اسلام میں قدم بوسی کی روایات کا جائزہ

jaamsadams

محفلین
محترم جیمز ایڈمز ذرا اس کا حوالہ دیجیے گا ۔


یہاں آپ نے دو عدد غلط بیانیاں کی ہیں ۔ شاید اسی لیے حوالہ نہیں دیا کہ پکڑے نہ جائیں ۔

چلیں میں نے دو حوالے نھیں دیئے لیکن جو بیسیوں حوالے دیئے ہیں ان کو کیسے جھٹلائیں گے آپ؟ :shameonyou:

جو حوالے نھیں دیئے ان کو منسوخ سمجھیں لیکن جو دیئے ہیں وہ کافی ںھیں حقائق کو واضع کرنے کیلئے

البانی نے امام بخری کی پوری کی پوری کتاب میں تحریف کردی اس پر تو کوئی چین پین نھیں
 

jaamsadams

محفلین
امام ابن حجر نے واضح لکھا ہے کہ یہ ان کی شرائط نہیں ۔ یہ ابن عبد السلام ، ابن دقیق العید اور العلائی کی ذکر کردہ شرائط ہیں ۔ یہ شرائط تجویز کی گئیں ضعیف حدیث کے فتنے سے بچنے کے لیے ۔ اور یہاں ان سے استدلال کیا جا رہا ہے ضعیف حدیث پر عمل کو درست بتانے کے لیے ؟

[arabic]وقال الحافظ السخاوي في القول البديع ص 195: سمعت شيخنا مراراً يقول: (يعني الحافظ ابن حجر العسقلاني) – وكتبه لي بخطه - إن شرائط العمل بالضعيف ثلاثة:
الأول : متفق عليه، أن يكون الضعف غير شديد فيخرج من انفرد من الكذابين والمتهمين بالكذب ومن فحش غلطه .
الثاني: أن يكون مندرجاً تحت أصل عام ، فيخرج ما يخترع بحيث لا يكون له أصل أصلاً .
الثالث: أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته لئلا ينسب إلى النبي صلى الله عليه وسلم ما لم يقله. قال: الأخيران عن ابن عبد السلام وعن صاحبه ابن دقيق العيد والأول نقل العلائي الاتفاق عليه
وهذه الشروط تدل على وجوب معرفة حال الحديث وأن له أصل صحيح وهو مما يصعب الوقوف عليه من جماهير الناس.
[/arabic]

اوپر کہاں ہے کہ عمل نہ کیا جائے؟ [arabic]أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته[/arabic] کا مطلب کہاں ہوگیا کہ عمل نہ کرو؟

میں نے تو پچاسیوں دفعہ بتایا کہ اس سے حلال، حرام، فرض واجب کا حکم نھیں ہے۔ صرف ذوق کی بات ہے۔ فرض یا واجب سمجھے بناء جو عمل کرے تو اسے روکنے کا بھی حق کسی کو نھیں۔ افسوس تو یہی ہے کہ کرنے والا دوسرے کو امر کا حکم نھیں دیتا بلکہ مشاھدہ یہی ہے کہ باذوق آ آ کر کرنے والوں کو روکتے پھرتے ہیں

دوسرا امام ابن حجر نے کب لکھا ہے کہ یہ ان کی شرائط ہی نہیں؟؟ یا وہ اس سے اتفاق نھیں کرتے؟؟ وہ تو اپنے قول کیساتھ ابن عبد السلام کے قول کو تائیداً لا رہے ہیں۔ واہ کیا الٹی سمجھ ہے آپ کی
 

jaamsadams

محفلین
jaamsadams صاحب :
باقی جو علمی باتیں کاپی پیسٹ کی گئی ہیں ، وہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب بہت پہلے اپنے "دورہ مسلم شریف کی نشست" میں عرض فرما چکے ہیں اور جس کا لفظ بہ لفظ ماہنامہ منہاج القرآن ، شمارہ ستمبر 2009ء میں بعنوان "دورہ صحیح مسلم شریف (نشست پنجم۔ i)" یہاں آن لائن بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

میں نے تو قصور یہ کیا کہ کچھ مواد کاپی پیسٹ کیا وہ بھی خود کو ٹائپنگ کی زحمت سے بچانے کیلئے اور ٹھرا قصور وار

اور جس نے امام بخاری کی کتاب اپنی تحریفات سے بھر دیں وہ بچارہ معصوم ہے۔ واہ البانی واہ، کیا ہاتھ مارا وہ بھی امام بخاری پر۔ تیرا یہ داغ نھیں جائے گا
 

باذوق

محفلین
یہ بتلائیے کہ میں نے کب صحابہ پر یہ رکیک ترین الزام لگایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ص کو کبھی سجدہ کیا؟؟؟

یہ تو آپ الٹا مجھ پر رکیک الزام لگا رہے ہیں۔

میں آپ کو ہرگز اجازت نہیں دے سکتی کہ آپ میری بات کو گھما پھرا کر مجھ پر یہ رکیک الزام لگائیں کہ میں نے صحابہ پر سجدے کرنے کا الزام لگایا ہے۔
یہ الزام نہیں شکایت تھی اور میرے اصل الفاظ یوں تھے :
یہ صحابہ کرام کی ذات پر رکیک ترین الزام ہے۔ وہ صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین جنہوں نے سب سے پہلے اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ پیش کیا ، وہ صحابہ جنہوں نے اپنے ظاہر و باطن کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک قول و فعل کے تابع کر دیا تھا ، ان کے دل کی نیت کے متعلق اپنا ذاتی واہیات قیاس جوڑنا کہ ان کے دل سجدہ کے لئے مچل جاتے تھے ۔۔۔۔۔؟؟؟ استغفراللہ !!
"سجدہ کے لیے مچل جانے والے دل" والے جملے پر اعتراض کیا گیا تھا اور شکایت بھی آپ سے نہیں بلکہ درج ذیل جملہ تحریر کرنے والے سے تھی :
صحابہ جانوروں درختوں کو سجدہ کرتے دیکھتے تو وہ مناظرے نہ کرتے بلکہ ان کے دل بھی سجدہ کے لئے مچل جاتے
کیا بالا سرخ رنگ والا جملہ آپ کا تحریر کردہ تھا ؟ اگر نہیں تو پھر شکایت بھی آپ سے نہیں ہے۔
اس عمل کی اسی فضیلت کی بنا پر صحابہ کرام کے دلوں میں بھی خواہش مچلی کہ ان جانوروں کی نسبت انکو زیادہ حق حاصل ہے کہ وہ اس فضیلت والے عمل کو انجام دیں۔ مگر پھر جب رسول اللہ ص نے یہ بات واضح فرما دی کہ ایک مصلحت کی بنا پر اس عمل کو امت محمدی کے انسانوں کے لیے منع کر دیا گیا ہے تو پھر انہوں نے اس عمل کو انجام نہیں دیا۔
اور یہی ہم بھی کہتے ہیں کہ دل میں مچلنے والی خواہشات کا نام دین نہیں ہے !!
بلکہ دین نام ہے بقول قرآن اطیعواللہ و اطیعوالرسول کا !!
اور اسی کا عملی مظاہرہ صحابہ کرام جیسی پاکیزہ ہستیوں سے ہوا ہے کہ ادھر زبانِ مبارک صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمان نکلا اور ادھر انہوں نے اپنی تمام خواہشات کو قربان کر دیا ! اس کو کہتے ہیں اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور اسی کا حکم امت محمدیہ کو دیا گیا ہے نا کہ اپنے عقلی گھوڑے دوڑا کر گمان و قیاس کے کھیل کھیلے جائیں۔
اس عمل کی اسی فضیلت کی بنا پر صحابہ کرام کے دلوں میں بھی خواہش مچلی کہ ان جانوروں کی نسبت انکو زیادہ حق حاصل ہے کہ وہ اس فضیلت والے عمل کو انجام دیں۔
ماشاءاللہ !! کیا نکتہ آفریں ہے۔
بےعقل چرند پرند شجر کا سجدہ کرنے والا عمل "فضیلت" والا عمل ہے ؟؟
کسی عمل کے فضل و معیار کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرمائیں گے یا دور حاضر کے شیخ الاسلام یا آپ جیسی علمی ہستیاں ؟؟
مقامِ غور و فکر ہے کہ اپنے موقف کو درست باور کرانے کے لئے کس طرح اصل موضوع کو توڑا موڑا جا رہا ہے اور کس طرح فرامینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈیگریڈ کیا جا رہا ہے !!


آخر میں پھر یاد دلا دوں کہ مجھ پر آپ کے مراسلہ:24 کا جواب ادھار ہے۔ تھوڑا انتظار مزید فرمائیں۔ شکریہ۔
 

آبی ٹوکول

محفلین
مہوش علی !
آبی ٹوکول !
آپ کے استفسار کا جواب میرے پچھلے مراسلے : 18 میں موجود ہے :

کسی روایت کو حجت سمجھنا اور بات ہے اور اس روایت کو پیش کر کے اس سے اخذ ہونے والے مسائل کی طرف اشارہ کرنا یا ان کو بیان کرنا ایک الگ بات ہے۔ میں ثبوت دے چکا ہوں کہ محدثین نے ضعیف روایت کو بھی اپنی کتب حدیث میں پیش کیا ہے اور ان ضعیف روایات سے اخذ ہونے والے مسائل کو بھی بیان کیا ہے۔

اوہ خدا کے بندے آپ کے مراسلہ نمبر 18 پر ہی تو میں اعتراض کیا ہے اور آپ اسی کو بطور جواب مجھ پر پیش فرمارہے ہیں ایں چہ بوالعجبی است؟؟؟

بھائی میرا اعتراض ہی آپکے اس مراسلہ پر یہ تھا کہ ایک طرف تو آپ فرماتے ہیں کہ ۔۔ ۔

ہر روایت سے مسئلہ اخذ کیا جا سکتا ہے چاہے روایت صحیح ہو کہ ضعیف۔

اور دوسری طرف آپ فضائل اعمال کے باب میں ضعیف حدیث کو بھی حجت نہیں مانتے ؟؟؟

آپ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ہر دینی اور شرعی معاملہ ، چاہے وہ فرض ہو یا سنت یا مستحب یا حرام ہو یا مکروہ ۔۔۔ اپنے ثبوت کے لیے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صریح بیان اور ارشاد کا محتاج ہے ۔
جبکہ ضعیف حدیث کی نسبت رسول اللہ (ص) سے یا تو صحیح نہیں ہے یا مشکوک ہے یا پھر محض ظن و گمان ۔۔۔ اس لیے کہ ضعیف ایک مبہم لفظ ہے ۔ اس کی متعدد قسمیں ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔


ہر روایت سے مسئلہ اخذ کیا جا سکتا ہے چاہے روایت صحیح ہو کہ ضعیف۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں نے جو ابوداؤد اور ترمذی کی روایات بطور مثال پیش کی تھیں ، کیا وہ روایات پیش کرتے ہوئے امام ابوداؤد یا امام ترمذی نے صرف "ضعیف روایت" کہہ کر بات ختم کر دی تھی ؟؟
ہرگز نہیں !
بلکہ دونوں ائمہ نے ان ضعیف روایات سے بھی مسئلہ اخذ کیا اور اسی اخذ شدہ مسئلہ کو باب کا عنوان دیا۔
اب یہ تو قاری پر منحصر کرتا ہے کہ وہ دیکھے کہ جو مسئلہ ہم کو محدثین بتا رہے ہیں اس کی دلیل کیا ہے؟؟ دلیل اگر ضعیف روایت ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ مسئلہ بھی یقیناً غلط ہے !!

آپکو بچوں کی طرح سمجھانا پڑتا ہے میرے بھائی آپکی یہ درج بالا عبارت اتنی خطرناک ہے کہ اس کی براہ راست چوٹ محدثین پر پڑ رہی ہے ۔ ۔ ۔
یعنی ایک طرف آپ ہیں کہ آپ کو فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب کے معاملہ میں بھی ضعیف حدیث قابل قبول نہیں اور دوسری طرف امام ابو داؤد اور امام ترمذی ہیں جو کہ بقول آپکے ایک ضعیف حدیث کو پہلے نقل کرتے ہیں اور پھر اس کا ضعف بھی بتلاتے ہیں اور پھر اس پر طرفہ یہ کے اس کو ضعیف جانتے ہوئے اس سے اخذ مسئلہ بھی فرماتے ہیں ۔ ۔ جس پر آپ فرماتے ہیں کہ قاری کو چاہیے کہ وہ دیکھ لے کہ اگر کسی امام نے ضعیف حدیث سے مسئلہ اخذ کیا ہے تو مسئلہ یقینا غلط ہوگا ۔ لاحول ولا قوۃ
یعنی‌ آپ تو اتنی احتیاط فرمائیں کہ فضائل اعمال میں ضعیف روایات کو حجت نہ سمجھیں اور دوسری طرف امام ابو داؤد اور امام ترمذی کے بارے میں آپ مطلقا یہ فرمائیں کہ وہ اپنی کتابوں میں ضعیف احادیث بھی لائیں اور پھر مطلقا بغیر تفریق احکام و فضائل ان سے احتجاج بھی فرمائیں اور انکا ایسا کرنا غلط بھی ہے ہو ۔ ۔ ۔ یعنی لاحول ولا قوۃ ۔ ۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔
کسی روایت کو حجت سمجھنا اور بات ہے اور اس روایت کو پیش کر کے اس سے اخذ ہونے والے مسائل کی طرف اشارہ کرنا یا ان کو بیان کرنا ایک الگ بات ہے
یعنی یہ عجب مضحکہ خیز بیان ہے کہ کسی روایت کو حجت سمجھنا اور بات ہے اور اس روایت سے اخذ ہونے والے مسائل کی طرف اشارہ کرنا الگ بات ہے ؟؟؟؟؟؟؟'

اوہ میرے بھائی روایت کا حجت ہونا آخر ہوتا کس باب میں ہے ؟؟؟؟؟ بھئی ظاہر ہے استنباط مسائل کے باب میں ہی روایات کا حجت ہونا بیان کیا جاتا ہے جب کوئی روایت کسی محدث کے نزدیک سند اور متن کے اعتبار سے ان تمام شرائط پر پورا اترتی ہو جو کہ حدیث صحیح کی شرائط ہیں تو وہ محدث اس روایت سے احکام اور اعتقادی مسائل کو اخذ کرتا ہے اور اس روایت کو اس (اعتقادی و احکامی مسائل کے استنباط کے باب ) میں حجت سمجھتا ہے اور جب کوئی روایت کسی محدث کے نزدیک وہ تمام شرائط یا ان میں سے کوئی ایک یا چند شرائط پورا نہیں کرتی جو کہ ایک صحیح حدیث کے لیے ضروری ہوتی ہیں تو وہ (محدث) اس روایت کو احکام کے باب میں تو حجت نہیں مانتا مگر ایسے تمام معاملات کے جنکا تعلق فضائل یا ترغیب و ترھیب سے ہو ان میں اس روایت کو حجت ہی سمجھتے ہوئے نقل کرتا ہے لہذا اس باب میں اس محدث کی نقل کی ہوئی اس روایت کو صحیح (بطور اس خاص مسئلہ کے استنباط میں ) ہی سمجھا جائے گا جیسا کہ صحاح ستہ کی دیگر کتب کے ساتھ صحیح بخاری و مسلم میں جو چند ایک کم حییثت کی روایات در آئی ہیں انکا تعلق اسی باب سے ہے اور اسی طرح امام بخاری کا الادب المفرد میں ضعیف روایات کو نقل کرکے مسائل کو اخذ کرنا اسی بات کی نشاندہی ہے کہ امام بخاری کا بھی یہی مسلک تھا کہ وہ فضائل اعمال کے باب میں ضعیف روایات کو شجر ممنوعہ نہیں جانتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات ۔ ۔ ۔والسلام
 

