1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

اپریل 1933ء کا ایک واقعہ: بین الاقوامی مالیاتی نظام میں روپے اور دولت کی قانونی چوری

الف نظامی نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 12, 2013

  1. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری بحث اس وقت متعلق نہیں

    بہتر ہے کہ پاکستان جیسے ممالک اپنی اپ کو درست کریں۔ لوگوں کو ڈسپلن کریں اور ہیڈ ڈاون کرکے محنت کرتے رہیں
    جب معشیت بہتر ہوجائے اور اتنی ہوجائے کہ دنیا پر اثرانداز ہونا شروع ہوجائے تو پھر یہ بحث بنتی بھی ہے

    اس سے پہلے صرف وقت کا ضیاع ہے۔ قوم جاہل ہوتی جارہی ہے اور بحث یہ ہورہی ہے کہ ڈالر کے بدلے سونے کو میعار بنایاجائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,747
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,747
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    یہ غریبوں کو اور زیادہ غریب کرنے اور امیروں کو اور زیادہ امیر بنانے والے سرمایہ داری نظام کا معجزہ ہے کہ سال2009ء اور2013ء کے درمیانی چار سالوں میں دنیا کے ارب پتیوں کی تعداد اور مجموعی دولت میں دو گنااضافہ ہوگیا ہے۔ دنیا کے ڈالروں میں ارب پتی لوگوں کی مجموعی دولت انسانی زندگی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ساڑھے چھ ٹریلین ڈالروں تک پہنچ چکی ہے جو دنیا کی امریکہ کے بعد دوسری سب سے بڑی معیشت(چین) کی’’جی ڈی پی‘‘ کے برابر ہے۔ جی ڈی پی کسی ملک کی مجموعی سالانہ پیداوار کو کہتے ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ سال2009ء میں یعنی چار سال پہلے دنیا کے ارب اور کھرب پتی لوگوں کی تعداد ایک ہزار تین سو ساٹھ تھی جو2013ء میں دو ہزار ایک سو ستر ہوچکی ہے۔ ان خوفناک حد تک امیر ترین لوگوں کی تعداد میں یہ اضافہ سٹاک مارکیٹ کے جوئے اور ٹریکل ڈاون معیشت کی بدنظمی کے ذریعے دولت کی غلط بخشی کا مرہون منت ہے۔ دنیا کی امیر شماری میں اس حیرتناک اضافہ کی ایک بڑی وجہ امریکی فیڈرل ریزور اور دیگر مرکزی بینکوں کی دھڑا دھڑ کرنسی کی چھپائی بھی بتائی جاتی ہے جس سے مغلیہ دور حکومت کے بابر بادشاہ کے بیٹے ہمایوں بادشاہ کے زمانے میں نظام سقہ کی ایک دن کی بادشاہی یاد آتی ہے۔
    کہا جاتا ہے اور شاید اس میں صداقت بھی ہو کہ ہمایوں بادشاہ کو دریا کی طغیانی میں ڈوبنے سے بچانے پر بادشاہ نے نظام سقہ سے کہا’’مانگ کیا مانگتا ہے‘‘ ۔نظام سقہ نے اپنی خواہشوں میں دبی ہوئی ایک خواہش کو باہر نکالا اور کہا’’ایک دن کی بادشاہی دے دیں‘‘ بادشاہ نے بغیر سوچے سمجھے نظام سقہ کو ایک دن کی بادشاہی دینے کا وعدہ کرلیا۔چند روز بعد نظام الدین نام کا ماشکی ہمایوں بادشاہ کے دربار میں انہیں ان کا وعدہ یاد دلانے پہنچ گیا اور بادشاہ سلامت کو ان کا وعدہ یاد دلایا۔ بادشاہ سلامت اچھے موڈ میں تھے اس کی گردن ا ڑا دینے کا حکم دینے کی بجائے اس کی خواہش پوری کردینے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے وزیر خزانہ یا مشیر خزانہ کو یہ حکم بھی دیا کہ نظام سقے کو اس کی بادشاہت کے ایک دن کے دوران دن کے آغاز سے انجام تک سرکاری خزانے سے ایک دھیلہ بھی ادا نہ کیا جائے۔
    مغلیہ دور حکومت میں ایک دن کی مداخلت کرنے والے نظام سقہ نے بادشاہ بننے کے فوراً بعد اپنے ملک کے غریبوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے ان میں دولت بانٹنے کا پروگرام بنایا مگر انہیں بتایا گیا کہ مغلیہ سلطنت کے خزانے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ بادشاہ نظام الدین ماشکی نے پوچھا کہ جب کسی سلطنت کے پاس خزانہ نہیں ہوتا تو وہ کیا کرتی ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ’’نوٹ چھاپتی ہے‘‘ بادشاہ نظام الدین ماشکی نے کہا کہ نوٹ چھاپے جائیں، بتایا گیا کہ نو ٹ چھاپنے کے لئے کاغذ نہیں ہیں۔ بادشاہ نظام الدین ماشکی نے حکم دیا کہ ان کی پانی بھرنے کے لئے استعمال ہونے والی مشک سے کرنسی نوٹ چھاپے جائیں اور ان کے فرمان کے مطابق چام کے دام وصول کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے ،فرق صرف یہ ہے کہ اب انسانوں کی چمڑی سے بھی سکے بنائے جاتے ہیں اور مارکیٹ میں چلتے ہیں اور کرہ ارض پر ساڑھے چھ ٹریلین ڈالرز کی ملکیت رکھنے والے ارب پتیوں کی تعداد دو ہزار ایک سو ستر تک پہنچ چکی ہے اور نظام سقے ہزاروں، لاکھوں کروڑوں سے بڑھ کر دنیا کی ا یک تہائی آبادی یعنی چار ارب سے بھی تجاوز کرچکے ہیں۔بادشاہوں کو ڈوبنے سے بچانے اور لوگوں کے گھروں میں پانی بھرنے کا کام کرتے ہیں اور بادشاہ بننے کے خوابوں سے نجات پاچکے ہیں کیونکہ پوری دنیا کی بادشاہت دو ہزار ایک سو ستر ارب پتی سنبھال چکے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,747
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
  5. محمدعمرفاروق

