اسلام میں قدم بوسی کی روایات کا جائزہ

میں اس بد تہذیبی پر شدید احتجاج کرتی ہوں ۔ آج آپ اہل اسلام میں سے اہل الحدیث یا محدثین کا مذاق اڑا رہے ہیں ، کل جوابا کوئی اہل الفقہ یا فقھاء کا مذاق اڑائے گا تو پرسوں کوئی کسی اور کا نام رکھے گا ۔
حدث ناپاکی کو کہتے ہیں، آپ اہل حدیث سے بھی پہلے حدیث کا مذاق اڑا رہے ہیں؟ سوچا آپ نے؟ اللہ سے ڈریں ۔ روز محشر صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے ؟
میرے اساتذہ میں تقریبا ہر فقھی مسلک سے تعلق رکھنے والے شامل تھے، ہر اختلافی معاملہ زیر بحث آتا تھا ، مگر کوئی عالم کبھی بد تہذیبی کی اجازت نہیں دیتا ۔ آپ لوگوں کی اصلاح نہیں کرنا چاہتے، آپ دین کے نام پر سجنے والی محفل میں فساد ڈالنا چاہتے ہیں ۔ ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں ، تا کہ کوئی کچھ سیکھ نہ سکے ۔ جو شخص اصلاح چاہتا ہے وہ محبت اور احترام سے اپنی سناتا ہے دوسرے کی سنتا ہے ۔
آپ نے جس ہستی کے نام پر اپنا نک رکھا ہے وہ تو بت شکن کے نام سے معروف ہے جب کہ خود آپ کے اندر تعصب کا ایک سومنات قائم ہے ۔
آخر منتظمین نے اس گالی کا نوٹس کیوں نہیں لیا ؟ افسوس صد افسوس اگر ہماری اخلاقی حالت یہی رہ گئی ہے ۔
محترمہ آپکے جذبات قابلِ قدر ہیں لیکن جذبات کی رو میں بہنے سے پہلے ذرا توقف کیجئے اور پھر سے سوچ لیجئے کہ کہیں آپ اندھا دھند بہتان تو نہیں لگا رہیں؟ میری عبارت کو ذرا ہوش و حواس میں آنے کے بعد دوبارہ پڑھنے کی زحمت کرلیجئے گا۔ اس میں کہیں بھی اھلِ حدیث کا مذاق یا معاذاللہ توہین و تشنیع نہیں کی گئی ہے۔ میں نے یہ تو نہیں لکھا کہ معاذاللہ اھلِ حدیث اھلِ حدث ہیں۔:shameonyou: میں نے تو فقط یہ عرض کیا ہے کہ اھلِ حدیث میں اور اھلِ حدث میں فرق ہوتا ہے اور یہ اتنا نازک اور احتیاط کا متقاضی مقام ہے کہ اپنی بائس اور ہوا و ہوس اور انا پرستی کے زعم میں انسان اھلِ حدث میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ بات ملحوظِ خاطر نہ رکھی جائے تو بخاری پڑھنے کے باوجود سر کو بخار چڑھ سکتا ہے:) بالکل اسی طرح جیسے قرآن سے ھدایت بھی ملتی ہے اور اسی قرآن سے بہتوں کو گمراہی بھی نصیب ہوتی ہے یضلّ بہ کثیراّ و یہدی بہ کثیراّ کا یہی مطلب ہے۔ یہ بال سے زیادہ باریک مقام ہے اور تلوار سے زیادہ تیز۔ ۔لھذا جو صاحبان اپنے اپنے مسلک کے تعصّب میں اپنی مرضی سے اور اپنی مرضی کی احادیثِ رسول کو مسترد کرتے پھرتے ہیں وہ اھلِ حدث ہی ہیں اھلِ حدیث نہیں۔:)
 

نبیل

تکنیکی معاون
السلام علیکم،
میں نے اس تھریڈ میں کچھ پیغامات کو حذف کیا ہے۔ میری تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ اگر انہیں کسی بات پر اعتراض ہے تو فورم پر واویلا مچانے کی بجائے اسے رپورٹ کریں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ اپنے دلائل پیش کرتے وقت کسی ایک فرقے کو نشانہ نہیں بنائیں۔ یہاں پہلے ہی اس بات پر لاتعداد لوگ بین کیے جا چکے ہیں، اور ہم ہر مرتبہ وارننگ دینا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک البانی مقدم و محترم ہیں تو کچھ کے لیے طاہر القادری بھی اتنے ہی مقدس ہوں گے۔ ان میں سے تنقید سے کوئی بھی ماوراء نہیں ہے۔
والسلام
 
السلام علیکم
مختلف لوگ قرآن کو پڑھ کر مختلف نتائج پر پہنچتے ہیں۔ میں اپنے اللہ کے علاوہ کسی اور کے آگے جوابدہ نہیں، اور غور و فکر کرنے کے بعد میرا جو ایمان ہے، وہ مختصر الفاظ میں میں یہاں درج کر رہی ہوں۔

1۔ کیا قرآنی آیات میں (معاذ اللہ) تضاد ہے اور وہ ایک دوسرے کو جھٹلا رہی ہیں؟
اوپر قرآنی آیت پیش کی گئی:


سوال: کیا اس قرآنی آیت کا ذیل کی قرآنی آیات سے ٹکراؤ ہے؟


تو یہ ممکن نہیں ایک قرآنی آیت کو استعمال کرتے ہوئے دیگر قرآنی آیات کو جھٹلا دیا جائے۔ بلکہ یہ ہماری محدود عقلوں کا قصور ہے۔ اور یہ حدیث ہے جو ان قرآنی آیات میں سے یہ ٹکراؤ، ی تضاد دور کر رہی ہے اور ہم پر واضح کر رہی ہے کہ:

1۔ اللہ نے اپنے لیے جس سجدے کا ذکر کیا ہے، وہ "عبادت کا سجدہ" ہے، اور اس لیے انسانوں کو منع کیا جا رہا ہے کو وہ چاند و سورج کو خدا مانتے ہوئے انہیں یہ عبادت کا سجدہ نہ کریں۔

2۔ مگر دوسری تمام جگہ جہاں اولیاء اللہ کو بذات خود اللہ کی ذات حکم دے کر سجدہ کروا رہی ہے، تو وہاں پر فقط "تعظیمی سجدہ" مراد تھا۔ اور یہی حدیث رسول مزید آگے بڑھ کر واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ یہ سجدہ تعظیمی بھی آج شریعت محمدیہ میں منع کیا جا چکا ہے۔

سلام مہوش بہن،

توجہ دلانے کا شکریہ۔

یہ صرف ایک گمان ہے کہ یہ آیات ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ یہ آیات اپنی اپنی جگہ بالکل درست ہیں ۔

آپ کی پہلی مثال میں ایک خواب بیان ہورہا ہے۔ خواب میں ان بے جان اشیاء کا سجدہ کسی طور بھی ایسا سجدہ نہیں جس کی پیروی کی جائے۔ ایک شخص کا خواب ہے ۔
آپ کی دوسری مثال میں جس سجدہ کے بارے میں آپ نےلکھا ہے اس قسم کے انسانی سجدہ کی ممانعت قرآن حکیم میں آ گئی۔ اس لئے کسی بھی قسم کا سجدہ جائز نہیں۔ بے جان اشیاء ، بے زبان چرند پرند اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ نہیں کرتے ، یہ بات بہت وضاحت سے آگئی ۔ جاندار اور سمجھدار انسان کے سجدے کی ممانعت آگئی لہذا کسی قسم کا بھی سجدہ حرام قرآر پایا۔ لہذا اس میں نہ کوئی کنفیوژن ہے اور نہ ہی اس کو گڈ مڈ کرنے کی بے کار کوشش کی جانی چاہئیے۔


اس کو دوسری طرف سے دیکھئے، اللہ تعالی نے انسانوں‌کے درمیاں، احترام و تعظیم کے لئے، کسی کو سجدہ کرنے کا حکم نہیں‌دیا، صرف اور صرف سلام کرنے کا حکم دیا ۔ --- پھر اللہ تعالی نے آدم کی تمام اولادوں کو اکرام بخشا یعنی مساوی عزت سے نوازا۔ اسی لئے نہ تو رسول اکرم نے کسی کو سجدہ کیا کہ سنت بن جاتی اور نہ ہی اللہ تعالی نے کسی کی عزت کو زیادہ بنایا۔ اطاعت اور تعظیم کسی طور بھی سجدہ کی محتاج نہیں۔ اگر ایک پر زیادہ فضل ہے تو اس کے یہ معانی قطعاً نہیں کہ اس کی تعظیم، سجدہ کی حد تک کی جائے۔

اس مراسلہ میں اس اضافی آیت کا تذکرہ کیا گیا۔
[arabic]17:70 وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلاً[/arabic]
اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی

ایک انسان کا دوسرے انسان کا سجدہ ، اس آیت کی صریح خلاف ورزی ہے کہ انسانوں کو ایک دوسرے سے چھوٹا بڑا بنایا جائے۔ سجدہ جس قسم کی تعظیم و اھترام دیتا ہے وہ آج صرف اور صرف اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے۔ سر جھکانے کی جگہ سر کٹا دینے کو خوامخواہ مسلمانوں‌نے اہمیت نہیں دی۔ اس کے پیچھے مساوات اور عدل انصاف کی ڈھیر ساری آیات ہیں۔ سجدہ کی اجازت کے ساتھ ہی مساوات انسانی اور عدل و انصاف کی تمام آیات غیر ضروری ہوجاتی ہیں۔

والسلام
 

نبیل

تکنیکی معاون
jaamsadams، میں نے آپ کی پوسٹ حذف کر دی ہے۔ میں پہلے بھی گزارش کر چکا ہوں کہ کسی فرقے کو نشانہ بنائے بغیر اپنا مطلب بیان کریں۔ شکریہ۔
 

jaamsadams

محفلین
تو عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ نے عرض كيا:یارسول اللہ، كيا چيز واجب ہو گئى ؟
[/center])


جناب، سیدنا عمر فاروق کے درج بالا قول میں شرک مرک تلاش کیجئے؟؟؟

بیشتر مسلمان تو تلاش میں کامیاب نہ ہوں پر کچھ نام نھاد اور من گھڑت توحیدی ٹھیکیداروں کے دماغ میں الارم بج رہے ہوں گے، ی۔ق۔ی۔ن۔اً

کتنا ظلم اور فساد ہے کہ آج خود ساختہ توحیدی ٹھیکیدار، ی۔۔۔۔ارس۔۔۔ول اللہ کو شرک گردانتے ہیں اور صحابہ اکرام علیھم الرضوان ہمیشہ بے دھڑک یارسول اللہ کہتے۔ اور کوئی شرک مرک نہ ہوتا۔

یہی سادہ اور حقیقی اصول ہے توحید کا جو کہ صحابہ اکرام علیھم الرضوان کا تھا۔ اسکے سوا ادھر ُادھر بے مقصد ٹوپیاں گھمانا اور فلسفیانہ چکر چلانا اور شرک مرک کی گردان کرنا سب ی۔ق۔ی۔ن۔اً فساد ہے۔

کیا کسی ضعیف سے ضعیف حدیث مبارکہ میں حکم آیا کہ ی۔۔۔ارس۔۔ول اللہ کہنا شرک ہے؟ یا۔۔۔۔۔۔

پورے قرآن میں کوئی ایک آیت یا حتی کہ ایک لفظ کی کوئی آیت نھیں کہ ی۔۔۔ارس۔۔ول اللہ کہنا شرک ہے۔

قرآن تو اسکے برعکس کہیں یاعیسی تو کہیں یاموسی تو کہیں یاابراھیم اور کہیں یامریم کی گردان کررہا ہے۔

کیا یہ قرآن میں معاذ اللہ شرک کی تعلیم دی جارہی ہے؟؟؟ کیا انکے نزدیک معاذ اللہ قرآن بھی شرک کا ملغوبہ ہے؟؟؟

اسلام میں تو ہر ہر فعل اور مرحلے پر رہنمائی موجود ہے، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، چلنا، پھرنا، عبادت و ریاضت الغرض کوئی زندگی کا پہلو ایسا نھیں جس پر اسلام رہنمائی نہ کرے، حتی کہ واش روم تک جانے کا طریقہ اور آداب اور دعائیں تک بتادی جائیں لیکن اک ایسا لفظ جس سے شرک مرک ہوتا ہو اور جو کہ صحابہ اکرام میں عام مستعمل ہو اس کے بارے میں کوئی ایک لائن یا ایک حرف تک کی آیت یا کوئی حدیث حتی کہ ضعیف حدیث مبارکہ تک نہ ہو۔ کیا ایسا بودا اور بے ڈھنگا مذہب حق ہو سکتا ہے؟ یہ تو دین کم اور مزاق زیادہ نظر آتا ہے۔ یقیناً یقیناً یہ اسلام ہر گز ہر گز نھیں، بلکہ اسلام کے نام پر فساد ہی یے۔

کتنا ظلم ہے کہ قرآن و حدیث کے نام نہاد دعویدار بغیر کسی دلیل کے صرف اپنے خود ساختہ اصولوں کی بنیاد پر یارسول اللہ کو شرک قرار دے دیں اور یہ بھی نہ سوچیں کہ تمام صحابہ اکرام علیھم الرضوان کا شب و روز یہی وظیفہ و معمول رہا۔

کیا یارسول اللہ کہنے والے صحابہ اکرام علیھم الرضوان سے مطابقت رکھتے ہیں یا کہ منکران جو کہ محض اپنی من گھڑت تاویلات کی بنیاد پر صحابہ اکرام علیھم الرضوان کے واضح عمل کی مخالفت کررہے ہیں؟؟؟

کیا انکے خود ساختہ فلسفیانہ اصول ہزارہا ہزار اح۔۔ادی۔ث ن۔ب۔۔وی و آی۔۔ات ق۔۔۔۔۔رآنی پر مقدم ہیں جن میں یارسول اللہ خود صحابہ اکرام علیھم الرضوان کی زبانی مستعمل ہوا؟

کیا یہ ہے انکے دیندار ہونے کی حقیقت کہ انکا عمل صحابہ اکرام علیھم الرضوان سے متضاد ہے؟؟؟؟

بات بات پر حدیث حدیث کی رٹ لگانے والے اور اوپر سے بے دھڑک حدیث نبوی کو رد کرنے والے نام نہاد ٹھیکیداران حدیث اپنے ان مذموم حقائق کو چھپانے کیلئے بظاہر جو لبادہ اوڑھے بیٹھے ہیں وہ ہے اھ۔۔۔ل۔۔۔۔ح۔۔۔دی۔۔ث، لیکن اس کے پس پردہ جو حقیقت پنہاں ہے وہ ہے م۔۔ن۔۔ک۔۔ران ح۔۔۔دی۔۔ث۔

آخر میں تمام مسلمانوں کی خدمت میں دانائے غیوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ
[arabic]حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ عَلَى الْمِنْبَرِ
فَقَالَ إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ
وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا
رواہ بخاری و مسلم
[/arabic]
یعنی، عقبہ بن عامر روایت کرتے ہیں کہ
ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ سے) باہر تشریف لائے اور احد کے شہدا پر اس طرح نماز پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے
اور فرمایا، میں تم سے پہلے جاکر تمھارے لئے شفاعت کا سامان کروں گا، اور تم سب پر میں گواہ (شاہد) بھی رہوں گا۔ اللہ کی قسم میں اس وقت یہاں (میدان احد) سے اپنے حوض (حوض کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کئی گئی ہیں (یا مجھے زمین کی کنجیاں عطا کئی گئی ہیں)۔
اللہ کی قسم، مجھے اس بات کا کوئی خوف تک نھیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس بات کا ڈر ہے کہ تم میرے بعد دنیا کی طرف راغب ہوجاو گے۔



اسی طرح صحیح مسلم میں یہ حدیث مبارکہ ان الفاظ کیساتھ بھی آئی
[arabic]قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ
فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنَّ عَرْضَهُ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ
إِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا وَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ‏"‏‏.‏
قَالَ عُقْبَةُ فَكَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ[/arabic]
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء پر دعا کی اور آپ منبر پر تشریف فرما ہوکر اس انداز سے مخاطب ہوئے، گویا زندوں اور مردوں سے الوداعی انداز میں مخاطب ہوں۔
اور فرمایا کہ میں حوض پر تمھارا پیشرو ہوں گا جو کہ مقامات أَيلة اور جحفة کے مابین لمبائی جتنا چوڑا ہے
بیشک مجحے کوئی خوف بھی نھیں کہ تم میرے بعد شرک میں مبتلا ہو گے۔ البتہ یہ خوف ہے کہ تم دنیاوی حریص ہو گے اور آپس میں ایکدوسرے کو قتل کرو گے اور اس طرح ہلاک ہو گے جیسے تم سے پھلے والے ہلاک ہوئے۔
حضرت عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ آخری دفعہ اللہ کے رسول کو منبر پر تشریف فرما دیکھا(یعنی بعد ازاں آپ نے وصال فرمالیا)۔

یہ ہے اللہ عزوجل اور اسکے دانائے غیوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا واضع فتوی لیکن افسوس کہ ان نام نہاد ٹھیکیداران حدیث کو تو نبی برحق کی صحیح احادیث تک کا پاس نھیں، اللہ کے دانائے غیوب پیمبر تو قسم کھا کر فرمائیں کہ تم سے بعد میں شرک کا خوف تک نھیں اور یہ لوگ ہیں کہ بے دھڑک امت پر شرک کے فتوے جاری کریں-

ی۔ق۔ی۔ن۔ا اب مسئلہ ہوگا ان ٹھیکیداروں کو کہ حدیث بھی صحیح، اور ہے بھی بخاری و مسلم سے، لہذا اب کوئی نہ کوئی بہانہ تو لانا ہوگا اس کو رد کرنے کیلئے۔ ورنہ بیچارے مسلمانوں پر شرک مرک کی فتوے بازی کا دھندا کیسے چلے گا؟؟؟​

