے میں تو آپ سے اتنا ہی عرض کرونگا کہ عربی لغت کا مطالعہ، اصول ترجمہ کا مطالعہ، اصول تفسیر کا مطالعہ۔۔ اس سلسلے میں وہ باتیں اور وہ حقائق سامنے لاسکتا ہے جس پر آج تک اہل علم، ایمان رکھتے ہیں، ان چیزوں سے صرف نظر کرکے لفظ کو دیکھنا میرا خیال ہے درست معاملہ نہیں۔ اچھا خیر یہ تو ہوا لفظ کی تفہیم کا معاملہ اب آیئے ذرا اس دلیل کی سمت کہ یہ کیونکہ جمع کی گئی،
بحث یہ تھی کہ اسلام انسان کو "فرشتہ" ہونے کا درس نہیں دیتا، جس پر میرا کہنا یہ تھا کہ "انسان اور فرشتہ" نہیں بلکہ "انسان اور صالح انسان" کا فرق اسلام ملحوظِ خاطر رکھتا ہے ۔ اس ضمن میں حضرت موسیٰ علیہ سلام والی بات کس تناظر میں لائی گئی ہے میں اس تک نہیں پہنچ سکا، اور اگر مجرد حالت میں دیکھا بھی جائے تب بھی اس کا ربط مجھے سمجھ نہیں آسکا۔
جنابِ ابو محجنؓ کی نظیر اس لیے پیش نہیں کی گئی کہ یہ روش خاکم بدہن لازمۂِ مسلمانی ہے۔ بلکہ صرف یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ انسان اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ بھی اچھا مسلمان ہو سکتا ہے۔ اس بات میں آپ کو کلام ہے تو وضاحت سے ارشاد فرمائیے

ابو محجن رضی اللہ عنہ کے معاملے میں میں یہ عرض کررہا تھا کہ ، آپ کو کئی بار اس فعل پر حد جاری ہوچکی تھی، یعنی آپ کے ایمان کی وجہ سے آپ کے اس فعل کو آپ کے دور میں قبول نہیں کیا گیا بلکہ بار بار حد جاری کی گئ، ادھر آپ ثقیف کے جوان تھے، جن کی وجہ سے عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حبیب النجار کے درجے تک پہنچے، سزا کے خوف سے کوئی کام چھوڑنا غیرت کا مسئلہ ہوسکتا تھا، پھر قادسیہ میں ایک ماحول تھا جس سے آپ اچھی طرح واقف ہیں تفصیلات بے سود ہیں، اس ماحول میں ابو محجن رضی اللہ عنہ نے جو تقویت پہنچائی، اپنا لہو دیا،ویسے اس میدان میں بھی آپ اپنے اسی فعل کی بنیاد پر قید تھے یعنی اس ماحول میں بھی یہ برداشت نہیں کیا گیا تھا۔ پھر ایک حقیقت اور نفسیاتی معاملہ یہ ہے راحیل بھائی کہ انسان کی فطرت ہے کہ جس شے جس شخص جس نظریے جس بات کیلئے انسان قربانی دیتا ہے مشکل جھیلتا ہے انسان کو اس سے محبت ہوجاتی ہے۔ ویسے تو عموماََ یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو آپ کیلئے قربانی دے آپ کو اس سے محبت ہوتی ہے مگر نفسیاتی حقیقت یہ کہ جس کیلئے آپ قربانی دیں آپ کو اس سے محبت زیادہ ہوتی ہے ، مثال اس کی والدین اور بچوں میں ایک دوسرے کیلئے محبت کے جذبے ہیں ۔ والدین بچوں کیلئے قربانی دیتے ہیں اور محبت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ بچے بھی والدین سے محبت کرتے ہیں مگر والدین کی محبت بہرحال فائق ہے۔ اس تناظر میں عرض ہے کہ ابو محجن رضی اللہ عنہ نے دن بھر کی مشقت اور زخموں سے دین کیلئے وہ محبت حاصل کی جو مطلوب تھی، اور اسی بنیاد پر چشمِ نم جب سالار کے سامنے آئے تو ایک جذباتی منظر تھا، ادھر سے ارشاد ہوا کہ اب سزا نہیں دونگا تو نے حق ادا کردیا (یہ سزا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے کہنے سے فقط قادسیہ کے میدان میں موقوف ہوسکتی تھی۔ یہ مملکت اسلامی کی جانب سے عطا کردہ پروانہ نہیں تھا، یعنی یہ حضرت عمر کی رخصت نہیں تھی) اور ادھر انہوں نے محبت کے جذبے سے سرشار قسم کھائی کہ اب یہ فعل نہیں ہوگا۔
آپ کا یہ کہنا کہ
انسان اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ بھی اچھا مسلمان ہو سکتا ہے
ویسے ہی قبول کی جانے والی بات ہے اس کیلئے آپ کو اس معاملے سے دلیل پکڑنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیونکہ اس معاملے سے وہ دلیل نہیں نکلتی جو آپ کا نکتہء نظر ہے ، ہاں اس کیلئے بہت سے دوسرے دلائل ہو سکتے ہیں اور ویسے وہ کوئی ایسی بات نہیں جس کیلئے آپ کو دلیل پیش کرنی پڑے یہ ایک عام بات ہے جسے بغیر کسی دلیل کے بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔


ہم نے اپنے معاشرے کو عرب جاہلانہ معاشرے سے کاملاً مماثل نہیں قرار دیا
درست تسلیم ، آپ نے وضاحت فرمائی ہماری تشفی ہوئی۔ ہم کچھ اور سمجھے تھے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں ۔ زحمت پر معذرت۔

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
قوم سے تجھ کو محبت ہی سہی !
ویسے اس بحث سے ہٹ کر بتارہا ہوں کہ غالب کا یہ شعر مجھے بے انتہا پسند ہے، شاید مجھے اردو زبان میں اس سے اچھا شعر اور کوئی نہیں لگتا (اگر ہو بھی تو اس کی فہرست میں پانچ دس شعر ہی اور ہونگے بس)

میرا رویہ اہلِ وطن کے لیے خدانخواستہ معاندانہ کبھی نہیں رہا
یہ تو اچھی بات ہے دراصل راحیل بھائی میں اس حوالے سے کچھ جذباتی ہوں اس لئے اس موضوع پر بات نہیں کی تھی کہ مبادا کوئی سخت جملہ ادا ہوجائے، خیر اس پر کبھی تفصیل سے بات کریں گے۔

اب تھک گیا ہوں ، باقی بعد میں عرض کرونگا۔
کوئی بات ناگوار گزرے تو مجھے یہ سمجھ کر معاف کردیجئے گا کہ آپ کا دوست ہوں،
 
