اپریل 1933ء کا ایک واقعہ: بین الاقوامی مالیاتی نظام میں روپے اور دولت کی قانونی چوری

الف نظامی

لائبریرین
ہم اپنے قاری کی توجہ اپریل 1933ء کے ایک واقعہ کی طرف مبذو ل کراتے ہیں جس سے اُن کی سمجھ میں بین الاقوامی مالیاتی نظام میں روپے اور دولت کی قانونی چوری کا طریقہ کار سمجھ میں آ جائے گا جو اس یہود و نصاریٰ کے گٹھ جوڑ کا بنیادی مقصد ہے۔

اس موقع پر (اپریل 1933ء ) امریکی حکومت نے ایک قانون لاگو کیا جس کے تحت امریکی شہریوں کے لیے سونے کے سکے ،ان کی خام شکل اور سونے کے سرٹیفیکیٹ رکھنا جرم قرار دے دیا گیا ، سونے کے سکوں کو لین دین کے استعمال سے روک دیا گیا اور ان کی قانونی حیثیت کو ختم کر دیا گیا۔ یوں یہ سکے روپے کی طرح خرید و فروخت میں استعمال نہیں ہو سکتےتھے اور حکومت نے یہ حکم جاری کیا کہ ایک خاص وقت تک یہ سکے کسی کے پاس نظر آئے تو اس کو دس ہزار ڈالر کا جرمانہ یا چھ مہینے کی قید کی سزاہوگی۔ ان سکوں اور سرٹیفیکٹوں کے عوض امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک نے جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے ، کاغذی نوٹ(یعنی امریکی ڈالر) جاری کر دیے اور ایک اونس سونے کے عوض 20 ڈالر کا نوٹ دیا جانے لگا۔ گویاایک اونس سونے کا نعم البدل کاغذی نوٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ عوام قید و جرمانہ سے بچنے کے لیے سونے کے سکوں کے عوض ڈالر کے نوٹ تبدیل کروانے لگی مگر جوسمجھ بوجھ رکھتے تھے انہوں نے سونے کو تبدیل کرنے کے بجائے مزید سونا خریدنا شروع کر دیا اور انہیں سوئس بنکوں میں بھیجتے چلے گئے۔ پھر اسی سال برطانیہ نے بھی امریکہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے ملک میں یہی کاروائی کی اور سونے کو تجارتی مقاصد کے استعمال سے روک دیا۔ انہوں نے صرف یہ کیا کہ اپنی کاغذی کرنسی پاونڈ اسٹرلنگ کو سونے کی ضمانت سے الگ کر دیا۔
جب امریکہ میں تمام کا تمام سونا کاغذی کرنسی میں تبدیل ہوگیا تو جنوری 1934ء میں امریکی حکومت نے اپنی مرضی سے اپنے کاغذی ڈالر کی قیمت میں 41 فیصد کمی کر دی اور اس کے ساتھ ہی اپنے اس قانون کو جس کے ذریعہ سونا رکھنا ممنوع کر دیا گیا تھا ، ختم کر دیا۔
اب امریکی عوام پھر دوڑی کہ اپنے کاغذی نوٹوں کو واپس سونے میں تبدیل کر لے مگر اب ڈالر کی قیمت گرنے کی وجہ سے فی اونس سونے کی قیمت 35 ڈالر ہو گئی تھی۔ اس عمل کے دوران عوام کی 41 فیصد دولت لوٹ لی گئی۔
امید ہے کہ قاری کے ذہن میں یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ لوٹ مار میں لٹیروں کو قانونی تحفظ کس طرح ملتا ہے۔

قرآنِ مجید فرقانِ حمید نے انتہائی وضاحت سے عوام کی دولت کو لوٹنے سے منع کیا ہے اور اس کو حرام قرار دیا ہے۔ سورۃ النساء اور سورۃ ہود میں یہ ممانعت اس طرح سے ہے:
"اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے مت کھاو ، الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو، اور اپنے آپ کو قتل مت کرو۔ یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے" (سورۃ النساء ، آیت 29)
اور
"اے میری قوم کے لوگو! ناپ تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو ، اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو" (سورۃ ہود، آیت 85)
اسی طرح حضور نبی اکرم نے بتا دیا کہ جو کاروبار اور لین دین نا جائز منافع دے وہ رِبا(سود) ہے۔

