اب کی بار مل کے یوں سالِ نو منائیں گے ۔ فاتح الدین بشیر

فرخ منظور

لائبریرین
جناب من! بہت بہت شکریہ پسندیدگی کا۔ کوشش کرتا ہوں مل جائے ورنہ خوامخواہ دو اشعار گھڑنے پڑ جائیں گے۔:)
قبلہ! مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ 'میرا' کلام کیسے محفوظ کرتے ہیں۔ (موٹر وے سے آپ کو فون کیا تھا۔۔۔ یاد آیا؟;))

تمہیں یاد سب ہے ذرا ذرا ہمیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو- :) قبلہ موبائل پر آپ کو پتہ ہی ہے بندہ کس حال میں ہوتا ہے - آپ نے اس وقت مجھے وہ اشعار لکھوائے تھے جب میں ایک دوست کی طرف تھا اور اسکے گھر ہی لکھے تھے اور وہ کاغذ معلوم نہیں‌ کیا ہوا - بہرحال معذرت آئیندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا اور اسے مقدس صحیفے کی طرح سینے سے لگا کر رکھوں گا - :)
 

مغزل

محفلین
بہت شکریہ محمود مغل صاحب۔ آپ کا حسنِ نظر ہے۔
اشعار کی حیثیت یاد دلانے کا بھی شکریہ:grin: (مذاق کرنے کی 'کوشش' کر رہا ہوں):hatoff:

حسنِ نظر کیا ہونا فاتح صاحب۔ بس کم مائیگی پہ معمول کرلیں میری ۔ وگرنہ ، من نہ دانم فاعلاتن فاعلات
بابا جی ۔۔ کبھی مذاق کربھی لیا کریں ، ہمیشہ مذاق کی چوکھٹ سے کوشش کا بار اٹھائے واپس چلے جاتے ہیں۔
 

جیا راؤ

محفلین
آج شب جو ٹوٹے ہیں آسماں سے دو تارے
زندگی کے محور پر کیا وہ لوٹ پائیں گے



واہ۔۔۔۔۔ بہت ہی خوبصورت !!
باقی اشعار بھی خوب ہیں۔۔ مگر یہ بہت ہی پیارا لگا۔۔۔ :)
بہت شکریہ شئیر کرنے کا۔۔۔ :):)


 

محمد وارث

لائبریرین
دوسرے شعر میں "نہ" دو حرفی استعمال ہوا ہے، اساتذہ اس کی اجازت نہیں دیتے۔

کلاسیکی اساتذہ واقعی اس کی اجازت نہیں دیتے تھے لیکن اس جدید عہد کے کچھ اساتذہ اسکی بلکہ 'کہ' کی بھی اجازت دیتے ہیں جیسے صاحبِ فاعلات، محمد یعقوب آسی صاحب۔
 

فاتح

لائبریرین
پہلا اور تیسرا شعر خوب ہیں۔ آخری شعر تو بہت ہی اچھا ہے۔ دوسرے شعر میں "نہ" دو حرفی استعمال ہوا ہے، اساتذہ اس کی اجازت نہیں دیتے۔ پوری غزل مل جائے تو خوب رہے گی۔

اب کے بار مل کے یوں سالِ نو منائیں گے
رنجشیں بھُلا کر ہم نفرتیں مٹائیں گے

تجھ کو بھول جانے کی پھر قسم اٹھائیں گے
حسبِ سابق اب کے بھی عہد نہ نبھائیں گے

آج شب جو ٹوٹے ہیں آسماں سے دو تارے
زندگی کے محور پر کیا وہ لوٹ پائیں گے
آپ سے سخنور و سخن شناس سے بونگیوں پر داد مل جائے تو ہمارا تو وہی عالم ہے کہ
مرے ہونٹوں پہ اپنی پیاس رکھ دو اور پھر سوچو
کہ اس کے بعد بھی دنیا میں کچھ پانا ضروری ہے؟

جہاں تک نہ اور کہ کی ہائے ہوز کو بلند یا کوتاہ شمار کرنے کا مسئلہ ہے تو میں بھی وارث صاحب کی طرح یعقوب آسی صاحب کی رائے کو صائب تصور کرتا ہوں۔ کیا کیجیے گا غالب کے اس شعر کا
میں نے روکا رات غالبؔ کو ، وگرنہ دیکھتے
اُس کے سیلِ گریہ میں ، گردُوں کفِ سیلاب تھا​
یہاں نہ گو کہ مرکب استعمال ہوا ہے مگر لفظی و معنوی دونوں‌اعتبار سے مفرد نہ کے عین مطابق ہے۔

