ایک کے بعد نئی ایک کہانی کھلتی

Qamar Shahzad نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 15, 2020

  1. Qamar Shahzad

    Qamar Shahzad محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ایک کے بعد نئی ایک کہانی کھلتی
    شکر یہ ہے نہ کھلی گر وہ جوانی کھلتی

    سب کو ہوتی نہیں محسوس مہکتی مسکان
    ہر کسی پر تو نہیں رات کی رانی کھلتی

    ثبت انعام سب اس کے ہیں جگر پر میرے
    غیر پر کیسے بھلا اس کی نشانی کھلتی

    تُو مری نرم مزاجی کی بلائیں لیتا
    دوست تجھ پر جو مری شعلہ فشانی کھلتی

    وہ سزا مجھ کو فلاں اور فلانی دیتا
    بات اس پر جو فلاں اور فلانی کھلتی

    جیسے کھلتی ہے کلی قطرہ ءِ شبنم پا کر
    وہ مری آنکھ پہ، بھرتے ہوئے پانی کھلتی

    عین ممکن تھا قمر شعر سے ظاہر ہوتی
    وہ حقیقت نہ جو اشکوں کی زبانی کھلتی
    قمر آسی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر