"الفاروق " از شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی رحمتہ اللہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

شمشاد

لائبریرین
فقہا کی تنخواہیں

ابن جوزی کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان فقہأ کی تنخواہیں بھی مقرر کی تھیں۔ اور درحقیقت تعلیم کا مرتب اور منظم سلسلہ بغیر اس کے قائم نہیں ہو سکتا تھا۔
 

شمشاد

لائبریرین
معلمین فقہ کی رفعت شان

یہ بات خاص طور پر ذکر کے قابل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جن لوگوں کو تعلیم فقہ کے لیے انتخاب کیا تھا، مثلاً معاذ بن جبل، ابو دردأ رضی اللہ تعالٰی عنہ، عبادہ بن الصامت رضی اللہ تعالٰی عنہ، عبد الرحمنٰ بن غنم، عمران بن حصین اور عبد اللہ بن مغفل تمام جماعت اسلام میں منتخب تھے۔ اس کی تصدیق کے لئے اسد الغابہ اور اصابہ وغیرہ میں ان لوگوں کے حالات دیکھنے چاہییں۔ (تذکرۃ الحفاظ کراچی دردأ)۔
 

شمشاد

لائبریرین
ہر شخص فقہ کی تعلیم کا مجاز نہ تھا

ایک بات اور بھی لحاظ کے قابل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس بات کی بڑی احتیاط کی کہ ہر شخص فقہ کے مسائل بیان کرنے کا مجاز نہ ہو۔ مسائل بھی خاص کر وہ تعلیم دیئے جاتے تھے جن پر صحابہ کا اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ یا جو مجمع صحابہ میں پیش ہو کر طے کر لئے جاتے تھے۔ چنانچہ اس کی پوری تفصیل شاہ ولی اللہ صاحب نے نہایت خوبی سے لکھی ہے۔ ہم اس کے جستہ جستہ فقرے جو ہمارے بحث سے متعلق ہیں، اس مقام پر نقل کرتے ہیں۔

معہذ ابعد عزم خلفہ بر چیزے مجال مخالفت نبود، در جمیع ایں امور شذرد نزر نمیر قنذ و بدون استطلاع رائے خلیفہ کارے را مصمم نمی ساختند لہذا دریں عصر اختلاف مذہب و تشت آر واقع نشد، ہمہ بریک مذہب متفق، بریک راہ مجتمع۔ چوں ایام خلافت خاصہ بالکلیہ متفرض شد و خلافت عامہ ظہور نمود علمأ در ہر بلدے مشغول بافادہ شدند۔ ابن عباس در مکہ فتوی می و ہدو عائشہ صدیقہ و عبد اللہ بن عمر در مدینہ حدیث را روایت می نمائند و ابو ہریرہ او قات خود رابر اکشار، روایت حدیث مصروف مے سازو۔ بالجملہ دریں ایام اختلاف فتاوی پیدا شد یکے را بر رائے دیگر اطلاع نہ اگر اطلاع شدہ مذاکرہ واقع نہ واگر مذاکرہ بمیان آمد ازا ملت شبہ و خروج از مضیق اختلاف بفضائے اتفاق میسر نہ، اگر تتبع کنی روایت علمائے صحابہ کہ پیش از انقراض خلافت خاصہ از عالم گزشتہ اند بغایت کم یابی۔ و جمعے کہ اور ایام خلافت زندہ اند ہرچہ روایت کردہ اند۔ بعد ایام خلافت خاصہ رویت کردہ اند ہر چند جمیع صحابہ عدول اند و روایت ایشاں مقبول و عمل بموجب آنچہ بروایت صدق ایشان ثابت شود لازم امادرمیان آنچہ حدیث و فقہ ودرزمن فاروق اعظم بوود آنچہ بعد وے حادث شدہ فرق مابین السموت والارض ست۔ (ازالتہ الخفأ جلد دوم صفحہ 140)۔
 

شمشاد

لائبریرین
عملی انتظام​

یہ تمام امور جن کا اوپر ذکر ہوا علمی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔ عملی صیغے پر بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہایت توجہ کی۔ اور ہر قسم کے ضروری انتظامات قائم کئے۔
 

شمشاد

لائبریرین
اماموں اور مؤذنوں کا تقرر

ہر شہر و قصبہ میں امام و مؤذن مقرر کئے اور بیت المال سے ان کی تنخواہیں مقرر کیں۔ علامہ ابن الجوزی سیرۃ العمر میں لکھتے ہیں۔ ان عمر بن الخطاب و عثمان بن عفان کان یرزقان المؤزنین والائمہ۔ موطا امام محمد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبوی میں صفوں کے درست کرنے کے لیے خاص اشخاص مقرر تھے۔ (موطا امام محمد صفحہ 286)۔ حج کے زمانے میں اس کام پر لوگ مامور ہوتے تھے کہ حاجیوں کو مقام منی میں پہنچا کر آئیں۔ (موطا امام مالک صفحہ 140)۔ یہ اس غرض سے کہ اکثر لوگ ناواقفیت سے عقبہ کے اسی طرف ٹھہر جاتے تھے حالانکہ وہاں ٹھہرنا مناسک حج میں محسوب نہ تھا۔
 

شمشاد

لائبریرین
حاجیوں کی قافلہ سالاری

چونکہ عہد خلافت میں متصل 10 حج کئے اس لئے امیر حجاج ہمیشہ خود ہوتے تھے اور حجاج کی خبر گیری کی خدمت خود انجام دیتے تھے۔
 

شمشاد

لائبریرین
مساجد کی تعمیر

تمام ممالک مفتوحہ میں نہایت کثرت سے مسجدیں تعمیر کرائیں۔ (موطا امام محمد صفحہ 229)۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جو کوفہ کے حاکم تھے، لکھا کہ بصرہ میں ایک جامع مسجد اور ہر قبیلہ کے لیے الگ الگ مسجدیں تعمیر کی جائیں۔ سعد وقاص اور عمر بن العاص کو بھی اسی قسم کے احکام بھیجے۔ شام کے تمام عمال کو لکھا کہ ہر شہر میں ایک ایک مسجد تعمیر کی جائے۔ چنانچہ یہ مسجدیں آج بھی جوامع عمری کے نام سے مشہور ہیں۔ گو ان کی اصلی عمارت اب باقی نہیں رہی۔ ایک جامع عمری میں، جو بیروت میں واقع ہے، راقم کو بھی نماز ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ محدث جمال الدین نے روضۃ الاحباب میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عہد میں چار ہزار مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ یہ خاص تعداد گو قطعی نہ ہو لیکن کچھ شبہ نہیں کہ مساجد فاروقی کا شمار ہزاروں سے کم نہ تھا۔
 

شمشاد

لائبریرین
حرم محترم کی وسعت

حرم محترم کی عمارت کو وسعت دی اور اس کی زیب و زینت پر توجہ کی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اسلام کو جو روز افزوں وسعت ہوتی جاتی تھی۔ اس کے لحاظ سے حرم محترم کی عمارت کافی نہ تھی۔ اس لئے سنہ 17 ہجری میں گرد و پیش کے مکانات مول لے کر ڈھا دیئے اور ان کی زمین حرم کے صحن میں شامل کر دی۔ اس زمانے تک حرم کے گرد کوئی دیوار نہ تھی اور اس لئے اس کی حد عام مکانات سے ممتاط نہ تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے احاطہ کی دیوار کھنچوائی اور اس سے یہ کام بھی لیا کہ اس پر رات کو چراغ جلائے جاتے تھے۔ (موطا امام محمد صفحہ 229)۔ کعبہ پر غلاف اگرچہ ہمیشہ سے چڑھایا جاتا تھا۔ چنانچہ جاہلیت میں بھی فطع کا غلاف چڑھاتے تھے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے قباطی کا بنوایا جو نہایت عمدہ قسم کا کپڑا ہوتا ہے۔ (الاحکام السلطانیہ للماوردی 154 فتوح البلدان صفحہ 26)۔ اور مصر میں بنایا جاتا ہے، حرم کی حدود سے (جو کسی طرف سے تین میں اور کسی طرف سے 7 میل اور 9 میل ہیں) چونکہ بہت سے شرعی احکام متعلق ہیں چنانچہ اسی غرض سے ہر طرف پتھر کھڑے کر دیے گئے تھے جو انصاف حرم کہلاتے تھے۔ اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سن 17 ہجری میں نہایت اہتمام اور احتیاط سے اس کی تجدید کی۔ صحابہ میں جو لوگ حدود حرم کے پورے واقف کار تھے یعنی مخزمہ بن نوفل، ازہر بن عبد عوف، جویطیب بن عبد العزی، سعید بن یربوع کو اس کام پر مامور کیا اور نہایت جانچ کے ساتھ پتھر نصب کئے گئے۔
 

شمشاد

لائبریرین
مسجد نبوی کی وسعت اور مرمت

مسجد نبوی کو بھی نہایت وسعت اور رونق دی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جو عمارت تیار ہوئی تھی وہ اس عہد کے لئے کافی تھی۔ لیکن مدینہ کی آبادی روز بروز ترقی کرتی جاتی تھی۔ اور اس وجہ سے نمازیوں کی تعداد بڑھتی جاتی تھی۔ سنہ 17 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کو وسیع کرنا چاہا۔ گرد و پیش کے تمام مکانات قیمت دے کر خرید لئے۔ لیکن حضرت عباس نے اپنے مکان کے بیچنے سے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کافی معاوضہ دیتے تھے۔ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کسی طرح راضی نہ ہوتے تھے۔ آخر مقدمہ ابی بن کعب کے پاس گیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جبراً خریدنے کا کوئی حق نہیں۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اب میں بلا قیمت عامہ مسلمین کے لئے دے دیتا ہوں۔ غرض ازواج مطہرات کے مکانات کو چھوڑ کر باقی جس قدر عمارتیں تھیں گرا کر مسجد کو وسعت دی گئی۔ پہلے طول 100 گز تھا، انہوں نے 140 گز کر دیا۔ اسی طرح عرض میں جس قدر ستون وغیرہ لکڑی کے تھے اسی طرح رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مسجد کی تجدید کے ساتھ ایک گوشہ میں ایک چبوترہ بھی بنوایا۔ اور لوگوں سے کہا کہ جس کو بات چیت کرنی ہو یا شعر پڑھنا ہو اس کے لیے یہ جگہ ہے۔ (خلاصۃ الوفا باخبار دارالمصطفیٰ مطبوعہ مصر صفحہ 132، صفحہ 133)۔
 

شمشاد

لائبریرین
مسجد میں فرش اور روشنی کا انتظام

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پہلے مسجد میں روشنی کا کچھ سامان نہیں تھا۔ اس کی ابتدأ بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عہد میں ہوئی۔ یعنی ان کی اجازت سے تمیم داری نے مسجد میں چراغ جلائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مسجد میں خوشبو اور بخور کا انتظام بھی کیا جس کی ابتدأ یوں ہوئی کہ ایک دفعہ مال غنیمت میں عود کا ایک بنڈل آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہا۔ لیکن وہ کافی نہ تھا۔ حکم دیا کہ مسجد میں صرف کیا جائے کہ تمام مسلمانوں کے کام آئے۔ چنانچہ مؤذن کے حوالہ کیا۔ وہ ہمیشہ جمعہ کے دن انگیٹھی میں جلا کر نمازیوں کے سامنے پھرتا تھا۔ اور ان کے کپڑے بساتا تھا۔ (خلاصۃ الوفا صفحہ 174)۔ فرش کا انتظام بھی اول حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ہی کیا۔ لیکن یہ کوئی پرتکلف قالین اور شطرنجی دری کا فرش نہ تھا بلکہ اسلام کی سادگی یہاں بھی قائم تھی یعنی چٹائی کا فرش تھا جس سے مقصود یہ تھا کہ نمازیوں کے کپڑے گرد و خاک میں آلودہ نہ ہوں۔
 

شمشاد

لائبریرین
متفرق انتظامات

حکومت کے متعلق بڑے بڑے انتظامی صیغوں کا حال اوپر گزر چکا ہے لیکن ان کے علاوہ اور بہت سے جزئیات ہیں جن کے لئے جدا جدا عنوان قائم نہیں کئے جا سکتے تھے۔ اس لئے ان کو یکجا لکھنا زیادہ موزوں ہو گا۔ ان میں سے ایک دفتر اور کاغذات کی ترتیب اور اس کی ضرورت سے سن اور سال قائم کرنا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پہلے ان چیزوں کا وجود نہ تھا۔ عام واقعات کے یاد رکھنے کے لئے جاہلیت میں بعض واقعات سے سنہ کا حساب کرتے تھے۔ مثلاً ایک زمانے تک کعب بن لوی کی وفات سے سال کا شمار ہوتا تھا۔ پھر عام الفیل قائم ہوا۔ یعنی سال ابراہۃ الاشرم نے کعبہ پر حملہ کیا تھا پھر عام الفجار اور اس کے بعد اور مختلف سنہ قائم ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک مستقل سنہ (سنہ ہجری) قائم کیا جو آج تک جاری ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
سنہ ہجری مقرر کرنا

اس کی ابتدأ یوں ہوئی کہ سنہ 21 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سامنے ایک چک پیش ہوئی، صرف شعبان کا لفظ لکھا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ یہ کیونکر معلوم ہو گزشتہ شعبان کا مہینہ مراد ہے یا موجودہ۔ اسی وقت مجلس شوریٰ منعقد کی۔ تمام بڑے بڑے صحابہ جمع ہوئے اور یہ مسئلہ پیش کیا گیا، اکثر نے رائے دی کہ فارسیوں کی تقلید کی جائے۔ چنانچہ ہرمزان جو خورستان کا بادشاہ تھا اور اسلام لا کر مدینہ منورہ میں مقیم تھا طلب کیا گیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے ہاں جو حساب ہے وہ اس کو ماہ روز کہتے ہیں۔ اور اس میں تاریخ اور مہینہ دونوں کا ذکر ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ بحث پیدا ہوئی کہ سنہ کی ابتدأ کب سے قرار دی جائے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ہجرت نبوی کی رائے دی اور اسی پر سب کا اتفاق ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول میں ہجرت فرمائی تھی۔ یعنی سال میں دو مہینے آٹھ دن گزر چکے تھے اس لحاظ سے ربیع الاول سے آغاز ہونا چاہیے تھا۔ لیکن چونکہ عرب میں سال محرم سے شروع ہوتا ہے اس لیے دو مہینے آٹھ دن پیچھے ہٹ کر سال شروع سے سنہ قائم کیا۔ (مقریرزی جلد اول صفحہ 284)۔

عرب میں اگرچہ قدیم سے لکھنے پڑھنے کا فی الجملہ رواج تھا۔ چنانچہ جب اسلام کا زمانہ آیا تو صرف ایک قریش قبیلہ میں 17 شخص لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ لیکن حساب کتاب سے عموماً لوگ بے بہرہ تھے۔ یہاں تک کہ جب سنہ 14 ہجری میں اپلہ فتح ہوا تو تمام فوج میں ایک شخص نہ تھا جسے حساب کتاب آتا ہو اور جو مال غنیمت کو قاعدے سے تقسیم کر سکتا۔ مجبوراً لوگوں نے ایک چودہ سالہ لڑکے یعنی زیاد بن ابی سفیان کی طرف رجوع کیا۔ اور اس صلے میں اس کی تنخواہ دو درہم یومیہ مقرر کی۔ یا تو یہ حالت تھی یا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بدولت نہایت خوبی سے ہر قسم کے مفصل کاغذات اور نقشے تیار ہوئے۔
 

شمشاد

لائبریرین
مختلف قسم کے رجسٹر

سب سے مشکل اور پر پیچ روزینہ داروں کا حساب تھا۔ جو اہل عطا کہلاتے تھے اور جن میں ہر قسم کی فوجیں بھی شامل تھیں۔ ان کی تعداد لاکھوں سے متجاوز تھی۔ اور مختلف گروہوں کو مختلف حیثیتوں سے تنخواہ ملتی تھی۔ مثلا بہادری کے لحاظ سے، شرافت کے لحاظ سے، پچھلی کارگزاریوں کے لحاظ سے، اس کے ساتھ قبائل کی تفریق بھی ملحوظ تھی۔ یعنی ہر ہر قبیلہ کا جدا جدا رجسٹر تھا۔ اور ان میں بھی مختلف وجوہ کے لحاظ سے ترتیب قائم رکھی جاتی تھی۔ اس صیغے کے حساب و کتاب کی درستی کے لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بڑے بڑے قابل لوگوں کو مامور کیا۔ مثلاً دارالخلافہ میں عقیل بن ابی طالب، مخزمہ بن نوفل، جبیر بن مطعم کو، بصرہ میں مغیرہ بن شعبہ کو، کوفہ میں عبد اللہ بن خلف کو۔
 

شمشاد

لائبریرین
دفتر خراج

تمام دفتر جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں، فارسی، شامی اور قبطی، زبان میں رہا کیونکہ عرب میں اس فن کو اس قدر ترقی نہیں ہوئی تھی کہ یہ دفتر عربی زبان میں منتقل ہو سکتا۔
 