اوپر بیان کیے گئے واقعہ میں فیڈرل ریزرو بینک نے تجرباتی طور پر یہ اقدام امریکہ میں اٹھایا تھا تا کہ یہ دیکھا جاسکے کہ نئے مالیاتی نظام کے ذریعے بہت بڑے پیمانے پر دولت کا غیر قانونی انتقال دنیا کے کسی بھی ملک میں غیر محسوس طریقہ سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام اس طرح انجام پائے گا کہ بے وقعت کاغذ کے نوٹ چھاپ کر اس کو بنی نوع انسان پر ٹھونس دیا جائے۔ اور جو اِس نظام کے کرتا دھرتا ہیں ، وہ دنیا کی مختلف کرنسیوں کو نشانہ بنائیں گے اور اُن کو مجبور کریں گے کہ اُن کی قیمتیں گھٹا دی جائیں اور یوں کاغذی کرنسی گرتی گئی اور عوام الناس بے خبر رہی اور بے چاری عوام کا تو نقصان ہوا مگر دوسروں کا منافع۔

ستمبر 1931 ء میں برطانوی پاونڈ کی قیمت 30 فیصد گرائی گئی جو 1934ء تک 40 فیصد تک گر گئی۔ اس کے بعد فرانس نے اپنی کرنسی فرانک کی قیمت کو 30 فیصد گرا دیا۔ اٹالین لیرا کو 41 فیصد تک اور سوئس فرانک کو 30 فیصد تک کم کر دیا گیا۔ اس لہر نے تقریبا تمام یورپی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور یہ عمل ہر جگہ دہرایا گیا۔ یہاں تک کہ یونان نے تو حد کردی کہ اپنی کرنسی کو یک دم 59 فیصد کی حد تک نیچے لے آیا۔ اپنے پڑوسی کو نیچا دکھانے کی اس پالیسی نےکھلبلی مچا دی۔ کرنسی کی قیمت کم کر کے اپنے ملک کی برآمدی اشیاء کو بین الاقوامی مارکیٹ میں سستا کیا گیا تا کہ اُن کی برآمدات میں اضافہ ہو اور اُدھار چکانے میں آسانی ہوجائے ۔ اس وجہ سے قومی آمدنیوں میں شدید گراوٹ پیدا ہوئی ، مال کی مانگ میں کمی پیدا ہوئی تو بڑے پیمانے پر بے روزگاری نے جنم لیا اور پوری دنیا میں شدید تجارتی خسارے میں مبتلا ہوگئی جس کو اس صدی کی دہائی کا "پستی اور اداسی کا دور" The Great Depression Period کہا گیا اور اسی نے ایک نئے عالمی مالیاتی نظام کے نفاذ کے لیے راستہ ہموار کردیا جس کا مقصد دنیا کے تجارتی اور مالیاتی معاملات کو درست کرنا تھا۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ڈپریشن کا یہ دور جان بوجھ کر مصنوعی طریقوں سے پیدا کیا گیا تھا تا کہ نیا مالیاتی نظام ٹھونسا جا سکے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یورپ کی یہ متفقہ اور متحدہ چال ہم مسلمانوں کو جگا دیتی اور یہ احساس دلا دیتی کہ کاغذی نوٹوں کی اس ہیرا پھیری کے پیچھے یہود و نصاریٰ کا گٹھ جوڑ کیا گُل کھلانے والا ہے۔
ہم تو نہ جاگے تاہم اس گٹھ جوڑ نے بالآخر کاغذی نوٹوں کی بنیاد پر ایک عالمی مالیاتی نظام کا نفاذ " بریٹن ووڈز" کے مقام پر کر لیا۔ اسی بریٹن ووڈز معاہدہ Bretton Woods Agreement میں انہوں نے سونے اور ڈالر کے درمیان ایک رابطہ پیدا کر لیا جو بظاہر تو ٹھیک تھا مگر پس ِپردہ یہ حقیقت کارفرما تھا کہ اب کاغذی نوٹ بغیر کی زر ضمانت کے چھاپے جا سکتے ہیں اور اس کا کاروباری دنیا میں حققی طور پر کسی قیمت کا ہونے سے کوئی تعلق نہیں رہا۔
اس معاہدہ نے 1944 ء میں آئی ایم ایف کے انعقاد کا راستہ ہموار کر دیا جس کا مقصد خصوصی طور پر اس بے ضمانت کاغذی کرنسی کےنظام کو عالمی مالیاتی نظام پر لاگو کیے رہنا تھا یہاں تک کہ 1971ء میں یہ ڈھکی چھپی کاروائی بھی بے نقاب ہو گئی جب امریکہ اس عالمی معاہدہ کی اس شق سے منحرف ہو گیا کہ امریکی ڈالر کو سونے کی ضمانت حاصل ہوگی۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ اسلامی دنیا سے نہ کوئی آواز اس کے خلاف اٹھی اور نہ مسلمانوں کو خبردار کیا گیاکہ وہ اس فریبی نظام کے خلاف کاروائی کریں۔ مسلم علماء اس بات پر مطمئن تھےکہ امریکی کاغذی ڈالر کو سونے کی ضمانت موجود ہے اس لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں ، مگر 1971ء کے بعد تو یہ ضمانت بھی باقی نہیں رہ گئی تھی اور اب تو یہ قانونی چوری ایک ننگی حقیقت کے طور پر سامنے آگئی تھی۔
مگر ہمارے علماء کو ابھی تک یہ نظام حرام نہیں لگا اور پھر پورا عالم اسلام اس گٹھ جوڑ کی اندھی تقلید میں اس پُرفریب مالیاتی نظام کے بِل میں داخل ہوگیا۔ جب اس بدنیت و بدشکل یورپی یہودی گٹھ جوڑ نے اپنی کالونیاں ختم کیں تو اس بات کو یقینی بنا لیا کہ آزادی حاصل کرنے والی تمام غیر یورپی قومیں اس فریبی مالیاتی نظام سے منسلک رہیں اور آئی ایم ایف کی رکنیت ان کے ساتھ رہے۔ آئی ایم ایف کے معاہدہ کی ایک شق یہ ہے کہ سونے کو بطور روپیہ استعمال نہیں کیا جائے گا صرف امریکی ڈالر کو سونے کی زر ضمانت حاصل ہوگی۔
اس معاہدے کی شق نمبر 4 ، سیکشن 2 (ب) یہ کہتی ہے:
"زرِ مبادلہ کے انتظام کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ (1) رکن ملک اپنے ملک کی کرنسی کی قیمت کو برقرار رکھنےکے لیے اپنی کرنسی کو کسی دوسرے رکن ملک کی کرنسی کے ساتھ منسلک کر لے جس کو وہ چاہے ، ماسوا سونے کے۔
یا
(2) باہمی اتفاق کے تحت رکن ممالک اپنی کرنسی کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے اسے کسی اور رکن ملک کی کرنسی کے اتار چڑھاو کے ساتھ جوڑ لے
یا
(3) پھر کوئی اور معاہدہ باہمی اتفاق سے کر لے۔