سو اب مختلف عزر تراشیں گے، ہاں یہی تو حقیقت ہے ان منافقین کی لہذا بہتر ہے کہ ان کے الزامات کا جواب بھی پیشتر ہی ذیل میں دے دیا جائے تاکہ مسلمان بھائی ان کے چکروں سے بچے رہیں۔

جواب اعتراض ۱
(یہ حدیث تو صرف صحابہ اکرام کے متعلق ہے اور آج کے امتی مسلمان اس ذیل میں نھیں آتے) یہ صرف اور صرف ان ٹھیکیداروں کا ہتھگنڈہ ہے۔ خود حدیث مبارکہ کے الفاظ واضح کررہے ہیں کہ جن امتیوں کیلئے شرک سے بچے رہنے کی تسلی دی جارہی ہے ساتھ ہی اسی جملے میں ان کے دنیا کے حرص و لالچ میں مبتلا ہونے کا بھی واضع اعلان کیا جارہا ہے۔ کیا معاذ اللہ صحابہ اکرام (بشمول ابوبکر،عمر،عثمان و علی رضی اللہ تعالی عنھما) سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ دنیا کے حرص میں مبتلا ہوسکتے تھے؟ یقینا ہر گز نھیں، بلکہ یہ حدیث کل امت کے لئے ہے۔

جواب اعتراض ۲
(اس حدیث میں جنگ جمل کی طرف اشارہ ہے کہ صحابہ اکرام آپس میں صف آراء ہوئے تھے) یہ توجیح بھی پہلی کی طرح بودی ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں واضع ہے کہ آپس کی لڑائی کی وجہ دنیاوی حرص و لالچ ہوگا۔ کیا صحابہ اکرام (بشمول حضرت عائشہ و علی رضی اللہ تعالی عنھما) کا جنگ جمل میں صف اراء ہونا بسبب دنیاوی حرص و لالچ تھا؟ نھیں، بلکہ اس جنگ کی اصل وجہ غلط فہمیاں تھیں جو کہ منافقیں نے پھیلائیں تھیں۔ لہذا اس حدیث کی مراد یقینا آج کے مسلمان ہی ہیں جو کہ دنیاوی لالچ کیوجہ سے آپس میں گھتم گھتا ہیں لیکن شرک سے الحمداللہ بچے ہوئے ہیں۔

جواب اعتراض ۳
( [arabic] قال رسول اللہ ۖ ان اخوف ما اخاف علیکم الشرک الاصغر قالو : وما الشرک الاصغر یا رسول اللہۖ ؟ قال : الریا ء[/arabic] یعنی، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تم پر شرک اصغر کا خوف ہے۔ پوچھا گیا کہ شرک اصغر کیا ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا کہ ریاکاری۔ یعنی دکھاوے کیلئے عبادت کرنا) ہاں ہاں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ یہ جو تم نے ابھی ابھی یا رسول اللہ کہا یہی ہے میرا خوف ہے اور یہ شرک اصغر ہے۔ یقینا نھیں، حتی کہ کہیں یہ فرمان تک نہ ملے گا کہ یا رسول اللہ کہنا شرک اصغر ہی ہے چہ جائیکہ اسے اکبر کہا جائے۔ بلکہ یہاں ریاکاری کی عبادت کو تمثیلا کہا گیا کہ یہ شرک اصغر ہے اور اسکا خوف ہے۔ یعنی ںبی صلی اللہ علیہ وسلم تو یا رسول اللہ کہنے کو شرک اصغر تک نہ فرمائیں اور یہ ٹھیکیدار حضرات تو اسے شرک اکبر سے کم نہ گردانیں اور پھر اوپر سے دعویدار اصلی اسلام کے۔ اور یقینا شرک اصغر سے مراد وہ شرک ہر گز نھیں جسکے بارے میں قرآن نے [arabic](إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ)[/arabic] فرمایا۔ اور جسکی معافی ہر گز نھیں۔ الحمد اللہ، اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم تو شرک عظیم سے امت کی برات کا اعلان برملا فرمارہے ہیں، یہ کیسے نام نہاد توحیدی ٹھیکیدار ہیں جو امت پر ہمہ وقت شرک کی فتوے بازی کرتے ہیں اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا پاس تک نھیں۔

جواب اعتراض ۴
(ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک دور جہالت کا شرک واپس نہ لوٹ آئے) واہ، نجدی واہ، یعنی بیچارے مسلمانوں پر فتوے بازی کا دوسرا حربہ نہ چلا تو یہی سہی۔ حالانکہ اس حدیث نبوی میں دانائے غیوب آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے واضح طور پر وقت قیامت کا ذکر فرمایا ہے۔ جو کہ یقینا بعد از آمد امام مہدی و ظہور عیسی علیہ سلام (جو کہ قیامت کے ظہور سے چالیس برس قبل ہوگا) ہوگا اور پھر آپ کا لاڈلا دجال بھی ابھی نہیں نکلا، اور ان نجدیوں کیطرف سے جسکا ساتھ نبھانے کا واضع اعلان خود احادیث نبوی میں آیا ہے۔ افسوس تم کو آج اور ابھی سے شرک مرک کے دورے پڑرہے ہیں

الغرض اس حدیث مبارکہ میں کئی ایسی باتیں ہیں تو کہ ان ٹھیکیداران کے لئے ناقابل ہضم ہیں لیکن اس سے مضمون موضوع سے ہٹ جائے گا
ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ سے) باہر تشریف لائے اور احد کے شہدا پر اس طرح نماز پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے (قبروں اور مزاروں پر جانے اور خطاب کا ثبوت)

اور فرمایا، میں تم سے پہلے جاکر تمھارے لئے شفاعت کا سامان کروں گا، (شفاعت کا ثبوت)
یاالٰہی جب حسابِ خندہ بیجا رلائے
چشمِ گریانِ شفیعِ مُر تجٰے کا ساتھ ہو

اور تم سب پر میں گواہ (شاہد) بھی رہوں گا۔ (بعد ازاں سب اعمال وغیرہ کے مشاہدے کا ثبوت)
س۔رِ ع۔رش پ۔ر ہے تِ۔ری گ۔زر دلِ ف۔رش پ۔ر ہے ت۔ِری ن۔ظ۔ر
ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں

اللہ کی قسم میں اس وقت یہاں (میدان احد) سے اپنے حوض (حوض کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ (واہ، احد سے جنت کے مشاہدے کا ثبوت)
انا اع۔ط۔ی۔ن۔ا ک ال۔ک۔وث۔ر
ساری کثرت پاتے یہ ہیں

مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کئی گئی ہیں (یا مجھے زمین کی کنجیاں عطا کئی گئی ہیں)۔ (واہ، خزانوں کے مالک ہونے کا ثبوت)
اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں نبی سرور
یہ سچ ہے نیازی ہم سرکار کا کھاتے ہیں

م۔نگ۔تےخ۔ال۔ی ہاتھ نہ ل۔وٹےک۔تنی ملی خ۔یرات نہ پ۔وچھ۔و
اُن کا کرم پھر اُن کا کرم ہےاُن کےکرم کی بات نہ پوچھو

کیا یہ من گھڑت اور نام نہاد توحیدی ٹھیکیداران قرآن میں مزکورہ انبیاء علیہ سلام کے معجزات کو دل سے تسلیم کرتے ہیں؟
یا
وہ بھی ان کے گلے میں اسی طرح اٹکتے ہیں

یہ کیسا مذہب ہے جس کو خود قرآن و حدیث کے ارشادات ہضم کرنے دشوار ہیں اور انھیں جھٹلائے بناء انکی دال نھیں گلتی، کبھی ضعیف کہکر اور کبھی کسی بہانے سے۔


ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
[arabic]ان من الشعرحکمة.(بخاری)[/arabic]
’’بے شک کچھ اشعار حکمت سے پُر ہوتے ہیں‘‘۔​
 

آبی ٹوکول

محفلین
ماشاء اللہ سبحان اللہ حجرت کی قرآن دانی کے تو ہم پہلے سے ہی قائل تھے آج جناب کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل نے بھی دل موہ لیا ۔ ۔ ۔ واہ واہ واہ واہ یعنی کے سبحان اللہ ۔ ۔ ۔

فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔

آپ کی پہلی مثال میں ایک خواب بیان ہورہا ہے۔ خواب میں ان بے جان اشیاء کا سجدہ کسی طور بھی ایسا سجدہ نہیں جس کی پیروی کی جائے۔ ایک شخص کا خواب ہے
اجی حجور سب کو معلوم ہے کہ خواب ہی تھا مگر کسی عام انسان کا خواب نہیں تھا ایک نبی کا خواب تھا اور ایک ایسے نبی علیہ السلام کا جن کو اللہ پاک نے خوابوں کی تعبیر کا خصوصی علم بھی عطا فرمایا اسی لیے تو جب حضرت یوسف کے بھائیوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور وہ سب آپکے سامنے تعظیما سجدہ میں گر گئے تو آپ نے اپنے والد محترم سے فرمایا کہ ابا جان یہی مرے خواب کی تعبیر تھی ۔جیسا کہ سورہ یوسف کی آیت نمبرسو میں حضرت یوسف کا یہ مکالمہ درج ہے ۔ ۔

