اسلام میں قدم بوسی کی روایات کا جائزہ

باذوق

محفلین
سوال: امام مسلم کی اس روایت کے متعلق آپکا کیا رائے ہے:
امام مسلم اپنی "صحیح" میں کتاب البیوع میں حدیث نقل کرتے ہیں، "محمد بن رافع، حجین سے، وہ لیث سے، وہ عقیل سے، وہ ابن شھاب سے، وہ سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مزابنہ (یعنی تازہ کھجوروں کو چھوہاروں کے بدلے بیچنے) سے منع فرمایا۔"
یہ مرسل روایت تابعی سعید بن مسیب پر اختتام پذیر ہو رہی ہے۔
حدیث کا عربی متن یہ ہے :
[ARABIC]وحدثني محمد بن رافع، حدثنا حجين بن المثنى، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع المزابنة .....[/ARABIC]
صحيح مسلم , كتاب البيوع , باب تحريم بيع الرطب بالتمر إلا في العرايا

اور یہی امام مسلم (علیہ الرحمۃ) ، صحیح مسلم کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
[ARABIC]والمرسل من الروايات في اصل قولنا وقول اهل العلم بالاخبار ليس بحجة[/ARABIC]
ہمارے (محدثین) کے اصل قول اور (دوسرے) علما کے نزدیک مرسل روایت حجت نہیں ہے۔
صحیح مسلم ، کتاب المقدمہ ، باب صحة الاحتجاج بالحديث المعنعن

لیکن کیا معلق روایت/روایات سے امام مسلم نے حجت پکڑی ہے؟
ہرگز نہیں !!
بلکہ اگر کوئی تھوڑی سی تحقیق کر لے تو علم ہو جائے گا کہ احادیث کی صحت کی شرائط میں "اتصال سند" اہم شرط ہے۔ اور تابعی کی مرسل روایت میں چونکہ سند متصل نہیں ہوتی (صحابی کا عدم ذکر) لہذا یہ "صحیح حدیث" کی شرط میں شامل نہیں۔
مزید وضاحت کے لیے امام مسلم کی شرائط یہاں دیکھ لیں۔

ان شرائط کو ذہن میں بٹھا لیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر امام مسلم نے کسی تابعی کی "مرسل روایت" پیش کی ہے تو اس کی تقویت کے لیے یقیناً متصل سند والی صحیح روایت موجود ہے ، یا کوئی اور روایت بالمعنی ہے ، یا متابع یا شاہد روایت ضرور موجود ہے۔
جیسا کہ زیر بحث روایت میں اتصال سند والی روایت ، اسی حدیث سے پہلے یوں موجود ہے :
[ARABIC]عن ابن شهاب، حدثني سعيد بن المسيب، وأبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا تبتاعوا الثمر حتى يبدو صلاحه ولا تبتاعوا الثمر بالتمر ‏"‏ ‏.‏[/ARABIC]
اور اس مرسل روایت کے شواہد کوئی دس بیس نہیں بلکہ 800 سے اوپر شاہد احادیث ہیں۔ تفصیل کے لیے اس لنک پر جائیں اور "شواھد" کو کلک کر کے ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
جتنے بھی فرقے ہیں وہ اپنے موقف کی حمایت میں آیاتِ قرآن اور احادیثِ نبوی پیش کرتے ہیں۔ اور دوسرے کی پیش کی ہوئی احادیث کو ضعیف و موضوع اور نجانے کیا کیا کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ آپ نے بھی باذوق صاحب کی اس پوسٹ کو تو شامل کرلیا اس دھاگے میں جس میں انہوں نے کچھ احادیژ کو بقولِ البانی ضعیف کہہ کر اپنے تئیں بات ہی ختم کردی۔ لیکن میری جس پوسٹ میں اسی البانی کا ذکر تھا اسے آپ نے شامل نہیں کیا۔ ۔ ۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح آپ نے کسی بھی تعمیری بحث کے امکان کو خود ہی ختم کردیا ہے جانبداری کا مظاھرہ کر کے۔:)

محمود بھائی یہ کوئی بڑی بات نہ تھی کہ آپ اپنا وہ مراسلہ وہاں سے نقل کر کے یہاں چسپاں کر دیتے یا مجھے کہہ دیتے کہ فلاں مراسلہ بھی یہاں چسپاں کر دیں۔ آپ شوق سے بحث جاری رکھیں۔

اطلاعاً عرض ہے کہ اردو محفل کی انتظامیہ بالکل غیر جانبدار ہے۔
 
ہر روایت سے مسئلہ اخذ کیا جا سکتا ہے چاہے روایت صحیح ہو کہ ضعیف۔
یقین نہ آئے ڈاکٹر طاہر القادری کی مرتب کردہ "منہاج السوی" دیکھ لی جائے جس میں ڈاکٹر صاحب نے ضعیف روایات سے بھی مسائل اخذ کئے ہیں ( یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ضعیف روایات کو صحیح روایات کے بطور پیش کرنے کی ناکام کوششیں بھی فرمائی ہیں)۔

میں نے جو ابوداؤد اور ترمذی کی روایات بطور مثال پیش کی تھیں ، کیا وہ روایات پیش کرتے ہوئے امام ابوداؤد یا امام ترمذی نے صرف "ضعیف روایت" کہہ کر بات ختم کر دی تھی ؟؟
ہرگز نہیں !
بلکہ دونوں ائمہ نے ان ضعیف روایات سے بھی مسئلہ اخذ کیا اور اسی اخذ شدہ مسئلہ کو باب کا عنوان دیا۔

مقامِ شکر ہے کہ آپ نے یہ تسلیم کیا کہ ضعیف روایت سے بھی مسئلہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔

اب یہ تو قاری پر منحصر کرتا ہے کہ وہ دیکھے کہ جو مسئلہ ہم کو محدثین بتا رہے ہیں اس کی دلیل کیا ہے؟؟ دلیل اگر ضعیف روایت ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ مسئلہ بھی یقیناً غلط ہے !!
لیکن یہ کیا اوپر تو آپ تسلیم کررہے تھے کہ ائمہ نے بھی ضعیف روایت سے مسئلہ اخذ کیا اور اسی اخذ شدہ مسئلے باب کا عنوان دیا لیکن اب آپ نے یہ منطق پیش کر دی ہے کہ "دلیل اگر ضعیف روایت ہے تو اسکا صاف مطلب ہے کہ مسئلہ بھی یقیناّ غلط ہے"۔ ۔ :noxxx::notlistening: یہ کہاں کی منطق ہے بھئی؟ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دلیل اگر ضعیف روایت سے لی گئی تو مسئلہ کے ثابت ہونے میں ضعف آگیا یا مسئلہ یقین کے درجے تک نہ پہنچا لیکن یہ دنیا کی کونسی منطق سے ژابت ہوتا ہے کہ مسئلہ غلط ثابت ہوگیا:shameonyou:
ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ آپکا موقف ہے کیا۔
سیدھی سی بات ہے کہ کئی احادیث میں قدم بوسی کا ذکر آیا ہے اور ان میں صحیح احادیث بھی شامل ہیں۔ کئی محقق علماء نے قدم بوسی کے جواز پر فتوی بھی دیا ہے۔ اور کچھ نے منع بھی کیا ہے۔ اب پرابلم کیا ہے؟ ہر معاملے میں بلیک اینڈ وائٹ تھنکنگ علمی رویّہ نہیں ہے۔ نہ ہی یہ اسلام اور کفر کا معاملہ ہے۔ آپ شوق سے قدم بوسی کو خلافِ اولی سمجھتے رہیں کوئی آپکو ایسا کرنے پر اہلِ زیغ و ضلال میں شامل نہیں کرتا لیکن جو لوگ علمی بنیاد پر ہی اسے جائز سمجھتے ہیں وہ بھی مسلمان اور پکّے سچّے مسلمان ہی ہیں۔:)




ٰٰ
 

مہوش علی

لائبریرین
سب سے پہلے تو داد دینی پڑتی ہے کہ جس طرح کی عذر نکال کر چیزوں کا انکار کیا جاتا ہے، یہ ایک زبردست آرٹ ہے۔
بہت سے باتیں درمیان میں جمع ہو گئی ہیں۔ کوشش کرتی ہوں کہ بات کو آسان بناتے ہوئے مختصر الفاظ میں چیزوں کو واضح کیا جائے۔

ابن حجر العسقلانی کا مؤقف
ابن حجر العسقلانی نے اپنی کتاب فتح الباری میں جگہ جگہ "تقبیل رجل" کی روایات کو بغیر مردود یا ضعیف ٹہرائے نقل کیا ہے، اور ان سے نتائج کو اخذ کیا ہے۔ یہاں بات یہ نہیں ہو رہی کہ البانی صاحب انکی بات کو مانتے ہیں یا نہیں، بلکہ بات ابن حجر العسقلانی کی مؤقف کی ہو رہی تھی۔ بہرحال، آگے بڑھتے ہیں:
اقتباس:
اصل پيغام ارسال کردہ از: مہوش علی
ابن حجر العسقلانی سے شیخ ھشام نے ایک روایت اور بھی نقل کی تھی، جس کو میں نے خاص طور پر اپنی پہلی پوسٹ میں ذکر بھی کیا تھا۔ افسوس کہ اپنا مؤقف ثابت کرنے کے چکر میں باذوق صاحب اس روایت کو گول کر گئے۔ آپ اس روایت کو دوبارہ پڑھئیے اور آپ کو مزید اندازہ ہو گا کہ ابن حجر العسقلانی نے اپنا یہ مؤقف کیوں نقل کیا ہے۔
محترمہ ، آپ سے گذارش ہے کہ ذرا اصل عربی متن تو پیش فرمائیں۔
پھر ہم سب دیکھیں گے کہ حافظ عسقلانی علیہ الرحمة کا "حسن" والا موقف ابو بكر المقرى کے حوالے سے صرف "تقبیل ید" کے موضوع پر ہے یا "تقبیل ید ورجل" کے موضوع پر ؟؟
علامہ البانی رحمة اللہ نے بھی ابوداؤد کی اس روایت کو "حسن" قرار دیا ہے مگر ۔۔۔۔۔۔
مگر "حسن" کے ساتھ کہا ہے : دون ذِكر الرِّجْلين
امید ہے کہ بات سمجھ میں آ گئی ہوگی کہ جو فقرہ ثابت ہی نہیں ، اس روایت کو دلیل بنانا عبث تھا !!

ایک تو بعض اوقات چیزوں کو آپ ایسے نامکمل اور سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ہر طرف شکوک و شبہات نظر آنے لگتے ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ چیزوں کو سادہ زبان میں آسانی کے ساتھ پیش کیا کریں۔ اگر یہ عربی عبارت آپ کے علم میں تھی تو آپ نے یہ عبارت پیش کیوں نہیں کر دی؟ اور البانی صاحب کا ادھر ذکر کہاں سے آ گیا جبکہ ہم ابن حجر العسقلانی کے مؤقف کی بات کر رہے ہیں۔ اور اگر آیا بھی تو پھر البانی صاحب کی مکمل عبارت کا ذکر تو کر دیتے۔ ادھر کم از کم مجھے آپکی بات کی کوئی سمجھ نہیں لگ سکی ہے۔

بہرحال، العسقلانی صاحب کی اصل عربی عبارت کو دیکھتے ہیں جو آپ کے دعوے کے بالکل برخلاف "تقبیل رجل" کی بات کر رہی ہے۔

پہلی روایت: الزارع العبدی کی "جید" روایت جو کہ "تقبیل رجل" کی بات کر رہی ہے

الزارع العبدی کی اس روایت کو میں پہلے مکمل ریفرنسز کےساتھ پیش کر چکی ہوں۔ اس روایت کو امام مقریزی، امام ابو داؤد اور دیگر کئی ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے۔ ابن حجر العسقلانی اس "الزارع العبدی" کی روایت کو "جید" بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب فتح الباری میں لکھتے ہیں:
لنک
[FONT=times new roman(arabic)]وقد جمع الحافظ أبو بكر بن المقري جزءا في تقبيل اليد سمعناه، أورد فيه أحاديث كثيرة وآثارا، فمن جيدها حديث الزارع العبدي وكان في وقد عبد القيس قال ‏"‏ فجعلنا نتبادر من رواحلنا فنقبل يد النبي صلى الله عليه وسلم ورجله ‏"‏ أخرجه أبو داود، ومن حديث مزيدة العصري مثله، ومن حديث أسامة بن شريك قال ‏"‏ قمنا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقبلنا يده ‏"‏ وسنده قوي ومن حديث جابر ‏"‏ أن عمر قام إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقبل يده ‏"‏ ومن حديث بريدة في قصة الأعرابي والشجرة فقال ‏"‏ يا رسول الله ائذن لي أن أقبل رأسك ورجليك فأذن له ‏"‏ وأخرج البخاري في ‏"‏ الأدب المفرد ‏"‏ من رواية عبد الرحمن بن رزين قال ‏"‏ أخرج لنا سلمة بن الأكوع كفا له ضخمة كأنها كف بعير فقمنا إليها فقبلناها ‏"‏ وعن ثابت أنه قبل يد أنس‏.‏[/FONT]

مجھے نہیں علم کہ اتنی صاف اور واضح عبارت کے بعد آپ نے پھر یہ الزام کیوں لگایا کہ امام ابو داؤد، امام مقریزی اور ابن حجر العسقلانی نے صرف "تقبیل ید" کا موضوع پر اتفاق کیا ہے۔۔۔۔۔۔ (جیسا آپ نے دوبارہ یہاں پھر یہی دعوی دہرایا ہے)۔ کیا یہ بھی آپکی طرف سے بشری غلطی کا کوئی تقاضا ہوا ہے؟

نیز امام ابن حجر العسقلانی کے علاوہ امام ابن عبدالبر اور امام منذری بھی اس روایت کو حسن بیان کر رہے ہیں۔
and Ibn Hajar in Fath al-Bari (1989 ed. 11:67 Isti'dhan ch. 28 #6265) said: "Among the good narrations in Ibn al-Muqri's book is the hadith of al-Zari` al-`Abdi." It was declared a fair (hasan) hadith by Ibn `Abd al-Barr, and al-Mundhiri confirmed it in Mukhtasar al-sunan (8:86)

لیکن پتا نہیں کیوں مگر ہمارے پیش کردہ مضبوط و ٹھوس دلائل شاید ہمیشہ بے وزن و بے قیمت ہوتے ہیں جو فریق مخالف ان کو کوئی اہمیت دینے پر تیار نہیں ہوتا، جبکہ انکے پیشکردہ رائی جیسے دلائل بھی بھی پہاڑ بن جاتے ہیں۔

امام ابو داؤد نے یہ مکمل روایت (بمع تقبیل رجل) یہاں نقل کی ہے:
[FONT=times new roman(arabic)]162 - باب قبلة الرجل [/FONT][FONT=times new roman(arabic)] [/FONT][FONT=times new roman(arabic)] إظهار التشكيل [/FONT]​
[FONT=times new roman(arabic)]5227 - حدثنا محمد بن عيسى بن الطباع، حدثنا مطر بن عبد الرحمن الأعنق، حدثتني أم أبان بنت الوازع بن زارع، عن جدها، زارع وكان في وفد عبد القيس قال لما قدمنا المدينة فجعلنا نتبادر من رواحلنا فنقبل يد النبي صلى الله عليه وسلم ورجله - قال - وانتظر المنذر الأشج حتى أتى عيبته فلبس ثوبيه ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له ‏"‏ إن فيك خلتين يحبهما الله الحلم والأناة ‏"‏ ‏.‏ قال يا رسول الله أنا أتخلق بهما أم الله جبلني عليهما قال ‏"‏ بل الله جبلك عليهما ‏"‏ ‏.‏ قال الحمد لله الذي جبلني على خلتين يحبهما الله ورسوله ‏.‏ [/FONT]​

2۔ دوسری روایت: حضرت بریدہ کی اعرابی بدو اور شجر والی روایت
منہاجین کی مضمون میں یہ روایت بڑی وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی تھی:
۵۔ امام مقری (م ۳۸۱ھ) اپنی کتاب تقبیل الید (ص: ۶۴، رقم: ۵) میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک اعرابی بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور اس نے آکر عرض کیا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے لیکن میں کچھ مزید چاہتا ہوں تاکہ میرے یقین میں اضافہ ہوجائے۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی تو اعرابی کے بلاوے پر ایک درخت اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام ہو۔ اس کے بعد طویل روایت ہے اور آخر میں اعرابی نے تمام نشانیاں دیکھنے کے بعد عرض کیا:

يا رسول الله! أئذن لي أن أقبل رأسك ورجلك.
"اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کاسر اقدس اور قدم مبارک چوم لوں۔
"

اس کے بعد روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اعرابی کو اجازت مرحمت فرمائی۔ اور پھر اس اعرابی نے سجدہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت نہ دی۔ امام مقری کی روایت کردہ اس حدیث کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری (۱۱: ۵۷) میں نقل کیا ہے۔ نیز علامہ مبارک پوری نے بھی تحفۃ الاحوذی (۷: ۴۳۷) میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔

اس روایت کے مزید حوالے یہ ہیں:
Qadi `Iyad narrated it in al-Shifa' (1:299) and al-Bazzar in his Musnad (3:49). The editor of Suyuti's Manahil al-safa (p. 124 #575) said: See Kashf al-astar (3:132). Ghazali cites the account of the kiss in the Ihya' and al-Hakim in the Mustadrak as well as Ibn Muqri'. Both al-Hakim and al-`Iraqi declared its chain authentic (sahih), as stated by al-Zabidi in his Ithaf (6:280)

باذوق بھائی اگر چاہیں تو انہیں ابن حجر العسقلانی کی عبارت میں "تقبیل رجل" کا ذکر اس روایت میں بھی بالکل صاف طور پر نظر آ جائے گا۔ فتح الباری میں ابن حجر العسقلانی اس اعرابی اور شجر والی روایت کے متعلق لکھتے ہیں:
[FONT=times new roman(arabic)]وقد جمع الحافظ أبو بكر بن المقري جزءا في تقبيل اليد سمعناه، أورد فيه أحاديث كثيرة وآثارا، فمن جيدها حديث الزارع العبدي وكان في وقد عبد القيس قال ‏"‏ فجعلنا نتبادر من رواحلنا فنقبل يد النبي صلى الله عليه وسلم ورجله ‏"‏ أخرجه أبو داود، ومن حديث مزيدة العصري مثله، ومن حديث أسامة بن شريك قال ‏"‏ قمنا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقبلنا يده ‏"‏ وسنده قوي ومن حديث جابر ‏"‏ أن عمر قام إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقبل يده ‏"‏ ومن حديث بريدة في قصة الأعرابي والشجرة فقال ‏"‏ يا رسول الله ائذن لي أن أقبل رأسك ورجليك فأذن له ‏"‏ وأخرج البخاري في ‏"‏ الأدب المفرد ‏"‏ من رواية عبد الرحمن بن رزين قال ‏"‏ أخرج لنا سلمة بن الأكوع كفا له ضخمة كأنها كف بعير فقمنا إليها فقبلناها ‏"‏ وعن ثابت أنه قبل يد أنس‏.‏[/FONT]

ابن حجر العسقلانی کا بیان کہ وہ فتح الباری میں وہی روایات نقل کر رہے ہیں جو صحیح ہیں یا پھر کم از کم حسن کے درجے تک پہنچی ہوئی ہیں
فتح الباری کی مقدمے کے بالکل آغاز میں ابن حجر العسقلانی فرماتے ہیں:
بشرط الصحة أو الحسن فيما أورده من ذلك
اس لیے اگر ابن حجر العسقلانی اگر مرسل روایت پیش کر رہے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دیگر روایت کی موجودگی میں یہ مرسل روایت ابن حجر السقلانی کے نزدیک قابل حجت ہو چکی ہے، اور وہ اس کی طرف اشارہ ان الفاظ میں دے رہے ہیں کہ "اس سے ملتی جلتی روایت یا واقعہ السدی کا ہے۔۔۔"
اسکے بعد باذوق بھائی کے دعوے میں کتنا وزن باقی رہ جاتا ہے کہ ابن حجر العسقلانی "مرسل مردود" روایت کو نقل کر رہے ہیں، اور اس تقبیل رجل پر اور کوئی روایت موجود نہیں اس لیے یہ روایت مرسل و مردود ہی رہی اور جو نتیجہ اور مؤقف ابن حجر العسقلانی نے پیش کیا ہے اسکا کوئی مطلب نہیں ہے وغیرہ وغیرہ؟؟؟

السدی کی روایت پر مزید تبصرہ
ایک دفعہ پھر یہ بات کہ جو دلائل ہمارے مؤقف تو تقویت پہنچائیں ان کی حیثیت کو یہ رائی کر دیتے ہیں۔
مرسل روایت بذات خود ائمہ کے ایک گروہ کے نزدیک "صحیح" روایت ہے، اور اس میں "جمہور" کی کوئی شرط سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ بہرحال، لمبی چوڑی بحث کر کے نئی نئی "پخ" ڈالنے کی کوشش کی گئی جیسا کہ: (1) "جمہور" کی شرط ڈال دی گئی (2) اور پھر اس بات کا مستقل انکار کیا جاتا رہا کہ تقبیل رجل کی کوئی اور روایت بھی موجود ہے۔
تقبیل رجل کی دوسری روایت اوپر نقل ہو چکی ہیں۔ اور السدی کی روایت کے متعلق باذوق بھائی کا دعوی پھر بھی یہ ہے کہ:
سوال یہ ہے کہ کیا السدی الکبیر کی ثقاہت ثابت ہونے پر طبری کی روایت سے "تقبیل رجل (پاؤں چومنا)" والا فقرہ بھی ثابت ہو جائے گا؟؟
ہرگز نہیں !!!!
تو ہم ادھر باذوق بھائی اور انکےاس معاملے میں کیے جانے والے عذروں کو ادھر چھوڑتے ہیں، اور میں آپکی توجہ امام ابن حجر العسقلانی کے بعد ابن کثیر الدمشقی کی تفسیر القرآن کی لے جاتی ہوں جہاں انہوں نے السدی کی اس روایت کو بیان کیا ہے۔
حافظ ابن کثیر سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ١٠١ کی تفسیر میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک بار حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات پر خفا ہو کر جلال میں آگئے تو:
فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه فَقَبَّلَ رِجْلَهُ وَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، رَضِيْنَا بِاﷲِ رَبًّا وَبِکَ نَبِيًّا وَبِالإِْسْلَامِ دِيْنًا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا فَاعْفُ عَنَّا عَفَا اﷲُ عَنْکَ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّی رَضِيَ.
'' حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک چوم کر عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، آپ کے نبی ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام و راہنما ہونے پر راضی ہیں، ہمیں معاف فرما دیجئے۔ اﷲ تعالیٰ آپ سے مزید راضی ہو گا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل عرض کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہو گئے۔''

ذرا خود سوچئیے کہ پچھلا تھریڈ گواہ ہے کہ تقبیل رجل کا ذکر دیکھ کر لوگوں کو "ایک سیکنڈ" نہیں لگا تھا کہ اس پر "شرکیہ جہالت" کا فتوی دے ڈالیں۔ مگر اتنے جلیل القدر تابعی، و علماء و حفاظ حدیث اس روایت کو بغیر کسی تنقید کے اپنی کتب میں مسلسل نقل کر رہے ہیں۔۔۔۔ تو کیا ان میں اتنی عقل و فہم و دانش و علم بھی نہ تھا جتنا کہ ایک سیکنڈ سے قبل اس تھریڈ میں "شرکیہ جہالت" کا فتوی لگانے والے حضرات میں تھا؟

السدی کے متعلق بشری غلطی
السدی کے متعلق اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ نے بہت وقت لیا۔ بہرحال دیر آید درست آید۔ اپنی بشری غلطی کہتے ہوئے آپ نے اپنی اصلاح کر لی۔
مگر شکر ہے کہ ایسی کوئی بشری غلطی میں نے نہیں کی کیونکہ انکو تو ہزار غلطیاں (محاورے کے حساب سے خون) بھی معاف ہیں، مگر اگر میں نے ایسی کوئی غلطی کی ہوتی تو پوری زندگی ہر جگہ انہوں نے مجھے اس غلطی کا طعنہ دے دے کر زندگی اجیرن کر دینی تھی اور ہر بحث کے دوران اسکا حوالہ ہونا تھا۔

السدی کی روایت کا صحیح لغیرہ ہونا
ابن حسن،
آپ چاہیں کان کو یوں پکڑیں یا ہاتھ گھما کر پکڑیں، اور جتنا مرضی اسکی گریڈنگ کرنے سے فرار حاصل کرتے رہیں، آخر میں السدی کی مرسل روایت "صحیح" یا "صحیح لغیرہ" کی بنیاد پر "قابل حجت" ہی ثابت ہو گی اور اسکا ثبوت ائمہ حدیث کا اس روایت کا بغیر تنقید کے نقل کرنا اور اس سے نتیجہ اخذ کرنا ہے اورتقبیل رجل کی دیگر روایات کو نقل کرنا ہے۔ اور میں سب سے پہلے امام ھشام کی کی عبارت کو نقل کر چکی ہوں جہاں وہ صاف صاف طور پر السدی کی اس مرسل روایت کو دیگر روایات کی روشنی میں "صحیح" بیان کر رہے ہیں۔

Umar Ibn Khattab kneeling down in front of Rasool Allah (saw)


Tabari narrates it mursal [missing the Companion-link] through al-Suddi in his Tafsir in commenting on verse 5:101:

"Do not ask of things which once shown to you would hurt you" with the wording: "`Umar ibn al-Khattab got up and kissed the foot of Allah's Messenger and said: O Messenger of Allah, we are pleased with Allah as our Lord, with Islam as our religion, and with Muhammad as our Prophet, and with the Qur'an as our Book. Forgive, and Allah will forgive you (fa`fu `afallahu `anka). And he did not cease until the Prophet softened."

The hadith is established as authentic by the following narrations in Bukhari's Sahih:
)."۔۔۔۔۔
مگر نہیں، مسئلہ وہی پرانا ہے کہ ہماری بات کا وزن تو وہی رائی ہی رہنا ہے۔

تقبیل رجل کی ان روایات کو البانی صاحب سے قبل کس نے ضعیف و مردود قرار دیا ہے؟

ایک سوال اور، السدی کی روایت کو کس محدث نے اس سے قبل مرسل ہونے کی وجہ سے صاف صاف الفاظ میں مردود قرار دیا ہے؟
اسی طرح تقبیل ید پر جو دیگر روایات اوپر نقل ہوئی ہیں، (جنہیں ابن حجر العسقلانی اور دیگر ائمہ حدیث "جید"اور "صحیح" اور "حسن" کہہ رہے ہیں) انکو پچھلے 1400 سال میں البانی صاحب سے پہلے کس نے ضعیف و مردود قرار دیا ہے؟
 

آبی ٹوکول

محفلین
ہر روایت سے مسئلہ اخذ کیا جا سکتا ہے چاہے روایت صحیح ہو کہ ضعیف۔
یقین نہ آئے ڈاکٹر طاہر القادری کی مرتب کردہ "منہاج السوی" دیکھ لی جائے جس میں ڈاکٹر صاحب نے ضعیف روایات سے بھی مسائل اخذ کئے ہیں ( یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ضعیف روایات کو صحیح روایات کے بطور پیش کرنے کی ناکام کوششیں بھی فرمائی ہیں)۔

میں نے جو ابوداؤد اور ترمذی کی روایات بطور مثال پیش کی تھیں ، کیا وہ روایات پیش کرتے ہوئے امام ابوداؤد یا امام ترمذی نے صرف "ضعیف روایت" کہہ کر بات ختم کر دی تھی ؟؟
ہرگز نہیں !
بلکہ دونوں ائمہ نے ان ضعیف روایات سے بھی مسئلہ اخذ کیا اور اسی اخذ شدہ مسئلہ کو باب کا عنوان دیا۔
اب یہ تو قاری پر منحصر کرتا ہے کہ وہ دیکھے کہ جو مسئلہ ہم کو محدثین بتا رہے ہیں اس کی دلیل کیا ہے؟؟ دلیل اگر ضعیف روایت ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ مسئلہ بھی یقیناً غلط ہے !!

!
السلام علیکم ! مجھے حیرت ہوئی باذوق بھائی کا درج بالا اقتباس پڑھکر کہ یہ کس قدر عامیانہ سی بات ہے کہ جو انھوں نے بلا دلیل کہی کہ ایک محدث ایک روایت کو ضعیف بھی سمجھے اور پھر اس (روایت) سے حکم (مسئلہ) کا استنباط بھی کرے ۔ ۔ جب کے یہی باذوق بھائی ہیں کہ جن کو فضائل اعمال کے باب میں محدثین کا ضعیف روایات سے استدلال کرنا قبول نہیں لہذا آپ یہاں ایک دیو بندی عالم کی مرتب کردہ کردہ کتاب "فضائل اعمال " نامی کتاب پر تنقید کرتے ہوئے رقم طرز ہیں کہ ۔ ۔ ۔
ہر دینی اور شرعی معاملہ ، چاہے وہ فرض ہو یا سنت یا مستحب یا حرام ہو یا مکروہ ۔۔۔ اپنے ثبوت کے لیے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صریح بیان اور ارشاد کا محتاج ہے ۔
جبکہ ضعیف حدیث کی نسبت رسول اللہ (ص) سے یا تو صحیح نہیں ہے یا مشکوک ہے یا پھر محض ظن و گمان ۔۔۔ اس لیے کہ ضعیف ایک مبہم لفظ ہے ۔ اس کی متعدد قسمیں ہیں ۔
ضعیف حدیث کے نام پر بعض لوگ جن اعمال کو دینی اعمال کہہ کر رواج دے رہے ہیں وہ درحقیقت اُن کے اپنے اعمال ہیں جن میں سے بیشتر دین میں اضافہ یعنی بدعت میں شمار ہوتے ہیں ۔ اس لیے اس مبہم اور غیر واضح دعویٰ کہ ؛
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے
سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے ۔


١)۔ کبار محدثین و اصولین (رحمہم اللہ عنہم) ، ضعیف حدیث پر عمل کرنے کو نہ تو احکام میں جائز سمجھتے ہیں اور نہ ہی فضائل اعمال میں ۔
ان محدثین کے گروہ میں ؛
امام یحییٰ بن معین ، امام بخاری ، امام مسلم ، امام ابن حبان ، امام ابن حزم ، امام ابن العربی المالکی ، امام ابو شامہ المقدسی ، امام ابن تیمیہ ، امام شاطبی ، امام خطیب بغدادی اور علامہ شوکانی ۔۔۔
جیسی عظیم الشان ہستیاں شامل ہیں ۔
۔( بحوالہ ؛ علامہ محمد جمال الدین قاسمی کی قواعد التحدیث من فنون مصطلح الحدیث ۔ صفحہ ؛ ١١٣ )

مندرجہ بالا پیراگراف میں باذوق بھائی کے درج زیل الفاظ قابل غور ہیں

١)۔ کبار محدثین و اصولین (رحمہم اللہ عنہم) ، ضعیف حدیث پر عمل کرنے کو نہ تو احکام میں جائز سمجھتے ہیں اور نہ ہی فضائل اعمال میں ۔