شمشاد

لائبریرین
jaamsadams آپ سے درخواست ہے کہ دوسرے اراکین کا درست نام لکھیں۔

کسی بھی رکن کو کسی دوسرے رکن کا نام بگاڑنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے۔
اگر یہ نہیں کر سکتے تو اپنے آپ کو بحث مباحثے سے خارج کر دیں۔

امید ہے تعاون فرمائیں گے۔
 

jaamsadams

محفلین
جناب میں نے کب کس کا نام بگاڑا ہے؟

آپ مجھے بےذوق کا کوئی متبادل لفظ بتادیں میں وہ استعمال کرلوں گا۔ اب اگر کوئی لفظ استعمال کرنے سے کسی کا نام بگڑنے کا شبہ ہو تو وہ استعمال نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بدذوق کے استعمال سے پرہیز کرتا رہا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسکا نام بگاڑا جا رہا ہے
 

شاکر

محفلین
البانی نے امام بخری کی پوری کی پوری کتاب میں تحریف کردی اس پر تو کوئی چین پین نھیں

شمشاد صاحب! کیا علامہ البانی رحمہ اللہ محفل کے اراکین سے بھی کم درجہ رکھتے ہیں۔ بحث‌ضرور ہونی چاہئے۔ لیکن علماء کے نام کے ساتھ تو احترام ملحوظ ہونا چاہئے کہ نہیں؟ ازراہ کرم، ذرا ایسے احباب کی گرفت فرمائیں۔۔!
 

آبی ٹوکول

محفلین
jaamsadams آپ سے درخواست ہے کہ دوسرے اراکین کا درست نام لکھیں۔

کسی بھی رکن کو کسی دوسرے رکن کا نام بگاڑنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے۔
اگر یہ نہیں کر سکتے تو اپنے آپ کو بحث مباحثے سے خارج کر دیں۔

امید ہے تعاون فرمائیں گے۔

جناب میں نے کب کس کا نام بگاڑا ہے؟

آپ مجھے بےذوق کا کوئی متبادل لفظ بتادیں میں وہ استعمال کرلوں گا۔ اب اگر کوئی لفظ استعمال کرنے سے کسی کا نام بگڑنے کا شبہ ہو تو وہ استعمال نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بدذوق کے استعمال سے پرہیز کرتا رہا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسکا نام بگاڑا جا رہا ہے

شمشاد صاحب! کیا علامہ البانی رحمہ اللہ محفل کے اراکین سے بھی کم درجہ رکھتے ہیں۔ بحث‌ضرور ہونی چاہئے۔ لیکن علماء کے نام کے ساتھ تو احترام ملحوظ ہونا چاہئے کہ نہیں؟ ازراہ کرم، ذرا ایسے احباب کی گرفت فرمائیں۔۔!

تمام احباب کی خدمت السلام علیکم !
میرا یہ خیال ہے کہ علمی گفتگو کو علمی انداز میں ہی کرنا چاہیے عامیانہ انداز سے گریز ضروری ہے ایکدوسرے کی شخصیت پر براہ راست ہونے کی بجائے ایکدوسرے کے دلائل کا موثر انداز میں رد اگر کیا جائے تو وہی علمی گفتگو کہلائے گی ۔ ۔ ۔ jaamsadams بھائی نے ابتداء اچھی نہیں کی مگر جوابا بھی بعض احباب نے وہی روش اپنائی اور ساتھ میں اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروا دیا جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ اچھی بات نہیں ہے اگر احباب کو jaamsadams کی لب و لہجہ پر اعتراض تھا تو جوابا انھے بھی اسی لہجہ کی نفی کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے تھا پھر بات مناسب لگتی اور رہ گئی عالم دین کی بات تو میں ہمیشہ سے اسی بات کا قائل ہوں کے علمائے دین سے اختلاف اپنی جگہ مگر ان کا عزت و احترام اپنی جگہ قائم رکھنا چاہیے جو کے مجھے افسوس ہے کہ یہان نہ طاہر القادری صاحب کے ضمن میں روا رکھا گیا اور نہ ہی علامہ البانی صاحب کے ۔ ۔ ۔
 
بنت حوا بہن:
کیا میں یہ امید رکھ سکتی ہوں کہ آپ بقیہ بیسیوں علماء کا بھی رد کریں گی جو کہ ضعیف حدیث پر عمل کا مؤقف رکھتے ہیں اور جن کے حوالے اوپر پوسٹ میں پیش کیے گئے ہیں؟
میں تو بہت کم علم رکھتی ہوں، مگر ہاں جو چیز سامنے آئے اُسے عقل کے میزان پر ضرور پرکھتی ہوں۔ آپ سے سوال ہے کہ ابن حجر العسقلانی کی عبارت کے اس حصے کا کیا مطلب ہے:
آپ اسکا مطلب پہلے بیان کر دیجئے تاکہ بحث کو آگے بڑھایا جائے۔
مہ وش ، آپ نے مجھے مخاطب کیا ہے اس لیے یہ چند سطور لکھ رہی ہوں ۔ ورنہ شریک بحث کچھ لوگوں کے علمی و اخلاقی معیار کو دیکھ کر میں نے کنارہ کشی کر لی تھی ۔

میں نے اپنی پچھلی پوسٹس میں سب علماء کے لیے ادب واحترام کا لہجہ اپنانے ، اور علمی حوالوں میں کتر بیونت نہ کرنے کی گزارش کی تھی ۔ نہ تو کسی عالم کا رد کیا تھا نہ ہی کسی کی حمایت ۔

محقق غیر جانب دار اور غیر متعصب ہو، اور دیانت دار بھی، تو ہی محقق ہوتا ہے ۔ جو لوگ کسی کی عبارت نقل کر کے اصل مصنف کا حوالہ دینے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں ، وہ درست نتیجے کو ماننے کا حوصلہ رکھ سکتے ہیں ؟

میں اس بات پر بھی یقین رکھتی ہوں کہ کسی علم میں تحقیق کا حق وہی لوگ رکھتے ہیں جو اس کے مبادئ سے واقف ہوں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے ، اور کرے تو ٹھینگا باجے ۔ اگر کوئی ماؤس کا استعمال نہ جانتا ہو مگرآپ سے کورل ڈرا کے فیچرز پر بحث کرے تو آپ اسے کیا کہیں گی ؟ کسی کے بحث کرنے سے کیا کسی علم کے مسلّمات بدل سکتے ہیں ؟

مہ وش اللہ تعالی نے بہت سے لوگوں کو عقل عطا فرمائی ہے ۔ سب لوگ جانب دار اور متعصب نہیں ہوتے ، نہ ہی سب کسی خاص سیاسی پارٹی یا فرقے کے زر خرید ہوتے ہیں ۔ میں علم کی راہ پر چلنے کا اپنا اجر کسی فرقے یا پارٹی کے عشق میں ضائع نہیں کر سکتی ۔یہاں تو بعض لوگ جھوٹ سے لے کر ڈھٹائی تک سب حربے آزما رہے ہیں ، تو اس معیار کی بحث میں حصہ لینے کا فائدہ ؟

آپ ابن حجر کے اس پیرا گراف کو ٹرانسلیٹ کروا کے عقل کی میزان پر ضرور پرکھیے ، بلکہ امام سخاوی کی کتاب سے سیاق وسباق سمیت دیکھیے گا کہ وہ اس عبارت کو کس بحث کے دوران لائے ہیں ؟ اس کے علاوہ بھی جن محدثین نے اس کو کوٹ کیا ہے کہاں کیا ہے ؟ آپ نتیجے پر پہنچنے میں آزاد ہیں ۔