شمشاد

لائبریرین
بیت المال کے کاغذات کا حساب

بیت المال کا حساب نہایت صحت سے مرتب رہتا تھا۔ زکوۃ اور صدقہ میں جو مویشی آتے تھے بیت المال سے متعلق تھے۔ چنانچہ ان کے رجسٹر تک نہایت تفصیل سے مرتب ہوتے تھے۔ جانوروں کا حلیہ رنگ اور عمر تک لکھی جاتی تھی۔ اور بعض وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ (طبری صفحہ 2736)۔
 

شمشاد

لائبریرین
مصارف جنگ کے کاغذات

مصارف جنگ اور مال غنیمت کا حساب ہمیشہ افسروں سے طلب کیا جاتا تھا۔ چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ کی معزولی اسی بنأ پر ہوئی تھی کہ وہ کاغذات حساب کے بھیجنے کی ذمہ داری نہیں قبول کرتے تھے (الاصابہ فی احوال الصحابہ تذکرہ خالد بن ولید)۔ جلولا کی فتح جو سنہ 16 ہجری میں واقع ہوئی تھی۔ زیاد بن ابی سفیان حساب کے کاغذات لے کر مدینہ آئے تھے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ملاحظہ کرایا تھا۔
 

شمشاد

لائبریرین
مردم شماری کے کاغذات

زکوۃ اور جزیہ کی تشخیص کی ضرورت سے ہر مقام کی مردم شماری کرائی گئی تھی۔ اور اس کے کاغذات نہایت اہتمام سے محفوظ رکھے گئے تھے۔ چنانچہ مصر و عراق کی مردم شماری کا حال مقریزی اور طبری نے تفصیل سے لکھا ہے۔ خاص خاص صفتوں کے لحاظ سے بھی نقشے تیار کرائے گئے تھے۔ مثلاً سعد وقاص کو حکم بھیجا کہ جس قدر آدمی قرآن پڑھ سکتے ہیں ان کی فہرست تیار کی جائے۔ شاعروں کی فہرست بھی طلب کی گئی تھی۔ چنانچہ اس کا ذکر کسی اور موقع پر آئے گا۔

مفتوح ممالک کی قوموں یا اور لوگوں سے جس قدر تحریری معاہدے ہوتے تھے وہ نہایت حفاظت سے ایک صندوق میں رکھے جاتے تھے۔ جو خاص حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اہتمام میں رہتا تھا۔ (طبری صفحہ 2465)۔
 

شمشاد

لائبریرین
کاغذات حساب لکھنے کا طریقہ

اس موقع پر یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ اس وقت تک حساب کتاب کے لکھنے کا طریقہ یہ تھا کہ مستطیل کاغذ پر لکھتے اور اس کو لپیٹ کر رکھتے تھے۔ بعینہ اس طرح جس طرح ہمارے ملک میں مہاجنوں کی بہیاں ہوتی ہیں۔ کتاب اور رجسٹر کا طریقہ خلفہ سفاح کے زمانے میں اس کے وزیر خالد برمکی نے ایجاد کیا۔
 

شمشاد

لائبریرین
سکہ

سکہ کی نسبت اگرچہ عام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ عرب میں سب سے پہلے جس نے سکہ جاری کیا وہ عبد الملک بن مروان ہے۔ لیکن علامہ مقریزی کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے موجد بھی عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی ہیں۔ چنانچہ اس موقع پر ہم علامہ موصوف کی عبارت کا لفظی ترجمہ کرتے ہیں۔

جب امیر المومنین خلیفہ ہوئے اور خدا نے ان کے ہاتھ پر مصر و شام و عراق فتح کیا تو انہوں نے سکہ کے معاملہ میں کچھ دخل نہ دیا۔ بلکہ پرانے سکہ کو جو جاری تھا بحال رہنے دیا۔ سنہ 18 ہجری میں جب مختلف مقامات سے سفارتیں آنیں تو بصرہ سے بھی سفرأ آئے جن میں اختف بن قیس بھی شامل تھے۔ اختف نے باشندگان بصرہ کی ضروریات اور حاجتیں بیان کیں۔

حضر ت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کی درخواست پر معقل بن یسار کو بھیجا۔ جنہوں نے بصرہ میں ایک نہر تیار کرائی جس کا نام نہر معقل ہے اور جس کی نسبت یہ فقرہ مشہور ہے۔