اور جب آپکی سابقہ تحقیق کے مطابق کبار محدثین فضائل اعمال میں بھی ضعیف روایت کو حجت نہیں سمجھتے تو پھر آپ نے یہاں یہ کیونکر اور کس دلیل کی بنا پر فرمادیا کے محدثین فضائل تو دور کی بات احکام (یعنی اخذ مسئلہ و احکام ) میں بھی ضعیف احادیث سے اخذ مسائل (یعنی استنباط مسئلہ و احکام ) فرماتے ہیں ۔۔
آپ کے دونوں اقوال میں سے کس کو صحیح سمجھا جائے ؟؟؟؟؟؟؟؟
 

jaamsadams

محفلین
ذوق آنکُل دراصل ٹوپی گمھارہے ہیں، مسئلہ صحیح، حسن یا ضعیف کا نھیں ہے۔ اور یہ ہی مسئلہ آج کل منکران حدیث کا ہے۔ بدقسمتی سے یہ دور ہی ایسا ہے کہ دیسی گھی کو ڈالڈا بنا دیا جاتا ہے اور ڈالڈا کو دیسی گھی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی حال ہے کہ منکرانِ حدیث نے اہلحدیث کا لبادا اوڑ لیا ہے کہ اب ان کو کون جھٹلائے گا۔ ایسے ہی مذکورہ بالا البانی نام کے صاحب ہیں۔ جو کہ اپنے علمی کارنامے سے زیادہ اپنے مشھور حدیث اسکینڈل کے سبب منظرنامے پر نظر آئے۔ موصوف امام بخاری کی غلطیوں کی تصحیح کا ٹھیکہ لے بیٹھے اور پھر امام بخاری کی ادب المفرد کو کانٹ چھانٹ کر دو حصے بنا دیئے یعنی ایک جو انکے مطلب کا تھا وہ قبول ٹھرا اور دوسرا اپنے مسلک کے لئے درد سر تھا اسے کھڈے لائن لگادیا۔ یہ تو امام بخاری کی اوقات رہ گئی ہے بھائی لوگوں کے ہاں۔ اگلے فیز میں بھائی لوگوں کی ذمہ داری لگادی گئی کہ وہ ضعیف احادیث کے نا منظور کا خوب غلغلہ کریں تاکہ اسکی آڑ میں مزید لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے۔ اگرالبانی اینڈ کمپنی کو امام بخاری کی کتاب مسئلہ کرتی تھی تو موصوف اپنے نام سے کوئی حدیث کی کتاب لکھ لیتے، مثلا جامع البانی یا جامع ناصر یا جامع چھکڑانوی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن البانی اینڈ کمپنی نے اپنے منصوبے کو عملی موم جامہ پہنانے کیلئے امام بخاری پہ ہی ہاتھ صاف کرلئے۔ اور اپنے تئیں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امام بخاری شائید پیچھے غلطیاں چھوڑ گئے تھے اور یہ کہ امام بخاری کے ضعیف احادیث کو درج کرنے کے ثبوت مٹائے جائیں۔ یعنی کاندھا بخاری کا استعمال ہوجائے اور کام اپنا نکل جائے۔ یہی ہے آج کل کے ڈالڈا محدثوں کا حال کہ صحیح کرنے پر آئیں تو بخاری کو بھی درست کرکے رکھ دیں۔ امام بخاری کا الادب المفرد میں ضعیف احادیث شامل کرنا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ ان کی ہاں یہ کوئی شجرممنوعہ نھیں تھیں۔ اسی طرح بعد میں آنے والے تمام محدثین نے اپنی اپنی (نہ کہ دوسروں کی) کتابوں میں ہزارہا غیر صحیح احادیث شامل کیں۔ اور تمام محدثین کا اس امر پر اجماع رہا کہ فضائل اعمال اور ترہیب و ترغیب کے ضمن میں ضعیف احادیث قبول ہیں۔ چہ جائیکہ ان کو حکم کے ضمن میں استعمال نہ کیا جائے۔ نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ جو کہ لازمی فرائض و واجبات ہیں اور ان کا عام حکم ہے، لہذا ان کا استدلال کرتے ہوئے ضعیف حدیث سے احتیاط برتی جائے۔ لیکن اگر بات ہو فرد واحد کے اپنے ذوق کی تو وہ ان احادیث کو فضائل اعمال اور ترہیب و ترغیب کے ضمن میں نہ صرف قبول کرسکتا ہے بلکہ ان پر عمل بھی کرسکتا ہے۔ اور اسکی حیثیت فرائض و واجبات اورتاکیدی سنن کی یقینا نھیں ہوگی بلکہ اسے مستحب یا افضل گردانا جائے گا۔ اب جو باذوق ہے وہ مذکورہ احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اولیاء اکرام و بزرگان دین کے ہاتھ پیر چومنے کا عمل جاری رکھے اور بے ذوق کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ لازما ایسا ہی کرے۔ اب ہوا کیا، کہ بات گھوم پھر کر وہیں آگئی کہ ڈالڈا نے دیسی گھی کا روپ دھار لیا یعنی بےذوق نے اپنا نام ہی باذوق رکھ لیا سو اب اسے کون جھٹلائے۔ اب وہ ضعیف حدیث کے شجرممنوعہ ہونے کا ڈھول نہ پیٹے تو اور کیا کرے۔ لیکن البانی اینڈ کمپنی کا ارادہ تو اپنا ذوق دوسروں پر تھوپنے کا تھا اسکے لئے انکل البانی کو تیار کیا گیا اور چونکہ وہ بے چارے اناڑی محدث تھے لہذا بجائے اپنی کوئی کتاب مرتب کرنے کے انھوں نے امام بخاری کی کتابوں کے حصے بخرے کرنے کی ٹھانی اور اور یہ ظالمانہ سلوک عام محدث سے ہی نہیں بلکہ ہاتھ صاف بھی کیا تو کس پرخود امام بخاری پر۔ اور انکی مشہور زمانہ کتاب "الادب المفرد" سے موصوف نے کم وبیش 340 ایسی احادیث نکال باہر کیں جن میں انکے عقیدے کے خلاف، حضور نبی اکرم کے ہاتھ اور پاؤں چومنے کی سنت ثابت ہوتی تھی۔ امام بخاری کو بھی تو پتا تھا کہ یہ احادیث ضعیف ہیں۔ آپ کو تو یہ احادیث سننا تک گوارا نھیں اور امام بخاری انھیں باقاعدہ حدیث کی کتب میں بطور حدیث درج کرتے رہے۔ یا تو آپ چالاک ہیں یا امام بخاری بھولے تھے۔ اور نھیں تو امام بخاری ان احادیث کو دو الگ الگ کتابوں میں خود ہی بانٹ دیتے، انھیں کیا پتا تھا کہ آگے چودہ سوسال بعد لبادہ اوڑھ کر خاص اہلحدیث آنے والے ہیں جو انکی ساری غلطیاں درست کردیں گے۔

اب ذرا آجائیں ضعیف حدیث کے مفہوم کی طرف یعنی وہ حدیث جسکی سند میں کوئی ضعف پایا جائے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی تندرست انسان کو کسی بیماری کی وجہ سے ضعف آجائے۔ کیا ایسے انسان کو مردہ سمجھا جائے گا۔ کوئی بھی شخص چاہے وہ 200 سال کا انتہائی بوڑھا ہی کیوں نہ ہو اور پچاسیوں امراض میں بھی مبتلا ہو تب بھی دنیا کا کوئی ڈاکٹر یا حکیم اسے مردہ نھیں کہہ سکتا۔ جب تک اسکا آخری سانس باقی ہے اس وقت تک وہ زندہ ہی کہلائے گا۔ کیا آپ اپنے ضعیف والدین کو انکے ضعف کیوجہ سے مردہ قرار دے کر زندہ ہی دفن کرکے آجاتے ہیں۔ آپکو شاید اصول حدیث سمجھنے میں تھوڑا سی غلطی لگی ہے کہ صحیح کا لفظ اصول حدیث کے قواعد میں غلط کے مقابل نہیں بولا جاتا بلکہ یہ اصول حدیث کی ایک خاص اصطلاح ہے جو کہ اس حدیث پر بولی جاتی ہے کہ جس میں یہ پانچ خوبیاں پائی جائیں ۔۔ اول اسکی سند اول سے آخر تک متصل ہو دوم اس کے تمام روای عادل ہوں سوم تمام کے تمام ضابط ہوں چہارم حدیث شاذ نہ ہو پنجم روایت کسی بھی علت قادحہ سے پاک ہو، جسکو آپ صحت مند انسان سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ لیکن ضعیف ہمیشہ صرف ضعف کو ظاہر کرتی ہے نہ کہ مردہ۔ جبکہ جھوٹھی اور گھڑی ہوئی روایت کیلئے مردود یا موضوع کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ جسکو درج بالا مثال کیمطابق آپ مردہ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ یہی "موضوع یا مردود" وہ حقیقت ہے جسکو چھپانے کیلئے البانی اینڈ کمپنی نے امام بخاری کی کتاب کے بخیئے ادھیڑ دیئے۔ اور آپ ضعیف احادیث کو موضوع سے تبدیل کرکے انھیں گول کرنا چاہتے ہیں اور نام بھی آپ نے دیسی گھی والا یعنی اہلحدیث رکھا لیا ہے تاکہ کوئی شک نہ کرے اور آپ کو کوئی روک ٹوک نہ ہو۔

جمہور علماء، محدثین و سلف صالحین کا پوری چودہ سو سال کی تاریخ میں یہی موقف رہا اور سب ضعیف حدیث کو فضائل اور ترہیب و ترغیب کے باب میں حجت مانتے رہے۔ ضعیف حدیث عقائد و احکام کے علاوہ جمہور کے نزدیک قابل عمل ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ حرام و حلال کا معاملہ ہو تو ہم سندوں میں سختی سے کام لیتے ہیں اور جب ترغیب و ترہیب کی بات ہوتو ہم اسانید میں تساہل برتتے ہیں ،یعنی عقائد و احکام کے باب میں تشدد (یعنی سختی یعنی صرف صحیح حدیث کا قابل حجت ہونا) جب کے ترہیب و ترغیب کے باب میں تساہل (یعنی سستی و نرمی یعنی ضعیف احادیث کا بھی قابل عمل ہونا)

امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبداللہ بن احمد روایت کرتے ہیں :
سَمِعْتُ اَبِیْ يَقُوْلُ اَلْحَدِيْثُ الضَّعِيْفُ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنَ الرأیِ.
"میں نے اپنے والد (امام احمد بن حنبل) سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے رائے سے کئی زیادہ حدیثِ ضعیف محبوب ہے"۔

حنبلی اہل سنت میں سب سے زیادہ سخت مذہب تصور کیا جاتا ہے۔ انکل تیمیہ بھی کم و بیش انہی کے مقلد ہیں، وہ خود کو مجتہد کہتے ہیں مگر ان کا رجحان انہی کی تابعیت میں ہیں۔ حافظ ابن کثیر، علامہ ابن القیم،بڑے انکل محمد بن عبدالوہاب النجدی بھی اسی حنبلی مذہب پر تھے۔

امام حاکم "المدخل" میں بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل ضعیف حدیث کے حوالے سے فرماتے ہیں :
اِذِا رَوَيْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ تَشَدَّدْنَا وَاِذَا رَوْيْنَا عَن النبی فِی الْفَضَائِل الاعْمَال وَمَالا يَضَعُ حُکْمًا وَلَا يَرْفَعُ تَسَاهَلْنَا فِی الْاَسَانِيْد.
"یعنی ہم اگر حلال و حرام کے احکام کو روایت کرتے تو اسانید میں سختی اختیار کرتے اور اگر فضائل کو بیان کرتے تو ہم اسانید اور رجال میں نرمی اور ڈھیل دیتے"۔

امام ابو داؤد کا بھی ضعیف حدیث کے حوالے سے یہی مذہب ہے۔ اور اسے مجموع الفتاویٰ میں انکل تیمیہ نے جلد 18، صفحہ 52 پر لکھا ہے۔ یہ وہ مذہب ہے کہ اگر کسی ایک موضوع پر حدیث صحیح دستیاب نہ ہو تو خواہ احکام کا مسئلہ ہو، خواہ فضائل کا مسئلہ ہو تو اس موضوع پر حدیث ضعیف کو قبول کرلیا جائے گا کیونکہ حدیث ضعیف سے اوپر والے درجے کی حدیث "صحیح" یا "حسن" اس موضوع پر میسر نہیں ہے کیونکہ جب صحیح حدیث میسر نہ ہو تو پھر دو ہی صورتیں ہیں۔
1۔ حدیث ضعیف کو قبول کیا جائے۔ 2۔ اپنی رائے پر فتویٰ دیا جائے۔
پس اس صورت حال میں ان دو صورتوں میں سے امام ابو داؤد اور امام احمد بن حنبل ذاتی رائے کے مقابلے میں حدیث ضعیف کو قبول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مزید امام نسائی کا بھی یہی قول ہے۔ ۔ ۔ امام ابن ابی حاتم کا بھی یہی مذہب ہے۔ ۔ ۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ ۔ ۔ امام سرخسی (احناف) کا بھی یہی قول ہے۔ امام شافعی کا قول، امام نووی نے "کتاب الاذکار" کے اندر درج کیا ہے۔ ۔ ۔ ابن ہمام نے "فتح القدیر" میں اس کو بیان کیا ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ امام حاکم نے اپنی کتاب میں حدیث کی قبولیت اور عدم قبولیت کے باب میں اصول درج کئے ہیں کہ اگر حدیثِ صحیح میسر نہ ہو تو امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک ’’رائے‘‘ سے زیادہ بہتر ہے کہ مرسل اور ضعیف حدیث کو قبول کیا جائے۔ جس امام پر رائے کا الزام لگتا ہے، اس امام نے رائے کو سب سے آخر میں رکھا ہے، کوئی نص نہ ملے تو رائے کی طرف گئے وگرنہ امام اعظم نے حدیث ضعیف تک کو مقدم جانا۔

یہی مذہب امام سفیان ثوری کا ہے اور آپ امیرالمومنین فی الحدیث ہیں۔ آپ امام مالک (94ھ) کے زمانے میں (97ھ) میں پیدا ہوئے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت کل صحاح ستہ ان کی مرویات سے بھری پڑی ہیں۔ امام سفیان ثوری فرماتے ہیں : لَا تَاْخُذُ هٰذَا الْعِلْمَ فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَام اِلاَّمِنَ الرَّؤُوْساءِ الْمَشْهُوْرِيْنَ وَلَا بَحْثَ بِمَا سِوآء ذٰلِکَ مِنَ الْمشائِخ.
"یعنی حلال و حرام کے معالے میں بڑے ائمہ کے سواء کسی اور سے یہ علم (روایتِ حدیث) قبول نہ کرو"۔ اور اگر دیگر معاملات ہوں تو ان رؤوساء مشہورین کے علاوہ دیگر چھوٹے مشائخ ہیں (جن پر گفتگو اور طعن بھی ہو جاتی ہے) ان سے بھی حدیث قبول کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے"۔ (الکفایہ فی علم الروایہ، خطیب بغدادی)

امام سفیان بن عیینہ (107ھ) کا بھی یہی قول ہے۔ وہ احباب جن پر ضعف کا الزام تھا ان کا نام لے کر امام سفیان بن عیینہ نے کہا : وَاسْمَعُوْا مِنْه مَاکَانَ فِی ثَوَابٍ وَغَيْرِه.
"یعنی فلاں فلاں راوی جن پر ایسا طعن ہے جس سے حدیث کی سند ضعیف ہو جاتی ہے، ان سے سماع کر لیا کرو، ان کی حدیث قبول کر لیا کرو اگر ثواب، عقاب اور اس طرح کے دیگر مسائل پر روایت کریں"۔

امام عبدالرحمن بن مہدی (136ھ) کا قول بھی یہی ہے اور آپ امام بخاری و مسلم کے رجال ائمہ میں سے ہیں۔ فرماتے ہیں : اِذَا رَوَيْنَا فِی الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ وَفَضَائِلِ الْاَعْمَال تَسَاهَل فِی الْاَسَانِيْد وَسَمَّحْنَا فِی الرّجَال.
یعنی جب ہم فضائل اعمال، ثواب و عتاب کے باب میں روایت کرتے تو اسانید کے معاملے میں ڈھیل اختیار کرتے، نرمی کرتے، سختی نہیں کرتے تھے اور رجال پر جرح و تعدیل کے معاملے میں نرمی سے کام لیتے تھے، چھوٹی چھوٹی چیزوں سے درگزر کرتے تھے، ان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے درگزر کرنے سے حدیث کی سند ضعیف بنتی ہے۔

وَاِذَا رَوَيْنَا فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَالْاَحْکام تَشَدَّدْنَا فِی الْاَسَانِيْد وَانْتَقَدْنا الرِّجَال.
"یعنی اور جب حلال و حرام اور احکام کا مسئلہ آتا تو اس میں ہم اسانید کے معاملے میں سخت ہو جاتے اور رجال پر جرح و تعدیل کے معاملے میں سختی کرتے"۔

مشھور محدث حافظ سخاوی علیہ رحمہ نے امام احم، ابن معین، ابن المبارک،سفیان ثوری اور ابن عینیہ سے یہی نقل کیا ہے ۔ اور امام نووی نے تو اس پر اجماع کا دعوٰی نقل کیا ہے ۔ اور امام نووی کی الاربعین کی شرح میں ابن حجر مکی فرماتے ہیں کہ فضائل اعمال کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل پر علماء کا اتفاق ہے کیونکہ اگر وہ واقعی صحیح تھی تو اس کو اسکا حق مل گیا (یعنی اس پر عمل ہوجانے کی صورت میں) وگرنہ اس پر عمل کرنے سے نہ تو حلال کو حرام کرنا لازم آیا اور نہ ہی اس کے برعکس اور نہ ہی کسی کا حق مارا گیا۔ الغرض ضعیف حدیث کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ فضائل اور ترہیب و ترغیب میں معتبر ہے۔