جو انسان غیر جانب داری سے حق کی تلاش میں نکلے گا اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ وہ اسے منزل پر پہنچائے گا ۔ :" والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا ۔۔۔۔"
امید ہے اس مرتبہ میرے مافی الضمیر کے متعلق غلط فہمی کا شکار نہ ہوں گی ۔
 

jaamsadams

محفلین
انکل البانی کا نام کس نے اور کہاں بگاڑا ہے؟ یہ بھی بتادیں ذرا؟

آپ چاہتے ہیں کہ کوئی امام بخاری جیسے امام کی تصنیف پر ہاتھ صاف کرتا پرھے اور ڈکار مار کے گزر جائے اسکی کوئی پکڑ نہ ہو۔

کل آپ کہیں گے کہ یزید کو برا نہ کہو پرسو ابو جہل کو اور ترسو فرعون

موسی و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آید پدید
زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
 

jaamsadams

محفلین
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سر داد نداد دست دردست یزید
حقا کہ بناے لاالہ است حسین

بات بڑھے گی تو پھر بہت دور تک جائے گی
 

jaamsadams

محفلین
جناب والا، نہ یہ کہ بحث ہونی چاہیے بلکہ البانی اسکینڈل پر ایک سیر حاصل بحث ہونی چاہیے، جس میں اس اسکینڈل کے حقائق سامنے آنے چاہیں اور معلوم کرنا چاہیے کہ

اس میں کون کون ملوث تھا
کون سے محرکات پس پردہ تھے
کون سے مقاصد کارفرما تھے

یہ اسکینڈل درحقیقت اسلام کی جڑوں کو مزید کھوکھلا کرنے کیلئے یزیدی قوتوں کا حملہ تھا

اور فرقہ واریت کو مزید پروان چڑھانے کا مزموم منصوبہ تھا

اگر ہم واقعی اسلام کی سرخروئی چاہتے ہیں تو ہمیں اسطرح کے بھیڑ نما بھیڑیوں کو بے نقاب کرنا ہوگا، اور مسلمان عوام کو ان آستین کے سانپوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔

آج نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کو سب سے زیادہ خطرہ انہی موقع پرستوں سے ہے جو آج مسلمانی کے روپ میں کہیں مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں تو کہیں افواج پاکستان سے دشمنی کے در پہ ہیں اور دوسری طرف اسلام کی بنیادی کتابوں تک کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے جیسی حرکتیں کررہے ہیں

ننگ قوم، ننگ دین، ننگ وطن
 
میں نے تو قصور یہ کیا کہ کچھ مواد کاپی پیسٹ کیا وہ بھی خود کو ٹائپنگ کی زحمت سے بچانے کیلئے اور ٹھرا قصور وار

اور جس نے امام بخاری کی کتاب اپنی تحریفات سے بھر دیں وہ بچارہ معصوم ہے۔ واہ البانی واہ، کیا ہاتھ مارا وہ بھی امام بخاری پر۔ تیرا یہ داغ نھیں جائے گا

میں انتظامیہ کی توجہ دلانا چاہوں گی کہ ان رکن نے اپنے علمی سرقے کا خود اعتراف کر لیا ہے ۔

میں نے تو قصور یہ کیا کہ کچھ مواد کاپی پیسٹ کیا وہ بھی خود کو ٹائپنگ کی زحمت سے بچانے کیلئے اور ٹھرا قصور وار

کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا یہ بتا رہے ہیں ؟ شیخ البانی نے الادب المفرد کو اپنے نام سے تو نہیں چھپوایا ؟ آپ تو کسی کے لکھے ایک مضمون کو اپنے نام سے پوسٹ کر کے ٹھسے سے کہہ رہے ہیں کہ ہاں ٹائپنگ سے بچنے کے لیے کیا ، اپنا یہ عذر کتنا معقول لگ رہا ہے آپ کو ؟
اور شیخ البانی جنہوں نے باقاعدہ الا دب المفرد کی احادیث کی مکمل تخریج کی ، متابعات وشواھد تلاش کر کے ان میں سے صحیح احادیث اور ضعیف کا فرق بتا دیا ، پھر امام بخاری کے نام کے ساتھ ہی اپنی تحقیق سمیت اس کو پبلش کروایا ، ان کی آپ کردار کشی کیے چلے جا رہے ہیں ؟
اگر اس اعتراض کو تسلیم کر لیا جائے تو امام مزی کی کتاب تھذیب الکمال کی تھذیب کرنے پر حافظ ابن حجر العسقلانی پر بھی سنگ باری کیجیے کہ تھذیب الکمال پر ہی انہوں نے تھذیب التھذیب لکھی ۔ پھر اس پر تقریب التھذیب لکھی ۔انہوں نے یہیں پر بس نہیں کیا ، امام ذھبی کی میزان الاعتدال پر لسان المیزان لکھی ۔ بتائیے ان سے کیا سلوک فرمائیں گے آپ ؟

آپ کی ہر پوسٹ کا ہر لفظ بتا رہا ہے کہ نہ تو اصول تحقیق سے شناسائی ہے ، نہ علوم حدیث سے ، سوائے کاپی پیسٹ کے کیا کمال دکھایا آپ نے ؟ یہ آپ بحث فرما رہے ہیں یا لپا ڈگی ؟ اس پر زعم ہے علماء کی تصحیح کا ؟

ایک صحیح حدیث پیش خدمت ہے ۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔
لا تسبوا الاموات فانھم قد افضوا الی ما قدموا ۔
ترجمہ : "فوت شدہ لوگوں کو برا بھلا مت کہو ۔ انہوں نے جو عمل اگلی دنیا میں بھیجے تھے (زاد آخرت کے طور پر( وہ ان تک پہنچ چکے ۔"
صحيح البخاري: كتاب الجنائز ، باب ما ينھى من سب الاموات، حديث نمبر: 1329


اگر کوئی واقعتا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کا اتنا شوقین ہے تو اسے چاہئیے کہ ضعیف احادیث سے پہلے اس صحیح حدیث پر عمل کرے اور فوت شدہ مسلمانوں کی غلطی کا اتنا ذکر کرے جتنا ضروری ہو ۔ بلافائدہ کی بد کلامی سے کسی اور کا تو نقصان نہیں ہو گا ، اپنا نامہ اعمال ہی سیاہ ہو گا ۔
 

jaamsadams

محفلین
میں انتظامیہ کی توجہ دلانا چاہوں گی کہ ان رکن نے اپنے علمی سرقے کا خود اعتراف کر لیا ہے ۔

کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا یہ بتا رہے ہیں ؟ آپ تو کسی کے لکھے ایک مضمون کو اپنے نام سے پوسٹ کر کے ٹھسے سے کہہ رہے ہیں کہ ہاں ٹائپنگ سے بچنے کے لیے کیا

آپ سب حضرات یہ جانتے ہیں کہ یہ مضمون درحقیقت ہے ہی ڈاکٹر طاہر القادری سے متعلق، اور کیا ہی اچھا ہوا کہ میں نے انکی برات میں خود انکے اپنے ہی الفاظ پیش کئے۔ اگر میرے اپنے الفاظ ہوتے تو پھر آپ میرے ذاتی موقف ہونے کا رونا کرتیں کہ اس طرح ڈاکٹر طاہر القادری کی مراد نھیں تھی۔ اگر کوئی کسی کی تائید میں خود اسکے ہی الفاظ پیش کرے تو وہ یقینا کسی غلط نیت سے نھیں کررہا۔ اور الحمداللہ مجھے اس اقرار میں ذرا تامل نھیں کیونکہ میری نیت بالکل صاف ہے۔

آپکے علم اور تسلی کیلئے صحیح بخاری کی سب سے پہلی حدیث میں اللہ تعالی کے دانائے غیوب نبی کا قول پیش خدمت ہے
[ARABIC]إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ[/ARABIC] : یعنی اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔

(میٹر لاکے چیک کرنا پاجی، ضعیف تے نئیں)

آلحمداللہ میری نیت سب کے سامنے ہے۔ اب آپ ذرا یہ بتائیں کہ کون سی حدیث میں کاپی پیسٹ کرنا منع ہے۔ پھر میں یہ کوئی اپنے نام سے کتاب نھیں لکھ رہا۔ اور دوسرا نہ ہی میں نے اپنے نام سے یہ انداراج کیا ہے ہر کوئی واقف ہے کہ یہاں ہر بندہ و بندی فرضی نام استعمال کرتا ہے۔

کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا یہ بتا رہے ہیں ؟ شیخ البانی نے الادب المفرد کو اپنے نام سے تو نہیں چھپوایا ؟

واہ! شیخ صاحب نے جو کارنامہ کیا وہ آپ کو کوئی جرم ہی نہیں لگتا۔ مجھے اک واقعہ یاد آگیا اک دفعہ کچھ بدماشوں نے قتل کردیا، پولیس گرفتار کرنے گھر پہنچی تو بدماشوں کی اماں جان فرمانے لگیں کہ "قتل ہی تو کیا ہے کوئی جرم تھوڑا کیا ہے"، پھر ہوا یہ کہ پہلے اماں ہی کی چھترول ہوگئی پولیس کے ہاتھوں"۔

شیخ صاحب کے اس کارنامے کا شور اس وقت پوری عرب دنیا سمیت میں ہر جگہ ہے اور ہر جگہ علماءاکرام اس سانحہ پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں۔

کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا یہ بتا رہے ہیں ؟ شیخ البانی نے الادب المفرد کو اپنے نام سے تو نہیں چھپوایا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور شیخ البانی جنہوں نے باقاعدہ الا دب المفرد کی احادیث کی مکمل تخریج کی ، متابعات وشواھد تلاش کر کے ان میں سے صحیح احادیث اور ضعیف کا فرق بتا دیا ، پھر امام بخاری کے نام کے ساتھ ہی اپنی تحقیق سمیت اس کو پبلش کروایا ، ان کی آپ کردار کشی کیے چلے جا رہے ہیں ؟
اگر اس اعتراض کو تسلیم کر لیا جائے تو امام مزی کی کتاب تھذیب الکمال کی تھذیب کرنے پر حافظ ابن حجر العسقلانی پر بھی سنگ باری کیجیے کہ تھذیب الکمال پر ہی انہوں نے تھذیب التھذیب لکھی ۔ پھر اس پر تقریب التھذیب لکھی ۔انہوں نے یہیں پر بس نہیں کیا ، امام ذھبی کی میزان الاعتدال پر لسان المیزان لکھی

کاش شیخ صاحب نے تخریج ہی کی ہوتی! لیکن موصوف تخریج کی آڑ میں کیا کیا ہاتھ نہیں کرگئے
کیا یہ تخریج کہلاتی ہے کہ "الادب المفرد" سے موصوف نے کم وبیش 340 احادیث نکال باہر کیں

حافظ ابن حجر العسقلانی نے تھذیب الکمال پر تھذیب التھذیب لکھی، لیکن اپنی ہی کوئی تھذیب الکمال نھیں لکھی

البانی میاں کو اگر کتاب لکھنے کا شوق تھا تو ضرور لکھتے لیکن اپنے نام سے لکھتے تاکہ واضع ہوتا کہ یہ موصوف کی کتاب ہے۔ نہ کہ امام بخاری کا کاندھا اپنے مسلکی مقصد کیواستے استعمال کرتے

کوئی امام بخاری کی کتاب کو پبلش کرواتا ہے تو اس پر لازمی ہے کہ وہ اس میں کوئی کھانٹ چھانٹ نہ کرے۔ یہ اس اسکے ایمان کا تقاضا ہے۔
اور اگر کوئی کھانٹ چھانٹ کرنی ہے تو اسے پھر امام بخاری کے بجائے اپنے نام سے پبلش کرے۔ تاکہ قاری کو واضع ہو کہ یہ اب امام بخاری کی کتاب نھیں بلکہ البانی میان کی کتاب ہے۔ یہ ہے حق طریق۔

لیکن آج عالم اور شیخ بننے کا مقصد دینی خدمت کم اور اپنے مسلک کی ترویج رہ گیا ہے اور اس کیلئے امام بخاری تک کا لحاظ نھیں۔ اب تو جس حدیث سے مسلک پر ضرب پڑتی ہو اسے ضعیف کہکر معاذ اللہ رد۔ حتی کہ اگر بخاری و مسلم میں بھی ہو اور ضعیف کہنے کا حربہ نہ چل سکے تو خلاف قرآن کہکر رد۔ یہ آسان طریقہ ہے اپنے باطل کو چھپانے کا۔ یہی منکران حدیث کے ظہور کی علامت ہے جنکا باالاخر احادیث نبوی سے مکمل انکار ہو گا اور دلیل یہی ہوگی یعنی خلاف قرآن۔

پوری اسلامی تاریخ میں علماء و محدثین نے ضعیف احادیث کو نہ صرف فضائل اعمال کے باب میں قبول کیا بلکہ کئی جگہ تو کئی حضرات نے ان سے استدلال کرتے ہوئے احکامات بھی جاری کئے۔ گزشتہ پوسٹ میں تمام جمیع محدثین کے اقوال کا جواب کس کو دینے کی ہمت نہ ہوئی تو ادھر ادھر کی ہانکنے پر توقف کیا۔

کوئی البانی صاحب کے پیرو کار بتائیں گے کہ موضوع یا مردود کیا ہوتی ہے؟ یہ وہ حقیقت ہے جس سے یہ طبقہ فرار ہوتا ہے

کتنا ظلم ہے کہ گھڑی ہوئی روایات کیلئے موضوع یا مردود کی اصطلاح ہمیشہ تمام محدثین میں مروج رہی، اور محدثین کی اکثریت ان کے ساتھ حدیث لکھنے کی روا بھی نھیں کیونکہ وہ ثبوت کیساتھ اس یقین کو پہنچیں کہ انکو گھڑھا گیا۔

لیکن آج چودہ سو سال بعد ایک طبقہ جو کہ اس کی آڑ میں ضعیف احادیث رد کرنے کے چکر میں ہے۔

اور پھر اگلے فیز میں خلاف قرآن کی آڑ میں حسن و صحیح احادیث کا رد کرنے کے چکر میں ہے

آج بھی ان حضرات کو اگر بخاری و مسلم سے کوئی حدیث نبوی دکھائی جائے جس سے ان کے من گھڑت عقائد پر ضرب لگے تو یہ اسکو لمحہ بھر میں خلاف قرآن کہکر رد کردیتے ہیں۔ کیا یہی ہیں منکران حدیث جنکی بابت دانائے غیوب پیمبر نے چودہ سو سال قبل خبردار کیا؟؟

کیا اھلحدیث کا لبادہ اوڑ لینے کا مقصد یہی ہے جو مطلب کی حدیث ہو قبول کرلیں اور جس پر چاہیں خط تنسیخ پھیر دیں

یعنی اوپر اوپر حدیث حدیث کا شور بپا کیا جائے اور پیچھے پیچھے امام بخاری تک کو رد کرنے کا دھندا جاری رہے۔ اور ٹیگ لگایا اہلحدیث کا

اگر ضعیف احادیث صرف رد تھیں تو امام بخاری خود اپنی کتب میں اس کا اندراج فالتو میں کرتے ہے؟؟؟۔ اور اگر امام بخاری نے انداراج کیا تو البانی کو انھیں نکالنے اور رد تک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تمام مسلمان اسپر غور کریں

یعنی یہ ٹولہ اب امام بخاری کی کتب کو بھی پاک کرنے کا کارنامہ انجام دے رہا ہے
:rollingonthefloor:

کیا اپنے عقیدے کو ثابت کرنے کا طریقہ یہی رہ گیا ہے کہ امام بخاری کی کتب تک کی کھانٹ چھانٹ کردو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عقیدے میں ضرور بہ ضرور کوئی جھول ہے جسکو چپھانے کیلئے اتنے پاپڑ پیلے جارہے ہیں

امام بخاری تو ضعیف احادیث کو اپنی کتب میں درج کریں اور البانی اینڈ کمپنی ان کو سننے تک کی بھی روا نھیں
:drooling:

یہ تو خوئی، امام بخاری سے بھی بڑی چیز ہے
:rollingonthefloor:

اگر کوئی واقعتا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کا اتنا شوقین ہے تو اسے چاہئیے کہ ضعیف احادیث سے پہلے اس صحیح حدیث پر عمل کرے اور فوت شدہ مسلمانوں کی غلطی کا اتنا ذکر کرے جتنا ضروری ہو ۔ بلافائدہ کی بد کلامی سے کسی اور کا تو نقصان نہیں ہو گا ، اپنا نامہ اعمال ہی سیاہ ہو گا ۔

کیا البانی صاحب کے اس کارنامے کا ذکر ضروری نھیں؟؟:noxxx:
کیا مسلمانوں کو اس سے مطلع کرنا ضروری نھیں تاکہ وہ اس فتنے سے خود کو بچائیں؟؟:noxxx:

اچھا تو اسکو چھپانا چاہیے تاکہ ۱۰۰-۵۰ سال بعد آنے والے اس سے بے خبر رہیں اور انھیں یہ بتایا جائے کہ امام بخاری نے اپنی کتب میں ضعیف احادیث کو درج کرنے کے روا تک نہ تھے اور بے چاروں کو پتا نہ چلے کہ یہ تو کوئی ۱۰۰- ۵۰ سال پہلے ہاتھ دکھا گیا ہے امام بخاری کیساتھ
:noxxx:

آخر میں ایک حدیث شریف تمام حضرات کی خدمت میں

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہما روایت ہے كہ: ايك جنازہ كے پاس سے گزرے تو اس كى اچھائى بيان كى گئى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " واجب ہو گئى"
پھر ايك اورجنازہ كے پاس سے گزرے تو لوگوں نے اس كے بارہ باتيں اچھيں نہ كيں بلكہ برى كيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" واجب ہو گئى"

تو عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ نے عرض كيا:یارسول اللہ، كيا چيز واجب ہو گئى ؟

تو دانائے غیوب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: "تم لوگوں نے اس كى اچھائى بيان كى اورتعريف كى تو اس كے ليے جنت واجب ہو گئى، اور اس كے بارہ تم لوگوں نے برائى بيان كى تواس كے ليے آگ واجب ہو گئى، تم زمين ميں اللہ تعالى كے گواہ ہو" - بخارى و مسلم

(پائی جان، میٹر تے لے کے آو​
)
 

باذوق

محفلین
اوہ خدا کے بندے آپ کے مراسلہ نمبر 18 پر ہی تو میں اعتراض کیا ہے اور آپ اسی کو بطور جواب مجھ پر پیش فرمارہے ہیں ایں چہ بوالعجبی است؟؟؟

بھائی میرا اعتراض ہی آپکے اس مراسلہ پر یہ تھا کہ ایک طرف تو آپ فرماتے ہیں کہ ۔۔ ۔

ہر روایت سے مسئلہ اخذ کیا جا سکتا ہے چاہے روایت صحیح ہو کہ ضعیف۔

اور دوسری طرف آپ فضائل اعمال کے باب میں ضعیف حدیث کو بھی حجت نہیں مانتے ؟؟؟

آپ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ہر دینی اور شرعی معاملہ ، چاہے وہ فرض ہو یا سنت یا مستحب یا حرام ہو یا مکروہ ۔۔۔ اپنے ثبوت کے لیے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صریح بیان اور ارشاد کا محتاج ہے ۔
جبکہ ضعیف حدیث کی نسبت رسول اللہ (ص) سے یا تو صحیح نہیں ہے یا مشکوک ہے یا پھر محض ظن و گمان ۔۔۔ اس لیے کہ ضعیف ایک مبہم لفظ ہے ۔ اس کی متعدد قسمیں ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔




آپکو بچوں کی طرح سمجھانا پڑتا ہے میرے بھائی آپکی یہ درج بالا عبارت اتنی خطرناک ہے کہ اس کی براہ راست چوٹ محدثین پر پڑ رہی ہے ۔ ۔ ۔
یعنی ایک طرف آپ ہیں کہ آپ کو فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب کے معاملہ میں بھی ضعیف حدیث قابل قبول نہیں اور دوسری طرف امام ابو داؤد اور امام ترمذی ہیں جو کہ بقول آپکے ایک ضعیف حدیث کو پہلے نقل کرتے ہیں اور پھر اس کا ضعف بھی بتلاتے ہیں اور پھر اس پر طرفہ یہ کے اس کو ضعیف جانتے ہوئے اس سے اخذ مسئلہ بھی فرماتے ہیں ۔ ۔ جس پر آپ فرماتے ہیں کہ قاری کو چاہیے کہ وہ دیکھ لے کہ اگر کسی امام نے ضعیف حدیث سے مسئلہ اخذ کیا ہے تو مسئلہ یقینا غلط ہوگا ۔ لاحول ولا قوۃ
یعنی‌ آپ تو اتنی احتیاط فرمائیں کہ فضائل اعمال میں ضعیف روایات کو حجت نہ سمجھیں اور دوسری طرف امام ابو داؤد اور امام ترمذی کے بارے میں آپ مطلقا یہ فرمائیں کہ وہ اپنی کتابوں میں ضعیف احادیث بھی لائیں اور پھر مطلقا بغیر تفریق احکام و فضائل ان سے احتجاج بھی فرمائیں اور انکا ایسا کرنا غلط بھی ہے ہو ۔ ۔ ۔ یعنی لاحول ولا قوۃ ۔ ۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔

یعنی یہ عجب مضحکہ خیز بیان ہے کہ کسی روایت کو حجت سمجھنا اور بات ہے اور اس روایت سے اخذ ہونے والے مسائل کی طرف اشارہ کرنا الگ بات ہے ؟؟؟؟؟؟؟'

اوہ میرے بھائی روایت کا حجت ہونا آخر ہوتا کس باب میں ہے ؟؟؟؟؟ بھئی ظاہر ہے استنباط مسائل کے باب میں ہی روایات کا حجت ہونا بیان کیا جاتا ہے جب کوئی روایت کسی محدث کے نزدیک سند اور متن کے اعتبار سے ان تمام شرائط پر پورا اترتی ہو جو کہ حدیث صحیح کی شرائط ہیں تو وہ محدث اس روایت سے احکام اور اعتقادی مسائل کو اخذ کرتا ہے اور اس روایت کو اس (اعتقادی و احکامی مسائل کے استنباط کے باب ) میں حجت سمجھتا ہے اور جب کوئی روایت کسی محدث کے نزدیک وہ تمام شرائط یا ان میں سے کوئی ایک یا چند شرائط پورا نہیں کرتی جو کہ ایک صحیح حدیث کے لیے ضروری ہوتی ہیں تو وہ (محدث) اس روایت کو احکام کے باب میں تو حجت نہیں مانتا مگر ایسے تمام معاملات کے جنکا تعلق فضائل یا ترغیب و ترھیب سے ہو ان میں اس روایت کو حجت ہی سمجھتے ہوئے نقل کرتا ہے لہذا اس باب میں اس محدث کی نقل کی ہوئی اس روایت کو صحیح (بطور اس خاص مسئلہ کے استنباط میں ) ہی سمجھا جائے گا جیسا کہ صحاح ستہ کی دیگر کتب کے ساتھ صحیح بخاری و مسلم میں جو چند ایک کم حییثت کی روایات در آئی ہیں انکا تعلق اسی باب سے ہے اور اسی طرح امام بخاری کا الادب المفرد میں ضعیف روایات کو نقل کرکے مسائل کو اخذ کرنا اسی بات کی نشاندہی ہے کہ امام بخاری کا بھی یہی مسلک تھا کہ وہ فضائل اعمال کے باب میں ضعیف روایات کو شجر ممنوعہ نہیں جانتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات ۔ ۔ ۔والسلام
آبی ٹوکول بھائی ! کئی اہم باتیں آپ کے اس مراسلے میں ایسی موجود ہیں جن کا جواب تفصیل کا متقاضی ہے۔ لیکن چونکہ اس تھریڈ کا اصل موضوع اسلام میں قدم بوسی کی روایات کا جائزہ ہے لہذا میں آپ کے اس مراسلے کی بنیاد پر ایک نیا تھریڈ کھول رہا ہوں تاکہ ضعیف روایات کے موضوع پر بحث ہم بسہولت اسی موضوع پر رہتے ہوئے کر سکیں۔
امید ہے کہ آپ بھی میری گذارش سے اتفاق کریں گے کہ ضعیف روایات کے موضوع پر ہمیں کسی الگ تھریڈ میں گفتگو جاری رکھنا چاہئے کیونکہ بات سے بات نکلے گی اور ممکن ہے سلسلہ طویل جا نکلے۔