    محمدعمرفاروق محفلین

    مراسلے:
    1,191
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    حضرت اب تو کریڈٹ کارڈ کا بھی بیڑا غرق ہونے جا رہا ہے۔
    بِٹ کوائن کے مکمل آنے کے بعد بینکاری صنعت بھی ختم ہو جائے گی۔
    اس وقت ایک عدد بِٹ کوائن کی قیمت 630 ڈالر ہے، ماضی میں قیمت 1300 ڈالر بھی رہی ہے
    آپ بِٹ کوائن کو ورچول virtualکرنسی بھی کہہ سکتے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    وہ آ گئی نا، بات! عمر فاروق صاحب۔
     
    • متفق متفق × 1
  7. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,056
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    بِٹ کائن دجال کا نیا ہتھیار۔
    عنقریب سینماؤں کی زینت بننے والی ہے۔
     
  8. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    میرا خیال ہے اسمارٹ فون پر اسائن ایک بارکوڈ بھی شاید کرنسی کے لیے استمعال ہونا شروع ہوجاوے

    ایک مرتبہ ایک کرسچین ارگنائزیشن کا اشتہار بھی دیکھا تھا کہ انسان کی کھوپڑی پر بار کوڈ امپرنٹ کرکے سب کام اسی کے ذریعہ ہویں
     