امام ابن حجر عسقلانی کا بھی یہی مذہب ہے مگر آپ نے 3 شرائط لگائی ہیں۔
حدیث ضعیف سے شریعت میں اصول قائم نہ ہوں گے۔
حدیث ضعیف اس وقت قابل قبول ہوگی جب شریعت کے خلاف نہ ہو۔
اس کے ضعف میں ضعفِ شدید نہ ہو۔
ایک لطیف بات امام عسقلانی یہ بھی فرماتے ہیں کہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا مگر یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل یا قول ثابت ہوگیا بلکہ احتیاط کا عقیدہ رکھا جائے کہ اگرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن اگر اس پر عمل نہ کیا تو ممکن ہے فضیلت ترک نہ ہو جائے۔ ترک فضیلت سے بچنے کے لئے عقیدہ احتیاط کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ثبوت کا عقیدہ نہ ہو، احتیاط کا عقیدہ ہو کہ کہیں فضیلت سے محروم نہ رہ جائیں کیونکہ دونوں امکان ہیں، ممکن ہے فرمایا ہو، ممکن ہے نہ فرمایا ہو۔

سب سے بڑے انکل تیمیہ نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ فتاویٰ ابن تیمیہ جلد 18، ص 26 قسم الحدیث میں انکل کہتے ہیں کہ "اگر کوئی ضعیف راوی ہے، کثرت غلط کی بنیاد پر اپنی روایت میں غلط ہے پھر بھی غالب امر اس کا حدیث کو روایت کرنے کا صحیح ہے تو اس پر بھی اعتبار کیا جائے گا، حدیث قبول کی جائے گی اور اس کی تائید کے ساتھ ضعیف طریق بھی اٹھ کر حسن کے درجے میں چلا جائے گا"۔

یہی مذہب امام ابو ذکریا العنبری کا ہے۔
یہی مذہب امام حاکم نیشا پوری کا ہے۔
یہی مذہب امام بیہقی کا ہے۔
یہی مذہب امام ابن الکتان کا ہے۔
یہی مذہب امام شافعی کا ہے۔
امام سِلَفِیْ کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام حاکم کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام سیوطی کا مذہب بھی یہی ہے جسے التدریب میں روایت کیا ہے۔
امام ابن الصلاح کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام نووی کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام نسائی کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام سخاوی کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام ابن القیم کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام جلال الدین دوانی کا بھی یہی مذہب ہے۔

پس یہ اصل مذہب مختار ہے اس لئے بہت سی چیزیں جو فضائل کے باب میں آتی ہیں حدیثِ ضعیف کی بنیاد پر اُن پر عمل کرنا جائز ہے۔ مثلاً حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم پاک پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا، یہ حدیث بھی ضعیف ہے، "موضوع" نہیں ہے۔ فضائل اور ترغیب و ترہیب میں چونکہ حدیثِ ضعیف قبول کیا جاتا ہے۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم گرامی کو سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا جائز ہے۔

انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنے سے کئی بےذوق اختلاف کرتے ہیں مگر اس تناظر میں وہ وضوکے دوران گردن پر مسح کرنے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔ تمام مسالک کے ماننے والے وضو کے دوران گردن پر مسح کرتے ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں مگر یہ حدیث ضعیف سے ثابت ہے جبکہ گردن پر مسح کرنا، احکام کا مسئلہ ہے۔ فضائل کا مسئلہ نہیں ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ عمل کرنے پر آئیں تو حدیث ضعیف پر احکام میں بھی عمل ہو رہا ہے اور اگر تنقید کرنے پر آئیں تو فضائل میں بھی تنقید کر رہے ہیں، کیا بات ہے۔

اسی طرح زکوۃ کے تفصیلی نصاب جس حدیث میں بیان ہوئے ہیں اس حدیث کی سند ضعیف ہے حالانکہ یہ بھی احکام میں سے ہے۔ آپ تو زکوۃ بھی بالتفصیل ادا نہ کر سکیں، زکوۃ کے نصاب کی تفصیل ہمیں نہ ملے اگر سند ضعیف کا اعتبار ختم ہو جائے۔ بولو انکل
 

باذوق

محفلین
مہوش علی !
میں نے آج ہی آپ کا یہ مراسلہ (نمبر:24) دیکھا ہے۔ جیسے ہی فرصت ملے گی ، میں اس کا جواب ضرور دوں گا ، ان شاءاللہ۔

آبی ٹوکول !
آپ کے استفسار کا جواب میرے پچھلے مراسلے : 18 میں موجود ہے :
اور نہ ہی یہ مسئلہ [جواز تقبيل رجل الرجل] حافظ ابن حجر العسقلانی کا "فتویٰ" یا ان کا "موقف" ہے۔
کیونکہ خود انہوں نے اس روایت کو واضح طور پر "مرسل روایت" کہتے ہوئے بیان کیا ہے اور حافظ صاحب کے نزدیک مرسل روایت "مردود" ہوتی ہے جیسا کہ ان کے قول کا مستند حوالہ دیا جا چکا ہے۔ اگر یہ ان کا فتویٰ ہوتا تو آپ رحمة اللہ اس مرسل روایت کے ٹکڑے [فقبل رجله] کی تائید میں کسی شاہد یا تابع روایت کا ذکر بھی ضرور کرتے۔ کسی شاہد یا تابع کے بغیر ذکر کرنے کے دو مطالب ممکن ہو سکتے ہیں :
1: مرسل روایت ہونے کے سبب یہ مسئلہ بھی مردود ہے۔
2: اگر اس مرسل کی تائید میں کوئی صحیح متصل سند مل جائے تو یہ مسئلہ مقبول ہوگا۔
کسی روایت کو حجت سمجھنا اور بات ہے اور اس روایت کو پیش کر کے اس سے اخذ ہونے والے مسائل کی طرف اشارہ کرنا یا ان کو بیان کرنا ایک الگ بات ہے۔ میں ثبوت دے چکا ہوں کہ محدثین نے ضعیف روایت کو بھی اپنی کتب حدیث میں پیش کیا ہے اور ان ضعیف روایات سے اخذ ہونے والے مسائل کو بھی بیان کیا ہے۔
 

باذوق

محفلین
ذوق آنکُل دراصل ٹوپی گمھارہے ہیں، مسئلہ صحیح، حسن یا ضعیف کا نھیں ہے۔ اور یہ ہی مسئلہ آج کل منکران حدیث کا ہے۔ بدقسمتی سے یہ دور ہی ایسا ہے کہ دیسی گھی کو ڈالڈا بنا دیا جاتا ہے اور ڈالڈا کو دیسی گھی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی حال ہے کہ منکرانِ حدیث نے اہلحدیث کا لبادا اوڑ لیا ہے کہ اب ان کو کون جھٹلائے گا۔ ایسے ہی مذکورہ بالا البانی نام کے صاحب ہیں۔ جو کہ اپنے علمی کارنامے سے زیادہ اپنے مشھور حدیث اسکینڈل کے سبب منظرنامے پر نظر آئے۔ موصوف امام بخاری کی غلطیوں کی تصحیح کا ٹھیکہ لے بیٹھے اور پھر امام بخاری کی ادب المفرد کو کانٹ چھانٹ کر دو حصے بنا دیئے یعنی ایک جو انکے مطلب کا تھا وہ قبول ٹھرا اور دوسرا اپنے مسلک کے لئے درد سر تھا اسے کھڈے لائن لگادیا۔ یہ تو امام بخاری کی اوقات رہ گئی ہے بھائی لوگوں کے ہاں۔ اگلے فیز میں بھائی لوگوں کی ذمہ داری لگادی گئی کہ وہ ضعیف احادیث کے نا منظور کا خوب غلغلہ کریں تاکہ اسکی آڑ میں مزید لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے۔ اگرالبانی اینڈ کمپنی کو امام بخاری کی کتاب مسئلہ کرتی تھی تو موصوف اپنے نام سے کوئی حدیث کی کتاب لکھ لیتے، مثلا جامع البانی یا جامع ناصر یا جامع چھکڑانوی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن البانی اینڈ کمپنی نے اپنے منصوبے کو عملی موم جامہ پہنانے کیلئے امام بخاری پہ ہی ہاتھ صاف کرلئے۔ اور اپنے تئیں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امام بخاری شائید پیچھے غلطیاں چھوڑ گئے تھے اور یہ کہ امام بخاری کے ضعیف احادیث کو درج کرنے کے ثبوت مٹائے جائیں۔ یعنی کاندھا بخاری کا استعمال ہوجائے اور کام اپنا نکل جائے۔ یہی ہے آج کل کے ڈالڈا محدثوں کا حال کہ صحیح کرنے پر آئیں تو بخاری کو بھی درست کرکے رکھ دیں۔ امام بخاری کا الادب المفرد میں ضعیف احادیث شامل کرنا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ ان کی ہاں یہ کوئی شجرممنوعہ نھیں تھیں۔ اسی طرح بعد میں آنے والے تمام محدثین نے اپنی اپنی (نہ کہ دوسروں کی) کتابوں میں ہزارہا غیر صحیح احادیث شامل کیں۔ اور تمام محدثین کا اس امر پر اجماع رہا کہ فضائل اعمال اور ترہیب و ترغیب کے ضمن میں ضعیف احادیث قبول ہیں۔ چہ جائیکہ ان کو حکم کے ضمن میں استعمال نہ کیا جائے۔ نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ جو کہ لازمی فرائض و واجبات ہیں اور ان کا عام حکم ہے، لہذا ان کا استدلال کرتے ہوئے ضعیف حدیث سے احتیاط برتی جائے۔ لیکن اگر بات ہو فرد واحد کے اپنے ذوق کی تو وہ ان احادیث کو فضائل اعمال اور ترہیب و ترغیب کے ضمن میں نہ صرف قبول کرسکتا ہے بلکہ ان پر عمل بھی کرسکتا ہے۔ اور اسکی حیثیت فرائض و واجبات اورتاکیدی سنن کی یقینا نھیں ہوگی بلکہ اسے مستحب یا افضل گردانا جائے گا۔ اب جو باذوق ہے وہ مذکورہ احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اولیاء اکرام و بزرگان دین کے ہاتھ پیر چومنے کا عمل جاری رکھے اور بے ذوق کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ لازما ایسا ہی کرے۔ اب ہوا کیا، کہ بات گھوم پھر کر وہیں آگئی کہ ڈالڈا نے دیسی گھی کا روپ دھار لیا یعنی بےذوق نے اپنا نام ہی باذوق رکھ لیا سو اب اسے کون جھٹلائے۔ اب وہ ضعیف حدیث کے شجرممنوعہ ہونے کا ڈھول نہ پیٹے تو اور کیا کرے۔ لیکن البانی اینڈ کمپنی کا ارادہ تو اپنا ذوق دوسروں پر تھوپنے کا تھا اسکے لئے انکل البانی کو تیار کیا گیا اور چونکہ وہ بے چارے اناڑی محدث تھے لہذا بجائے اپنی کوئی کتاب مرتب کرنے کے انھوں نے امام بخاری کی کتابوں کے حصے بخرے کرنے کی ٹھانی اور اور یہ ظالمانہ سلوک عام محدث سے ہی نہیں بلکہ ہاتھ صاف بھی کیا تو کس پرخود امام بخاری پر۔ اور انکی مشہور زمانہ کتاب "الادب المفرد" سے موصوف نے کم وبیش 340 ایسی احادیث نکال باہر کیں جن میں انکے عقیدے کے خلاف، حضور نبی اکرم کے ہاتھ اور پاؤں چومنے کی سنت ثابت ہوتی تھی۔ امام بخاری کو بھی تو پتا تھا کہ یہ احادیث ضعیف ہیں۔ آپ کو تو یہ احادیث سننا تک گوارا نھیں اور امام بخاری انھیں باقاعدہ حدیث کی کتب میں بطور حدیث درج کرتے رہے۔ یا تو آپ چالاک ہیں یا امام بخاری بھولے تھے۔ اور نھیں تو امام بخاری ان احادیث کو دو الگ الگ کتابوں میں خود ہی بانٹ دیتے، انھیں کیا پتا تھا کہ آگے چودہ سوسال بعد لبادہ اوڑھ کر خاص اہلحدیث آنے والے ہیں جو انکی ساری غلطیاں درست کردیں گے۔

اب ذرا آجائیں ضعیف حدیث کے مفہوم کی طرف یعنی وہ حدیث جسکی سند میں کوئی ضعف پایا جائے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی تندرست انسان کو کسی بیماری کی وجہ سے ضعف آجائے۔ کیا ایسے انسان کو مردہ سمجھا جائے گا۔ کوئی بھی شخص چاہے وہ 200 سال کا انتہائی بوڑھا ہی کیوں نہ ہو اور پچاسیوں امراض میں بھی مبتلا ہو تب بھی دنیا کا کوئی ڈاکٹر یا حکیم اسے مردہ نھیں کہہ سکتا۔ جب تک اسکا آخری سانس باقی ہے اس وقت تک وہ زندہ ہی کہلائے گا۔ کیا آپ اپنے ضعیف والدین کو انکے ضعف کیوجہ سے مردہ قرار دے کر زندہ ہی دفن کرکے آجاتے ہیں۔ آپکو شاید اصول حدیث سمجھنے میں تھوڑا سی غلطی لگی ہے کہ صحیح کا لفظ اصول حدیث کے قواعد میں غلط کے مقابل نہیں بولا جاتا بلکہ یہ اصول حدیث کی ایک خاص اصطلاح ہے جو کہ اس حدیث پر بولی جاتی ہے کہ جس میں یہ پانچ خوبیاں پائی جائیں ۔۔ اول اسکی سند اول سے آخر تک متصل ہو دوم اس کے تمام روای عادل ہوں سوم تمام کے تمام ضابط ہوں چہارم حدیث شاذ نہ ہو پنجم روایت کسی بھی علت قادحہ سے پاک ہو، جسکو آپ صحت مند انسان سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ لیکن ضعیف ہمیشہ صرف ضعف کو ظاہر کرتی ہے نہ کہ مردہ۔ جبکہ جھوٹھی اور گھڑی ہوئی روایت کیلئے مردود یا موضوع کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ جسکو درج بالا مثال کیمطابق آپ مردہ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ یہی "موضوع یا مردود" وہ حقیقت ہے جسکو چھپانے کیلئے البانی اینڈ کمپنی نے امام بخاری کی کتاب کے بخیئے ادھیڑ دیئے۔ اور آپ ضعیف احادیث کو موضوع سے تبدیل کرکے انھیں گول کرنا چاہتے ہیں اور نام بھی آپ نے دیسی گھی والا یعنی اہلحدیث رکھا لیا ہے تاکہ کوئی شک نہ کرے اور آپ کو کوئی روک ٹوک نہ ہو۔

جمہور علماء، محدثین و سلف صالحین کا پوری چودہ سو سال کی تاریخ میں یہی موقف رہا اور سب ضعیف حدیث کو فضائل اور ترہیب و ترغیب کے باب میں حجت مانتے رہے۔ ضعیف حدیث عقائد و احکام کے علاوہ جمہور کے نزدیک قابل عمل ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ حرام و حلال کا معاملہ ہو تو ہم سندوں میں سختی سے کام لیتے ہیں اور جب ترغیب و ترہیب کی بات ہوتو ہم اسانید میں تساہل برتتے ہیں ،یعنی عقائد و احکام کے باب میں تشدد (یعنی سختی یعنی صرف صحیح حدیث کا قابل حجت ہونا) جب کے ترہیب و ترغیب کے باب میں تساہل (یعنی سستی و نرمی یعنی ضعیف احادیث کا بھی قابل عمل ہونا)

امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبداللہ بن احمد روایت کرتے ہیں :
سَمِعْتُ اَبِیْ يَقُوْلُ اَلْحَدِيْثُ الضَّعِيْفُ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنَ الرأیِ.
"میں نے اپنے والد (امام احمد بن حنبل) سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے رائے سے کئی زیادہ حدیثِ ضعیف محبوب ہے"۔

حنبلی اہل سنت میں سب سے زیادہ سخت مذہب تصور کیا جاتا ہے۔ انکل تیمیہ بھی کم و بیش انہی کے مقلد ہیں، وہ خود کو مجتہد کہتے ہیں مگر ان کا رجحان انہی کی تابعیت میں ہیں۔ حافظ ابن کثیر، علامہ ابن القیم،بڑے انکل محمد بن عبدالوہاب النجدی بھی اسی حنبلی مذہب پر تھے۔