آخری تدوین:
محترم ادب دوست صاحب مانا کے ہم تھوڑے بے ادب صحیح
"تھوڑے" کہہ کر آپ نے کسر نفسی کا مظاہرہ کیا ہے:):)
( آوازِ گدا اور جوش ملیح آبادی کلام ( جس مقصد کے تحت پوسٹ کیا گیا تھا اس کی طرف اشارہ ہے)
میں قسم کھا کر کہتا ہوں ، میں نے کسی خاص مقصد کے تحت پوسٹ نہیں کیا تھا ، میرے ذہن میں یہ باتیں نہیں ہوتی ہیں ، بلکہ عموماََ لوگ اس طرح کی باتیں نہیں سوچتے ، فرقہ وارانہ سوچ تو کوفت کا باعث ہے۔ آوازِ گدا کا موضوع کے الیکڑک پر تنقید تھا اس کے باوجود احباب سے معذرت کے ساتھ زمرہ بھی تبدیل کروا دیا تھا اور عنوان بھی بدل دیا تھا۔ اب اس پر اشارہ کرنا نامناسب نہیں ہے ؟
اور جوش کا کلام، ارے یار حد ہے، اس میں کونسی بات ایسی تھی جو کسی ایک کو ناگوار لگتی، پھر جوش کا کلام تھا ایک ادبی چیز تھی ۔
حقیقت کتنے بھی شائستہ اور اچھے انداز میں بیان کی جائے اس کی تلخی کم نہیں کی جاسکتی آپ اسے صرف فرقہ وارانہ قرار دے کر صرف نظر نہیں کریں
حقیقت؟؟ میاں معاف کرنا یہ انداز درست نہیں ہے، آپ کی باتوں کا جواب دینے کا معاملہ تو یہ کہ ہمیں بھی اسی دلدل میں اتار لیا جائے ۔ خواہ کچھ بھی ہوجائے ہم نہ فرقہ وارانہ گفتگو کی طرف مائل ہونگے اور نہ ہی کسی طور فرقہ پرستانہ رویے کی تائید کر سکیں گے۔
 
آخری تدوین:

لاریب مرزا

محفلین
ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ ایک اسلامی موضوع ہے :barefoot: راحیل بھائی زیادہ تر شاعری کی اصطلاحات پر ہی لکھتے ہیں.. :barefoot:
اتنا بھی بورنگ نہیں تھا جتنا ہم سمجھ رہے تھے، بہت اچھا لکھا!!
 
ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ ایک اسلامی موضوع ہے :barefoot: راحیل بھائی زیادہ تر شاعری کی اصطلاحات پر ہی لکھتے ہیں.. :barefoot:
اتنا بھی بورنگ نہیں تھا جتنا ہم سمجھ رہے تھے، بہت اچھا لکھا!!
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے، اے خدا!
ایسی ہی ایک بات حال ہی میں نظر سے گزری تھی۔
ایک صاحب کے باس کافی سخت تھے۔ ہر وقت کی چخ چخ کو ان صاحب نے ایک عرصہ نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ پھر ایک دن باس نے انھیں طلب کر کے کہا، "بھائی، میں شرمندہ ہوں۔ میں نے تمھیں بہت تنگ کیا ہے مگر آفرین ہے تم پر کہ تم کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لائے۔"
وہ صاحب خوش ہو کر بولے، "تربیت کا فیض ہے، سر۔ ابا جی اکثر کہا کرتے تھے کہ حسنِ اخلاق سے کمینے سے کمینہ انسان بھی موم ہو جاتا ہے!"
 

اکمل زیدی

محفلین
"تھوڑے" کہہ کر آپ نے کسر نفسی کا مظاہرہ کیا ہے
آپ شاید اپنی ذاتی لغت سے موازنہ کر رہے ہیں ...اسی لئے کسر نفسی لگ رہا ہے . . . :) کچھ بے ادبیاں انشاء پردازی کے پردے میں بھی ہوتی ہیں مگر اسی طرح جواب دینے پر قادر نہیں ...بےادب دوست جو ٹہرے . . . :)
عنوان بھی بدل دیا تھا۔ اب اس پر اشارہ کرنا نامناسب نہیں ہے ؟
میں بلکل بھی اس کا حوالہ نہ دیتا اگر آپ کی تحریر میں ذکر نہ ہوتا تو . . .
حقیقت؟؟ میاں معاف کرنا یہ انداز درست نہیں ہے
آپ اپنی کسوٹی پر مرے انداز کو پرکھینگے تو کبھی صحیح نہیں لگے گا ....

آخری بات ۔ ۔
کسی زمانے میں ہمیں ذاکر نائیک بڑا پسند ہوا کرتا تھا میں بہت معترف ہوا کرتا تھا ...اس کی قابلیت کا پھر . . .پھر..... یوں ہوا کے ................... اب سمجھ آیا صرف علم رکھنا کمال نہیں . . . .
 
Top