انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

158

میں اور قیس و کوہ کن اب جو زباں پہ ہیں
مارے گئے ہیں سب یہ گنہ گار ایک طرح

منظور اس کے پردے میں ہیں بے حجابیاں
کس سے ہوا دُچار وہ عیار ایک طرح

سب طرحیں اُس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیں
پر ہم بھی ہوگئے ہیں گرفتار ایک طرح

(ق)

نیرنگِ حسنِ دوست سے کر آنکھیں آشنا
ممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح
 
160

آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
اُبھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعد

بیٹھا ہوں میر مرنے کو اپنے میں مستعد
پیدا نہ ہوں گے مجھ سے بھی جاں باز میرے بعد​
 
161

نہ پڑھا خط کو یا پڑھا قاصد!
آخرِ کار کیا کہا قاصد!

کوئی پہنچا نہ خط مرا اُس تک
میرے طالع ہیں نارسا قاصد

گِر پڑا خط تو تجھ پہ حرف نہیں
یہ بھی میرا ہی تھا لکھا قاصد

اب غرض خامشی ہی بہتر ہے
کیا کہوں تجھ سے ماجرا قاصد

کہنہ قصہ لکھا کروں تاکے
بھیجا کب تک کروں نیا قاصد

ہے طلسمات اس کا کُوچہ تو
جوگیا، سو وہیں رہا قاصد​
 
162

ہوں رہ گزر میں تیرے ہر نقشِ پا ہے شاہد
اُڑتی ہے خاک میری، بادِ صبا ہے شاہد

طوافِ حرم میں بھی میں بھُولا نہ تجھ اے بت
آتا تھا یا تُو ہی، میرا خدا ہے شاہد

شرمندہء اثر کچھ باطن مرا نہیں ہے
وقتِ سحر ہے شاہد، دستِ دعا ہے شاہد

نالے میں اپنے پنہاں میں بھی ہوں ساتھ تیرے
شاہد ہے گردِ محمل، شورِ درا ہے شاہد​
 
163

اے گلِ نو دمیدہ کے مانند
ہے تُو کس آفریدہ کے مانند

ہم اُمید وفا پہ تیرے ہوئے
غنچہ دیر چیدہ کے مانند

سر اُٹھاتے ہی ہوگئے پامال
سبزہء نو دمیدہ کے مانند

نہ کٹے رات ہجر کی جو نہ ہو
نالہ تیغِ کشیدہ کے مانند

ہم گرفتارِ حال ہیں اپنے
طائرِ پر پردیدہ کے مانند

دل تڑپتا ہے اشکِ خونیں میں
صیدِ در خوں تپیدہ کے مانند

تجھ سے یوسف کو کیوں کے نسبت دیں
کب شنیدہ ہو دیدہ کے مانند

میر صاحب بھی اس کے ہاں تھے لیک
بندہء زر خریدہ کے مانند

 
قفس تو یاں سے گئے پرمدام ہے صیاد
چمن کی صبح کوئی دم کو شام ہے صیاد

بہت ہیں ہاتھ ہی تیرے، نہ کر قفس کی فکر
مرا تو کام اِنھیں میں تمام ہے صیاد

چمن میں مَیں‌نہیں ایسا پھنسا کہ یوں‌چُھوٹوں
مجھے تو ہر رگِ گُل، تارِ دام ہے صیاد

یہی گُلوں کی تنک دیکھوں اتنی مہلت ہو
چمن میں اور تو کیا مجھ کو کام ہے صیاد

ابھی کہ وحشی ہے اس کش مکش کے بیچ ہے میر
خدا ہی اس کا ہے جو تیرا رام ہے صیاد​
 
میرے سنگِ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد!

ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دلِ ناشاد

فکرِ تعمیر میں نہ رہ منعم
زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد!

خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد

سنتے ہو، ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنو گے یہ نالہ و فریاد

بھُولا جا ہے غمِ بُتاں میں جی
غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد

ہرطرف ہیں اسیر ہم آواز
باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد

ہم کو مرنا یہ ہے کب ہوں کہیں
اپننی قیدِ حیات سے آزاد

نہیں صورت پذیر نقش اُس کا
یوں ہی تصدیع کھینچے ہے بہزاد


 
ر


اودھر تلک ہی چرخ کے مشکل ہے ٹک گزر
اے آہ پھر اثر تو ہے برچھی کی چوٹ پر

ہم تو اسیرِ کنجِ قفس ہو کے مر چلے
اے اشتیاقِ سیرِ چمن، تیری کیا خبر!