jaamsadams بھائی ! آپ سے بھی ادباَ ایک گذارش ہے کہ علامہ البانی (علیہ الرحمة) کے متعلق جتنے بھی تحفظات آپ کو لاحق ہیں انہیں ایک الگ تھریڈ میں زیر بحث لائیں تو جواب دینے میں آسانی رہے گی اور علامہ البانی سے متعلق آپ کے افکار کسی ایک تھریڈ میں محفوظ بھی رہیں گے۔ ورنہ تو آپ کا اس طرح کا انکل والا احتجاج یہاں لایعنی اور غیرمتعلق ہی کہلائے گا اور تھریڈ کے اصل موضوع سے راہِ فرار حاصل کرنے کا بہانہ سمجھا جائے گا۔
 

شمشاد

لائبریرین
آپ سب حضرات یہ جانتے ہیں کہ یہ مضمون درحقیقت ہے ہی ڈاکٹر طاہر القادری سے متعلق، اور کیا ہی اچھا ہوا کہ میں نے انکی برات میں خود انکے اپنے ہی الفاظ پیش کئے۔ اگر میرے اپنے الفاظ ہوتے تو پھر آپ میرے ذاتی موقف ہونے کا رونا کرتیں کہ اس طرح ڈاکٹر طاہر القادری کی مراد نھیں تھی۔ اگر کوئی کسی کی تائید میں خود اسکے ہی الفاظ پیش کرے تو وہ یقینا کسی غلط نیت سے نھیں کررہا۔ اور الحمداللہ مجھے اس اقرار میں ذرا تامل نھیں کیونکہ میری نیت بالکل صاف ہے۔

آپکے علم اور تسلی کیلئے صحیح بخاری کی سب سے پہلی حدیث میں اللہ تعالی کے دانائے غیوب نبی کا قول پیش خدمت ہے
[arabic]إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ[/arabic] : یعنی اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔

(میٹر لاکے چیک کرنا پاجی، ضعیف تے نئیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [/center])

علماء کے خلاف نظریاتی اختلاف تہذیب کے دائرے میں رہ کر بھی آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ الفاظ کا چناؤ شخصیت کا آئینہ بھی ہو سکتا ہے۔
 
السلام علیکم،

میں بہت صبر سے اس دھاگہ کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ نہات ہی اچھے دلائیل اور معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ بھائی باذوق اور بہن مہوش علی دونوں منکر الحدیث نہیں ہیں۔ یہ ایک معلوماتی اور قابل احترام بحث ہے۔ سجدہء تعظیمی ، قدم بوسی اور اسلام کی روایات کے بارے میں۔ اس موضوع پر پچھلے ہزار سال سے بحث ہورہی ہے۔ اور نکات پیش کئے جاتے رہے ہیں۔ لہذا یہ لازمی ہے کہ اس معاملے پر ہر دو قسم کے نکات ہوں۔ ایسی صحت مندانہ بحث سے ہی صحت مندانہ نتائج سامنے آتے ہیں۔

محترم بھائی جیمز آدم سے عرض ہے کہ باہمی احترام ملحوظ خاطر رکھئے۔ جہاں یہ اخلاقی عمل ہے ، وہاں اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ باہمی احترام کے بغیر باہمی مشورہ نا ممکن ہے۔ اور باہمی مشورہ کے بغیر باہمی اتحاد ناممکن ہے۔ لہذا اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھامنے کے لئے باہمی مشورہ اور باہمی مشورہ کے لئے باہمی احترام لازمی ہے۔

آپ نے اپنے انداز سے باذوق پر جو نکتہ چینی کی اس سے صرف اور صرف انٹشار پیدا ہوا ہے۔ برادرانہ استدعا ہے کہ احسن طریقہ سے بحث میں حصہ لیجئے۔ نکتہ بہ نکتہ۔

بہن مہوش علی نے ایک روایت پیش کی ، جس میں بتایا گیا کہ ایک غیر مسلم کو چرند پرند رسول اکرم کو سجدہ کرتے نظر آئے تھے۔ ایسا کسی غیر مسلم کی زبان سے تو ممکن ہے لیکن ایک مسلمان کو درج ذیل آیت مزید سوچ فراہم کرتی ہے۔

13:15 وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
شبیر احمد: اور اللہ ہی کے آگے سجدہ کر رہے ہیں سب جو ہیں آسمانوں میں اور زمین میں خوشی سے یا زبردستی اور ان کے سایے بھی (سجدہ کرتے) ہیں صبح و شام۔
محمود الحسن: اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں خوشی سے اور زور سے اور انکی پرچھائیاں صبح اور شام
جناب طاہر القادری نے اس آیت کا ترجمہ غیر مناسب کیا ہے ، جس سے ان کے عقائید کا اظہار ہوتا ہے۔ لہذا شامل نہیں‌کررہا۔


لہذا یہ غیر مسلم کچھ نہیں دیکھ رہا تھا ، بس اپنے "نمبر بنا رہا " تھا :)

رسول اللہ کے رفقاء و صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) سے اللہ تعالی بلا وجہ راضی نہیں ہوا تھا، وہ (اللہ تعالی) دلوں کے حال جانتا ہے۔ یہ ان کی عمل و سوچ دونوں کی طہارت و پاکیزگی و یکسانیت تھی کہ اللہ تعالی نے ایسی رضامندی کا واضح اظہار کیا۔ اس رضامندی میں یہ شرط بھی موجود تھی۔

41:37 وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کو پیدا فرمایا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو

اگر اصحابہ کرم (ر) کے دل میں ایسی خواہش ہوتی جو ان کے اعمال کے مخالف تھی تو یہ منافقین کے زمرہ میں‌شمار ہوتے۔ کہ دل میں‌کچھ اور زبان پر کچھ۔ تو ایسا الزام دینے والی روایت کس حد تک درست ہے یہ سوچنے کا مقام ہے۔

4:63 أُولَ۔ئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِي أَنفُسِهِمْ قَوْلاً بَلِيغًا
طاہر القادری: یہ وہ (منافق اور مُفسِد) لوگ ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کی ہر بات کو خوب جانتا ہے، پس آپ ان سے اِعراض برتیں اور انہیں نصیحت کرتے رہیں اور ان سے ان کے بارے میں مؤثر گفتگو فرماتے رہیں