اپریل 2002 ء میں امریکی کانگرس مین 'ران پاول' نے ایک خط امریکی ٹریزری ڈیپارٹمنٹ اور فیڈرل ریزرو بینک کو بھیجا اور ان سے یہ استفسار کیا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ وہ اپنے رکن ممالک کو سونے کی زر ضمانت کے ساتھ کرنسی جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتے اس خط کے مندرجات یوں تھے:
جنابِ عالی!
میں یہ خط آئی ایم ایف کے معاہدہ کے آرٹیکل 4 سیکشن2 ب کے متعلق لکھ رہا ہوں۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ اس شق کی تشریح اس بات کی متقاضی ہے کہ آئی ایم ایف کے رکن ممالک اپنی کرنسی کو سونے کے ساتھ نہیں جوڑ سکتے۔ اس طرح آئی ایم ایف ان ملکوں کو جو غیر مستحکم مالیاتی بحران سے دوچار ہیں اس بات سےروک رہا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کو ایک ایسے ذریعہ سے مستحکم کر سکیں جو سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے رکن ملک کو اپنی متزلزل مالیاتی حالت سے نکلنے میں نہ صرف وقت لگے گا بلکہ ان کی مالیاتی ترقی کو بھی روکے گا جو سیاسی اور مالیاتی کمزوریاں پیدا کر دے گا۔ میں یہ امید رکھتا ہوں کہ ٹریزری اور فیڈرل ریزرو دونوں یہ وضاحت کریں گے کہ آخر کیوں امریکہ ایک ایسی گمراہ کن پالیسی کو بلا تردد قبول کیے ہوئے ہے؟ اگر آپ کو مزید تفصیلات درکار ہوں تو براہِ مہربانی میرے قانونی ڈائریکٹر مسٹر نارمن سنگلٹن سے رابطہ کریں۔ آپ کے تعاون کا شکریہ۔
ران پاول

حیران کن بات یہ ہے کہ آج تک نہ تو محکمہ مال نے اور نہ ہی فیڈرل ریزرو بینک نے اس خط کا جواب دیا اور نہ ہی کسی تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔ اور اس کے جواب نہ دینے کی وجہ صرف یہ ہے کہ جواب ہے ہی نہیں کہ دیا جائے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس مالیاتی نظام کو آئی ایم ایف کے ذریعے لاگو کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ دنیا کو مالیاتی غلامی میں جکڑ لیا جائے اور یہود و نصاری کے اس گٹھ جوڑ کے تابع کر دیا جائے جو آج ساری دنیا پر چھایا ہوا ہے۔

