ایمرجنسی کی آمد؟

up85.gif
 

تیشہ

محفلین
٭ بے نظیر کا جہاز کراچی میں لینڈ کر گیا ہے۔

٭ انکل مشرف کا آج رات قوم سے خطاب متوقع۔

٭ عبدالحمید ڈوگر نئے چیف جسٹس




zzzbbbbnnnn.gif
آج جیو والے بچارے فارغ البال ادھر اُدھر پھر رہے ہیں بے بس مجبور کہ پاکستان سے کوئی لائیو خبر مل نہیں رہی ۔ سب کچھ بندہے ۔ اب اپنے اپنے تجزئیے پر گزارہ چلا رہے ہیں ۔
 
خرد کا نام جنوں ، جنوں کا نام خرد !

اب تک جمہوریت صحیح اسلام کی محافظ تھی ، اب بیچارہ اسلام ایمرجنسی کی حفاظت میں دے دیا گیا !

قانون کی بالاتری بھی خوب !

ملک کے حالیہ چیف جسٹس اور ان کے سات رفقاء اس ایمرجنسی کو غلط کہا گیا ۔

کیا صحیح ؟

فاروق صاحب کسی آیت سے اس ایمرجنسی کا حوالہ دے دیں ، تا کہ آپ کا فریضہ پورا ہو جائے ۔

بے نظیر کو کہ دیں کہ واپس نہ آئیں ، ورنہ دس میں سے یہ پہلا نسخہ بے کار جائے گا ۔

میرے خیال سے موجودہ صورت حال مشرف نے شریعت کے خوف سے پیدا کی ہے ، اس بات پر ایک نیا دھاگہ کھول کر ہفوات درج کرنا شروع کر دیں ، پہلے کوئی کہ چکا ہے کہ ہیروشیما پر بم گرانے والا بھی ملا ہونے کی بات کہی جانی ہی سمجھو ۔

ایمر جنسی میں کسی کو اپنی گرفتاری پر مقدمہ یا وکیل سے ملنے کا اختیار نہیں ۔
عدالت کو حکام کے خلاف فیصٌلہ کرنے کا اختیار نہیں ۔
یہ ہے شریعت کے خلاف آپ کی اسلامی ایمرجنسی کا ایک چھوٹا سا جز ۔

خیر چھوڑیے ، ہم تو انڈیا میں ہے، اور خدا کا شکر ہے کہ ہمیں نہ ملا سے شکایت ہے نہ مسٹر سے کوئی چڑ ۔ یہاں تو دونوں شانہ بہ شانہ ہے

کونسا ایسا شخص ہے جو اپنی جان، اپنے مال یا اپنی عزت کو خود سے چھوڑنے کے لئے تیار ہوجائے؟ اور کونسا ایسا اسلام ہے جو دوسروں کے مال کو زبردستی ہڑپ کرنے کا حکم دیتا ہے؟

ریاست خدا داد پاکستان کا چپہ چپہ، عمارت عمارت،سڑک سڑک کس نے تعمیر کی ہے؟ یہ کس کی ملکیت ہے؟ پاکستانی نے اپنی کمائی سے ٹیکس دیا۔ اپنا خون و پسینہ بہایا تو یہ انفرا سٹرکچر تعمیر کیا۔ ان "سرکاری عمارتوں" ، ان "سرکاری سڑکوں" اور ان "سرکاری ایرپورٹوں " کے اصل مالک ہیں پاکستانی۔ اس جائیداد کی حفاظت کے لیے تعمیر کیا ایک عوامی نظام، جس کا ہر قانون ترتیب دیا قرآن اور سنت سے۔ اور اس نظام سے منتخب کی ایک قومی اسمبلی جو ہے ان عوام کی نمائیندہ۔ اور اسی قومی اسمبلی نے عوام کے نمائیندوں کی حیثیت سے بنائی ایک مظبوط فوج۔ جس کا بجٹ پاکستان کے عوام اپنے نمائیندوں کی مدد سے منظور کرتے ہیں۔ اس فوج کا واحد کام ہے کہ اس ملک پر آنچ نہ آنے دے۔