خطرناک حد تک سجدہ سے مشابہت رکھنے والی قدم بوسی پر نکات جاری رکھئے۔ موضوع اور معاملہ پر نظر رکھئے کہ یہی اہمیت رکھتے ہیں، موضوع کی تائید یا اس پر تنقید کیجئے۔ جس شخص نے اس معاملہ پر توجہ دلائی اس پر تنقید، ذاتی حملہ بن جاتی ہے۔

یقین کیجئے جو لوگ یہاں اپنا وقت نکال کر اپنی معلومات سے سب کو بہرہ ور کررہے ہیں وہ لائق صد تحسین ہیں نہ کہ تنقید کے مستحق۔

اگر کوئی اصحاب و احباب ، یہ ویڈیو دیکھنا چاہیں تو لنک فراہم کرسکتا ہوں اور اگر لنک یہاں میری نظر سے نہیں گذرا اور پہلے ہی موجود ہے تو پھر یہ سطر نظر انداز کردیجئے۔

والسلام
 
محترم بھائی جیمز آدم سلام،

سب سے پہلے تو میں بہت معذرت چاہتا ہوں‌کہ یہ اس دھاگہ کا موضوع نہیں۔

بنیادی طور پر چھ سنیوں کی اور تین شیعہ حضرات کی روایات کی کتابیں ، مختلف قسم کی روایات کا مجموعہ ہیں۔ ان روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال کے علاوہ دیگر خلفاء و صحابہ کے اقوال و اعمال بھی شامل ہیں۔ حدیث نبوی، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ان روایات سے علم حدیث کے مسلمہ اصولوں کی مدد سے اخذ کی جاتی ہے۔ ان صولوں پر علماء کے اختلافات ضرور ہیں لیکن بہت تھوڑے۔ ان اصولوں میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ کوئی روایت اگر خلاف قرآن ہے تو وہ درست ہی نہیں۔ اس موضوع پر بھی بہت سی روایات (احادیث نبوی نہیں‌کہا) موجود ہیں۔ جب اس ٹیسٹ سے ایک روایت گذر کر پاس ہوجاتی ہے تو پھر علم حدیث کے دیگر اصول کی مدد سے اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ آپ ان اصولوں سے واقف دکھائی دیتے ہیں۔

جناب البانی (‌انکل البانی)‌ نے ان مسلمہ اصولوں کی مدد سے احادیث کو روایات سے الگ کیا۔ آپ چاہیں‌تو ایسا نہ کیجئے، لیکن اس کے پیچھے کوئی مقصد ہونا چاہئیے۔ جب حدیث یا سنت کو پبلک پالیسی یا تعزیراتی قانون یا پھر اخلاقی قیود کے لئے استعمال کیا جائے تو ایک چوائس تو آپ کے پاس جناب البانی کا طریقہ ہے اور دوسرا یہ کہ آپ مکمل کتاب کو من و عن ---- تسلیم لیجئے یا مان لیجئے ، دل سے ----- کہ چونکہ ایک کتاب میں درج ہے تو صرف اس کتاب میں پایا جانا ہی سند ہے۔ غور سے دیکھئے کہ ایسا کرنا کس قدر خطرناک ہے کہ ایک روایت بس ایک کتاب میں پائی جاتی ہے لہذا اس کو مانئیے ہی مانئیے۔ یہ تو اس کتاب پر ایمان ہوگیا۔ اور وہ کتاب ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ
کے زمرہ میں آگئی۔ اگر آپ کی یہ چوائس ہے تو یہ آپ کی چوائس ہے ۔

دیگر برادران و خواہران، روایات کو چھانتے پھٹکتے رہتے ہیں کہ ان کی درستگی کا احاطہ کیا جاسکتے۔ ایسی چھان پھٹک میں اختلافات لازمی ہیں، ان روایات کو فرض کا درجہ دینا ایک درست طرز عمل نہیں ۔ اس لئے ایسی چھان پھٹک کرنے والوں کو منکر الحدیث کے طعنے دینا، ان کتب پر ایمان رکھنے کے مساوی ہے۔

میرے ان نکات سے بھی بہت سے دوست متفق نہیں۔ کیا ایسے میں ہم اپنا باہمی احترام کھودیں؟

اس دھاگہ کے موضوع و معاملہ پر نظر رکھئے۔ طاہر القادری قابل احترام ہیں ۔ سجدہ انہوں نے نہیں کئے۔ لیکن ہم کو بھی شخصیت پرست نہیں بننا چاہئیے بلکہ انہی محترم استاتذان کرام کی ہدایت کے مطابق اور سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلعم کی ہدایت کے مطابق، اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم سے مدد حاصل کرنی چاہئیے کہ یہ سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے والی بہترین کتاب ہے۔

والسلام
 

مہوش علی

لائبریرین
السلام علیکم
مختلف لوگ قرآن کو پڑھ کر مختلف نتائج پر پہنچتے ہیں۔ میں اپنے اللہ کے علاوہ کسی اور کے آگے جوابدہ نہیں، اور غور و فکر کرنے کے بعد میرا جو ایمان ہے، وہ مختصر الفاظ میں میں یہاں درج کر رہی ہوں۔

1۔ کیا قرآنی آیات میں (معاذ اللہ) تضاد ہے اور وہ ایک دوسرے کو جھٹلا رہی ہیں؟
اوپر قرآنی آیت پیش کی گئی:
13:15 وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
شبیر احمد: اور اللہ ہی کے آگے سجدہ کر رہے ہیں سب جو ہیں آسمانوں میں اور زمین میں خوشی سے یا زبردستی اور ان کے سایے بھی (سجدہ کرتے) ہیں صبح و شام۔
محمود الحسن: اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں خوشی سے اور زور سے اور انکی پرچھائیاں صبح اور شام

سوال: کیا اس قرآنی آیت کا ذیل کی قرآنی آیات سے ٹکراؤ ہے؟

[القرآن 12:4]
(وہ قصّہ یوں ہے) جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا: اے میرے والد گرامی! میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے، میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے
عربی متن(إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ)

اور پھر قرآن کی گواہی کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اور انکے بیٹوں نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ و السلام کو سجدہ تعظیمی کیا۔
[القرآن 12:100]
اور احترام سے بٹھایا اپنے والدین کو تخت پر اور گر پڑے سب یُوسف کے آگے سجدے میں۔ (اس وقت) یُوسف نے کہا: ابّا جان! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی (جو میں نے دیکھا تھا) پہلے۔ کر دکھایا ہے اسے میرے رب نے سچّا

اور پھر قرآن کی گواہی کی فرشتوں نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ و السلام کو اللہ کے حکم سے سجدہ کیا (سوائے لعین ابلیس کے)
[القرآن 2:34] اور (وہ وقت بھی یاد کریں) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار اور تکبر کیا اور (نتیجۃً) کافروں میں سے ہو گیا

تو یہ ممکن نہیں ایک قرآنی آیت کو استعمال کرتے ہوئے دیگر قرآنی آیات کو جھٹلا دیا جائے۔ بلکہ یہ ہماری محدود عقلوں کا قصور ہے۔ اور یہ حدیث ہے جو ان قرآنی آیات میں سے یہ ٹکراؤ، ی تضاد دور کر رہی ہے اور ہم پر واضح کر رہی ہے کہ:

1۔ اللہ نے اپنے لیے جس سجدے کا ذکر کیا ہے، وہ "عبادت کا سجدہ" ہے، اور اس لیے انسانوں کو منع کیا جا رہا ہے کو وہ چاند و سورج کو خدا مانتے ہوئے انہیں یہ عبادت کا سجدہ نہ کریں۔

2۔ مگر دوسری تمام جگہ جہاں اولیاء اللہ کو بذات خود اللہ کی ذات حکم دے کر سجدہ کروا رہی ہے، تو وہاں پر فقط "تعظیمی سجدہ" مراد تھا۔ اور یہی حدیث رسول مزید آگے بڑھ کر واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ یہ سجدہ تعظیمی بھی آج شریعت محمدیہ میں منع کیا جا چکا ہے۔
 
Top