بحوالہ کتاب "درہم و دینار: مستقبل کے اسلامی سکے " از عمران حسین
 
آخری تدوین:
میں یہاں دجال کی بات کروں گا تو کئی دوست چیں بہ جبیں ہوں گے۔
پہلا فتنہ کاغذی زر کا اجراء تھا، یہ اسی کا دوسرا باب ہے کہ زر رکھنا ہے تو کاغذی رکھو کہ تمہارا اپنا کچھ بھی نہ رہے، جب کسی سرکار کا جی چاہے زردار کو بے زر بنا دے۔
تیسرا قدم آگے آتا ہے۔ کاغذی زر رکھنے کو بھی خصوصی اجازت درکار ہو گی، سب کچھ آن لائن چلے گا، کریڈٹ کارڈ اس کی ابتدا ہے اور ابھی ترغیب کے مرحلے میں ہے۔ ایسا ہی کوئی کارڈ یا شاید صرف ایک کوڈ نمبر ہو گا، جو میری آپ کی نسلوں کا نصیب ہو گا۔ وہ کوڈ نمبر بلاک تو بندہ ہلاک!
۔۔۔۔۔۔
الف نظامی
 

باباجی

محفلین
مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسی تحاریر فی زمانہ معلوماتی یا پھر کچھ زیادہ ہی کاروباری ذہن رکھنے والوں کے لیئے تفریح کا باعث ہیں ۔۔ میرے لیئے بھی معلوماتی ہے ۔۔ اور ناقابل عمل بھی کیونکہ پونی صدی سے نظام نافذالعمل ہے اور امت مسلمہ کے حکمران اس نظام کو اپنے ذاتی فائدے کے لیئے استعمال کرتے آئے ہیں ۔۔ اب اس قوم کو جگانے کی کوشش ترک کردینی چاہیئے کہ ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ۔۔ اوپر دیئے گئے قرآنی حوالاجات بھی شاید معلومات کے زمرے میں آجائیں ورنہ آجکل کاروبار وہی ہے جس میں اصل سے کئی گنا بلکہ بعض اوقات سینکڑوں گنا منافع لیا جاتا ہے ۔۔ میں بھی کوشش کی کہ بالکل ایمانداری سے کام کروں لیکن ہوا کیا نوکری سے نکال دیا گیا ۔۔ مجبور ہوگیا کہ جیسا دیس بھیس ۔ سو جھوٹی قسمیں، جھوٹے وعدے، جھوٹ ہی جھوٹ اور اگلا مطمئن ۔۔۔ یہ کرنسی کا کاروبار شروع ہی اسلیئے کیا گیا کہ پل آگ سے جل راکھ ہوجانے والا کاغذ انسانی زندگی سے زیادہ اہم ہوجائے
 
مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسی تحاریر فی زمانہ معلوماتی یا پھر کچھ زیادہ ہی کاروباری ذہن رکھنے والوں کے لیئے تفریح کا باعث ہیں ۔۔ میرے لیئے بھی معلوماتی ہے ۔۔ اور ناقابل عمل بھی کیونکہ پونی صدی سے نظام نافذالعمل ہے اور امت مسلمہ کے حکمران اس نظام کو اپنے ذاتی فائدے کے لیئے استعمال کرتے آئے ہیں ۔۔ اب اس قوم کو جگانے کی کوشش ترک کردینی چاہیئے کہ ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ۔۔ اوپر دیئے گئے قرآنی حوالاجات بھی شاید معلومات کے زمرے میں آجائیں ورنہ آجکل کاروبار وہی ہے جس میں اصل سے کئی گنا بلکہ بعض اوقات سینکڑوں گنا منافع لیا جاتا ہے ۔۔ میں بھی کوشش کی کہ بالکل ایمانداری سے کام کروں لیکن ہوا کیا نوکری سے نکال دیا گیا ۔۔ مجبور ہوگیا کہ جیسا دیس بھیس ۔ سو جھوٹی قسمیں، جھوٹے وعدے، جھوٹ ہی جھوٹ اور اگلا مطمئن ۔۔۔ یہ کرنسی کا کاروبار شروع ہی اسلیئے کیا گیا کہ پل آگ سے جل راکھ ہوجانے والا کاغذ انسانی زندگی سے زیادہ اہم ہوجائے
آپ کے ذاتی تجربات یقیناً بہت تکلیف دہ ہیں، اس پر طرہ یہ کہ یہ ’’محض آپ کے‘‘ نہیں۔ تاہم اس مایوس کن صورتِ حال میں کوئی نہ کوئی راستہ تو رہا ہو گا۔ ہم اگر اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتے تو آنے والوں کے لئے کم از کم فکر کی چنگاری تو چھوڑ سکتے ہیں۔ نہیں تو مجھ میں اور کسی دہریے میں جو برائے نام فرق آج ہے وہ بھی نہیں رہ جائے گا۔
 