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَ۔ذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ ۔
ترجمہ طاہر القادری
اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اوپر تخت پر بٹھا لیا اور وہ (سب) یوسف (علیہ السلام) کے لئے سجدہ میں گر پڑے، اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا: اے ابا جان! یہ میرے (اس) خواب کی تعبیر ہے جو (بہت) پہلے آیا تھا (اکثر مفسرین کے نزدیک اسے چالیس سال کا عرصہ گزر گیا تھا) اور بیشک میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا ہے، اور بیشک اس نے مجھ پر (بڑا) احسان فرمایا جب مجھے جیل سے نکالا اور آپ سب کو صحرا سے (یہاں) لے آیا اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد پیدا کر دیا تھا، اور بیشک میرا رب جس چیز کو چاہے (اپنی) تدبیر سے آسان فرما دے، بیشک وہی خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

آپ کی دوسری مثال میں جس سجدہ کے بارے میں آپ نےلکھا ہے اس قسم کے انسانی سجدہ کی ممانعت قرآن حکیم میں آ گئی۔ اس لئے کسی بھی قسم کا سجدہ جائز نہیں۔ بے جان اشیاء ، بے زبان چرند پرند اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ نہیں کرتے ، یہ بات بہت وضاحت سے آگئی ۔ جاندار اور سمجھدار انسان کے سجدے کی ممانعت آگئی لہذا کسی قسم کا بھی سجدہ حرام قرآر پایا۔ لہذا اس میں نہ کوئی کنفیوژن ہے اور نہ ہی اس کو گڈ مڈ کرنے کی بے کار کوشش کی جانی چاہئیے۔
حجور ہمارے مؤقف میں نہ تو کوئی کنفیوژن ہے اور نہ ہی کوئی جھول اور نہ ہی ہمارا مؤقف اپنانے سے قرآن کی ‌آیات کا آپس میں تضاد واقع ہوتا ہے جیسا کہ مہوش بہن نے بھی آپ پر الزامی سوال کیا مگر آپ سمجھ نہ پائے اور اس پر مستزاد یہ کہ آپ نے بے جان اشیاء ورسز جاندار اشیاء کی پخ ڈال کر بودھی دلیل پکڑنے کی ناکام کوشش کی ۔ ۔ ۔ میں پوچھتا ہوں جب محض سجدہ کرنا ہی شرک ٹھرا تو خواہ کوئی جاندار کرے یا بے جان کرئے ہرجگہ ہر وقت شرک ہی ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کے شرک کا وقوع محض کسی عمل کا نام نہیں جب تک کے اس عمل کے پیچھے کار فرما نظریہ کا ادراک نہ کرلیا جائے اسی لیے علماء نے سجدہ جو کہ محض ایک عمل ہے اس کی دو اقسام میں تقسیم کو خود قرآن پاک کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ ۔
پہلی قسم سجدہ تعظیمی کی ہے جو کہ ان قرآنی آیات پر مشتمل ہے کہ جس میں غیر اللہ کو سجدہ کروایا گیا جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کروانا
اور دوسری قسم سجدہ عبودیت کی ہے جو کہ فقط اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے کسی غیر اللہ کو اس عقیدے کے ساتھ روا نہیں کہ شرک ہے ۔ ۔ جیسا کہ آپ ہی کی پیش کردہ آیت میں اس بات پر قرینہ موجود ہے کہ وہاں بات ہی سجدہ عبودیت کی ہورہی ہے ۔ ۔



وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کو پیدا فرمایا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو
آیت میں ان کنتم ایاہ تعبدون کے الفاظ اس بات پر واضح قرینہ ہیں کہ یہاں ممانعت سجدہ عبودیت کی ہے

اب دونوں جگہوں پر جو فعل ہے وہ سجدہ ہی ہے اور وہ فعل اپنی ہئیت و بناوٹ و کیفیت میں دونوں جگہوں پر ایک ہی جیسا ہے فرق اگر صرف ہے تو ان دونوں سجدوں کے پیچھے اس عقیدے کا ہے جو کہ ایک جگہ محض تعظیم کا اور دوسری جگہ عبادت کا نظریہ اپنے اندر لیے ہوئے ہے ان دونوں قسم کے سجدوں میں اس فرق کے سوا دیگر کوئی بھی فرق بیان نہیں کیا جاسکتا اور اگر اس فرق کو روا نہ رکھا جائے تو پھر جتنے مرضی عقلی اور نقلی دلائل دے لیں قرآن کی‌ آیات کا تضاد ہی ثابت ہوگا ۔ ۔ ۔
اس کو دوسری طرف سے دیکھئے، اللہ تعالی نے انسانوں‌کے درمیاں، احترام و تعظیم کے لئے، کسی کو سجدہ کرنے کا حکم نہیں‌دیا، صرف اور صرف سلام کرنے کا حکم دیا ۔ --- پھر اللہ تعالی نے آدم کی تمام اولادوں کو اکرام بخشا یعنی مساوی عزت سے نوازا۔ اسی لئے نہ تو رسول اکرم نے کسی کو سجدہ کیا کہ سنت بن جاتی اور نہ ہی اللہ تعالی نے کسی کی عزت کو زیادہ بنایا۔ اطاعت اور تعظیم کسی طور بھی سجدہ کی محتاج نہیں۔ اگر ایک پر زیادہ فضل ہے تو اس کے یہ معانی قطعاً نہیں کہ اس کی تعظیم، سجدہ کی حد تک کی جائے۔

میرے محترم اس کو دوسری طرف کی بجائے تیسری اور چوتھی طرف سے بھی اگر دیکھ لیا جائے تو تب بھی آپ کے پیش کردہ عقلی دلائل محض بودھے پن کے دوجا کوئی ثمر نہ دیں گے ۔ ۔ اس میں بھلا کیا شک ہے کہ اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کی تمام اولادوں کو اکرام بخشا اور مساوی عزت سے نوازا مگر یہاں جس مساوات کی بات کی گئی ہے وہ نفس انسانیت اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے باب میں ہے وگرنہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ اللہ پاک نے انھی انسانوں میں بعض انسانوں کو اپنے لیے چن لیا اور ان سب کو تمام انسانوں پر مطلقا فضیلت عزت و شرف اور وجاہت عطا فرمائی اور پھر ان سب میں سے بھی بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ۔ ۔ باقی آپ کا یہ فرمانا محض عبث ہے کہ اطاعت اور تعظیم کسی طور بھی سجدہ کی محتاج نہیں کیونکہ یہاں پر کسی کا یہ دعوٰی ہی نہیں اور نہ ہی کسی نے اطاعت و تعظیم کا فقط سجدہ تعظیمی میں حصر کیا ہے
اس مراسلہ میں اس اضافی آیت کا تذکرہ کیا گیا۔
[arabic]17:70 وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلاً[/arabic]
اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی

ایک انسان کا دوسرے انسان کا سجدہ ، اس آیت کی صریح خلاف ورزی ہے کہ انسانوں کو ایک دوسرے سے چھوٹا بڑا بنایا جائے۔ سجدہ جس قسم کی تعظیم و اھترام دیتا ہے وہ آج صرف اور صرف اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے۔ سر جھکانے کی جگہ سر کٹا دینے کو خوامخواہ مسلمانوں‌نے اہمیت نہیں دی۔ اس کے پیچھے مساوات اور عدل انصاف کی ڈھیر ساری آیات ہیں۔ سجدہ کی اجازت کے ساتھ ہی مساوات انسانی اور عدل و انصاف کی تمام آیات غیر ضروری ہوجاتی ہیں۔


آپکے یہ تمام عقلی دلائل ناقص ہیں اور ان کا رد خود عقلی دلائل ہی کی بنا پر بے شمار دلائل سے کیا جاسکتا ہے سردست فقط اتنا ہی عرض ہے کہ اللہ تعالٰی کی عبادت کو کسی بھی ظاہری فعل کے ساتھ خاص کرنا اور پھر اسی خاص عمل میں اس کا حصر کرنا قلت فہم اور عبادت کے مفھوم سے سرا سر نا آشنائی ہے ۔ ۔ اگر فقط نماز کو ہی لیں تو نماز جو کے خالص اللہ ہی کی عبادت ہے کیا نماز محض سجدہ ہی کا نام ہے کیا نماز میں انسان اللہ کے لیے کھڑا نہیں ہوتا کبھی ہاتھ باندھ کر اور کبھی چھوڑ کر تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ عقلی دلائل کے زور سے محض سجدہ کو ہی منع فرماتے ہیں مگر غیر اللہ کے لیے کھڑا ہونے کو منع نہیں کرتے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
باتیں بہت سی کی جاسکتی ہیں مگر سمجھدار کے لیے اشارہ ہی کافی ہے جو لوگ نااہل ہوکر اہل قران بننے کی ناکام کوشش کرتے ہیں جب وہ لوگوں کو قرآن کی دعوت دیں گے تو سچ فرمایا تھا میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن خود ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ۔ ۔ والسلام
 