اذا جأ نھر اللہ بطل نھر معقل۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسی زمانے میں یہ انتظام کیا کہ ہر شخص کے لئے ایک جریب غلہ اور دو درہم ماہوار مقرر کئے۔ اسی زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے سکہ کے درہم جاری کئے۔ جو نوشیروانی سکہ کے مشابہ تھے۔ البتہ اتنا فرق تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سکوں پر الحمد للہ اور بعض سکوں پر محمد رسول اللہ اور بعض پر لا الہ الا اللہ وحدہ لکھا ہوتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اخیر زمانے میں دس درہم مجموعی رقم کا وزن چھ مثقال کے برابر ہوتا تھا۔ (دیکھو کتاب النقود الاسلامیہ المقریزی مطبوعہ مطبع جوائب سنہ 1298 ہجری صفحہ 574)۔

یہ مقریزی کی خاص روایت ہے لیکن اس قدر عموماً مسلم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سکہ میں ترمیم و اصلاحکی۔ علامہ ماوردی نے الاحکام السلطانیہ میں لکھا ہے کہ ایران میں تین قسم کے درہم تھے۔ بغلی آٹھ دانگ کا، طبری چار دانگ کا، مغربی تین دانگ کا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حکم دیا کہ بغلی چونکہ زیادہ چلتے ہیں اس لئے دونوں کو ملا کر ان کا نصف اسلامی درہم قرار دیا جائے۔ چنانچہ اسلامی درہم چھ دانگ کا قرار پایا۔ (الاحکام السلطانیہ للحادردی صفحہ 167)۔
 

شمشاد

لائبریرین
ذمی رعایا کے حقوق
(ذمی سے وہ قومیں مراد ہیں جو مسلمان نہ تھیں لیکن ممالک اسلام میں سکونت رکھتی تھیں)

پارسیوں اور عیسانیوں کا برتاؤ غیر قوموں کے ساتھ

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ذمی رعایا کو جو حقوق دیئے تھے اس کا مقابلہ اگر اس زمانے کی دوسرے سلطنتوں سے کیا جائے تو کسی طرح کا تناسب نہ ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہمسایہ میں جو سلطنتیں تھیں وہ روم و فارس تھیں۔ ان دونوں سلطنتوں میں غیر قوموں کے حقوق غلاموں سے بھی بدتر تھے۔ شام کے عیسائی باوجودیکہ رومیوں کے ہم مذہب تھے۔ تاہم ان کو اپنی مقبوضہ زمینوں پر کسی قسم کا مالکانہ حق حاصل نہیں تھا بلکہ وہ خود تھی ایک قسم کی جائیداد خیال کئے جاتے تھے۔ چنانچہ زمین کے انتقال کے ساتھ وہ بھی منتقل ہو جاتے تھے۔ اور مالک سابق کو ان پر جو مالکانہ اختیارات حاصل تھے وہی قابض حال کو حاصل ہو جاتے تھے۔ یہودیوں کا حال اور بھی بدتر تھا بلکہ اس قابل نہ تھا کہ کسی حیثیت سے ان پر رعایا کا اطلاق ہو سکتا۔ کیونکہ رعایا آخر کار کچھ نہ کچھ حق رکھتی ہے۔ اور وہ حق کے نام سے بھی محروم تھے۔ فارو میں جو عیسائی تھے انکی حالت اور بھی زیادہ رحم کے قابل تھی۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب ان ممالک کو زیر نگیں کیا تو دفعتہً وہ حالت بدل گئی۔ جو حقوق ان کو دیئے گئے، ان کے لحاظ سے گویا وہ رعایا نہیں رہے بلکہ اس قسم کا تعلق رہ گیا جیسا کہ دو برابر کے معاہدہ کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ مختلف ممالک کی فتح کے وقت جو معاہدے لکھے گئے ہم ان کو اس مقام پر بعینہ نقل کرتے ہیں جس سے اس دعویٰ کی تصدیق ہو گی۔ اور ساتھ ہی اس بات کے موازنہ کا موقع ملے گا کہ یورپ نے اس قسم کے حقوق کبھی غیر قوم کو نہیں دیئے ہیں۔

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخوں میں جو معاہدے منقول ہیں ان میں بعض مفصل باقی مجمعل ہیں۔ کیونکہ مفصل شرائط کا بار بار اعادہ کرنا تطویل عمل کا باعث تھا۔ اس لیے اکثر معاہدوں میں کسی مفصل معاہدے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بیت المقدس کا معاہدہ جو خود حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی موجودگی میں اور ان کے الفاظ میں لکھا گیا حسب ذیل ہے۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top