فلک شیر

محفلین
میں یہاں دجال کی بات کروں گا تو کئی دوست چیں بہ جبیں ہوں گے۔
پہلا فتنہ کاغذی زر کا اجراء تھا، یہ اسی کا دوسرا باب ہے کہ زر رکھنا ہے تو کاغذی رکھو کہ تمہارا اپنا کچھ بھی نہ رہے، جب کسی سرکار کا جی چاہے زردار کو بے زر بنا دے۔
تیسرا قدم آگے آتا ہے۔ کاغذی زر رکھنے کو بھی خصوصی اجازت درکار ہو گی، سب کچھ آن لائن چلے گا، کریڈٹ کارڈ اس کی ابتدا ہے اور ابھی ترغیب کے مرحلے میں ہے۔ ایسا ہی کوئی کارڈ یا شاید صرف ایک کوڈ نمبر ہو گا، جو میری آپ کی نسلوں کا نصیب ہو گا۔ وہ کوڈ نمبر بلاک تو بندہ ہلاک!
۔۔۔ ۔۔۔
الف نظامی
بندگانِ ہوس کو نظر نصیب نہیں ہوتی آسی صاحب........ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بھی مستقبل کی گرد راہ تک فرزندان ِ مادہ کو نظر نہ آئے گی۔
 

arifkarim

معطل
بہت اچھا مضمون لکھا ہے آپنے۔ اگر کسی کو مندرجہ بالا سمجھنے میں مشکل ہو تو آسان اینیمیشن کیساتھ اس ظالمانہ عالمی مالیاتی نظام کو اس ویڈیو میں سمجھا سکتا ہے:
زر برائے قرض:
 

الف نظامی

لائبریرین
متعلقہ:

کھوکھلا معیار تبادلہ (مانیٹری سٹینڈرڈ):-
آج کا سرمایہ دارانہ نظام رفتہ رفتہ زر مبادلہ کے معیار کو کاغذی نوٹوں کے معیار میں تبدیل کر چکا ہے۔ دنیا کے تمام ملکوں میں سکہ رائج الوقت کی نہ تو خود اپنی کوئی قیمت ہے (یعنی اگر آپ مثلاً ایک ڈالر کے نوٹ کو صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے کی حیثیت سے فروخت کرنا چاہیں تو شاید اسکے عوض چند پیسے بھی کوئی نہ دے) اور نہ اسکی پُشتی کے لئے کوئ حکومت کسی قیمتی جنس مثلاً سونے یا چاندی کا کوئی ذخیرہ رکھتی ہے۔

جب تک مانیٹری سٹینڈرڈ کی بنیاد براہ راست یا بالواسطہ گولڈ سٹینڈرڈ پر تھی تب تک حکومتیں بے تکان کرنسی جاری نہیں کر سکتی تھیں اور اس وجہہ سے بازار میں افراط زر کی صورت حال اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ممکن نہ تھا۔

"نکسن شاک" Nixon Shock ایک عدیم المثال تاریخی عہد شکنی:-
دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نپٹنے کے لئے امریکہ کی قیادت میں 1944 میں برٹن ووڈس کانفرینس Bretton Woods Conference کا انعقاد ہوا جس میں حصہ لینے والے 144 ملکوں کے مندوبین نے من جملہ اور باتوں کے یہ طے کیا کہ یہ تمام ممالک اپنی کرنسی کی قیمت یو ایس ڈالر میں طے کریں گے اور امریکہ مطالبہ کئے جانے پر 35 ڈالروں کے بدلے اپنے خزانے سے ایک اونس سونا فراہم کرائے گا۔
1970کی دہائی میں ویت نام جنگ کے اخراجات اور خود امریکہ میں بڑھتے ہوئے ملکی اخراجات کی وجہ سے وہاں کا بیلینس آف پیمینٹ منفی ہوتا چلا گیا جسکا مطلب یہ ہوا کہ جتنی قیمت کی غیر ملکی کرنسی امریکہ کے پاس آئی اس سے زیادہ قیمت کی امریکی کرنسی غیر ممالک کے قبضے میں پہنچ گئی یعنی اسی صورت حال کے برقرار رہنے کی شکل میں دوسروں کے سونے کے مطالبات پورے کرنا امریکہ کے امکان سے باہر ہو جاتا۔ لہٰذا اس وقت کے امریکی صدر نکسن نے یہ یک طرفہ اعلان کر دیا کہ امریکی کرنسی کے بدلے سونا نہیں دیا جائے گا۔ اس اعلان کے لئے تعطیل یعنی اتوار15 اگست 1971 کا دن جان بوجھ کرطے کیا گیا تھا تا کہ دوسرے ممالک کاروباری دن کے اختتام سے پہلے ہی سونے کی مانگ نہ کر بیٹھیں۔ اس عدیم المثال عہد شکنی کو نکسن شاک کہا جاتا ہے
 