آپ کی رائے سے اتفاق نہ کرنے کے باوجود آپ کا اور آپ کی دانشمندانہ آرا کا احترام ضرور کرتا ہوں۔ امید ہے گستاخی کا برا نہ مانیں گے۔
 

فاتح

لائبریرین
تمہیں یاد سب ہے ذرا ذرا ہمیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو- :) قبلہ موبائل پر آپ کو پتہ ہی ہے بندہ کس حال میں ہوتا ہے - آپ نے اس وقت مجھے وہ اشعار لکھوائے تھے جب میں ایک دوست کی طرف تھا اور اسکے گھر ہی لکھے تھے اور وہ کاغذ معلوم نہیں‌ کیا ہوا - بہرحال معذرت آئیندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا اور اسے مقدس صحیفے کی طرح سینے سے لگا کر رکھوں گا - :)

قبلہ اسی روز سے سوچ رہا ہوں کہ کسی اچھی نسل کا سیل فون خرید لوں جس میں ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہو مگر جیب اجازت نہیں دیتی۔:blush:
 

فاتح

لائبریرین
یار زندہ "سلمٰی" باقی ;)
حضور یہ ہوائی کس دشمن نے اڑا دی کہ یار زندہ ہیں ؟ ;)

صحبت نے اپنا نام سلمیٰ کب سے رکھ لیا ہے وارث بھائی
جو چاہے وارث صاحب کا حسن کرشمہ ساز کرے۔۔۔ ہم اور آپ کون ہوتے ہیں ان کرشمہ سازیوں پر آہ کرنے والے:rolleyes:

جب سے ستارے ٹانکے جا رہے ہیں :)
قبلہ ستارے تو چاند کے ہاتھوں ٹانکے جانا ہی اچھا لگتا ہے خواہ آنچل پر ٹانکے یا پلکوں پر اور یا ہم سے فقیروں کے دھاگے میں آپ سا چاند اپنے الفاظ کے ذریعے۔:)
 

فاتح

لائبریرین
حسنِ نظر کیا ہونا فاتح صاحب۔ بس کم مائیگی پہ معمول کرلیں میری ۔ وگرنہ ، من نہ دانم فاعلاتن فاعلات
بابا جی ۔۔ کبھی مذاق کربھی لیا کریں ، ہمیشہ مذاق کی چوکھٹ سے کوشش کا بار اٹھائے واپس چلے جاتے ہیں۔

آپ کی تو نثر پر بھی شاعری کا گماں ہوتا ہے۔ اس پر بھی اگر کم مایگی کی بات کریں‌گے تو ہمارا بے مایگی کا رونا کچھ غلط تو نہیں۔
رہی بات فاعلاتن فاعلات والے مصرع کی تو آپ اس مصرع کے مصداق ہوں یا نہ ہوں‌مگر اس شعر کا مصرع اولیٰ شاید آپ ہی کی سخن طرازیوں کے لیے لکھا گیا تھا۔ (اب اس جملے کو آپ کی ہدایت کے مطابق میری جانب سے مذاق نہ سمجھ لیجیے گا۔۔۔۔لیکن اگر سمجھنا ہی چاہیں‌تو آپ ایک آزاد مملکت کے آزاد شہری ہیں۔۔۔ کچھ بھی سمجھ سکتے ہیں:hatoff:)
 

فاتح

لائبریرین
آج شب جو ٹوٹے ہیں آسماں سے دو تارے
زندگی کے محور پر کیا وہ لوٹ پائیں گے


واہ۔۔۔۔۔ بہت ہی خوبصورت !!
باقی اشعار بھی خوب ہیں۔۔ مگر یہ بہت ہی پیارا لگا۔۔۔ :)
بہت شکریہ شئیر کرنے کا۔۔۔ :):)

پذیرائی کا بہت شکریہ جیا صاحبہ۔
 

مغزل

محفلین
آپ کی تو نثر پر بھی شاعری کا گماں ہوتا ہے۔ اس پر بھی اگر کم مایگی کی بات کریں‌گے تو ہمارا بے مایگی کا رونا کچھ غلط تو نہیں۔
رہی بات فاعلاتن فاعلات والے مصرع کی تو آپ اس مصرع کے مصداق ہوں یا نہ ہوں‌مگر اس شعر کا مصرع اولیٰ شاید آپ ہی کی سخن طرازیوں کے لیے لکھا گیا تھا۔ (اب اس جملے کو آپ کی ہدایت کے مطابق میری جانب سے مذاق نہ سمجھ لیجیے گا۔۔۔۔لیکن اگر سمجھنا ہی چاہیں‌تو آپ ایک آزاد مملکت کے آزاد شہری ہیں۔۔۔ کچھ بھی سمجھ سکتے ہیں:hatoff:)

قبلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناطقہ سربہ گریباں ہے ،
 

محمد وارث

لائبریرین
حضور یہ ہوائی کس دشمن نے اڑا دی کہ یار زندہ ہیں ؟ ;)

اجی واہ، ہم تو آج تک یہی سمجھتے رہے کہ 'شہیدانِ ناز' و 'قتیلانِ نیاز' زندہ ہیں، ہاں شاید شعور نہیں تھا :)



جو چاہے وارث صاحب کا حسن کرشمہ ساز کرے۔۔۔ ہم اور آپ کون ہوتے ہیں ان کرشمہ سازیوں پر آہ کرنے والے:rolleyes:

ہم تو آپ کے اس ضبطِ آہ پر بے اختیار واہ پکار اٹھے لیکن مغل صاحب نے رسید تک نہیں کاٹی کہ شور نہ ہو جائے ;)


قبلہ ستارے تو چاند کے ہاتھوں ٹانکے جانا ہی اچھا لگتا ہے خواہ آنچل پر ٹانکے یا پلکوں پر اور یا ہم سے فقیروں کے دھاگے میں آپ سا چاند اپنے الفاظ کے ذریعے۔:)

ذرہ نوازی ہے برادرم کہ آپ نے خاکسار کو اس قابل جانا، ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ 'چاند' والی بے خودی، بے سبب نہیں ہے، چاند آپ کے ہاں ہر جگہ موجود ہے، شاعری میں بھی، وہ کیا مصرعہ تھا آپ کا

ہجر ہے یا وصال سا کچھ ہے ;)
 

فاتح

لائبریرین
اجی واہ، ہم تو آج تک یہی سمجھتے رہے کہ 'شہیدانِ ناز' و 'قتیلانِ نیاز' زندہ ہیں، ہاں شاید شعور نہیں تھا :)
سبحان اللہ! یہ مسیحائی نکتہ اٹھا کر تو آپ نے ایک نئی زندگی بخش دی ہے۔

ہم تو آپ کے اس ضبطِ آہ پر بے اختیار واہ پکار اٹھے لیکن مغل صاحب نے رسید تک نہیں کاٹی کہ شور نہ ہو جائے ;)
مغل صاحب شاید 'کاٹا پیٹی' کی بجلیاں گرانے سے اجتناب برت رہے ہیں۔ یا وہ اس جانب اپنی نگاہ ناز سے مئے الست کے جام لنڈھانا نہیں چاہتے۔

ذرہ نوازی ہے برادرم کہ آپ نے خاکسار کو اس قابل جانا، ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ 'چاند' والی بے خودی، بے سبب نہیں ہے، چاند آپ کے ہاں ہر جگہ موجود ہے، شاعری میں بھی، وہ کیا مصرعہ تھا آپ کا
ہجر ہے یا وصال سا کچھ ہے ;)
قبلہ آپ نےتو میرے ہی اشعار سے میری زبان بند کر دی کہ میرے تو ہر چوتھے شعر میں چاند آ دھمکتا ہے۔ پاکستان کی لوڈ شیڈنگ میں ایسی ہی شاعری ہو سکتی ہے;)
ہے ہم آغوش چاند دریا سے
ہجر محوِ وصال سا کچھ ہے​
بقول ابن انشا "چاند ہمیشہ دور دراز کی محبوب اور سجیلی لیکن کٹھن اور ناقابلِ حصول منزلوں کا سمبل رہا ہے جو کوہِ ندا کی طرح مسافروں کو بلاتی تو ہیں‌لیکن واپس نہیں بھیجتیں۔ سمجھ دار لوگ کبھی ان منازلِ موہوم کا رخ نہیں‌کرتے":)
 

فاتح

لائبریرین

محمد وارث

لائبریرین
قبلہ آپ نےتو میرے ہی اشعار سے میری زبان بند کر دی کہ میرے تو ہر چوتھے شعر میں چاند آ دھمکتا ہے۔ پاکستان کی لوڈ شیڈنگ میں ایسی ہی شاعری ہو سکتی ہے;)
ہے ہم آغوش چاند دریا سے
ہجر محوِ وصال سا کچھ ہے​
بقول ابن انشا "چاند ہمیشہ دور دراز کی محبوب اور سجیلی لیکن کٹھن اور ناقابلِ حصول منزلوں کا سمبل رہا ہے جو کوہِ ندا کی طرح مسافروں کو بلاتی تو ہیں‌لیکن واپس نہیں بھیجتیں۔ سمجھ دار لوگ کبھی ان منازلِ موہوم کا رخ نہیں‌کرتے":)

واہ کیا خوبصورت شعر ہے، لا جواب!

