ڈیٹا جو اب تک جمع کیاتھا اُس کے محفوظ بنانے کی دُھن میں تھا سو احساس نہ رہا کہ یہ سیدھی گنگا ہے اور اِسے سیدھا ہی رکھنا ہے ۔ اور اِس دُھن میں حرفِ رواں کا بھی خیال نہ رہا ۔ اور ڈیٹا سے مراد ہے کمپیوٹر کے مختلف پروگرام جو بڑی مشکل ، بڑے جتن اور بڑی ہی جگر کاوی سے جمع کرنے ، انسٹال کرنے اور کام میں لانے کی مجھے دُھن ہے ۔ اور تو اور اُس وقت یہاں بات بھی کچھ اِس کے قریب کی ہی چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:
ذرا نظروں سے کہہ دو جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نشانہ چُوک نہ جائے !
مزہ جب ہے تمھاری ہرادا قاتل ہی کہلائے ۔۔۔۔۔۔۔ذرانظروں سے کہہ دو جی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیمنت کمار کی بھاری بھرکم آواز تعجب تو یہ ہے سرگم میں سما کیسے جاتی تھی !
 
آخری تدوین:
ژ کو گولی ماریں اور کان لگا کر سنیں مکیش کا ہی ایک اور نغمہ :چل اکیلا چل اکیلا چل اکیلا،تیرا میلہ پیچھے چھوٹا راہی چل اکیلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

عظیم

محفلین
سب نے شاید رفیع کا یہ گانا بھی سنا ہو۔

مرا تو جو بھی قدم ہے وہ تیری راہ میں ہے
کہ تو کہیں بھی رہے تو مری نگاہ میں ہے
 

سیما علی

لائبریرین
ضروری ہے سب سے پہلے
السلام علیکم



اب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ‌ ر‌ ڑ ز ژ س ش ص ض‌ ط‌ ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ھ ء ی ے۔

ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62​

 
ضدکی بات الگ ہے وگرنہ آدمی چاہے تو ہر ہر شے سےکوئی نہ کوئی تعمیری سبق سیکھ سکتا ہے ۔ فلم ، فلمی گانوں اور فلمی باتوں کو نفرت و حقارت کاسامنا رہا اور ٹھیک رہا کہ کاروبار ی سوچ نے اِسے انسان اور خاص طور پر نوجوان نسل پر ہیجانی اثرات مرتب کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایامگر ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اچھے اچھے شاعروں نے فلمی گیت لکھے ، اچھے اچھے موسیقاروں نے انہیں موسیقی سے سجایا، اچھے اچھے ادیب فلم کا اسکرپٹ ، مکالمے اور منظرنامے لکھاکرتے تھے اور اچھے اچھے ہدایت کاراداکاری کو حقیقت بنادیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔تب فن و ہنر کا مرقع فلم کی صورت میں سامنے آتاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
علم وقت کے ساتھ فلم کے ساتھ بھی جڑ گیا ہے ۔۔۔فلم علم کی دنیا میں سیکھنے کا ایک بہترین اور جدید میڈیم ہے۔
انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا نے اس ضمن میں بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ ویب سیریز، شارٹ موویز، تخلیقی کہانیوں، پوڈکاسٹ، وی لاگ اور دستاویزی فلموں نے سیکھنے کے نئے طریقے متعارف کروائے ہیں۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
علم وقت کے ساتھ فلم کے ساتھ بھی جڑ گیا ہے ۔۔۔فلم علم کی دنیا میں سیکھنے کا ایک بہترین اور جدید میڈیم ہے۔
انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا نے اس ضمن میں بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ ویب سیریز، شارٹ موویز، تخلیقی کہانیوں، پوڈکاسٹ، وی لاگ اور دستاویزی فلموں نے سیکھنے کے نئے طریقے متعارف کروائے ہیں۔
فائدے کے ساتھ ساتھ نقصان بھی اتنا ہی ہے ۔ بری باتیں بھی فلموں سے پھیل رہی ہیں ۔
 

سیما علی

لائبریرین
فائدے کے ساتھ ساتھ نقصان بھی اتنا ہی ہے ۔ بری باتیں بھی فلموں سے پھیل رہی ہیں ۔
قرینے کی بات یہی ہے ۔۔۔۔آج کی نئی نسل اس لئے بھی مطالعہ سے اس قدر مانوس نہیں جس قدر 2000 سے پہلے کی نسل تھی۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ جدید فلمی صنعت ہے۔ فلم نے نئی نسل پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
کیونکہ یہی بچے چند منٹ کی تحریر نہ پڑھنے پر کئی کئی قسطوں پر مبنی ویب سیریز اور ویڈیوز ہنسی خوشی دیکھ لیتے ہیں۔ فلم کے نئی نسل پر اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کا اثر مثبت ہے یا منفی یہ کنٹرول ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ آج کی نسل بہت زیادہ فلم دیکھتی ہے اس کا سادہ سا ثبوت یوٹیوب کی ویڈیوز کی ویورشپ سے لگایا جاسکتا ہے۔
 
Top