الف نظامی

لائبریرین
بریٹن وڈ کا معاہدہ:-
1971 میں ویتنام کی جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت سخت دباو کا شکار تھی اور افراط زر تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اپریل 1971 میں جرمنی نے امریکی دباؤ میں آ کر پانچ ارب ڈالر خریدے تا کہ امریکی ڈالر کو سہارا مل سکے۔ (اسوقت امریکہ کے پاس صرف دس ارب ڈالر کا سونا تھا)۔ مئی 1971 میں جرمنی نے بریٹن ووڈ معاہدے سے ناطہ توڑ لیا کیونکہ وہ گرتے ہوے امریکی ڈالر کی وجہ سے اپنےجرمن مارک کی قیمت مزید نہیں گرانا چاہتا تھا۔ اسکے صرف تین مہینوں بعد جرمنی کی معیشت میں بہتری آ گئی اور ڈالر کے مقابلے میں مارک کی قیمت %7.5 بڑھ گئی۔
امریکی ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت دیکھتے ہوئے دوسرے ممالک نے امریکہ سے سونے کا مطالبہ شروع کر دیا۔سویزر لینڈ نے جولائی 1971 میں پانچ کروڑ ڈالر کا سونا امریکہ سے وصول کیا۔ امریکہ نے سفارتی دباو ڈال کر دوسرے ممالک کو سونا طلب کرنے سے روکنا چاہا مگر فرانس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 19.1 کروڑ ڈالر امریکہ سے سونے میں تبدیل کروائے۔ اس طرح امریکہ اور فرانس کے تعلقات خراب ہو گئے جو آج تک بہتر نہ ہو سکے۔
12 اگست 1971 کو برطانیہ نے بھی 75 کروڑ ڈالر کے سونے کا مطالبہ کر دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اپنے پاس موجود سونے سے تین گنا زیادہ ڈالر چھاپ چکا تھا۔ حقیقی اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ رہے ہوں گے۔[2]
15 اگست 1971 کو امریکہ اپنے بریٹن ووڈز کے وعدے سے یک طرفہ مکر گیا جسے نکسن دھچکا کہتے ہیں [3]
کیونکہ وہ کاغذی ڈالر چھاپ چھاپ کر اس کے بدلے عربوں سے اتنا تیل خرید چکا تھا کہ عرب اگر ڈالر کے بدلے سونے کا مطالبہ کر دیتے تو امریکہ اپنا پورا سونا دے کر بھی یہ قرض نہ چکا سکتا تھا۔ 1971 کے اس امریکی اعلان سے عربوں کے اربوں ڈالر کاغذی ردّی میں تبدیل ہو گئے۔
قانون قدرت یہ ہے کہ ایک کا نقصان کسی دوسرے کا فائدہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والے اس نقصان کا سارا فائدہ امریکہ کو ہوا۔ بریٹن ووڈز کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ہر ملک کو اپنی مرضی کے مطابق کاغذی سکّہ رائج الوقت چھاپنے کا اختیار مل گیا۔ لیکن ان 27 سالوں میں امریکہ کا کاغذی ڈالر بین الاقوامی سکّہ رائج الوقت بن چکا تھا۔ امریکی بینکار 1944 میں بریٹن ووڈز کے معاہدے میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب بڑی حد تک انہیں حاصل ہو گیا۔ سوئزر لینڈ وہ آخری ملک تھا جس نے سنہ 2000 میں اپنے کاغذی سکّہ رائج الوقت کا سونے سے ناطہ توڑا۔
 
آخری تدوین:

یونس

محفلین
بے حد معلوماتی تحریر ‘اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔
اسلامی امہ کے اکابرین کو اس سلسلے میں درست قدم اٹھانا چاہیئے۔ کاغذی کرنسی اور ڈالر سےتعلق توڑ کردرہم و دینار کے سکے اپنانے چاہئیں۔
 