  9. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کچھ لوگ مذاق کر رہے ہیں۔ کرتے رہیں!
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  10. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,236
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اسلام اور غیر اسلام سے قطع نظر پیپرکرنسی یا ڈیجیٹل کرنسی نے جہاں لین دین میں تبادلے کی ارزاں ، محفوظ اور تیز تر ترسیل کے ذرائع فراہم کیے ہیں وہاں اس کے ساتھ افراطِ زر کی صورت میں نظر سے پوشیدہ ہی سہی مگر گھمبیر مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں۔ ایک سادہ سی مثال اگرآج کسی کے پاس 10ملین پاکستانی روپے ہیں تو وہ تو کروڑ پتی اور صاحب بہاد ر شمار ہوئے۔ مزید محنت اور کارو بار کر کے موصوف اگر اس کے ساتھ کچھ اور ملین بھی جوڑ لے مگر حکومتی سطح پر کم پیداوار اور برامدت و درامدات میں غیر مفید عدم توازن ہے تو ہر گزرتے دن کے ساتھ ملکی کرنسی کی مالیت میں کمی آتی جائےگی اور موصوف کے ہاتھ میں کروڑوں کے کاغذ تو ہوں گے مگر ان کی قوتِ خرید یا مالیت ہو سکتا ہے اسے کروڑ سے لاکھ پتی یا پھر ککھ پتی ہی بنادے۔اسلامی نظامِ معیشت کے نفاذ میں ہماری بدنیتی کے علاوہ یہ پیپر کرنسی ہی تو فساد کی جڑ ہے جس کی وجہ سے سود کی لعنت کو ختم کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 14, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,747
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
  12. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,236
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جی محترم نظامی صاحب
    زرِ اعتبار کی تخلیق اپنی جگہ مگر افراطِ زر کو تقویت زرِ مبادلہ کے ذخائر سے قطع نظر اندھا دھند کرنسی نوٹس کی چھپائی اور سرکولیشن ہے۔حکومتی بد دیانتی اور نااہلی کے سبب زیادہ سے زیادہ کرنسی چھاپی جاتی ہے یہی چھپائی افراط زر کی روح رواں ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    9,214
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    جب دنیا کے چند امیر (ڈاکیومینٹڈ) لوگوں میں سے ہر ایک واحد شخص لاکھوں غربت سے مرتے لوگوں کی تا حیات کفالت کرسکتا ہے۔اپنی دولت میں کوئی معتد بہ نقصان کے بغیر۔تو پھر اس گلوبلائزیشن کی بہشت کو کسی زوزخ میں نہ پھینک دیا جائے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  14. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,347
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    اگر آپ سونے کو کرنسی کے طور پر استعمال کریں اور آپ کے پاس سونے کی کانیں نکل آئیں تو افراط زر اس سے بھی بہت زیادہ ہو گا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  15. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,347
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    مجھے تو ڈر ہے دجال کا نزول یا ظہور اسی تھریڈ میں نہ ہو جاوے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  16. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy

    بٹ کائن دور جدید کا گولڈ بگ ہے۔ یعنی جو جتنا بٹ کائن کی جتنا لمبا عرصہ ذخیرہ اندوزی کرے گا، وہ مستقبل میں اتنا ہی امیر ہوگا۔ 2010 میں بٹ کائن ایک ڈالر کا بھی نہیں تھا۔ 2011 میں یہ ایک ڈالر کا ہوا۔ 2012 میں 10 ڈالر کا اور 2013 میں اچانک 1000 ڈالر کا ہوکر دھڑام سے سے گرا۔ آجکل ایک بٹ کائن 600 ڈالر کا ہے۔ یعنی یہ سیدھا سادھا اقتصادی بلبلہ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور اسمیں سرمایہ کاری کرنے والے اپنا سرمایہ کسی وقت بھی کھو سکتے ہیں۔ حال ہی میں بٹ کائن کی سب سے پرانی اور مشہور ایکسچینج لاکھوں بٹ کائنز کی چوری کے بعد بند ہو چکی ہے اور وہاں پر موجود لاکھوں ٹریڈرز کا پیسا ڈبو چکی ہے:
    http://en.wikipedia.org/wiki/Mt._Gox
    https://blockchain.info/charts/market-price
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,056
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    • زبردست زبردست × 1
  18. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    نہیں ہوگا۔ خالی سونے کی نئی کانیں دریافت کر لینے سے سونے کی قیمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جب تک زمین میں دفن سونا بہت ساری سرمایہ کاری کے بعد وہاں سے نکل کر مارکیٹ میں نہیں آجاتا! مجھے لگتا ہے جیسے آپ نے سونے کی قیمت کا 100 سالہ تاریخی چارٹ نہیں دیکھا:
    http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/f/ff/Gold-nominal-constant-usd.svg

    اسکے برعکس آپکے پسندیدہ ردی ڈالر کی 100 سالہ قوت خرید کا چارٹ:
    http://4.bp.blogspot.com/-YTyPGaEsB...JI8/s1600/Purchasing+Power+of+U.S.+Dollar.jpg

    امید ہے صورت حال واضح ہو گئی ہوگی۔ امریکہ کی معاشی اور اقتصادی صورتحال:
    http://theeconomiccollapseblog.com/...just-prior-to-the-last-great-financial-crisis
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,347
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    ذرا سپین کی امریکہ آنے کے بارے میں بھی کچھ پڑھیں۔
     
  20. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,747
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused

اس صفحے کی تشہیر