اور رہی بات چاند کی تو قبلہ جو بے سمجھ اس منزل پر پہنچ کر چاند پر لینڈ کر جاتے ہیں وہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ یہ تو ایک بے آب و گیاہ، سنگ دل و روسیاہ دنیا ہے، اصل لطف تو چاند کو پانی میں دیکھنے کا ہی تھا! :)

اسے آپ بیتی سمجھیں یا جگ بیتی ;)
 

آصف شفیع

محفلین
جہاں تک نہ اور کہ کی ہائے ہوز کو بلند یا کوتاہ شمار کرنے کا مسئلہ ہے تو میں بھی وارث صاحب کی طرح یعقوب آسی صاحب کی رائے کو صائب تصور کرتا ہوں۔ کیا کیجیے گا غالب کے اس شعر کا

میں نے روکا رات غالبؔ کو ، وگرنہ دیکھتے
اُس کے سیلِ گریہ میں ، گردُوں کفِ سیلاب تھا
یہاں نہ گو کہ مرکب استعمال ہوا ہے مگر لفظی و معنوی دونوں‌اعتبار سے مفرد نہ کے عین مطابق ہے۔

آپ کی رائے سے اتفاق نہ کرنے کے باوجود آپ کا اور آپ کی دانشمندانہ آرا کا احترام ضرور کرتا ہوں۔ امید ہے گستاخی کا برا نہ مانیں گے۔
__________________

شکریہ برادرم۔ لیکن جہاں تک غالب کے مصرعے کا تعلق ہے اس کو آپ یہاں کوٹ نہیں کر سکتے کیونکہ "وگرنہ" میں نہ دو حرفی ہی استعمال ہوتا ہے۔ بلکہ یہاں ہ گرانا مناسب نہیں ہے۔ نہ اور کہ الگ لفظ کے طور پر دو حرفی استعمال نہیں کرتے۔ البتہ اگر آپ آسی تھاٹ کو فالو کر رہے ہیں تو یہ اور بات ہے۔
 

فاتح

لائبریرین
شکریہ برادرم۔ لیکن جہاں تک غالب کے مصرعے کا تعلق ہے اس کو آپ یہاں کوٹ نہیں کر سکتے کیونکہ "وگرنہ" میں نہ دو حرفی ہی استعمال ہوتا ہے۔ بلکہ یہاں ہ گرانا مناسب نہیں ہے۔ نہ اور کہ الگ لفظ کے طور پر دو حرفی استعمال نہیں کرتے۔ البتہ اگر آپ آسی تھاٹ کو فالو کر رہے ہیں تو یہ اور بات ہے۔

بہت شکریہ آصف بھائی!
دنیا کا کوئی بھی علم یا کوئی بھی سکول آف تھاٹ ہو اس کے پیچھے لاجکس ضرور ہوتی ہیں۔ اس کی کیا لاجک ہے کہ وگرنہ میں دو حرفی اور مفرد نہ میں ایک حرفی؟
 

مغزل

محفلین
اقتباس:
اصل پيغام ارسال کردہ از: محمد وارث
ہم تو آپ کے اس ضبطِ آہ پر بے اختیار واہ پکار اٹھے لیکن مغل صاحب نے رسید تک نہیں کاٹی کہ شور نہ ہو جائے
-----------------------------------------------------------------------------------------------
مغل صاحب شاید 'کاٹا پیٹی' کی بجلیاں گرانے سے اجتناب برت رہے ہیں۔ یا وہ اس جانب اپنی نگاہ ناز سے مئے الست کے جام لنڈھانا نہیں چاہتے۔

سرکار م م مم ممم میں سمجھا نہیں کیسی بجلی کیسی رسید ۔۔ ؟؟ خیر میں لڑی دوبارہ شروع سے دیکھتا ہوں۔
 
Top