زیک

تکنیکی معاون
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مضمون نگار کو معاشیات، مانیٹری سسٹم، گولڈ سٹینڈرڈ اور fiat money کے بارے کوئی علم نہیں۔ محض مغربی gold bugs کی رٹی رٹائی باتوں کو نقل کرنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ اسے اسلام سے جوڑ دیا ہے۔
 
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مضمون نگار کو معاشیات، مانیٹری سسٹم، گولڈ سٹینڈرڈ اور fiat money کے بارے کوئی علم نہیں۔ محض مغربی gold bugs کی رٹی رٹائی باتوں کو نقل کرنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ اسے اسلام سے جوڑ دیا ہے۔
چلئیے آپ ہی کچھ سمجھا دیجئے۔۔۔۔۔
 

دوست

محفلین
اسلام میں جب ہر چیز گھسیڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور قرآن سے جب مرضی کا مطلب نکالا جاتا ہے تو یہی کچھ ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے کا عرب ایک غیر ترقی یافتہ قبائلی معاشرہ جہاں کرنسی بھی پڑوسی ریاستوں کی چلتی تھی، جہاں (چند بڑے شہروں کے علاوہ) غالب قیاس بارٹر سسٹم پر آتا ہے، وہاں سے آج کے مسلمان "معیشت دان" کاغذی کرنسی کے نظام کو دجالی اور باطل ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جب سونا اس دنیا سے ملنا بند ہو جائے گا تو کیا کِیا جائے گا؟ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ساری کانیں خالی ہو جائیں گی اور پھر چاند اور بالآخر مریخ جیسے سیاروں پر کان کن شروع ہو گی۔ تو کیا سونا ہی ہر چیز کا حل ہو گا؟ مضمون نگار اور ہمنواؤں کو سونے میں کشش اس لیے نظر آ رہی ہے کہ انہیں سونا "قیمتی" محسوس ہو رہا ہے، چونکہ سونا مہنگا ہے اور سونا ہر کسی کے پاس نہیں ہے۔ حالانکہ سونا بھی اسی طرح ٹوکن کا کام کرے گا جیسے آج کا روپیہ کرتا ہے۔ نہ اس کاغذی روپے کو کھا سکتے ہیں اور نہ بوقتِ ضرورت سونا کھایا جا سکے گا۔ کھانے کے لیے روٹی چاہیئے، زرعی پیداوار چاہیئے، صنعتی پیداوار چاہیئے جو اگر نہیں ہو گی تو جتنی مرضی ایڑیاں رگڑ لیں گولڈ دینار کی بجائے پلاٹینم دینار متعارف کروا دیں سارا "اسلامی" معاشی نظام دھواں بن کر اُڑ جائے گا۔ ہر نظام کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں، چونکہ آنکھوں پر "اسلامی" پٹی بندھی ہوئی ہے اور سب ہرا ہرا نظر آتا ہے اس لیے مضمون نگار کو سونے کے فائدے ہی فائدے نظر آتے ہیں اور کاغذی زری نظام کے نقصان ہی نقصان۔ حالانکہ دونوں اطراف کے نقصانات بھی ہیں اور فوائد بھی۔ اور اگر بندے کے پُتروں کی طرح یہ نظام نافذ کیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ اچھے نتائج حاصل نہ ہو سکیں۔ آج کے آنلائن دور میں کاغذی زری نظام جیسے "مائع" نظام کی ضرورت ہے، لیکن یہ بات اپنی سمجھ میں ذرا لیٹ آئے گی۔ چونکہ اپن تو خلافت مانگتا، ایک خلیفہ (بادشاہ)، ساری دنیا پر حکومت، اور چودہ سو سال پرانی ہر ظاہری چیز جس سے رسول اللہ ﷺ سے قربت کا احساس ہو سکے،سوائے ان کی عادات و خصائل اور ان کی تعلیمات کے عکس کے۔
وما علینا الا البلاغ
 

الف نظامی

لائبریرین
دوست:
مندرجہ ذیل متن پر غور کیجیے:
آئی ایم ایف کے معاہدہ کی ایک شق یہ ہے کہ سونے کو بطور روپیہ استعمال نہیں کیا جائے گا صرف امریکی ڈالر کو سونے کی زر ضمانت حاصل ہوگی۔
اس معاہدے کی شق نمبر 4 ، سیکشن 2 (ب) یہ کہتی ہے:
"زرِ مبادلہ کے انتظام کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ (1) رکن ملک اپنے ملک کی کرنسی کی قیمت کو برقرار رکھنےکے لیے اپنی کرنسی کو کسی دوسرے رکن ملک کی کرنسی کے ساتھ منسلک کر لے جس کو وہ چاہے ، ماسوا سونے کے۔
یا
(2) باہمی اتفاق کے تحت رکن ممالک اپنی کرنسی کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے اسے کسی اور رکن ملک کی کرنسی کے اتار چڑھاو کے ساتھ جوڑ لے
یا
(3) پھر کوئی اور معاہدہ باہمی اتفاق سے کر لے۔