اے سیل ٹک سنبھل کے قدم بادیے میں رکھ
ہر سمت کو ہے تشنہ لبی کا مری خطر

کرتا ہے کون منع کہ سج اپنی تُو نہ دیکھ
لیکن کبھی تو میر کے کر حال پر نظر​
 
167

غیروں سے وے اشارے ہم سے چھپا چھپا کر
پھر دیکھنا اِدھر کو آنکھیں ملا ملا کر

ہر گام سدِ رہ تھی بُت خانے کی محبت
کعبے تلک تو پہنچے لیکن خدا خدا کر

نخچیر گہ میں تجھ سے جو نیم کشتہ چھوٹا
حسرت نے اُس کو مارا آخر لِٹا لِٹا کر

اک لطف کی نگہ بھی ہم نے نہ چاہی اُس سے
رکھا ہمیں تو اُن نے آنکھیں دکھا دکھا کر

ناصح مرے جنوں سے آگہ نہ تھا کہ ناحق
گودڑ کیا گریباں سار سِلا سِلا کر

جوں شمعِ صبح گاہی اک بار بجھ گئے ہم
اس شعلہ خُو نے ہم کو مارا جلا جلا کر

اس حرفِ ناشنود سے صحبت بگڑ ہی جاہے
ہر چند لاتے ہیں ہم باتیں بنا بنا کر

میں منع میر تجھ کو کرتا نہ تھا ہمیشہ!
کھوئی نہ جان تُو نے دل کولگا لگا کر!
 
168

[align=center:bcd0fbb76a]نہ ہو ہرزہ درا اتنا، خموشی اے جرس بہتر
نہیں‌اس قافلے میں اہلِ دل ، ضبطِ نفس بہتر

[/align:bcd0fbb76a]
 
169

دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار
اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار

ساقی تو ایک بار تو توبہ مری تُڑا
توبہ کروں جو پھر تو ہے توبہ ہزار بار

کیا زمزہ کروں ہوں خوشی تجھ سے ہم صغیر
آیا جو میں چمن میں تو جاتی رہی بہار

کس ڈھب سے راہِ عشق چلوں، ہے یہ ڈر مجھے
پھوٹیں کہیں نہ آبلے، ٹوٹیں کہیں نہ خار

کُوچے کی اُس کے راہ نہ بتلائی بعدِ مرگ
دل میں صبا رکھے تھے، مری خاک سے غبار

اے پائے خم کی گردشِ ساغر ہو دست گیر
مرہونِ دردِ سر ہو کہاں تک مرا خمار

وسعت جہاں کی چھوڑ جو آرام چاہے میر
آسودگی رکھے ہے بہت، گوشہء مزار​
 
170

یہ عشق بے اجل کش ہے بس اے دل اب توکل کر
اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر

سفر ہستی کا مت کر سرسری، جوں یاد اے راہرو!
یہ سب خاک آدمی تھے ہر قدم پر ٹک تاءمل کر

سن اے بے درد گُل چیں غارتِ گلشن مبارک ہے
پہ ٹک گوشِ مروت جانبِ فریادِ بلبل کر

نہ وعدہ تیرے آنے کا، نہ کچھ امید طالع سے
دلِ بے تاب کو کس منھ سے کہیے ٹک تحمل کر

تجلی جلوہ ہیں کچھ بام و در غم خانے کا میرے
وہ رشکِ ماہ آیا ہم نشیں بس اب دیا گُل کر

گدازِ عاشق کا میر کے شب ذکر آیا تھا
جو دیکھا شمعِ مجلس کو تو پانی ہو گئی گھل کر​
 
171

کر رحم ٹک، کب تک ستم مجھ پر جفاکاراس قدر
یک سینہ، خنجر سیکڑوں، اک جاں و آزار اس قدر

بھاگے مری صورت سے وہ، عاشق میں اُس کی شکل پر
میں اُس کاخواہاں یاں تلک، وہ مجھ سے بیزار اس قدر

منزل پہنچا اک طرف، نَے صبر ہے نَے ہے سکوں
یکسر قدم میں‌ آبلے، پھر راہ پُر خار اس قدر

جز کش مکش ہووے تو کیا عالم سے ہم کو فائدہ
یہ بے فضا ہے اک قفس، ہم ہیں‌گرفتار اس قدر​
 
172

قیامت تھا سماں اس خشمگیں پر
کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر

نہ دیکھا آخر اس آئینہ رُو کو
نظر سے بھی نگاہِ واپسیں پر

گئے دن عجز و نالے کے کہ اب ہے
دماغِ نالہ چرخِ ہفتمیں پر

ہوا ہے ہاتھ گُل دستہ ہمارا
کہ داغِ خوں‌بہت ہے آستیں پر

(ق)

خدا جانے کہ کیا خواہش ہے جی کو
نظر اپنی نہیں ہے مہر و کیں پر

پرافشانی قفس ہی کی بہت ہے
کہ پرواز‌ِ چمن قابل نہیں پر

قدم دشتِ محبت میں نہ رکھ میر
کہ سر جاتا ہے گامِ اولیں پر​
 
173

دل، و دماغ و جگر یہ سب اک بار
کام آئے فراق میں اے یار!

کیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پر
مرگئے ہیں قشون کے سردار

گُلِ پژمردہ کا نہیں ممنون
ہم اسیروں کا گوشہء دستار

سیکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں
پر کہاں پایئے لبِ اظہار

بحثِ نالہ بھی کیجیو بلبل!
پہلے پیدا تو کر لبِ گفتار

شکر کر داغِ دل کا اے غافل!
کس کو دیتے ہیں دیدہء بیدار

گو غزل ہوگئی قصیدہ سی
عاشقوں کا ہے طولِ حرف شعار

ہر سحر لگ چلی تو ہے تُو نسیم!
اے سیہ مستِ ناز ٹک ہشیار

شاخسانے ہزار نکلیں گے
جو گیا اس کی زلف کا اک تار

(ق)

آ زیارت کو قبرِ عاشق پر
اک طرح کا ہے یاں بھی جوشِ بہار

نکلے ہے میری خاک سے نرگس
یعنی اب تک ہے حسرتِ دیدار

(ق)

میر صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں‌ ہاتھوں سے تھامیے دستار

سہل سی زندگی پہ کام کے تئیں
اپنے اوپر نہ کیجیے دشوار

چار دن کا ہے مجہلہ یہ سب
سب سے رکھیے سلوک ہی ناچار

کوئی ایسا گناہ اور نہیں
یہ کہ کیجے ستم کسی پر یار

(ق)

واں جہاں خاک کے برابر ہے
قدرِ ہفت آسمانِ ظلم شعار

یہی درخواست پاسِ دل کی ہے
نہیں روزہ نماز کچھ درکار

درِ مسجد پہ حلقہ زن ہو تم
کہ رہو بیٹھ خانہء خمار

جی میں آوے سو کیجیو پیارے
ایک ہونا نہ درپیے آزار

حاصلِ دو جہان ہے اک حرف
ہو مری جان آگے تم مختار
 
174

لبوں پر ہے ہر لحظہ آہِ شرر بار
جلا ہی پڑا ہے ہمارا تو گھربار

ہوئیں کس ستم دیدہ کے پاس یک جا
نگاہیں شرر ریز، پلکیں جگر بار

کہو کوئی دیکھے اسے سیر کیوں‌کر
کہ ہے اس تنِ نازک اوپر نظر بار

حلاوت سے اپنی جو آگاہ ہو تو
چپک جائیں باہم ولے لعلِ شکر بار

سبک کر دیا دل کی بے طاقتی نے
نہ جانا تھا اس کی طرف ہم کو ہر بار

مرے نخلِ ماتم پہ ہے سنگ باراں
نہایت کو لایا عجب یہ شجر بار

جہاں میر رہنے کی جاگہ نہیں ہے
چلا چاہیے یاں سے اسباب کر بار​
 
175

غصے سے اُٹھ چلے ہو جو دامن کو جھاڑ کر
جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر

دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
بچھتاؤگے، سنو ہو، یہ بستی اُجاڑ کر

یارب رہِ طلب میں کوئی کب تلک پھرے
تسکین دے کے بیٹھ رہوں پاوں گاڑ کر

منظور ہو نہ پاس ہمارا تو حیف ہے
آئے ہیں آج دور سے ہم تجھ کو تاڑ کر

غالب کہ دیوے قوتِ دل اس صعیف کو
تنکے کو جو دکھا دے ہے پل میں پہاڑ کر​
 
176

مرتے ہیں تیری نرگسِ بیمار دیکھ کر
جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر

افسوس وے کہ منتظر اک عمر تک رہے
پھر مر گئے ترے تئیں اک بار دیکھ کر

دیکھیں جدھر وہ رشکِ پری پیشِ چشم ہے
حیران رہ گئے ہیں یہ اسرار دیکھ کر

جاتا ہے آسماں لیے کوچے سے یار کے
آتا ہے جی بھرا درودیوار دیکھ کر

ترے خرامِ ناز پہ جاتے ہیں جی چلے
رکھ ٹک قدم زمیں پہ ستم گار دیکھ کر

جی میں تھا اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میر
پر جب ملے تو رہ گئے ناچار دیکھ کر​
 
177

دیکھ اس کو ہنستے سب کے دم سے گئے اکھڑ کر
ٹھہری ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر

کیا کیا نیاز طینت اے ناز پیشہ تجھ بن
مرتے ہیں خاکِ‌رہ سے گوڑے رگڑ رگڑ کر

وہ سر چڑھا ہے اتنا، اپنی فروتنی سے
کھویا ہمیں نے اس کو ہر لحظہ پاؤں پڑ کر

پائے ثبات بھی ہے نام آوری کو لازم
مشہور ہے نگیں جو بیٹھا ہے گھر میں گڑ کر

دیکھو نہ چشمِ کم سے معمورہء جہاں کو
بنتا ہے ایک گھر یاں، سو صورتیں بگڑ کر

اس پشتِ لب کے اوپر دانے عرق کے یوں‌ ہیں
یاقوت سے رکھے ہیں جوں موتیوں کو جڑ کر

اپنے مزاج میں بھی ہے میر ضد نہایت
پھر مر کے ہی اُٹھیں گے بیٹھیں گے ہم جو اَڑ کر​
 
Top