ّعابد بھائی آپ کی پوسٹ بہت مدلّل اور اچھی ہے ماشاء اللہ۔ میرے خیال میں اس مسئلے میں کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں ہے۔ جہاں تک جانوروں اور درختوں کی بات کی گئی ہے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کو سجدہ کررہے تھے (بحیرہ راہب کی روایت والی روایت کے مطابق) تو میرے خیال میں اس میں بھی کوئی انہونی بات نہیں ہے۔
 
ماشاء اللہ سبحان اللہ حجرت کی قرآن دانی کے تو ہم پہلے سے ہی قائل تھے آج جناب کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل نے بھی دل موہ لیا ۔ ۔ ۔ واہ واہ واہ واہ یعنی کے سبحان اللہ ۔ ۔ ۔
۔۔۔۔
باتیں بہت سی کی جاسکتی ہیں مگر سمجھدار کے لیے اشارہ ہی کافی ہے جو لوگ نااہل ہوکر اہل قران بننے کی ناکام کوشش کرتے ہیں جب وہ لوگوں کو قرآن کی دعوت دیں گے تو سچ فرمایا تھا میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن خود ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ۔ ۔ والسلام


سلام آبی ٹو کول،
میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے اتنی محنت کی کہ شکوک و ابہام پیدا ہو سکیں تاکہ ان شکوک و ابہام کو دور کیا جاسکے۔

نااہل لوگوں کے حلق سے قرآن نہیں اترتا:

سرخ شدہ حصہ آپ نے درست فرمایا کہ نا اہل لوگوں کے حلق سے قرآن نہیں اترتا۔ : اس کی مثال دیکھئے نااہل لوگوں کی اللہ تعالی پر بہتان باندھنے کی یعنی قرآن حلق سے نا اترنے کی:

24:2 [ARABIC] انِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ[/ARABIC]
Tahir ul Qadri بدکار عورت اور بدکار مرد (اگر غیر شادی شدہ ہوں) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو (شرائطِ حد کے ساتھ جرمِ زنا کے ثابت ہو جانے پر) سو (سو) کوڑے مارو (جبکہ شادی شدہ مرد و عورت کی بدکاری پر سزا رجم ہے اور یہ سزائے موت ہے) اور تمہیں ان دونوں پر (دین کے حکم کے اجراء) میں ذرا ترس نہیں آنا چاہئے اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، اور چاہئے کہ ان دونوں کی سزا (کے موقع) پر مسلمانوں کی (ایک اچھی خاصی) جماعت موجود ہو

ذرا اس آیت کو دیکھئے اور بتائیے کہ سرخ شدہ حصے اس آیت کی عربی زبان میں‌کہاں ہیں؟ نااہلی، بے ایمانی، دھوکہ بازی، جھوٹ، افترا پردازی اور اللہ تعالی پر جھوٹ‌باندھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی ایسی اعلی مثال کہاں ملے گی؟ صرف نا اہل لوگوں کے پاس سے، جن کے حلق سے قرآن نہیں اترتا، اسی لئے وہ اسرائیلی روایات کو قرآن کا حصہ بناتے ہیں۔


اب واپس اس موضوع کی طرف۔ غور سے دیکھئے کہ اللہ تعالی کیا فرما رہے ہیں۔ آیات اللہ تعالی کا فرمان ہیں۔ میری عقلی توجیہہ نہیں۔

1۔ اللہ ہی کے آگے سجدہ کر رہے ہیں سب جو ہیں زمین و آسمانوں میں:

13:15 [ARABIC]وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ[/ARABIC]
شبیر احمد: اور اللہ ہی کے آگے سجدہ کر رہے ہیں سب جو ہیں آسمانوں میں اور زمین میں خوشی سے یا زبردستی اور ان کے سایے بھی (سجدہ کرتے) ہیں صبح و شام۔
محمود الحسن: اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں خوشی سے اور زور سے اور انکی پرچھائیاں صبح اور شام
طاہر القادری: اور جو کوئی (بھی) آسمانوں اور زمین میں ہے وہ تو اﷲ ہی کے لئے سجدہ کرتا ہے (بعض) خوشی سے اور (بعض) مجبوراً اور ان کے سائے (بھی) صبح و شام (اسی کو سجدہ کرتے ہیں، تو پھر ان کافروں نے اﷲ کو چھوڑ کر بتوں کی سجدہ ریزی کیوں شروع کر لی ہے؟)
طاہر القادری نے اس آیت کا ترجمہ غیر مناسب کیا ہے ، جس سے ان کے عقائید کا اظہار ہوتا ہے۔ نااہلی کی ایک اور مثال، رنگ شدہ حصہ آیت میں موجود ہی نہیں، قرآن سچ مچ حلق سے نہیں اترتا۔


نتیجہ:
یہاں اللہ تعالی فرما رہے ہیں --- اللہ ہی کے آگے سجدہ کر رہے ہیں سب جو ہیں آسمانوں میں اور زمین میں ---
اور وہ یہودی کہہ رہا ہے کہ --- درخت و چرند و پرند رسول اللہ کو سجدہ کررہے ہیں ------

میں اللہ تعالی کو سچا مانتا ہوں۔ آپ کس کو سچ مانتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟



انسان کو حکم کہ سجدہ کس کو کیا جائے، میری عقلی توجہیہہ یا اللہ تعالی کی واضح ہدایت:
41:37 [ARABIC]وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ[/ARABIC]
اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کو پیدا فرمایا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو

نتیجہ:
اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ : جس کی عبادت کرتے ہو، اسی کو سجدہ کرو۔ اگر تم اللہ کی عبادت کرتے ہو تو صرف اللہ کو سجدہ کیا کرو۔ گویا سجدہ عبادت کی علامت ٹھیرا۔
عقلی توجیہہ: جس کی عبادت کرتے ہو اس کو سجدہ کیا کرو۔ اگر تم طاہر القادری یا کسی اور انسان کی عبادت کرتے ہو تو اس کو سجدہ کیا کرو۔


تعظیمی سجدہ ؟؟؟؟؟

مندرجہ بالاء آیت ( سورۃ الرعد، آیت نمبر 37 )‌کے نزول کے بعد کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کے اللہ کے علاوہ کسی کو بھی سجدہ کیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود بھی کچھ لوگ اپنی عبادت کروانے کے کریہہ عمل میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے لئے طرح طرح کی تاویلیں لاتے ہیں۔

درج ذیل آیات حضرت یوسف کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو یقینی طور پر اس آیت کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے۔

آئیے ان آیات کو بھی دیکھتے ہیں کہ کیا ان سے مسلمانوں کو کسی شخص کو سجدہ کرنے کی ہدایت مل رہی ہے؟
12:4 [ARABIC]إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ [/ARABIC]
(یہ اس وقت کا ذکر ہے) جب کہا یوسف نے اپنے باپ سے ابا جان! یہ واقعہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے (خواب میں) کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہے، دیکھتا ہوں میں انہیں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

کیا انسان انسانوں کو سجدہ کررہے ہیں؟ کیا انسانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ انسانوں کو سجدہ کریں؟ مجھے تو یہ حکم نظر نہیں آتا، آپ کو کیسے نظر آتا ہے؟
12:100 [ARABIC]وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَ۔ذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ[/ARABIC]
اور احترام سے بٹھایا اپنے والدین کو تخت پر اور گر پڑے سب یُوسف کے آگے سجدے میں۔ (اس وقت) یُوسف نے کہا: ابّا جان! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی (جو میں نے دیکھا تھا) پہلے۔ کر دکھایا ہے اسے میرے رب نے سچّا اور اس کا احسان ہے مجھ پر کہ نکالا اُس نے مجھے قید خانہ سے اور لے آیا آپ سب کو دیہات سے اس کے بعد کہ فساد ڈال دیا تھا شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان۔ بے شک میرا رب غیر محسوس تدبیریں کرتا ہے اپنی مشیّت (پُوری) کرنے کے لیے، بے شک وہ ہے ہر بات جاننے والا اور بڑی حکمت والا۔

نتیجہ:
جو خواب یوسف علیہ السلام نے دیکھا، اس کی تعبیر یہ نکلی کہ کچھ لوگوں نے ان کو سجدہ کیا۔ اس دور میں سجدہ تعظیمی ادا کرنے کا رواج تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کے نزول کے بعد بھی ایک انسان کو کسی دوسرے کو سجدہ کا حکم دیا گیا ہے یا پھر صرف اللہ تعالی سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے؟

میرا جواب ہے کہ صرف اللہ تعالی کو سجدے کا حکم دیا گیا ہے کہ سجدہ خواہ کسی بھی قسم کا ہو، صرف اس کو کیاجائے جس کی آپ عبادت کرتے ہیں۔ کسی قسم کے سجدہ تعظیمی کا رواج مسلمانوں میں‌ نہیں ہے۔

آپ اللہ تعالی کے اس بیان کو میری عقلی توجیہہ کہتے ہیں۔ یہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اتنی صاف اور آسان بات کو کنفیوژ اور مشکوک کرتے ہیں۔