اپریل 2002 ء میں امریکی کانگرس مین 'ران پاول' نے ایک خط امریکی ٹریزری ڈیپارٹمنٹ اور فیڈرل ریزرو بینک کو بھیجا اور ان سے یہ استفسار کیا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ وہ اپنے رکن ممالک کو سونے کی زر ضمانت کے ساتھ کرنسی جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتے اس خط کے مندرجات یوں تھے:
جنابِ عالی!
میں یہ خط آئی ایم ایف کے معاہدہ کے آرٹیکل 4 سیکشن2 ب کے متعلق لکھ رہا ہوں۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ اس شق کی تشریح اس بات کی متقاضی ہے کہ آئی ایم ایف کے رکن ممالک اپنی کرنسی کو سونے کے ساتھ نہیں جوڑ سکتے۔ اس طرح آئی ایم ایف ان ملکوں کو جو غیر مستحکم مالیاتی بحران سے دوچار ہیں اس بات سےروک رہا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کو ایک ایسے ذریعہ سے مستحکم کر سکیں جو سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے رکن ملک کو اپنی متزلزل مالیاتی حالت سے نکلنے میں نہ صرف وقت لگے گا بلکہ ان کی مالیاتی ترقی کو بھی روکے گا جو سیاسی اور مالیاتی کمزوریاں پیدا کر دے گا۔ میں یہ امید رکھتا ہوں کہ ٹریزری اور فیڈرل ریزرو دونوں یہ وضاحت کریں گے کہ آخر کیوں امریکہ ایک ایسی گمراہ کن پالیسی کو بلا تردد قبول کیے ہوئے ہے؟ اگر آپ کو مزید تفصیلات درکار ہوں تو براہِ مہربانی میرے قانونی ڈائریکٹر مسٹر نارمن سنگلٹن سے رابطہ کریں۔ آپ کے تعاون کا شکریہ۔
ران پاول

حیران کن بات یہ ہے کہ آج تک نہ تو محکمہ مال نے اور نہ ہی فیڈرل ریزرو بینک نے اس خط کا جواب دیا اور نہ ہی کسی تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔ اور اس کے جواب نہ دینے کی وجہ صرف یہ ہے کہ جواب ہے ہی نہیں کہ دیا جائے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس مالیاتی نظام کو آئی ایم ایف کے ذریعے لاگو کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ دنیا کو مالیاتی غلامی میں جکڑ لیا جائے
 

دوست

محفلین
امریکی بدمعاشی کا توڑ نکالیں نا پھر. یا تو چین کی طرح پیداوار اتنی کر لیں کہ آپ کی کرنسی پر لوگ اعتبار کریں. یا تیل جیسی معدنیات پیدا کریں، یا پھر دیسی کیمیا دانوں سے کالے ککڑ کو کشتے کھلا کر تانبا سونا کرنے کا نسخہ معلوم کر لیں. ستر سال پرانی کھلی حقیقت کو لے کر واویلا ہی نا مچائیں نا بس.
 

الف نظامی

لائبریرین
امریکی بدمعاشی کا توڑ نکالیں نا پھر.
یا تو چین کی طرح پیداوار اتنی کر لیں کہ آپ کی کرنسی پر لوگ اعتبار کریں.
یا تیل جیسی معدنیات پیدا کریں، یا پھر دیسی کیمیا دانوں سے کالے ککڑ کو کشتے کھلا کر تانبا سونا کرنے کا نسخہ معلوم کر لیں. ستر سال پرانی کھلی حقیقت کو لے کر واویلا ہی نا مچائیں نا بس.
دانشمندانہ سٹرٹیجی وضع کرنا تو ہم آپ سے سیکھنا چاہیں گے:) :) :)
 

الف نظامی

لائبریرین
"بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بینک کم شرح سود کے عوض ایک سے روپیہ مستعار لیتے ہیں اور دوسرے کو زیادہ شرح سود کے عوض مستعار دے کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بینک کبھی روپیہ قرض نہیں دیتا بلکہ ساکھ کے بل پر اپنی موجود زرِ نقد کی مقدار سے زیادہ کے اوراق جاری کر کے یا اعتبار کی اور صورتیں پیدا کر کے فائدہ اٹھاتا ہے" (علامہ اقبال)
Overview of fractional reserve banking
 
آخری تدوین:
Top