امام حاکم "المدخل" میں بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل ضعیف حدیث کے حوالے سے فرماتے ہیں :
اِذِا رَوَيْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ تَشَدَّدْنَا وَاِذَا رَوْيْنَا عَن النبی فِی الْفَضَائِل الاعْمَال وَمَالا يَضَعُ حُکْمًا وَلَا يَرْفَعُ تَسَاهَلْنَا فِی الْاَسَانِيْد.
"یعنی ہم اگر حلال و حرام کے احکام کو روایت کرتے تو اسانید میں سختی اختیار کرتے اور اگر فضائل کو بیان کرتے تو ہم اسانید اور رجال میں نرمی اور ڈھیل دیتے"۔

امام ابو داؤد کا بھی ضعیف حدیث کے حوالے سے یہی مذہب ہے۔ اور اسے مجموع الفتاویٰ میں انکل تیمیہ نے جلد 18، صفحہ 52 پر لکھا ہے۔ یہ وہ مذہب ہے کہ اگر کسی ایک موضوع پر حدیث صحیح دستیاب نہ ہو تو خواہ احکام کا مسئلہ ہو، خواہ فضائل کا مسئلہ ہو تو اس موضوع پر حدیث ضعیف کو قبول کرلیا جائے گا کیونکہ حدیث ضعیف سے اوپر والے درجے کی حدیث "صحیح" یا "حسن" اس موضوع پر میسر نہیں ہے کیونکہ جب صحیح حدیث میسر نہ ہو تو پھر دو ہی صورتیں ہیں۔
1۔ حدیث ضعیف کو قبول کیا جائے۔ 2۔ اپنی رائے پر فتویٰ دیا جائے۔
پس اس صورت حال میں ان دو صورتوں میں سے امام ابو داؤد اور امام احمد بن حنبل ذاتی رائے کے مقابلے میں حدیث ضعیف کو قبول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مزید امام نسائی کا بھی یہی قول ہے۔ ۔ ۔ امام ابن ابی حاتم کا بھی یہی مذہب ہے۔ ۔ ۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ ۔ ۔ امام سرخسی (احناف) کا بھی یہی قول ہے۔ امام شافعی کا قول، امام نووی نے "کتاب الاذکار" کے اندر درج کیا ہے۔ ۔ ۔ ابن ہمام نے "فتح القدیر" میں اس کو بیان کیا ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ امام حاکم نے اپنی کتاب میں حدیث کی قبولیت اور عدم قبولیت کے باب میں اصول درج کئے ہیں کہ اگر حدیثِ صحیح میسر نہ ہو تو امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک ’’رائے‘‘ سے زیادہ بہتر ہے کہ مرسل اور ضعیف حدیث کو قبول کیا جائے۔ جس امام پر رائے کا الزام لگتا ہے، اس امام نے رائے کو سب سے آخر میں رکھا ہے، کوئی نص نہ ملے تو رائے کی طرف گئے وگرنہ امام اعظم نے حدیث ضعیف تک کو مقدم جانا۔

یہی مذہب امام سفیان ثوری کا ہے اور آپ امیرالمومنین فی الحدیث ہیں۔ آپ امام مالک (94ھ) کے زمانے میں (97ھ) میں پیدا ہوئے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت کل صحاح ستہ ان کی مرویات سے بھری پڑی ہیں۔ امام سفیان ثوری فرماتے ہیں : لَا تَاْخُذُ هٰذَا الْعِلْمَ فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَام اِلاَّمِنَ الرَّؤُوْساءِ الْمَشْهُوْرِيْنَ وَلَا بَحْثَ بِمَا سِوآء ذٰلِکَ مِنَ الْمشائِخ.
"یعنی حلال و حرام کے معالے میں بڑے ائمہ کے سواء کسی اور سے یہ علم (روایتِ حدیث) قبول نہ کرو"۔ اور اگر دیگر معاملات ہوں تو ان رؤوساء مشہورین کے علاوہ دیگر چھوٹے مشائخ ہیں (جن پر گفتگو اور طعن بھی ہو جاتی ہے) ان سے بھی حدیث قبول کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے"۔ (الکفایہ فی علم الروایہ، خطیب بغدادی)

امام سفیان بن عیینہ (107ھ) کا بھی یہی قول ہے۔ وہ احباب جن پر ضعف کا الزام تھا ان کا نام لے کر امام سفیان بن عیینہ نے کہا : وَاسْمَعُوْا مِنْه مَاکَانَ فِی ثَوَابٍ وَغَيْرِه.
"یعنی فلاں فلاں راوی جن پر ایسا طعن ہے جس سے حدیث کی سند ضعیف ہو جاتی ہے، ان سے سماع کر لیا کرو، ان کی حدیث قبول کر لیا کرو اگر ثواب، عقاب اور اس طرح کے دیگر مسائل پر روایت کریں"۔

امام عبدالرحمن بن مہدی (136ھ) کا قول بھی یہی ہے اور آپ امام بخاری و مسلم کے رجال ائمہ میں سے ہیں۔ فرماتے ہیں : اِذَا رَوَيْنَا فِی الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ وَفَضَائِلِ الْاَعْمَال تَسَاهَل فِی الْاَسَانِيْد وَسَمَّحْنَا فِی الرّجَال.
یعنی جب ہم فضائل اعمال، ثواب و عتاب کے باب میں روایت کرتے تو اسانید کے معاملے میں ڈھیل اختیار کرتے، نرمی کرتے، سختی نہیں کرتے تھے اور رجال پر جرح و تعدیل کے معاملے میں نرمی سے کام لیتے تھے، چھوٹی چھوٹی چیزوں سے درگزر کرتے تھے، ان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے درگزر کرنے سے حدیث کی سند ضعیف بنتی ہے۔

وَاِذَا رَوَيْنَا فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَالْاَحْکام تَشَدَّدْنَا فِی الْاَسَانِيْد وَانْتَقَدْنا الرِّجَال.
"یعنی اور جب حلال و حرام اور احکام کا مسئلہ آتا تو اس میں ہم اسانید کے معاملے میں سخت ہو جاتے اور رجال پر جرح و تعدیل کے معاملے میں سختی کرتے"۔

مشھور محدث حافظ سخاوی علیہ رحمہ نے امام احم، ابن معین، ابن المبارک،سفیان ثوری اور ابن عینیہ سے یہی نقل کیا ہے ۔ اور امام نووی نے تو اس پر اجماع کا دعوٰی نقل کیا ہے ۔ اور امام نووی کی الاربعین کی شرح میں ابن حجر مکی فرماتے ہیں کہ فضائل اعمال کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل پر علماء کا اتفاق ہے کیونکہ اگر وہ واقعی صحیح تھی تو اس کو اسکا حق مل گیا (یعنی اس پر عمل ہوجانے کی صورت میں) وگرنہ اس پر عمل کرنے سے نہ تو حلال کو حرام کرنا لازم آیا اور نہ ہی اس کے برعکس اور نہ ہی کسی کا حق مارا گیا۔ الغرض ضعیف حدیث کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ فضائل اور ترہیب و ترغیب میں معتبر ہے۔

امام ابن حجر عسقلانی کا بھی یہی مذہب ہے مگر آپ نے 3 شرائط لگائی ہیں۔
حدیث ضعیف سے شریعت میں اصول قائم نہ ہوں گے۔
حدیث ضعیف اس وقت قابل قبول ہوگی جب شریعت کے خلاف نہ ہو۔
اس کے ضعف میں ضعفِ شدید نہ ہو۔
ایک لطیف بات امام عسقلانی یہ بھی فرماتے ہیں کہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا مگر یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل یا قول ثابت ہوگیا بلکہ احتیاط کا عقیدہ رکھا جائے کہ اگرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن اگر اس پر عمل نہ کیا تو ممکن ہے فضیلت ترک نہ ہو جائے۔ ترک فضیلت سے بچنے کے لئے عقیدہ احتیاط کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ثبوت کا عقیدہ نہ ہو، احتیاط کا عقیدہ ہو کہ کہیں فضیلت سے محروم نہ رہ جائیں کیونکہ دونوں امکان ہیں، ممکن ہے فرمایا ہو، ممکن ہے نہ فرمایا ہو۔

سب سے بڑے انکل تیمیہ نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ فتاویٰ ابن تیمیہ جلد 18، ص 26 قسم الحدیث میں انکل کہتے ہیں کہ "اگر کوئی ضعیف راوی ہے، کثرت غلط کی بنیاد پر اپنی روایت میں غلط ہے پھر بھی غالب امر اس کا حدیث کو روایت کرنے کا صحیح ہے تو اس پر بھی اعتبار کیا جائے گا، حدیث قبول کی جائے گی اور اس کی تائید کے ساتھ ضعیف طریق بھی اٹھ کر حسن کے درجے میں چلا جائے گا"۔

یہی مذہب امام ابو ذکریا العنبری کا ہے۔
یہی مذہب امام حاکم نیشا پوری کا ہے۔
یہی مذہب امام بیہقی کا ہے۔
یہی مذہب امام ابن الکتان کا ہے۔
یہی مذہب امام شافعی کا ہے۔
امام سِلَفِیْ کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام حاکم کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام سیوطی کا مذہب بھی یہی ہے جسے التدریب میں روایت کیا ہے۔
امام ابن الصلاح کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام نووی کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام نسائی کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام سخاوی کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام ابن القیم کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام جلال الدین دوانی کا بھی یہی مذہب ہے۔

پس یہ اصل مذہب مختار ہے اس لئے بہت سی چیزیں جو فضائل کے باب میں آتی ہیں حدیثِ ضعیف کی بنیاد پر اُن پر عمل کرنا جائز ہے۔ مثلاً حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم پاک پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا، یہ حدیث بھی ضعیف ہے، "موضوع" نہیں ہے۔ فضائل اور ترغیب و ترہیب میں چونکہ حدیثِ ضعیف قبول کیا جاتا ہے۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم گرامی کو سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا جائز ہے۔

انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنے سے کئی بےذوق اختلاف کرتے ہیں مگر اس تناظر میں وہ وضوکے دوران گردن پر مسح کرنے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔ تمام مسالک کے ماننے والے وضو کے دوران گردن پر مسح کرتے ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں مگر یہ حدیث ضعیف سے ثابت ہے جبکہ گردن پر مسح کرنا، احکام کا مسئلہ ہے۔ فضائل کا مسئلہ نہیں ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ عمل کرنے پر آئیں تو حدیث ضعیف پر احکام میں بھی عمل ہو رہا ہے اور اگر تنقید کرنے پر آئیں تو فضائل میں بھی تنقید کر رہے ہیں، کیا بات ہے۔

اسی طرح زکوۃ کے تفصیلی نصاب جس حدیث میں بیان ہوئے ہیں اس حدیث کی سند ضعیف ہے حالانکہ یہ بھی احکام میں سے ہے۔ آپ تو زکوۃ بھی بالتفصیل ادا نہ کر سکیں، زکوۃ کے نصاب کی تفصیل ہمیں نہ ملے اگر سند ضعیف کا اعتبار ختم ہو جائے۔ بولو انکل
jaamsadams صاحب :
ماشاءاللہ ۔۔۔۔ کیا قلم کی روانی ہے ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
  • یہی حال ہے کہ منکرانِ حدیث نے اہلحدیث کا لبادا اوڑ لیا ہے
  • ایسے ہی مذکورہ بالا البانی نام کے صاحب ہیں۔ جو کہ اپنے علمی کارنامے سے زیادہ اپنے مشھور حدیث اسکینڈل کے سبب منظرنامے پر نظر آئے۔
  • لیکن البانی اینڈ کمپنی نے اپنے منصوبے کو عملی موم جامہ پہنانے کیلئے امام بخاری پہ ہی ہاتھ صاف کرلئے۔
  • انکل البانی کو تیار کیا گیا اور چونکہ وہ بے چارے اناڑی محدث تھے
  • یہی ہے آج کل کے ڈالڈا محدثوں کا حال
  • ڈالڈا نے دیسی گھی کا روپ دھار لیا یعنی بےذوق نے اپنا نام ہی باذوق رکھ لیا
  • جسکو چھپانے کیلئے البانی اینڈ کمپنی نے امام بخاری کی کتاب کے بخیئے ادھیڑ دیئے
  • سب سے بڑے انکل تیمیہ نے بھی
  • انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنے سے کئی بےذوق اختلاف کرتے ہیں
بس !! الفاظ بتا رہے ہیں کہ کس مکتب سے آپ اٹھ آئے ہیں۔ ہم زیادہ کیا کہیں کہ خود آپ کے الفاظ آپ کی شخصیت کے تعارف و تجزیہ کے لئے سب کو کافی ہیں۔

باقی جو علمی باتیں کاپی پیسٹ کی گئی ہیں ، وہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب بہت پہلے اپنے "دورہ مسلم شریف کی نشست" میں عرض فرما چکے ہیں اور جس کا لفظ بہ لفظ ماہنامہ منہاج القرآن ، شمارہ ستمبر 2009ء میں بعنوان "دورہ صحیح مسلم شریف (نشست پنجم۔ I)" یہاں آن لائن بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
خاطر جمع رکھئے کہ ڈاکٹر صاحب (یا ان کے گھوسٹ رائیٹرز) کی تحقیق کا جواب بھی جلد دیا جائے گا، ان شاءاللہ۔
 

شمشاد

لائبریرین
ذوق آنکُل دراصل ٹوپی گمھارہے ہیں، مسئلہ صحیح، حسن یا ضعیف کا نھیں ہے۔ اور یہ ہی مسئلہ آج کل منکران حدیث کا ہے۔ بدقسمتی سے یہ دور ہی ایسا ہے کہ دیسی گھی کو ڈالڈا بنا دیا جاتا ہے اور ڈالڈا کو دیسی گھی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی حال ہے کہ منکرانِ حدیث نے اہلحدیث کا لبادا اوڑ لیا ہے کہ اب ان کو کون جھٹلائے گا۔ ایسے ہی مذکورہ بالا البانی نام کے صاحب ہیں۔ جو کہ اپنے علمی کارنامے سے زیادہ اپنے مشھور حدیث اسکینڈل کے سبب منظرنامے پر نظر آئے۔ موصوف امام بخاری کی غلطیوں کی تصحیح کا ٹھیکہ لے بیٹھے اور پھر امام بخاری کی ادب المفرد کو کانٹ چھانٹ کر دو حصے بنا دیئے یعنی ایک جو انکے مطلب کا تھا وہ قبول ٹھرا اور دوسرا اپنے مسلک کے لئے درد سر تھا اسے کھڈے لائن لگادیا۔ یہ تو امام بخاری کی اوقات رہ گئی ہے بھائی لوگوں کے ہاں۔ اگلے فیز میں بھائی لوگوں کی ذمہ داری لگادی گئی کہ وہ ضعیف احادیث کے نا منظور کا خوب غلغلہ کریں تاکہ اسکی آڑ میں مزید لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے۔ اگرالبانی اینڈ کمپنی کو امام بخاری کی کتاب مسئلہ کرتی تھی تو موصوف اپنے نام سے کوئی حدیث کی کتاب لکھ لیتے، مثلا جامع البانی یا جامع ناصر یا جامع چھکڑانوی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن البانی اینڈ کمپنی نے اپنے منصوبے کو عملی موم جامہ پہنانے کیلئے امام بخاری پہ ہی ہاتھ صاف کرلئے۔ اور اپنے تئیں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امام بخاری شائید پیچھے غلطیاں چھوڑ گئے تھے اور یہ کہ امام بخاری کے ضعیف احادیث کو درج کرنے کے ثبوت مٹائے جائیں۔ یعنی کاندھا بخاری کا استعمال ہوجائے اور کام اپنا نکل جائے۔ یہی ہے آج کل کے ڈالڈا محدثوں کا حال کہ صحیح کرنے پر آئیں تو بخاری کو بھی درست کرکے رکھ دیں۔ امام بخاری کا الادب المفرد میں ضعیف احادیث شامل کرنا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ ان کی ہاں یہ کوئی شجرممنوعہ نھیں تھیں۔ اسی طرح بعد میں آنے والے تمام محدثین نے اپنی اپنی (نہ کہ دوسروں کی) کتابوں میں ہزارہا غیر صحیح احادیث شامل کیں۔ اور تمام محدثین کا اس امر پر اجماع رہا کہ فضائل اعمال اور ترہیب و ترغیب کے ضمن میں ضعیف احادیث قبول ہیں۔ چہ جائیکہ ان کو حکم کے ضمن میں استعمال نہ کیا جائے۔ نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ جو کہ لازمی فرائض و واجبات ہیں اور ان کا عام حکم ہے، لہذا ان کا استدلال کرتے ہوئے ضعیف حدیث سے احتیاط برتی جائے۔ لیکن اگر بات ہو فرد واحد کے اپنے ذوق کی تو وہ ان احادیث کو فضائل اعمال اور ترہیب و ترغیب کے ضمن میں نہ صرف قبول کرسکتا ہے بلکہ ان پر عمل بھی کرسکتا ہے۔ اور اسکی حیثیت فرائض و واجبات اورتاکیدی سنن کی یقینا نھیں ہوگی بلکہ اسے مستحب یا افضل گردانا جائے گا۔ اب جو باذوق ہے وہ مذکورہ احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اولیاء اکرام و بزرگان دین کے ہاتھ پیر چومنے کا عمل جاری رکھے اور بے ذوق کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ لازما ایسا ہی کرے۔ اب ہوا کیا، کہ بات گھوم پھر کر وہیں آگئی کہ ڈالڈا نے دیسی گھی کا روپ دھار لیا یعنی بےذوق نے اپنا نام ہی باذوق رکھ لیا سو اب اسے کون جھٹلائے۔ اب وہ ضعیف حدیث کے شجرممنوعہ ہونے کا ڈھول نہ پیٹے تو اور کیا کرے۔ لیکن البانی اینڈ کمپنی کا ارادہ تو اپنا ذوق دوسروں پر تھوپنے کا تھا اسکے لئے انکل البانی کو تیار کیا گیا اور چونکہ وہ بے چارے اناڑی محدث تھے لہذا بجائے اپنی کوئی کتاب مرتب کرنے کے انھوں نے امام بخاری کی کتابوں کے حصے بخرے کرنے کی ٹھانی اور اور یہ ظالمانہ سلوک عام محدث سے ہی نہیں بلکہ ہاتھ صاف بھی کیا تو کس پرخود امام بخاری پر۔ اور انکی مشہور زمانہ کتاب "الادب المفرد" سے موصوف نے کم وبیش 340 ایسی احادیث نکال باہر کیں جن میں انکے عقیدے کے خلاف، حضور نبی اکرم کے ہاتھ اور پاؤں چومنے کی سنت ثابت ہوتی تھی۔ امام بخاری کو بھی تو پتا تھا کہ یہ احادیث ضعیف ہیں۔ آپ کو تو یہ احادیث سننا تک گوارا نھیں اور امام بخاری انھیں باقاعدہ حدیث کی کتب میں بطور حدیث درج کرتے رہے۔ یا تو آپ چالاک ہیں یا امام بخاری بھولے تھے۔ اور نھیں تو امام بخاری ان احادیث کو دو الگ الگ کتابوں میں خود ہی بانٹ دیتے، انھیں کیا پتا تھا کہ آگے چودہ سوسال بعد لبادہ اوڑھ کر خاص اہلحدیث آنے والے ہیں جو انکی ساری غلطیاں درست کردیں گے۔