کیا طاہر القادری صاحب کو سجدہ کرنا جائز ہے، کیا وہ یوسف علیہ السلام کی طرح کوئی نبی ہیں، کیا اللہ تعالی نے کوئی نشانی مقرر کردی ہے کہ ان صاحب کو جن کی نااہلی کی مثالیں یہاں‌درج ہیں ، سجدہ جائز قرار دیا گیا ہے؟ نعوذ باللہ۔


والسلام
 

آبی ٹوکول

محفلین
سلام آبی ٹو کول،
میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے اتنی محنت کی کہ شکوک و ابہام پیدا ہو سکیں تاکہ ان شکوک و ابہام کو دور کیا جاسکے۔

والسلام جناب خان صاحب ! میرے تو فقط آپ شکرگزار ہیں جبکہ آپ کا تو سارا زمانہ شکر گزار ہے کہ جس طرح سے آپ قرآن پاک کی خدمت کررہے ہیں اس طرح سے تو ساری امت مسلمہ میں آج تک کوئی نہ کرسکا خیر ۔ ۔ ۔ ۔


نااہل لوگوں کے حلق سے قرآن نہیں اترتا:

سرخ شدہ حصہ آپ نے درست فرمایا کہ نا اہل لوگوں کے حلق سے قرآن نہیں اترتا۔ : اس کی مثال دیکھئے نااہل لوگوں کی اللہ تعالی پر بہتان باندھنے کی یعنی قرآن حلق سے نا اترنے کی:

24:2 [arabic] انِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ[/arabic]
tahir ul qadri بدکار عورت اور بدکار مرد (اگر غیر شادی شدہ ہوں) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو (شرائطِ حد کے ساتھ جرمِ زنا کے ثابت ہو جانے پر) سو (سو) کوڑے مارو (جبکہ شادی شدہ مرد و عورت کی بدکاری پر سزا رجم ہے اور یہ سزائے موت ہے) اور تمہیں ان دونوں پر (دین کے حکم کے اجراء) میں ذرا ترس نہیں آنا چاہئے اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، اور چاہئے کہ ان دونوں کی سزا (کے موقع) پر مسلمانوں کی (ایک اچھی خاصی) جماعت موجود ہو

ذرا اس آیت کو دیکھئے اور بتائیے کہ سرخ شدہ حصے اس آیت کی عربی زبان میں‌کہاں ہیں؟ نااہلی، بے ایمانی، دھوکہ بازی، جھوٹ، افترا پردازی اور اللہ تعالی پر جھوٹ‌باندھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی ایسی اعلی مثال کہاں ملے گی؟ صرف نا اہل لوگوں کے پاس سے، جن کے حلق سے قرآن نہیں اترتا، اسی لئے وہ اسرائیلی روایات کو قرآن کا حصہ بناتے ہیں۔
میرے حجور دعوٰی آپکو خدمت قرآن کا ہے بصورت دعوت قرآن مگر حالت آپکی یہ ہے کہ بعض تکینکی امور میں بنیادی اصطلاحات سے ہی ناواقف ہیں ۔ ۔ سرخ رنگ سے نمایاں کردہ الفاظ پر اتنا " سرخ رو " ہونے کی ضرورت نہیں کہ بچہ بچہ دین کا مبتدی طالب علم بھی جانتا ہے کہ جو عبارت ترجمہ قرآن کرتے وقت بریکٹس میں لکھی جائے وہ براہ راست ترجمہ نہیں کہلاتی بلکہ اس سے تفسیری فوائد حاصل کیے جاتے ہیں ۔ ۔سو آپ کا اس قدر تردد محض عبث اور لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے ہے اب پتا نہیں یہ آپ جانکر کرتے ہیں یا پھر واقعی میں قلت مطالعہ ہے؟؟؟



اب واپس اس موضوع کی طرف۔ غور سے دیکھئے کہ اللہ تعالی کیا فرما رہے ہیں۔ آیات اللہ تعالی کا فرمان ہیں۔ میری عقلی توجیہہ نہیں۔

نتیجہ:
یہاں اللہ تعالی فرما رہے ہیں --- اللہ ہی کے آگے سجدہ کر رہے ہیں سب جو ہیں آسمانوں میں اور زمین میں ---
اور وہ یہودی کہہ رہا ہے کہ --- درخت و چرند و پرند رسول اللہ کو سجدہ کررہے ہیں ------

میں اللہ تعالی کو سچا مانتا ہوں۔ آپ کس کو سچ مانتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟

حجور ایک تو آپ نتیجے بڑی جلدی نکال لیتے ہیں ٹھریئے ابھی کچھ تؤقف فرمائیے اتنی جلدی بھی کیا ہے ؟؟؟؟
ٹھیک ہے جناب یہاں اللہ پاک یہ فرما رہا ہے کہ۔۔۔اللہ ہی کے آگے سجدہ کر رہے ہیں سب جو ہیں آسمانوں میں اور زمین میں ۔
اور نتیجہ آپ نے یہ نکالا کہ اللہ تو کہتا ہے کہ فقط مجھے ہی سجدہ کرو جبکہ روایت جو ہیں وہ غیر اللہ کو سجدے کا کہتی ہیں سو آپ چونکہ روایات ہی کو نہیں مانتے تو بھلا آپ ایک یہودی کی روایت کو کیسے مان سکتے ہیں اور وہ بھی قرآن کے مقابلے میں ؟؟ کیونکہ یہودی کہ بقول چرند و پرند رسول کو سجدہ کرتے ہیں جبکہ قرآن کہتا ہے کہ ہر شئے اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہے تو میرے حجور سردست یہودی کی تو چھوڑیئے وہ تو ٹھرا اسرائیلی اور آپ رویات کو بھی چھوڑیئے کہ ان پر تو آپکا ایمان ہی نہیں مگر جس پر ایمان ہے یعنی قرآن اس کا کیا کیجئے گا کہ جب وہی قرآن غیر اللہ کو سجدہ کرنے والی آیات بیان کرتا ہے تو پھر کدھر جائیے گا ؟ لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ اللہ ہی کی مانیئے اور اپنی پیش کردہ آیات کے ساتھ ساتھ ہم پر یہ بھی واضح فرمایئے کہ وہ اللہ جو فرشتوں کو آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ ۔ ۔اور پھر وہی اللہ جو یوسف علیہ السلام کو پہلے خواب دکھاتا ہے کہ جس میں غیر جاندار اشیاء انھے سجدہ کرتی ہیں پھر اس خواب کی تعبیر میں جاندار اشیاء یعنی ان کے بھائیوں سے انھے (یوسف علیہ السلام کو) سجدہ کرواتا ہے اور پھر اس قصے کو قرآن میں بیان کرکے احسن القصص فرماتا ہے ۔ ۔ ذرا ان آیات کو بھی ساتھ ملائیے اور پھر اپنی بیان کردہ آیات کو ان کے سامنے رکھ پھر نتائج برآمد کیجئے تو کچھ لطف بھی آئے ؟ کیوں کیا خیال ہے جناب کا ؟؟؟؟
سر دست روایات کو چھوڑیئے جناب روایات تو تمام کی تمام جناب کی نظر میں "اسرائیلیات اور مولویات " اور پتا نہیں کس کس شئے کا شاخسانہ ہیں فقط قرآن پر رہیے اس مسئلہ میں ہاں تو جناب جب آپ اللہ ہی کو سچا مانتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ آیات نہیں بیان کرتے کہ جن سے غیر اللہ کو سجدہ کرنے کی اباحت یا پھر وجوب ثابت ہوا تھا ؟؟؟؟؟کیا وہ حکم جناب کی نظر میں کسی اور اللہ نے دیا تھا کسی اور قرآن میں ؟؟؟؟؟؟
یا پھر وہ حکم بھی رب کائنات ہی کا تھا رب کائنات ہی کے نازل کردہ قرآن میں ؟؟؟ تو پھر کیا وجہ ہے کہ جناب قرآن کی ان آیات سے دور بھاگتے ہیں اور فقط انھی آیات کو پکڑ کر ہر ایک پر بے دھڑک شرک کا فتوٰی لگا دیتے ہیں ؟؟ میرا سوال آپ سمیت دنیا کے تمام نام نہاد توحید کے ٹھیکے داروں سے یہ ہے کہ

جب اللہ پاک فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کروا رہا تھا تو کیا اس وقت معاذ اللہ شرک جائز تھا ؟؟؟؟؟؟؟
اور کیا جب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انھے سجدہ کیا تو کیا اس وقت شرک جائز تھا
؟
حقیقت یہ ہے کہ شرک ہر حال میں اور ہر جگہ ہر وقت شرک ہی ہے اور سخت منع یعنی حرام بمعنٰی کفر ہے ۔ ۔ کیونکہ یہ اعتقادی معاملہ ہے یہ کوئی فروعی مسئلہ نہ تھا کہ ایک مخصوص وقت تک تو مباح رہتا( جیسے شراب ایک مخصوص وقت تک مباح تھی مگر جب اس کی حرمت کا حکم آگیا تو وہ سخت حرام ہوگئی مگر شراب پینے کو کفر یا شرک نہیں کہا جائے گا اور اگر کوئی ایسا کہے گا تو اس کے دماغ کا علاج کروایا جائے گا ) اور بعد میں اسے حرا م قرار دے دیا جاتا شرک ہمیشہ سے ہی حرام و کفر ہے اسے بھی سمجھیئے کہ ہر حرام کفر نہیں ہوتا اور ہر کفر شرک نہیں ہوتا جبکہ اس کے مقابلے میں ہر شرک ضرور بالضرور حرام بھی ہوتا ہے اور کفر بھی ۔ ۔ ۔