اب اگر کوئی بھی شخص یا اشخاص، پاکستان کے عوام کی اس پبلک پراپرٹی پر جارحانہ قبضہ کرتا ہے، یا اس فوج کو تباہ کرتا ہے۔ وہ گویا اس حکومت کو تباہ کرتا ہے جو پاکستان کے عوام نے تعمیر کی ہے۔ پاکستان، کا چپہ چپہ پاکستانیوں کی پبلک پراپرٹی ہے۔ اور اس پراپرٹی پر جارحانہ قبضہ ، کسی بھی نام سے ، چاہے وہ 'ہندوستان کا جارحانہ قبضہ' ہو یا ؛سنت مولوی کے نام پر عوم کی ملکیت پر جارحانہ قبضہ' ہو، پاکستان کے عوام کو نامنظور ہے۔ کیوں؟ دیکھئے :

ملکیت کی حفاظت - جس کے لئے قانون نافذ‌کیا اور حفاظت کے لیے فوج بنائی۔
[AYAH]4:29[/AYAH] اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے

دوسرے کی ملکیت پر قبضہ قرآن منظور نہیں کرتا۔
[AYAH]24:27[/AYAH] اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کرو

فرد واحد کی موت، ملت کی موت، انسانی جان کی حفاظت جس کے لئے پاکستان کے عوام نے فوج بنائی۔
[ayah]5:32[/ayah] اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (نازل کی گئی تورات میں یہ حکم) لکھ دیا (تھا) کہ جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے یعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) اس کے بعد ان میں سے اکثر لوگ یقیناً زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

پاکستان کے عوام کی عومی دولت پر جارحانہ قبضہ نہیں کیا جاسکتا، چاہے اس کے لئے نفاذ شریعت کا خوبصورت نعرہ ہی کیوں نہ استعمال کیا جائے۔ جارحانہ قبضہ ایک مذموم حرکت ہے اور اس کے ساتھ نفاذ شریعت مولوی مزید ایک مذموم حرکت ہے۔

اگر کسی شخص نے حکومت کرنی ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے، وہ ہے انتخابات میں منتخب ہو کر قومی اسمبلی اور سینیٹ تک پہنچے۔ جس قوم نے پاکستان بنایا ہے، وہ اس کی حفاظت کرنا بھی خوب جانتی ہے۔

سب سے پہلے پاکستان !
 

ماوراء

محفلین
zzzbbbbnnnn.gif
آج جیو والے بچارے فارغ البال ادھر اُدھر پھر رہے ہیں بے بس مجبور کہ پاکستان سے کوئی لائیو خبر مل نہیں رہی ۔ سب کچھ بندہے ۔ اب اپنے اپنے تجزئیے پر گزارہ چلا رہے ہیں ۔
بے چارے جیو والے۔۔۔لگتا ہے مشرف انہی کو غلط کہہ رہا ہے۔ :grin:
ائے آر وائے پر تو پاکستان سے بھی دکھا رہے ہیں۔
 

ماوراء

محفلین
آہ ۔ یہ کھوکھلی باتیں۔۔۔کسی زمانے میں بہت ایٹریکٹ کیا کرتی تھیں۔
" میں حالات کا مقابلہ کرنا جانتا ہوں" "پاکستان میری روح ہے، میری جان ہے۔" :hehe:
ہمیں تو پاکستان سے نفرت ہے نا۔۔:grin:
 

تیشہ

محفلین
بے چارے جیو والے۔۔۔لگتا ہے مشرف انہی کو غلط کہہ رہا ہے۔ :grin:
ائے آر وائے پر تو پاکستان سے بھی دکھا رہے ہیں۔




خبریں تو انکو مل ہی رہی ہیں جیسے تیسے ۔ ۔ مگر پہلے کے جیسے جوش جذبے کے ساتھ نہیں ہیں :grin: پہلو پہ پہلو بدل رہے ہیں ۔ کہ اب کیا ہورہا ہوگا پاکستان میں ۔ ۔ ۔
zzzbbbbnnnn.gif

جب بےنظیر کا جہاز اترا تو بہت بے چین تھے یہ دیکھنے ۔۔ جاننے کو کہ کس راستے سے وہ آتی ھے ؟ مگر کچھ پتا نہیں چلا تو پانی کے گلاس پی ، پی کر ہی سنی سنائی پر گزارہ کر رہے تھے ۔
 

زینب

محفلین
کمال ہے ہے سب کے فون بند نیوز چینلز بند۔۔۔۔۔ایک میں ہوں جس کے ہاں جیو نیوز سے دھڑا دھڑ "نیوز الرٹ "ارہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملک سے بہر تو بند نہیں سب کچھ بتایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
 

زینب

محفلین
یہ جو کہتے ہیں"3 ایم پی او " کے تہت گرفتاری۔۔۔۔۔۔۔اس کا کیا مطلب ہوا بھلا۔۔۔۔۔۔۔۔؟
 