اب ذرا آجائیں ضعیف حدیث کے مفہوم کی طرف یعنی وہ حدیث جسکی سند میں کوئی ضعف پایا جائے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی تندرست انسان کو کسی بیماری کی وجہ سے ضعف آجائے۔ کیا ایسے انسان کو مردہ سمجھا جائے گا۔ کوئی بھی شخص چاہے وہ 200 سال کا انتہائی بوڑھا ہی کیوں نہ ہو اور پچاسیوں امراض میں بھی مبتلا ہو تب بھی دنیا کا کوئی ڈاکٹر یا حکیم اسے مردہ نھیں کہہ سکتا۔ جب تک اسکا آخری سانس باقی ہے اس وقت تک وہ زندہ ہی کہلائے گا۔ کیا آپ اپنے ضعیف والدین کو انکے ضعف کیوجہ سے مردہ قرار دے کر زندہ ہی دفن کرکے آجاتے ہیں۔ آپکو شاید اصول حدیث سمجھنے میں تھوڑا سی غلطی لگی ہے کہ صحیح کا لفظ اصول حدیث کے قواعد میں غلط کے مقابل نہیں بولا جاتا بلکہ یہ اصول حدیث کی ایک خاص اصطلاح ہے جو کہ اس حدیث پر بولی جاتی ہے کہ جس میں یہ پانچ خوبیاں پائی جائیں ۔۔ اول اسکی سند اول سے آخر تک متصل ہو دوم اس کے تمام روای عادل ہوں سوم تمام کے تمام ضابط ہوں چہارم حدیث شاذ نہ ہو پنجم روایت کسی بھی علت قادحہ سے پاک ہو، جسکو آپ صحت مند انسان سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ لیکن ضعیف ہمیشہ صرف ضعف کو ظاہر کرتی ہے نہ کہ مردہ۔ جبکہ جھوٹھی اور گھڑی ہوئی روایت کیلئے مردود یا موضوع کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ جسکو درج بالا مثال کیمطابق آپ مردہ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ یہی "موضوع یا مردود" وہ حقیقت ہے جسکو چھپانے کیلئے البانی اینڈ کمپنی نے امام بخاری کی کتاب کے بخیئے ادھیڑ دیئے۔ اور آپ ضعیف احادیث کو موضوع سے تبدیل کرکے انھیں گول کرنا چاہتے ہیں اور نام بھی آپ نے دیسی گھی والا یعنی اہلحدیث رکھا لیا ہے تاکہ کوئی شک نہ کرے اور آپ کو کوئی روک ٹوک نہ ہو۔

جمہور علماء، محدثین و سلف صالحین کا پوری چودہ سو سال کی تاریخ میں یہی موقف رہا اور سب ضعیف حدیث کو فضائل اور ترہیب و ترغیب کے باب میں حجت مانتے رہے۔ ضعیف حدیث عقائد و احکام کے علاوہ جمہور کے نزدیک قابل عمل ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ حرام و حلال کا معاملہ ہو تو ہم سندوں میں سختی سے کام لیتے ہیں اور جب ترغیب و ترہیب کی بات ہوتو ہم اسانید میں تساہل برتتے ہیں ،یعنی عقائد و احکام کے باب میں تشدد (یعنی سختی یعنی صرف صحیح حدیث کا قابل حجت ہونا) جب کے ترہیب و ترغیب کے باب میں تساہل (یعنی سستی و نرمی یعنی ضعیف احادیث کا بھی قابل عمل ہونا)

امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبداللہ بن احمد روایت کرتے ہیں :
سَمِعْتُ اَبِیْ يَقُوْلُ اَلْحَدِيْثُ الضَّعِيْفُ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنَ الرأیِ.
"میں نے اپنے والد (امام احمد بن حنبل) سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے رائے سے کئی زیادہ حدیثِ ضعیف محبوب ہے"۔

حنبلی اہل سنت میں سب سے زیادہ سخت مذہب تصور کیا جاتا ہے۔ انکل تیمیہ بھی کم و بیش انہی کے مقلد ہیں، وہ خود کو مجتہد کہتے ہیں مگر ان کا رجحان انہی کی تابعیت میں ہیں۔ حافظ ابن کثیر، علامہ ابن القیم،بڑے انکل محمد بن عبدالوہاب النجدی بھی اسی حنبلی مذہب پر تھے۔

امام حاکم "المدخل" میں بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل ضعیف حدیث کے حوالے سے فرماتے ہیں :
اِذِا رَوَيْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ تَشَدَّدْنَا وَاِذَا رَوْيْنَا عَن النبی فِی الْفَضَائِل الاعْمَال وَمَالا يَضَعُ حُکْمًا وَلَا يَرْفَعُ تَسَاهَلْنَا فِی الْاَسَانِيْد.
"یعنی ہم اگر حلال و حرام کے احکام کو روایت کرتے تو اسانید میں سختی اختیار کرتے اور اگر فضائل کو بیان کرتے تو ہم اسانید اور رجال میں نرمی اور ڈھیل دیتے"۔

امام ابو داؤد کا بھی ضعیف حدیث کے حوالے سے یہی مذہب ہے۔ اور اسے مجموع الفتاویٰ میں انکل تیمیہ نے جلد 18، صفحہ 52 پر لکھا ہے۔ یہ وہ مذہب ہے کہ اگر کسی ایک موضوع پر حدیث صحیح دستیاب نہ ہو تو خواہ احکام کا مسئلہ ہو، خواہ فضائل کا مسئلہ ہو تو اس موضوع پر حدیث ضعیف کو قبول کرلیا جائے گا کیونکہ حدیث ضعیف سے اوپر والے درجے کی حدیث "صحیح" یا "حسن" اس موضوع پر میسر نہیں ہے کیونکہ جب صحیح حدیث میسر نہ ہو تو پھر دو ہی صورتیں ہیں۔
1۔ حدیث ضعیف کو قبول کیا جائے۔ 2۔ اپنی رائے پر فتویٰ دیا جائے۔
پس اس صورت حال میں ان دو صورتوں میں سے امام ابو داؤد اور امام احمد بن حنبل ذاتی رائے کے مقابلے میں حدیث ضعیف کو قبول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مزید امام نسائی کا بھی یہی قول ہے۔ ۔ ۔ امام ابن ابی حاتم کا بھی یہی مذہب ہے۔ ۔ ۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ ۔ ۔ امام سرخسی (احناف) کا بھی یہی قول ہے۔ امام شافعی کا قول، امام نووی نے "کتاب الاذکار" کے اندر درج کیا ہے۔ ۔ ۔ ابن ہمام نے "فتح القدیر" میں اس کو بیان کیا ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ امام حاکم نے اپنی کتاب میں حدیث کی قبولیت اور عدم قبولیت کے باب میں اصول درج کئے ہیں کہ اگر حدیثِ صحیح میسر نہ ہو تو امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک ’’رائے‘‘ سے زیادہ بہتر ہے کہ مرسل اور ضعیف حدیث کو قبول کیا جائے۔ جس امام پر رائے کا الزام لگتا ہے، اس امام نے رائے کو سب سے آخر میں رکھا ہے، کوئی نص نہ ملے تو رائے کی طرف گئے وگرنہ امام اعظم نے حدیث ضعیف تک کو مقدم جانا۔

یہی مذہب امام سفیان ثوری کا ہے اور آپ امیرالمومنین فی الحدیث ہیں۔ آپ امام مالک (94ھ) کے زمانے میں (97ھ) میں پیدا ہوئے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت کل صحاح ستہ ان کی مرویات سے بھری پڑی ہیں۔ امام سفیان ثوری فرماتے ہیں : لَا تَاْخُذُ هٰذَا الْعِلْمَ فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَام اِلاَّمِنَ الرَّؤُوْساءِ الْمَشْهُوْرِيْنَ وَلَا بَحْثَ بِمَا سِوآء ذٰلِکَ مِنَ الْمشائِخ.
"یعنی حلال و حرام کے معالے میں بڑے ائمہ کے سواء کسی اور سے یہ علم (روایتِ حدیث) قبول نہ کرو"۔ اور اگر دیگر معاملات ہوں تو ان رؤوساء مشہورین کے علاوہ دیگر چھوٹے مشائخ ہیں (جن پر گفتگو اور طعن بھی ہو جاتی ہے) ان سے بھی حدیث قبول کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے"۔ (الکفایہ فی علم الروایہ، خطیب بغدادی)

امام سفیان بن عیینہ (107ھ) کا بھی یہی قول ہے۔ وہ احباب جن پر ضعف کا الزام تھا ان کا نام لے کر امام سفیان بن عیینہ نے کہا : وَاسْمَعُوْا مِنْه مَاکَانَ فِی ثَوَابٍ وَغَيْرِه.
"یعنی فلاں فلاں راوی جن پر ایسا طعن ہے جس سے حدیث کی سند ضعیف ہو جاتی ہے، ان سے سماع کر لیا کرو، ان کی حدیث قبول کر لیا کرو اگر ثواب، عقاب اور اس طرح کے دیگر مسائل پر روایت کریں"۔

امام عبدالرحمن بن مہدی (136ھ) کا قول بھی یہی ہے اور آپ امام بخاری و مسلم کے رجال ائمہ میں سے ہیں۔ فرماتے ہیں : اِذَا رَوَيْنَا فِی الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ وَفَضَائِلِ الْاَعْمَال تَسَاهَل فِی الْاَسَانِيْد وَسَمَّحْنَا فِی الرّجَال.
یعنی جب ہم فضائل اعمال، ثواب و عتاب کے باب میں روایت کرتے تو اسانید کے معاملے میں ڈھیل اختیار کرتے، نرمی کرتے، سختی نہیں کرتے تھے اور رجال پر جرح و تعدیل کے معاملے میں نرمی سے کام لیتے تھے، چھوٹی چھوٹی چیزوں سے درگزر کرتے تھے، ان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے درگزر کرنے سے حدیث کی سند ضعیف بنتی ہے۔

وَاِذَا رَوَيْنَا فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَالْاَحْکام تَشَدَّدْنَا فِی الْاَسَانِيْد وَانْتَقَدْنا الرِّجَال.
"یعنی اور جب حلال و حرام اور احکام کا مسئلہ آتا تو اس میں ہم اسانید کے معاملے میں سخت ہو جاتے اور رجال پر جرح و تعدیل کے معاملے میں سختی کرتے"۔

مشھور محدث حافظ سخاوی علیہ رحمہ نے امام احم، ابن معین، ابن المبارک،سفیان ثوری اور ابن عینیہ سے یہی نقل کیا ہے ۔ اور امام نووی نے تو اس پر اجماع کا دعوٰی نقل کیا ہے ۔ اور امام نووی کی الاربعین کی شرح میں ابن حجر مکی فرماتے ہیں کہ فضائل اعمال کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل پر علماء کا اتفاق ہے کیونکہ اگر وہ واقعی صحیح تھی تو اس کو اسکا حق مل گیا (یعنی اس پر عمل ہوجانے کی صورت میں) وگرنہ اس پر عمل کرنے سے نہ تو حلال کو حرام کرنا لازم آیا اور نہ ہی اس کے برعکس اور نہ ہی کسی کا حق مارا گیا۔ الغرض ضعیف حدیث کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ فضائل اور ترہیب و ترغیب میں معتبر ہے۔

امام ابن حجر عسقلانی کا بھی یہی مذہب ہے مگر آپ نے 3 شرائط لگائی ہیں۔
حدیث ضعیف سے شریعت میں اصول قائم نہ ہوں گے۔
حدیث ضعیف اس وقت قابل قبول ہوگی جب شریعت کے خلاف نہ ہو۔
اس کے ضعف میں ضعفِ شدید نہ ہو۔
ایک لطیف بات امام عسقلانی یہ بھی فرماتے ہیں کہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا مگر یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل یا قول ثابت ہوگیا بلکہ احتیاط کا عقیدہ رکھا جائے کہ اگرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن اگر اس پر عمل نہ کیا تو ممکن ہے فضیلت ترک نہ ہو جائے۔ ترک فضیلت سے بچنے کے لئے عقیدہ احتیاط کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ثبوت کا عقیدہ نہ ہو، احتیاط کا عقیدہ ہو کہ کہیں فضیلت سے محروم نہ رہ جائیں کیونکہ دونوں امکان ہیں، ممکن ہے فرمایا ہو، ممکن ہے نہ فرمایا ہو۔

سب سے بڑے انکل تیمیہ نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ فتاویٰ ابن تیمیہ جلد 18، ص 26 قسم الحدیث میں انکل کہتے ہیں کہ "اگر کوئی ضعیف راوی ہے، کثرت غلط کی بنیاد پر اپنی روایت میں غلط ہے پھر بھی غالب امر اس کا حدیث کو روایت کرنے کا صحیح ہے تو اس پر بھی اعتبار کیا جائے گا، حدیث قبول کی جائے گی اور اس کی تائید کے ساتھ ضعیف طریق بھی اٹھ کر حسن کے درجے میں چلا جائے گا"۔

یہی مذہب امام ابو ذکریا العنبری کا ہے۔
یہی مذہب امام حاکم نیشا پوری کا ہے۔
یہی مذہب امام بیہقی کا ہے۔
یہی مذہب امام ابن الکتان کا ہے۔
یہی مذہب امام شافعی کا ہے۔
امام سِلَفِیْ کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام حاکم کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام سیوطی کا مذہب بھی یہی ہے جسے التدریب میں روایت کیا ہے۔
امام ابن الصلاح کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام نووی کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام نسائی کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام سخاوی کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام ابن القیم کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام جلال الدین دوانی کا بھی یہی مذہب ہے۔

