بادشاہ کا راز
نظم از محمد خلیل الرحمٰن

گلستاں میں سعدی نے کی ہے بیاں
حسن نامی اِک شخص کی داستاں

بُلایا اُسے ایک دِن شاہ نے
بلاکر اُسے مشورے کچھ کیے

ہوا جب وہ فارغ ملاقات سے
تو شہ کے ملازم یہ کہنے لگے

ہمیں اے جناب آپ دیجے بتا
ہمارے مربی نے جو کچھ کہا

حسن نے کہا اے مرے دوستو!
ہے ممکن خود اُن کی زباں سے سُنو

مگر میں مناسب نہیں جانتا
بتادوں تمہیں جو انہوں نے کہا

انہوں نے بھروسہ کیا مجھ پہ یوں
تو لازم ہے میں پاس اُس کا رکھوں

ہر اِک راز جو شاہ کا رازہے
چھُپانا اُسے میرا اعزاز ہے
×××××
ٌٌٌٌٌٌٌ
 
بلاکر اُسے مشورے کچھ کیے
یہ مصرع سلاست کی راہ میں اٹک رہا ہے ۔ اس سے کو اسے کہا جانا محاورے سے موافق نہیں ۔ مشورے لینا میں سے آنا ضروری ہے ۔ مشورے دینے میں البتہ مناسب ہے ۔ اگر مشورے لینے کا کہنا ہو تو ۔بلایا اسے ، مشورے کچھ کیے ۔ ہو سکتا ہے یہاں سکتے سے سے خود بخود مقدر (انڈرسٹڈ) سمجھا جاسکتا ہے ۔
ویسے دھاگے کی مناسبت سے تو نہ تھا مگر آپ کی خوبصورت مثنوی اور آپ کی وسیع المشرب مزاج کی وجہ سے کہہ گیا۔
مجھے میر حسن کی سحر البیان یاد آگئی اس سے ۔
 
ویسے دھاگے کی مناسبت سے تو نہ تھا مگر آپ کی خوبصورت مثنوی اور آپ کی وسیع المشرب مزاج کی وجہ سے کہہ گیا
حضرت زمرے کا خیال نہ کیجیے۔ ہمارے لیے اس پابندی کو توڑ کر بلا تکلف تبصرے فرمائیے۔ احباب کے تنقیدی تبصرے بھی ہمیں اتنے ہی اچھے لگتے ہیں جتنے ان کے تعریفی تبصرے۔
 
Top