ساجداقبال

محفلین
ٹی وی چینلز اب بھی بند ہیں اور پٹی وی سے رات کی ملٹری سؤر والی تقریر نشر ہو رہی ہے۔ جو بکواس میرے بس میں نہیں سننا۔ یہاں رات سے شاہراہ دستور پر ملٹری اور پولیس والے کھوتے کھڑے ہیں۔
 

ساجداقبال

محفلین
کونسا ایسا شخص ہے جو اپنی جان، اپنے مال یا اپنی عزت کو خود سے چھوڑنے کے لئے تیار ہوجائے؟ اور کونسا ایسا اسلام ہے جو دوسروں کے مال کو زبردستی ہڑپ کرنے کا حکم دیتا ہے؟

ریاست خدا داد پاکستان کا چپہ چپہ، عمارت عمارت،سڑک سڑک کس نے تعمیر کی ہے؟ یہ کس کی ملکیت ہے؟ پاکستانی نے اپنی کمائی سے ٹیکس دیا۔ اپنا خون و پسینہ بہایا تو یہ انفرا سٹرکچر تعمیر کیا۔ ان "سرکاری عمارتوں" ، ان "سرکاری سڑکوں" اور ان "سرکاری ایرپورٹوں " کے اصل مالک ہیں پاکستانی۔ اس جائیداد کی حفاظت کے لیے تعمیر کیا ایک عوامی نظام، جس کا ہر قانون ترتیب دیا قرآن اور سنت سے۔ اور اس نظام سے منتخب کی ایک قومی اسمبلی جو ہے ان عوام کی نمائیندہ۔ اور اسی قومی اسمبلی نے عوام کے نمائیندوں کی حیثیت سے بنائی ایک مظبوط فوج۔ جس کا بجٹ پاکستان کے عوام اپنے نمائیندوں کی مدد سے منظور کرتے ہیں۔ اس فوج کا واحد کام ہے کہ اس ملک پر آنچ نہ آنے دے۔

اب اگر کوئی بھی شخص یا اشخاص، پاکستان کے عوام کی اس پبلک پراپرٹی پر جارحانہ قبضہ کرتا ہے، یا اس فوج کو تباہ کرتا ہے۔ وہ گویا اس حکومت کو تباہ کرتا ہے جو پاکستان کے عوام نے تعمیر کی ہے۔ پاکستان، کا چپہ چپہ پاکستانیوں کی پبلک پراپرٹی ہے۔ اور اس پراپرٹی پر جارحانہ قبضہ ، کسی بھی نام سے ، چاہے وہ 'ہندوستان کا جارحانہ قبضہ' ہو یا ؛سنت مولوی کے نام پر عوم کی ملکیت پر جارحانہ قبضہ' ہو، پاکستان کے عوام کو نامنظور ہے۔ کیوں؟ دیکھئے :

ملکیت کی حفاظت - جس کے لئے قانون نافذ‌کیا اور حفاظت کے لیے فوج بنائی۔
[AYAH]4:29[/AYAH] اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے

دوسرے کی ملکیت پر قبضہ قرآن منظور نہیں کرتا۔
[AYAH]24:27[/AYAH] اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کرو

فرد واحد کی موت، ملت کی موت، انسانی جان کی حفاظت جس کے لئے پاکستان کے عوام نے فوج بنائی۔
[ayah]5:32[/ayah] اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (نازل کی گئی تورات میں یہ حکم) لکھ دیا (تھا) کہ جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے یعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) اس کے بعد ان میں سے اکثر لوگ یقیناً زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

پاکستان کے عوام کی عومی دولت پر جارحانہ قبضہ نہیں کیا جاسکتا، چاہے اس کے لئے نفاذ شریعت کا خوبصورت نعرہ ہی کیوں نہ استعمال کیا جائے۔ جارحانہ قبضہ ایک مذموم حرکت ہے اور اس کے ساتھ نفاذ شریعت مولوی مزید ایک مذموم حرکت ہے۔

اگر کسی شخص نے حکومت کرنی ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے، وہ ہے انتخابات میں منتخب ہو کر قومی اسمبلی اور سینیٹ تک پہنچے۔ جس قوم نے پاکستان بنایا ہے، وہ اس کی حفاظت کرنا بھی خوب جانتی ہے۔

سب سے پہلے پاکستان !