پس یہ اصل مذہب مختار ہے اس لئے بہت سی چیزیں جو فضائل کے باب میں آتی ہیں حدیثِ ضعیف کی بنیاد پر اُن پر عمل کرنا جائز ہے۔ مثلاً حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم پاک پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا، یہ حدیث بھی ضعیف ہے، "موضوع" نہیں ہے۔ فضائل اور ترغیب و ترہیب میں چونکہ حدیثِ ضعیف قبول کیا جاتا ہے۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم گرامی کو سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا جائز ہے۔

انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنے سے کئی بےذوق اختلاف کرتے ہیں مگر اس تناظر میں وہ وضوکے دوران گردن پر مسح کرنے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔ تمام مسالک کے ماننے والے وضو کے دوران گردن پر مسح کرتے ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں مگر یہ حدیث ضعیف سے ثابت ہے جبکہ گردن پر مسح کرنا، احکام کا مسئلہ ہے۔ فضائل کا مسئلہ نہیں ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ عمل کرنے پر آئیں تو حدیث ضعیف پر احکام میں بھی عمل ہو رہا ہے اور اگر تنقید کرنے پر آئیں تو فضائل میں بھی تنقید کر رہے ہیں، کیا بات ہے۔

اسی طرح زکوۃ کے تفصیلی نصاب جس حدیث میں بیان ہوئے ہیں اس حدیث کی سند ضعیف ہے حالانکہ یہ بھی احکام میں سے ہے۔ آپ تو زکوۃ بھی بالتفصیل ادا نہ کر سکیں، زکوۃ کے نصاب کی تفصیل ہمیں نہ ملے اگر سند ضعیف کا اعتبار ختم ہو جائے۔ بولو انکل

محترم اگر آپ نے یہ سب کہیں سے نقل کر کے چسپاں کیا ہے تو اس کا حوالہ دینا چاہیے تھا۔
 

مہوش علی

لائبریرین
میں نے اوپر ایک بہت بنیادی اور آسان سوال کیا تھا، اور دعوت دی تھی کہ اس پر غور و فکر کیا جائے۔
اور سوال یہ تھا: "آخر اللہ نے تعظیم کو روا ہی کیوں رکھا اور کیوں پچھلی شریعتوں میں سجدہ تعظیمی تک کرواتا رہا؟"

اس سوال کا جواب تو وہی حضرات دیں گے جنہیں آج تعظیمی اعمال میں ہر طرف "شرک" کی بو نظر آتی ہے، اور وہ صرف سجدہ تعظیمی کو ہی نہیں، بلکہ ہر ہر تعظیمی عمل پر انکی تیوریاں چڑھنے لگتی ہیں اور اگر کھل کر اسے شرک نہ بھی کہہ پائیں تب بھی اس کی مکمل حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

سوائے انسانوں کے ہر مخلوق رسول اللہ ص کو سجدہ تعظیمی کرتی ہے

کیا آپ جو راہب بحیرہ یاد ہے کہ جب رسول اللہ ص اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ سفر تجارت میں تھے تو اس راہب نے رسول اللہ ص کو دیکھ کہا تھا کہ وہ ان میں نبی اللہ کی نشانیاں دیکھ رہا ہے کیونکہ ہر چرند پرند و شجر رسول اللہ ص کو سجدہ کر رہے ہیں۔
میں نے پہلے ایک ڈسکشن فورم میں یہ بات کی تھی تو اس پر "سلفی" کے نام کے نک سے موجود ایک صاحب نے اس پر فورا اعتراض کیا تھا اور شرک کے وسوسے پیدا کیے تھے۔

بہرحال، ماہنامہ منہاج القران، شمارہ دسمبر 2009 میں اس مسئلے پر مزید چند روایات ملاحظہ ہوں اور صحابہ کی محبت رسول ص میں جو خواہش تھی اس پر نظر ہو۔

7.gif

8.gif

9.gif


کیا بات کہی ہے: ۔۔۔ صحابہ جانوروں درختوں کو سجدہ کرتے دیکھتے تو وہ مناظرے نہ کرتے بلکہ ان کے دل بھی سجدہ کے لئے مچل جاتے۔ ۔۔۔۔۔"
 
اس تحریر میں صرف حوالے ہی کی کمی نہیں ، تہذیب اور علمی اخلاق کی بھی کمی ہے ۔ اسلامک سٹڈیز کی ادنی طالبہ ہونے کے ناطے میں یہ ضرور پوچھنا چاہوں گی کہ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے شیخ البانی اور دوسرے علماء پر کیچڑ اچھالنا کہاں کا انصاف ہے ؟ مسٹر جیمز ایڈمز کیا اس قسم کی زبان استعمال کیے بغیر آپ اپنے علم کا اظہار نہیں کر سکتے ؟

یہی حال ہے کہ منکرانِ حدیث نے اہلحدیث کا لبادا اوڑ لیا ہے کہ اب ان کو کون جھٹلائے گا۔ ایسے ہی مذکورہ بالا البانی نام کے صاحب ہیں۔ جو کہ اپنے علمی کارنامے سے زیادہ اپنے مشھور حدیث اسکینڈل کے سبب منظرنامے پر نظر آئے۔ موصوف امام بخاری کی غلطیوں کی تصحیح کا ٹھیکہ لے بیٹھے اور پھر امام بخاری کی ادب المفرد کو کانٹ چھانٹ کر دو حصے بنا دیئے یعنی ایک جو انکے مطلب کا تھا وہ قبول ٹھرا اور دوسرا اپنے مسلک کے لئے درد سر تھا اسے کھڈے لائن لگادیا۔ یہ تو امام بخاری کی اوقات رہ گئی ہے بھائی لوگوں کے ہاں۔ اگلے فیز میں بھائی لوگوں کی ذمہ داری لگادی گئی کہ وہ ضعیف احادیث کے نا منظور کا خوب غلغلہ کریں تاکہ اسکی آڑ میں مزید لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے۔ اگرالبانی اینڈ کمپنی کو امام بخاری کی کتاب مسئلہ کرتی تھی تو موصوف اپنے نام سے کوئی حدیث کی کتاب لکھ لیتے، مثلا جامع البانی یا جامع ناصر یا جامع چھکڑانوی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن البانی اینڈ کمپنی نے اپنے منصوبے کو عملی موم جامہ پہنانے کیلئے امام بخاری پہ ہی ہاتھ صاف کرلئے۔ اور اپنے تئیں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امام بخاری شائید پیچھے غلطیاں چھوڑ گئے تھے اور یہ کہ امام بخاری کے ضعیف احادیث کو درج کرنے کے ثبوت مٹائے جائیں۔ یعنی کاندھا بخاری کا استعمال ہوجائے اور کام اپنا نکل جائے۔
۔

اور آپ ذرا اپنے اس دعوے کا ثبوت دیں ۔

موصوف امام بخاری کی غلطیوں کی تصحیح کا ٹھیکہ لے بیٹھے اور پھر امام بخاری کی ادب المفرد کو کانٹ چھانٹ کر دو حصے بنا دیئے یعنی ایک جو انکے مطلب کا تھا وہ قبول ٹھرا اور دوسرا اپنے مسلک کے لئے درد سر تھا اسے کھڈے لائن لگادیا۔ یہ تو امام بخاری کی اوقات رہ گئی ہے بھائی لوگوں کے ہاں۔
 

باذوق

محفلین
محترم اگر آپ نے یہ سب کہیں سے نقل کر کے چسپاں کیا ہے تو اس کا حوالہ دینا چاہیے تھا۔
شمشاد بھائی ! یہ نقل ہی نہیں بلکہ نقل کے نام پر اپنا دلی بغض بھی شامل کیا گیا ہے ۔۔۔۔ ذرا ذیل کی عبارتیں چیک کیجئے :

اصل عبارت :
علامہ ابن تیمیہ بھی کم و بیش انہی کے مقلد ہیں
کاپی شدہ عبارت :
انکل تیمیہ بھی کم و بیش انہی کے مقلد ہیں
اصل عبارت :
شیخ محمد بن عبدالوہاب النجدی بھی اسی حنبلی مذہب پر تھے۔
کاپی شدہ عبارت :
بڑے انکل محمد بن عبدالوہاب النجدی بھی اسی حنبلی مذہب پر تھے۔
اصل عبارت :
اور اسے مجموع الفتاویٰ میں علامہ ابن تیمیہ نے جلد 18، صفحہ 52 پر بیان کیا ہے۔
کاپی شدہ عبارت :
اور اسے مجموع الفتاویٰ میں انکل تیمیہ نے جلد 18، صفحہ 52 پر لکھا ہے۔
اصل عبارت :
علامہ ابن تیمیہ نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
کاپی شدہ عبارت :
سب سے بڑے انکل تیمیہ نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
اصل عبارت :
انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنے سے کئی احباب اختلاف کرتے ہیں
کاپی شدہ عبارت :
انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنے سے کئی بےذوق اختلاف کرتے ہیں

میرا خیال ہے کہ اصل تحریر میں اس طرح تحریف کرنے اور شر پھیلانے والوں کی خاطر خواہ سرزنش ہونی چاہئے۔ کیا منہاجین طبقہ اس طرح کی خیانت پر خاموش بیٹھے رہنے کو عین مصلحت سمجھتا ہے؟؟
 
جمہور علماء، محدثین و سلف صالحین کا پوری چودہ سو سال کی تاریخ میں یہی موقف رہا اور سب ضعیف حدیث کو فضائل اور ترہیب و ترغیب کے باب میں حجت مانتے رہے۔ ضعیف حدیث عقائد و احکام کے علاوہ جمہور کے نزدیک قابل عمل ہے۔

محترم جیمز ایڈمز ذرا اس کا حوالہ دیجیے گا ۔

امام ابن حجر عسقلانی کا بھی یہی مذہب ہے مگر آپ نے 3 شرائط لگائی ہیں۔
حدیث ضعیف سے شریعت میں اصول قائم نہ ہوں گے۔
حدیث ضعیف اس وقت قابل قبول ہوگی جب شریعت کے خلاف نہ ہو۔
اس کے ضعف میں ضعفِ شدید نہ ہو۔
ایک لطیف بات امام عسقلانی یہ بھی فرماتے ہیں کہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا مگر یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل یا قول ثابت ہوگیا بلکہ احتیاط کا عقیدہ رکھا جائے کہ اگرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن اگر اس پر عمل نہ کیا تو ممکن ہے فضیلت ترک نہ ہو جائے۔ ترک فضیلت سے بچنے کے لئے عقیدہ احتیاط کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ثبوت کا عقیدہ نہ ہو، احتیاط کا عقیدہ ہو کہ کہیں فضیلت سے محروم نہ رہ جائیں کیونکہ دونوں امکان ہیں، ممکن ہے فرمایا ہو، ممکن ہے نہ فرمایا ہو۔
یہاں آپ نے دو عدد غلط بیانیاں کی ہیں ۔ شاید اسی لیے حوالہ نہیں دیا کہ پکڑے نہ جائیں ۔
پہلی غلط بیانی:
امام ابن حجر عسقلانی کا بھی یہی مذہب ہے مگر آپ نے 3 شرائط لگائی ہیں۔
حدیث ضعیف سے شریعت میں اصول قائم نہ ہوں گے۔
حدیث ضعیف اس وقت قابل قبول ہوگی جب شریعت کے خلاف نہ ہو۔
اس کے ضعف میں ضعفِ شدید نہ ہ
و۔
بالکل غلط ۔ نہ تو ابن حجر کا یہ مسلک ہے نہ ہی انہوں نے یہ شرائط لگائی ہیں ۔ وہ اس مسلک کو بیان کرتے ہوئے اس کی شرائط کا ذکر کر رہے تھے آخر میں انہوں نے صاف صاف بتایا کہ پہلی شرط کس کی ہے ۔ اور آخری دو کس کی ہیں ۔
آپ نے بیچ میں سے عبارت غائب کر کے اپنی مرضی کا مطلب نکالا ۔ یہ علمی بد دیانتی اور شرم کی بات ہے ۔
دوسری غلط بیانی :
ایک لطیف بات امام عسقلانی یہ بھی فرماتے ہیں کہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا مگر یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل یا قول ثابت ہوگیا بلکہ احتیاط کا عقیدہ رکھا جائے کہ اگرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن اگر اس پر عمل نہ کیا تو ممکن ہے فضیلت ترک نہ ہو جائے۔ ترک فضیلت سے بچنے کے لئے عقیدہ احتیاط کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ثبوت کا عقیدہ نہ ہو، احتیاط کا عقیدہ ہو کہ کہیں فضیلت سے محروم نہ رہ جائیں کیونکہ دونوں امکان ہیں، ممکن ہے فرمایا ہو، ممکن ہے نہ فرمایا ہو۔
یہ ایک مثال ہے تحریف کی ۔
ابن حجر کی عبارت یوں ہے ۔[arabic] الثالث: أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته، لئلا ينسب إلى النبي صلى الله عليه وسلم ما لم يقله[/arabic]. (دیکھیے : القول البدیع : صفحہ 363_364)
یعنی :" تيسرى شرط یہ ہے کہ اس پر عمل کرتے وقت اس کے ثابت ہونے کا اعتقاد نہ رکھے ۔تا کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب نہ کر دے جو انہوں نے فرمائی نہ ہو ۔"

اب ذرا دونوں باتوں کے فرق پر غور فرمائیں ۔ کون سی فضیلت ؟ جب ایک بات کی نسبت ثابت ہی نہیں تو کہاں کی فضیلت ؟

یک لطیف بات امام عسقلانی یہ بھی فرماتے ہیں کہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا مگر یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل یا قول ثابت ہوگیا بلکہ احتیاط کا عقیدہ رکھا جائے کہ اگرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن اگر اس پر عمل نہ کیا تو ممکن ہے فضیلت ترک نہ ہو جائے۔ ترک فضیلت سے بچنے کے لئے عقیدہ احتیاط کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ثبوت کا عقیدہ نہ ہو، احتیاط کا عقیدہ ہو کہ کہیں فضیلت سے محروم نہ رہ جائیں کیونکہ دونوں امکان ہیں، ممکن ہے فرمایا ہو، ممکن ہے نہ فرمایا ہو۔

امام ابن حجر نے واضح لکھا ہے کہ یہ ان کی شرائط نہیں ۔ یہ ابن عبد السلام ، ابن دقیق العید اور العلائی کی ذکر کردہ شرائط ہیں ۔ یہ شرائط تجویز کی گئیں ضعیف حدیث کے فتنے سے بچنے کے لیے ۔ اور یہاں ان سے استدلال کیا جا رہا ہے ضعیف حدیث پر عمل کو درست بتانے کے لیے ؟
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔
میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ اپنی رائے ثابت کرنے کے لیے حوالوں میں ایسی توڑ مروڑ سے انسان لوگوں کے سامنے تو شاید اپنی بات درست ثابت کرنے میں کام یاب ہو سکتا ہے ۔ مگر مذہب پر عمل کا اجر تو اللہ تعالی نے دینا ہے ۔ کیا ایسی دھوکہ بازی سے ہم فرشتوں کو ۔۔جو ہمارے اعمال لکھ رہے ہیں ۔۔ دھوکہ دینا چاہتے ہیں ؟ یا اللہ تعالی کو جو ہماری نیتیں بھی جانتا ہے ؟
اگر مذہبی معاملات پر بحث کرتے وقت ہماری جستجو سچ کی تلاش کی بجائے اپنی منوانا ہے ، بھلے کس طریقے سے تو روز محشر ہم اللہ تعالی کو کیا منہ دکھائیں گے ؟
 

باذوق

محفلین
میں نے اوپر ایک بہت بنیادی اور آسان سوال کیا تھا، اور دعوت دی تھی کہ اس پر غور و فکر کیا جائے۔
اور سوال یہ تھا: "آخر اللہ نے تعظیم کو روا ہی کیوں رکھا اور کیوں پچھلی شریعتوں میں سجدہ تعظیمی تک کرواتا رہا؟"

اس سوال کا جواب تو وہی حضرات دیں گے جنہیں آج تعظیمی اعمال میں ہر طرف "شرک" کی بو نظر آتی ہے، اور وہ صرف سجدہ تعظیمی کو ہی نہیں، بلکہ ہر ہر تعظیمی عمل پر انکی تیوریاں چڑھنے لگتی ہیں اور اگر کھل کر اسے شرک نہ بھی کہہ پائیں تب بھی اس کی مکمل حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