انسان کو حکم کہ سجدہ کس کو کیا جائے، میری عقلی توجہیہہ یا اللہ تعالی کی واضح ہدایت:
41:37 [arabic]وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ[/arabic]
اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کو پیدا فرمایا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو

نتیجہ:
اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ : جس کی عبادت کرتے ہو، اسی کو سجدہ کرو۔ اگر تم اللہ کی عبادت کرتے ہو تو صرف اللہ کو سجدہ کیا کرو۔ گویا سجدہ عبادت کی علامت ٹھیرا۔
عقلی توجیہہ: جس کی عبادت کرتے ہو اس کو سجدہ کیا کرو۔ اگر تم طاہر القادری یا کسی اور انسان کی عبادت کرتے ہو تو اس کو سجدہ کیا کرو۔


تعظیمی سجدہ ؟؟؟؟؟

مندرجہ بالاء آیت ( سورۃ الرعد، آیت نمبر 37 )‌کے نزول کے بعد کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کے اللہ کے علاوہ کسی کو بھی سجدہ کیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود بھی کچھ لوگ اپنی عبادت کروانے کے کریہہ عمل میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے لئے طرح طرح کی تاویلیں لاتے ہیں۔

تو جناب جب حجور کے نزدیک فقط سجدہ ہی علامت عبادت ٹھرتا ہے تو ہمیں یہ بھی تو بتلایئے ناں کہ جب یہی سجدہ آدم علیہ السلام کو اور یوسف علیہ السلام کو کروایا گیا تھا اس وقت یہ عبادت کیوں نہ تھا یا پھر علامت عبادت کیون نہ تھا؟ اور اگر اس وقت بھی یہ عبادت تھا تو کیا اس وقت تک غیر اللہ کی عبادت جناب کی نظر میں جائز تھی ؟ اور اگر اس وقت یہ سجدہ عبادت نہیں تھا تو پھر کیا تھا ؟؟؟؟ جو جناب کا جواب وہی ہمارا ۔ ۔ ۔ ۔




درج ذیل آیات حضرت یوسف کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو یقینی طور پر اس آیت کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے۔

آئیے ان آیات کو بھی دیکھتے ہیں کہ کیا ان سے مسلمانوں کو کسی شخص کو سجدہ کرنے کی ہدایت مل رہی ہے؟
12:4 [arabic]إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ [/arabic]
(یہ اس وقت کا ذکر ہے) جب کہا یوسف نے اپنے باپ سے ابا جان! یہ واقعہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے (خواب میں) کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہے، دیکھتا ہوں میں انہیں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

کیا انسان انسانوں کو سجدہ کررہے ہیں؟ کیا انسانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ انسانوں کو سجدہ کریں؟ مجھے تو یہ حکم نظر نہیں آتا، آپ کو کیسے نظر آتا ہے؟

گویا اس آیت کے نزول سے پہلے جناب کی نظر میں غیر اللہ کی عبادت جائز تھی لاحول ولا قوۃ یہ ہے قرآن فہمی اور قرآن دانی ۔۔ یعنی یہ خوب الٰہ ہوا کہ جو ایک مخصوص وقت تک تو اپنے ساتھ عبادت میں مخلوق بھی روا رکھے اور پھر اچانک سے اسے نہ جانے کیا ہو کہ وہ کہدے کہ بسسس بھئی بس بہت ہوگیا آج کے بعد سے مجھے اپنی ذات میں شرک منظور نہیں (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ )

پہلے تو حجور یہ بتائیے کہ قرآن پاک سے کسی بھی حکم کو اخذ کرنے کے کتنے طریقے ہیں اور ان طریقوں سے کس کس درجے میں حکم کا استنباط کیا جاتا ہے (فیر اغلی گل میں بعد وچ کرنا واں)
میرے حجور کافی بیوقوف بنا لیا آپ نے لوگوں کو مگر اب نہیں ۔ ۔ ۔ ۔اب آپ کے ڈھول کا پول سب کے سامنے آپکی قرآں دانی کی صورت میں کھل ہی چکا ہے ۔ ۔ لہزا اب نووووووووووو ۔ ۔



جو خواب یوسف علیہ السلام نے دیکھا، اس کی تعبیر یہ نکلی کہ کچھ لوگوں نے ان کو سجدہ کیا۔ اس دور میں سجدہ تعظیمی ادا کرنے کا رواج تھا۔

مبارک ہو جناب کو کہ کافی لیت و لعل سے کام لینے کے بعد آخر کار جناب کو بھی یہ ماننا پڑا کہ ایک مخصوص وقت جو سجدہ جائز تھا وہ سجدہ تعظیمی تھا ۔ ۔ ویسے میرے حجور یہ تعبیر خود بخود نہیں نکلی تھی یہ ایک پیغمبر کے خواب کی تعبیر تھی اور اس پیغمبر کو خوابوں کی تعبیر کا خصوصی علم اللہ پاک نے ہی عطا فرمایا تھا سو یہ اللہ ہی کی بتائی ہوئی تعبیر تھی ۔ ۔


سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کے نزول کے بعد بھی ایک انسان کو کسی دوسرے کو سجدہ کا حکم دیا گیا ہے یا پھر صرف اللہ تعالی سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے؟
میرے حجور اس سوال کا مقصد ؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا کسی اک یہان یہ دعوٰی ہے کہ سجدہ تعظیمی اب بھی جائز ہے ؟؟؟
کیا یہاں سجدہ تعظیمی کے موجودہ دور میں جواز اور عدم جواز پر گفتگو ہورہی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟ افسوس صد افسوس پوری امت کو دعوت قرآن دینے والوں کا یہ فہم ہے کہ گفتگو کے عنوان ہی کی سمجھ نہیں اور طغرہ دعوت الی القرآن کا لگا رکھا ہے ۔ ۔
میرے حجور یہاں تو گفتگو اس باب میں ہورہی تھی کے بعض عاقبت نا اندیشوں نے اول تو قدم بوسی کو سجدہ قرار دیا اور پھر سجدے ہی کو براہ راست بغیر کسی تقسیم کے سجدہ عبودیت قرار دے کر امت پر شرک کا فتوٰی لگا دیا لہزا اس ضمن میں گفتگو تھی کہ اول تو قدم بوسی سجدہ نہیں اور اگر سجدہ ہی ہو تو پھر یہ بھی طے کرنا پڑے گا کے کونسا سجدہ تعظیمی یا عبودیت ؟؟
اگر تو تعظیمی ہے تو سخت حرام و ممنوع بالاتفاق جمہور امت
اور اگر عبودیت ہے تو سخت حرام کفر و شرک بالاجماع تمام امت

آپ اللہ تعالی کے اس بیان کو میری عقلی توجیہہ کہتے ہیں۔ یہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اتنی صاف اور آسان بات کو کنفیوژ اور مشکوک کرتے ہیں۔


کیا طاہر القادری صاحب کو سجدہ کرنا جائز ہے، کیا وہ یوسف علیہ السلام کی طرح کوئی نبی ہیں، کیا اللہ تعالی نے کوئی نشانی مقرر کردی ہے کہ ان صاحب کو جن کی نااہلی کی مثالیں یہاں‌درج ہیں ، سجدہ جائز قرار دیا گیا ہے؟ نعوذ باللہ۔
حجور دھیرج رکھیئے ابھی تو آپکو بہت کام کرنا ہے امت کو گمراہ کرنے کے لیے ابھی سے آپ حَواس باخْتَہ ہوگئے تو یہ اتنی کٹھن زمہ داری کون سنبھالے گا؟؟؟؟؟
میرے حجور کس نے کہا کہ طاہر القادری کو سجدہ کرنا جائز ہے اور کس نے کہا کہ وہ یوسف علیہ السلام کی طرح نبی ہیں ؟؟؟

مگر آپ کی اس بات سے آپ کی قرآن دانی اور مزید نکھر کر سامنے آگئی کہ سجدہ کی حرمت کے اس دور میں ممانعت کے باوجود آپکا فہم آپ پر یہ روشن کرتا ہے کہ اگر کوئی نبی ہو (معاذاللہ ) اس دور میں بھی تو اسے سجدہ جائز ہوگا ۔۔ یہ ہے اصل میں نااہل قرآن کی قران فہمی اور قرآن دانی ۔ ۔۔ نعوذ باللہ من زالک

ِِ
 
اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کو پیدا فرمایا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو

بحث کا یہ وہ مقام ہے جہاں سب کچھ واضح ہے۔ لہذا اس پر مزید تبصرہ اب بے کار ہے۔

ہم کو چاہئیے کہ اس کو قدم بوسی کے نام پر سجدہ کریں جس کی ہم عبادت کرتے ہیں۔ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں ۔ آپ کس کی عبادت کرتے ہیں ہیں ؟ اس کو سجدہ کرنے کو قدم بوسی کا نام دیجئے یا کوئی اور نام۔ جس کی عبادت اس کو سجدہ۔

والسلام
 
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو مومنین کیلئے رؤوف و رحیم تھے وہ تو دنیا سے پردہ فرمانے سے پہلے صحابہ سے یہ فرمائیں کہ مجھے اپنی امت کیلئے یہ اندیشہ نہیں کہ وہ شرک میں مبتلا ہوجائے گی، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ امت دنیا کی محبت میں گرفتار ہو کر موت سے ڈرنے لگے گی۔ ۔ ۔ لیکن یار لوگ ہیں کہ انکو دنیا میں اور خاص طور پر مسلمانوں میں سوائے شرک کے کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ ۔ ۔گویا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ معاذاللہ رسولِ پاک کو نہیں پتہ تھا کہ بعد میں کیا ہونے والا ہے ہم سے پوچھیں ہم بتاتے ہیں۔:shameonyou:
بات بات پر شرک کا ماتھا ٹھنک جاتا ہے۔ ۔شعائر اللہ کی تعظیم کو شرک کا نام دیدیا گیا ہے۔ مسلمان کی روحانیت کا گلہ گھونٹنے کا اچھا طریقہ نکالا ہے۔ شرک جسے نجاست کہا گیا ہے اور جو ناقابلِ معافی جرم ہے اسکو اتنا سستا بنا دیا گیا ہے کہ بات بات پر شرک ۔ مفت میں لے لو شرک۔ ۔ ۔ ۔بھائی عمل کوئی بھی بذاتِ خود شرک نہیں ہوتا ہاں انسان کا زاویہءِ نگاہ مشرکانہ ہو سکتا ہے۔ رسولِ پاک نے کعبے میں سے بتوں کو فتحِ مکّہ کے بعد نکالا تھا لیکن انکی حیاتِ مبارکہ کے 62 سالوں کے دوران یہ بت کعبے کے اندر ہی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے جلیل القدر صحابہ اس دوران میں اسی کعبے کا طواف بھی کرتے رہے، اسی کعبے کی طرف منہ کر کے نمازیں بھی پڑھتے رہے، عمرے بھی کرتے رہے، حج بھی ہوتا رہا۔ ۔ تو کیا نعوذباللہ وہ سب غلط ہوگیا؟؟؟؟کیا کوئی عقل کا اندھا یہ کہہ سکتا ہے کہ معاذ اللہ وہ لوگ بتوں کے گرد گھوم رہے تھے۔ ۔ ۔ شرک کو یار لوگوں نے مذاق سمجھ لیا ہے۔ یہ شرک وہ شرک جدھر دیکھو شرک ہی شرک۔
 

باذوق

محفلین
شمشاد بھائی۔ اس تھریڈ کے لیے میرے کوئی 2 مراسلے لکھے جانا باقی ہیں۔ اگر آپ تھریڈ لاک کر دیتے ہیں تو پھر میں ذاتی پیغام سے آپ کو بھیج دوں گا۔
 
بھائی شمشاد ،

جس جس کے پاس نکات مکمل ہوتے جائیں، وہ خاموش ہوتا جائے۔ بات کو دہرانے کا کوئی فائیدہ تو ہوتا نہیں۔ لیکن تھریڈ کو مقفل نہیں کیجئے۔ صرف بدتمیزی کو باہر رکھئے۔ تنقید و تائید دونوں ایک صحتمندانہ عمل ہیں۔

والسلام
 

شمشاد

لائبریرین
فاروق بھائی تعمیری قسم کی بحث ہو تو سو بسم اللہ

اگر بحث برائے بحث جاری رکھنی ہے تو کوئی فائدہ نہیں۔
 
شمشاد بھائی،
جی بہت شکریہ، اس میں ‌اب مزید تعمیری پہلو نظر کوئی آتا نہیں۔
آپ کی صوابدید پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اگر باذوق صاحب کو نکات پورے کرلینے دیں تو بہت بہتر ہوگا۔

والسلام
 

jaamsadams

محفلین
بھائی دھاگا سمیٹنے سے پہلے کوئی فیصلہ تو ہو جائے کہ کون صحیح اور کون غلط

اصل موضوع اس دھاگے کا دست و قدم بوسی سے متعلق تھا

اسکے حق میں بے شمار احادیث نبوی پیش کی گئیں، آیا اس کے رد میں کوئی ایک حدیث، چاہے ضعیف سے ضعیف حدیث ہی کیوں نہ ہو لائی گئی؟؟؟ کم سے کم کوئی ایک حدیث تو لائی جائے، اگر صحیح نہیں تو ضعیف ہی لے آئیں۔ صرف منطقوں اور قیاس آرائیوں سے تو دست و قدم بوسی کو گناہ نہیں کہا جاسکتا۔​

کوئی ایسی ایک حدیث جس میں کہا گیا ہو یا کہ یہ مفہوم ہو کہ "قدم و دست بوسی شرک ہے"؟؟؟​

پھر امت مسلمہ کی شرک سے محفوظ رہنے پر بخاری و مسلم سے احادیث پیش کئی گئیں جو کہ قدم و دست بوسی کے شرک نہ ہونے کو مزید قطعی کررہی ہیں۔ کیا آپ انکو صرف اپنی منطق و قیاس آرائیوں کے بل بوتے پر زائل کردیں گے؟؟؟ آپ کو چاہے کہ امت کے شرک میں مبتلا ہونے پر کوئی ایک اگر صحیح نہیں تو ضعیف حدیث ہی پیش کریں تاکہ آپ کی منطق میں تھوڑی سی جان آئے۔​

کوئی ایک ایسی حدیث جس میں کہا گیا ہو یا کہ یہ مفہوم ہو کہ "میری امت شرک کرے گی"؟؟؟​

اسی طرح ضعیف احادیث کے حکم میں پوری اسلامی تاریخ کے ہر دور کے آئمہ و اسلاف کے اقوال بھی پیش کردیئے گئے، اب اگر آپ کوئی ایک آدھ حدیث پیش کریں جو کہے کہ ضعیف حدیث قطعی منسوخ ہے تو پھر ہی ان آئمہ کے اقوال کو رد کہا جاسکتا ہے۔ اور امام بخاری و مسلم و آئمہ صحاح ستہ و دیگر محدثین کی کتابوں میں درج کردہ لاکھوں ضعیف احادیث جنھیں کہ آپ خارج کرنے کے شدید خواہش مند ہیں، شاید ہم بھی آپ کا ساتھ دے سکیں پھر اور یوں آپکی بھی دال گل جائے۔​

کوئی ایسی ایک حدیث جس میں کہا گیا ہو یا کہ یہ مفہوم ہو کہ "ضعیف احادیث قطعا منسوخ ہیں"؟؟؟​

افسوس تو یہی ہے کہ الزام تو دوسروں پر لگاتے ہیں کہ وہ احادیث کے بجائے قیاس آرائی کی پیروی کرتے ہیں لیکن حقیقت میں اس ساری گفتگو کے دوران آپ کے سارے دلائل ذاتی منطقوں اور قیاس آرائیں پر مبنی رہے۔ لاکھوں کروڑوں ذخیرہ احادیث میں سے اگر درج بالا درکار احادیث ڈھونڈ نکال لائیں تو پھر آپ کی ہی مان لی جائے شاید

اتنی منطقیں لڑانے اور بحث مباحثے کرنے کے بعد ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جانے کا کیا فائدہ، کل کوئی صاحب پھر چنگاری دکھا دیں گے اور پھر مباحثے اور بحث کا سلسلہ نکل پڑے گا اور آخر میں پھر سارے ٹھنڈے ہو کر چپ ہو جائیں گے
 
بھائی بہت سی باتیں اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتی ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ بحث سوچوں کی تعمیر کرتی ہے۔

قدم بوسی خطرناک حد تک سجدہ سے مماثلت رکھتی ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک دیگر انسانوں کو سجدہ تعظیمی جائز ہے۔ کچھ لوگ دیگر انسانوں کسی قسم کے سجدہ کو بھی ناجائز سمجھتے ہیں ۔ اس کے بارے میں آیات شئیر کردی ہیں۔ اب مسلمان‌خود فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس کا دل کیا مانتا ہے۔

دست بوسی ایک عام روایت ہے لیکن قدم بوسی کے بارے میں میں نے پہلی بار سنا۔ جو ویڈیو میرے پاس ہے اور میں‌ شئر بھی کرچکا ہوں اس میں قدم بوسی، سجدہ نظر آتی ہے۔ قدم بوسی تو دور کی بات ہے ، میں کسی کو پاؤں چھونے تک کا مشورہ اور اجازت نہ دوں۔

والسلام
 
Top