حضرت خدا کیلیے اسوقت یہ بے وقت کی راگنی چھوڑ کا اس موضوع پر بات کریں۔
 
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کرنے، ملک میں ایمرجنسی لگانے کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی وسیع اور سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کے لیے دو قوانین میں ترامیم کردی ہیں۔
ان ترمیمی قوانین کے تحت کوئی اشاعتی یا نشریاتی ادارہ خود کش بمباروں، دہشت گردوں اور دہشت گردی کے متاثرین کی تصویریں، شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کے ایسے بیانات شائع یا نشر نہیں کرسکے گا جس سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہو۔

یہ پابندی لگانے کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف نے پریس، اخبارات، خبر رساں اداروں اور کتابوں کے اندراج کے قانون مجریہ سن دو ہزار دو اور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس سن دو ہزار دو میں ترامیم کے دو آرڈیننس جاری کیے ہیں۔

پریس، اخبارات، خبر رساں اداروں اور کتابوں کے بارے میں قانون میں ترمیم کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ ایسا کوئی بھی مواد یا گرافک، بیانات، تبصرے، اور اعلانات نہیں شائع کیے جاسکتے جس کی بنیاد فرقہ واریت، لسانیت یا نسلی تعصب ہو۔

اس ترمیمی آرڈیننس کے مطابق کہا گیا ہے کہ سربراہ ریاست ( صدر مملکت) ، افواج پاکستان، عدلیہ اور ریاست کے قانون ساز اداروں کے اراکین کے بارے میں ایسا کوئی مواد یا گراف وغیر شائع نہیں کیا جائے گا جس سے ان کی تضحیک ہوتی ہو یا ان کا مذاق اڑایا گیا ہو۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے اخبارات صدر یا کسی رکن اسمبلی کا کارٹون وغیرہ بھی شائع نہیں کرپائے گا اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی مزاحیہ یا طنزیہ خاکے شائع کیے جاسکیں گے۔

متعلقہ قانون میں ترمیم کے بعد ایسا کوئی مواد بھی شائع نہیں ہو پائے گا جس سے نظریہ پاکستان یا ملکی سالمیت یا خود مختاری کو خطرہ لاحق ہو یا اس سے متعصب ہو۔ ترمیمی قانون کے تحت ایسا کوئی مواد یا تصویر بھی شائع نہیں ہوسکے گی جس سے تشدد، نفرت یا مختلف عقائد رکھنے والوں میں اختلاف بڑھیں ۔

اخلاقیات کے عام اصولوں کے منافی ایسا کوئی بھی مواد شائع نہیں ہوگا جس سے بے ہودگی اور فحاشی کو فروغ ملے۔ خلاف ورزی کرنے والے اخبارات اور خبر رساں اداروں کے خلاف ضلعی رابطہ افسر یا ڈپٹی کمشنر فوری کارروائی کرے گا اور ایک ماہ تک اشاعت معطل کرسکتا ہے۔

اخبارات اور خبر رساں اداروں کے بارے میں قانون کی شق چوالیس میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت متعلقہ صوبائی حکومت کی مشاورت سے کارروائی کرسکتی ہے۔

پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس سن دو ہزار دو میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خود کش بمباروں کی تصاویر یا شدت پسندوں کے بیانات نشر نہیں کیے جائیں گے۔ کوئی ٹی وی اینکر پرسن، میزبان یا مہمان کوئی ایسی رائے یا عمل نہیں کرے گا جو نظریہ پاکستان یا ملکی سلامتی کے خلاف ہو۔

ترمیمی قانون کے مطابق کوئی نشریاتی ادارہ عدالت میں زیر التوا کسی معاملے پر تبصرہ، بحث یا کوئی بھی پروگرام نشر نہیں کرے گا۔ اس قانون کے مطابق کوئی بھی بے بنیاد، بد نیتی پر مشتمل یا جھوٹی معلومات نشر نہیں کرے گا۔

ذرائع ابلاغ سے وابستہ بیشتر صحافیوں کا کہنا ہے کہ مندرجہ بالا پابندی ایسی مبہم ہے جس کی جو بھی حکومت تشریح کرے وہ اس بنا پر نشریاتی ادارے اور متعلقہ صحافیوں کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔

’پیمرا آرڈیننس‘ کی شق پچیس میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ تمام پابندیاں ملکی و غیر ملکی نشریاتی اداروں پر بھی لاگو ہوں گی۔

ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ایک نئی شق شامل کی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی نشریاتی ادارہ ’پیمرا‘ کی پیشگی تحریری اجازت کے بنا کسی بھی غیر ملکی براڈ کاسٹر سے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے جس کے تحت وہ کسی غیر ملکی ادارے کو اپنا ایئر ٹائم بیچ سکے۔

خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جہاں جرمانے کی حد بڑھادی گئی ہے وہاں پیمرا حکام کے اختیارات میں بھی بے پناہ اضافہ کیا گیا اور انہیں بغیر نوٹس کسی بھی خلاف ورزی کے مرتکب نشریاتی ادارے کو سر بمہر کرنے، آلات قبضے میں لینے اور جتنی مدت چاہیں اس وقت تک نشریات بند کرنے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔

ترمیمی آرڈیننس میں پرتشدد واقعات اور فسادات کی براہ راست کوریج پر پابندی لگانے کے لیے ایک نئی ذیلی شق شامل کی گئی ہے۔ نشریاتی اداروں کے مالکان سے کہا گیا ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے اپنے نظام میں تاخیرِ وقت نشریاتی آلات نصب کریں۔ یعنی ایسا آلہ جس سے نشر ہونے والا کوئی بھی پروگرام اپنے اصل نشریاتی وقت سے کچھ دیر کے بعد نشر ہو۔

’پیمرا آرڈینسس‘ کی خلاف ورزی کرنے والے براڈ کاسٹ لائیسنس یافتہ شخص کو تین سال قید یا ایک کروڑ روپے جرمانے یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکیں گی۔ جبکہ نشریات تقسیم کرنے والے لائیسنس یافتہ شخص کے لیے یہ سزا ایک سال اور جرمانہ پچاس لاکھ تک ہوگا۔
 
یہ جو کہتے ہیں"3 ایم پی او " کے تہت گرفتاری۔۔۔۔۔۔۔اس کا کیا مطلب ہوا بھلا۔۔۔۔۔۔۔۔؟

یہ Maintenance of Public Order ہے اور اسکی زیلی شق 3 ہے جسکے تحت حکومت وقت کسی شخص کو بھی نقص امن عامہ کے خدشہ کے تحت گرفتا کر سکتی ہے۔ اس کا دورانیہ 15 دن سے لیکر (90 دن) 3 ماہ تک ہوتا ہے۔ صرف اتنا جانتا ہوں
 
جسٹس عبد الحمید ڈوگر کون؟

20050630110233election2_commmissioner203.jpg

جسٹس عبد الحمید ڈوگر نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان حلف لے لیا ہے اور یہ جنرل مشرف کے دور اقتدار میں دوسرے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا ہے۔ جسٹس عبد الحمید ڈوگر کو جن کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع خیر پور سے ہے، پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ جسٹس عبد الحمید ڈوگر اپریل 2000 میں اس وقت سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت چھ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا۔

جسٹس ڈوگر سپریم کورٹ کے اس بینچ میں شامل رہے جس نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کو نظریہ ضرورت کی بیناد پر جائز قرار دیا تھا اور جنرل پرویز مشرف کو قانون سازی کا اختیار تک دیا تھا۔ جسٹس عبد الحمید ڈوگر کا شمار سپریم کورٹ کے ان ججوں میں ہوتا ہے جن سے حکومت وقت کو کبھی پریشانی نہیں ہوئی۔ وہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر رہے اور انہیں کے دور میں انتہائی متنازعہ بلدیاتی الیکشن منعقد کرائے گئے۔

جسٹس عبد الحمید ڈوگر اس سپریم جوڈیشل کونسل کے بھی ممبر تھے جس نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری نے جسٹس عبد الحمید ڈوگر پر الزام لگایا تھا کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجا جا چکا ہے۔ جسٹس عبد الحمید ڈوگر سپریم کورٹ کی سینارٹی لسٹ پر چوتھے نمبر پر تھے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس رانا بھگوان داس ، جسٹس اور جاوید اقبال کو سپریم کورٹ سے نکالے جانے کے بعد وہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج بن گئے اور اس طرح پاکستان کے چیف جسٹس بن گئے۔
 
میری اپنے چند وکلاء دوستوں سے بات ہوئی تھی۔ اور ان کا کہنا تھا کہ ملک قیوم (موجودہ اٹارنی جنرل) کے بعد عدلیہ کی تاریخ کے کرپٹ ترین ججوں میں سے ایک عبد الحمید ڈوگر ہے
 
Top