سوائے انسانوں کے ہر مخلوق رسول اللہ ص کو سجدہ تعظیمی کرتی ہے

کیا آپ جو راہب بحیرہ یاد ہے کہ جب رسول اللہ ص اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ سفر تجارت میں تھے تو اس راہب نے رسول اللہ ص کو دیکھ کہا تھا کہ وہ ان میں نبی اللہ کی نشانیاں دیکھ رہا ہے کیونکہ ہر چرند پرند و شجر رسول اللہ ص کو سجدہ کر رہے ہیں۔
میں نے پہلے ایک ڈسکشن فورم میں یہ بات کی تھی تو اس پر "سلفی" کے نام کے نک سے موجود ایک صاحب نے اس پر فورا اعتراض کیا تھا اور شرک کے وسوسے پیدا کیے تھے۔

بہرحال، ماہنامہ منہاج القران، شمارہ دسمبر 2009 میں اس مسئلے پر مزید چند روایات ملاحظہ ہوں اور صحابہ کی محبت رسول ص میں جو خواہش تھی اس پر نظر ہو۔


کیا بات کہی ہے: ۔۔۔ صحابہ جانوروں درختوں کو سجدہ کرتے دیکھتے تو وہ مناظرے نہ کرتے بلکہ ان کے دل بھی سجدہ کے لئے مچل جاتے۔ ۔۔۔۔۔"
محترمہ !
اصل موضوع کو یوں پیچھے نہ کریں۔ میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے ابھی آپ کے مراسلہ نمبر:24 کا جواب دینا ہے۔
تب تک صبر کرنے کے بجائے یہ نئے مسئلے کیوں کھڑا کر رہی ہیں؟ اس پر براہ مہربانی علیحدہ تھریڈ لگا لیں۔
دوسری گذارش یہ ہے آپ سے کہ قادری صاحب کی فاضلانہ تحقیق کو منہاجین گروپ آف پبلیکیشنز کے لئے مخصوص رکھیں۔ یہاں آپ اس کا لنک بھی دے دیں تو کافی شافی ہوگا۔
صحابہ جانوروں درختوں کو سجدہ کرتے دیکھتے تو وہ مناظرے نہ کرتے بلکہ ان کے دل بھی سجدہ کے لئے مچل جاتے
لاحول ولا قوۃ الا باللہ !!
یہ صحابہ کرام کی ذات پر رکیک ترین الزام ہے۔ وہ صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین جنہوں نے سب سے پہلے اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ پیش کیا ، وہ صحابہ جنہوں نے اپنے ظاہر و باطن کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک قول و فعل کے تابع کر دیا تھا ، ان کے دل کی نیت کے متعلق اپنا ذاتی واہیات قیاس جوڑنا کہ ان کے دل سجدہ کے لئے مچل جاتے تھے ۔۔۔۔۔؟؟؟ استغفراللہ !!
کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ صحابہ کے دل کی نیت آج چودہ سو سال کے بعد ڈاکٹر صاحب کو کیسے معلوم ہو گئی؟ کیا کشف سے ؟؟
اگر سجدہ تعظیمی کی ممانعت سے پہلے کی روایات سے ایسا کچھ معلوم ہوتا ہے تو پھر یہ بھی کہئے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ترین حکم کے بعد کسی ایک بھی صحابی کے دل میں سجدہ کا خیال کبھی بھی نہیں آیا !
نہ صرف سجدہ تعظیمی کا خیال بلکہ اس فرمانِ نبوی کے بعد کوئی ایسی حرکت کا ظہور بھی خیرالقرون کی ان مبارک ہستیوں سے نہیں ہوا جس سے سجدہ کا ذرا سا شبہ بھی ہوتا ہو !!
 

مہوش علی

لائبریرین
محترمہ !
اصل موضوع کو یوں پیچھے نہ کریں۔ میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے ابھی آپ کے مراسلہ نمبر:24 کا جواب دینا ہے۔
تب تک صبر کرنے کے بجائے یہ نئے مسئلے کیوں کھڑا کر رہی ہیں؟ اس پر براہ مہربانی علیحدہ تھریڈ لگا لیں۔
دوسری گذارش یہ ہے آپ سے کہ قادری صاحب کی فاضلانہ تحقیق کو منہاجین گروپ آف پبلیکیشنز کے لئے مخصوص رکھیں۔ یہاں آپ اس کا لنک بھی دے دیں تو کافی شافی ہوگا۔

مجھے نہیں علم کہ چرند پرند کے رسول اللہ ص کو سجدہ تعظیمی کرنے کے متعلق احادیث کو یہاں پیش کرنے پر آپ اتنا برہم کیوں ہیں۔
اگر موضوع سے انکا براہ راست نہیں، تب بھی بالواسطہ تعلق مکمل طور پر ہے اور یہ اسی بنیادی سوال کی آگے ایکسٹنشن ہے کہ اللہ تعالی نے شعائر اللہ کی تعظیم اور پچھلی شریعتوں میں انہیں تعظیمی سجدوں کا حکم دیا ہی کیوں تھا؟
افسوس کہ بڑے بڑے محدثین نے جن روایات کو اپنی کتابوں میں سند کے ساتھ جمع کیا، آج کے دور کا ایک گروہ لمحہ بھر دیر کیے بغیر اس پر شرک کا فتوی لگاتا ہے۔
یہی حال اُس وقت ہوا جب "سلفی" صاحب نے چرند پرند کے رسول اللہ ص کو سجدہ تعظیمی کرنے پر دھڑ سے شرک کا فتوی جاری کیا۔ اور سلفی صاحب اس معاملے میں اکیلے نہیں بلکہ ایک بہت سے ہیں جو لمحہ بھر دیر کیے بغیر اس پر شرک کا فتوی لگائیں گے، اس لیے اگر اس بات کو یہاں پر بیان کر کے ثبوت کے ساتھ اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا گیا تو اس میں کون سی قیامت آ گئی؟

ہاں اگر آپ کو بھی سلفی صاحب کی طرح دعوی و عقیدہ ہے کہ یہ شرک ہے، اور آپ اس پر بحث کر کے دلائل پیش کرنا چاہتے ہیں، تو پھر کوئی مسئلہ نہیں کہ ایڈمن حضرات سے گذارش کر کے اس مواد کو نئے تھریڈ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

اور مراسلہ نمبر 24 کے لیے میں تو پہلے ہی بہت عرصے سے صبر کیے بیٹھی ہوں اور ایک لفظ نہیں کہا ہے۔ بہرحال میری درخواست ابھی تک موجود ہے کہ لوگ اس بات پر غور و فکر کریں کہ اللہ نے کیونکر پچھلی شریعتوں میں شعائر اللہ کو سجدہ تعظیمی کروایا۔

از باذوق:
لاحول ولا قوۃ الا باللہ !!
یہ صحابہ کرام کی ذات پر رکیک ترین الزام ہے۔ وہ صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین جنہوں نے سب سے پہلے اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ پیش کیا ، وہ صحابہ جنہوں نے اپنے ظاہر و باطن کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک قول و فعل کے تابع کر دیا تھا ، ان کے دل کی نیت کے متعلق اپنا ذاتی واہیات قیاس جوڑنا کہ ان کے دل سجدہ کے لئے مچل جاتے تھے ۔۔۔۔۔؟؟؟ استغفراللہ !!
کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ صحابہ کے دل کی نیت آج چودہ سو سال کے بعد ڈاکٹر صاحب کو کیسے معلوم ہو گئی؟ کیا کشف سے ؟؟
اگر سجدہ تعظیمی کی ممانعت سے پہلے کی روایات سے ایسا کچھ معلوم ہوتا ہے تو پھر یہ بھی کہئے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ترین حکم کے بعد کسی ایک بھی صحابی کے دل میں سجدہ کا خیال کبھی بھی نہیں آیا !
نہ صرف سجدہ تعظیمی کا خیال بلکہ اس فرمانِ نبوی کے بعد کوئی ایسی حرکت کا ظہور بھی خیرالقرون کی ان مبارک ہستیوں سے نہیں ہوا جس سے سجدہ کا ذرا سا شبہ بھی ہوتا ہو !!

یہ بتلائیے کہ میں نے کب صحابہ پر یہ رکیک ترین الزام لگایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ص کو کبھی سجدہ کیا؟؟؟

یہ تو آپ الٹا مجھ پر رکیک الزام لگا رہے ہیں۔

رسول اللہ ص کو سجدہ تعظیمی کرنا ایک بہت ہی Virtuous عمل ہے اور دنیا کی تمام مخلوقات (سوائے انسان کے) رسول اللہ ص کو اللہ کے حکم سے سجدہ کر رہی ہیں۔
اس عمل کی اسی فضیلت کی بنا پر صحابہ کرام کے دلوں میں بھی خواہش مچلی کہ ان جانوروں کی نسبت انکو زیادہ حق حاصل ہے کہ وہ اس فضیلت والے عمل کو انجام دیں۔ مگر پھر جب رسول اللہ ص نے یہ بات واضح فرما دی کہ ایک مصلحت کی بنا پر اس عمل کو امت محمدی کے انسانوں کے لیے منع کر دیا گیا ہے تو پھر انہوں نے اس عمل کو انجام نہیں دیا۔

میں آپ کو ہرگز اجازت نہیں دے سکتی کہ آپ میری بات کو گھما پھرا کر مجھ پر یہ رکیک الزام لگائیں کہ میں نے صحابہ پر سجدے کرنے کا الزام لگایا ہے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
یہاں آپ نے دو عدد غلط بیانیاں کی ہیں ۔ شاید اسی لیے حوالہ نہیں دیا کہ پکڑے نہ جائیں ۔
پہلی غلط بیانی:
و۔
بالکل غلط ۔ نہ تو ابن حجر کا یہ مسلک ہے نہ ہی انہوں نے یہ شرائط لگائی ہیں ۔ وہ اس مسلک کو بیان کرتے ہوئے اس کی شرائط کا ذکر کر رہے تھے آخر میں انہوں نے صاف صاف بتایا کہ پہلی شرط کس کی ہے ۔ اور آخری دو کس کی ہیں ۔

بنت حوا بہن:
کیا میں یہ امید رکھ سکتی ہوں کہ آپ بقیہ بیسیوں علماء کا بھی رد کریں گی جو کہ ضعیف حدیث پر عمل کا مؤقف رکھتے ہیں اور جن کے حوالے اوپر پوسٹ میں پیش کیے گئے ہیں؟


میں تو بہت کم علم رکھتی ہوں، مگر ہاں جو چیز سامنے آئے اُسے عقل کے میزان پر ضرور پرکھتی ہوں۔ آپ سے سوال ہے کہ ابن حجر العسقلانی کی عبارت کے اس حصے کا کیا مطلب ہے:

وقال الحافظ السخاوي في القول البديع ص 195: سمعت شيخنا مراراً يقول: (يعني الحافظ ابن حجر العسقلاني) – وكتبه لي بخطه - إن شرائط العمل بالضعيف ثلاثة:
الأول : متفق عليه، أن يكون الضعف غير شديد فيخرج من انفرد من الكذابين والمتهمين بالكذب ومن فحش غلطه .
الثاني: أن يكون مندرجاً تحت أصل عام ، فيخرج ما يخترع بحيث لا يكون له أصل أصلاً .
الثالث: أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته لئلا ينسب إلى النبي صلى الله عليه وسلم ما لم يقله. قال: الأخيران عن ابن عبد السلام وعن صاحبه ابن دقيق العيد والأول نقل العلائي الاتفاق عليه
وهذه الشروط تدل على وجوب معرفة حال الحديث وأن له أصل صحيح وهو مما يصعب الوقوف عليه من جماهير الناس.

آپ اسکا مطلب پہلے بیان کر دیجئے تاکہ بحث کو آگے بڑھایا جائے۔
 

jaamsadams

محفلین
شمشاد بھائی ! یہ نقل ہی نہیں بلکہ نقل کے نام پر اپنا دلی بغض بھی شامل کیا گیا ہے ۔۔۔۔ ذرا ذیل کی عبارتیں چیک کیجئے :

اصل عبارت :
علامہ ابن تیمیہ بھی کم و بیش انہی کے مقلد ہیں
کاپی شدہ عبارت :
انکل تیمیہ بھی کم و بیش انہی کے مقلد ہیں
اصل عبارت :
شیخ محمد بن عبدالوہاب النجدی بھی اسی حنبلی مذہب پر تھے۔
کاپی شدہ عبارت :
بڑے انکل محمد بن عبدالوہاب النجدی بھی اسی حنبلی مذہب پر تھے۔
اصل عبارت :
اور اسے مجموع الفتاویٰ میں علامہ ابن تیمیہ نے جلد 18، صفحہ 52 پر بیان کیا ہے۔
کاپی شدہ عبارت :
اور اسے مجموع الفتاویٰ میں انکل تیمیہ نے جلد 18، صفحہ 52 پر لکھا ہے۔
اصل عبارت :
علامہ ابن تیمیہ نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
کاپی شدہ عبارت :
سب سے بڑے انکل تیمیہ نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
اصل عبارت :
انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنے سے کئی احباب اختلاف کرتے ہیں
کاپی شدہ عبارت :
انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنے سے کئی بےذوق اختلاف کرتے ہیں

میرا خیال ہے کہ اصل تحریر میں اس طرح تحریف کرنے اور شر پھیلانے والوں کی خاطر خواہ سرزنش ہونی چاہئے۔ کیا منہاجین طبقہ اس طرح کی خیانت پر خاموش بیٹھے رہنے کو عین مصلحت سمجھتا ہے؟؟

یہاں تو انکل کھلوانے کو لوگ ترستے ہیں، یہ تو بھلا کیا کہ اوپر عزت کی ورنہ جو اس ٹولے نے امام بخاری کیساتھ سلوک کیا اگر انھیں اس کی سنگینی کا ذرا بھی ادراک ہو اور شرم آئے تو شاید اپنے نام میں حدیث کا لاحقہ لگانے سے توبہ کرلیں

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والے جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
 

jaamsadams

محفلین
اس تحریر میں صرف حوالے ہی کی کمی نہیں ، تہذیب اور علمی اخلاق کی بھی کمی ہے ۔ اسلامک سٹڈیز کی ادنی طالبہ ہونے کے ناطے میں یہ ضرور پوچھنا چاہوں گی کہ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے شیخ البانی اور دوسرے علماء پر کیچڑ اچھالنا کہاں کا انصاف ہے ؟ مسٹر جیمز ایڈمز کیا اس قسم کی زبان استعمال کیے بغیر آپ اپنے علم کا اظہار نہیں کر سکتے ؟
اور آپ ذرا اپنے اس دعوے کا ثبوت دیں ۔

اس میں اخلاق سے گری ہوئی بات کون سی محسوس ہوئی آپ کو؟ کیا انکل کہنا برا لگا؟ کیا تیمیہ انکل یا البانی انکل یہ بد اخلاقی ہے؟

باقی جہاں تک امام بخاری کی کتابوں سے ہیرا پھیری کا مسئلہ ہے یہ تو بہت بڑا اشو ہے اور اٹھے گا۔ اگر کوئی نہ اٹھائے یہ خود ہی اٹھے گا

البانی صاحب کو یہ سب کرنے سے پھلے سوچنا چاہے تھا کہ ان اعمال کا انجام کیا ہوگا


البانی صاحب اپنے نام سے جتنی چاہیں کتابیں لکھیں اور ان میں جو مرضی کھانٹ چھانٹ کریں، انھیں یہ حق ہر گز نھیں پہنچتا کہ امام بخری یا کسی اور سے موسوم کتاب سے کھیلنا شروع کردیں

کیا اپنا دین ثابت کرنے کیلئے اب احادیث نبوی کا انکار ہی واحد راستہ ہے ان حضرات کے پاس
اگر ایسا ہے تو پھر نام نھاد لبادہ خود ہی اتار پھینکیں اور حدیث کا مبارک نام استعمال کرکے لوگوں کو دھوکہ نہ دیں
 

jaamsadams

محفلین
امام بخاری کا الادب الفرد کی تخلیق کرنا ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ ضعیف الاسناد احادیث مبارکہ کو آپ شجر ممنوعہ ہرگز پر گز نہ سمجھتے تھے

اسے طرح بیشمار دیگر محدثیں نے بھی ہزارہا ایسی ضعیف الاسناد احادیث کو اپنی کتب میں درج کیا جنھیں یہ محڈس لوگ سننا بھی گوارا نہ کریں
آجکل حدیثوں کے نام نہاد ٹھیکیدار تو ان عظیم حضرات سے بھی افضل و اعلی ہیں شاید
 
Top