ابن صفی: بات ہی کیا تھی چلے آتے جو پل بھر کے لیے

فہد اشرف نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 21, 2017

  1. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,606
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    بات ہی کیا تھی چلے آتے جو پل بھر کے لیے
    یہ بھی اک عمر ہی ہو جاتی مرے گھر کے لیے

    بت کدہ چھوڑ کے آئے تھےحرم میں اے شیخ
    تو ہی انصاف سے کہہ دے اسی پتھر کے لیے

    یوں تو ہیں خاک بسر، عرش پہ رہتا ہے دماغ
    اوجِ شاہی نے قدم ہم سے قلندرکے لیے

    کبھی آنسو، کبھی شبنم، کبھی بنتا ہے گہر
    قطرہ بیتاب ہے اس درجہ سمندر کے لیے

    پھول سے چہرے کی اشکوں نے بڑھا دی زینت
    آخرش چاہئے شبنم بھی گل تر کے لیے

    تیرے کاشانے کی تعمیر کو کیا نظر کروں
    میری تقدیر کا پتھر ہے ترے در کے لیے

    تھیں زلیخائیں بہت، یوسفِ ثانی تو بنا
    کوئی امت نہ ملی دل سے پیمبر کے لیے

    اسرار ناروی(ابن صفی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    18,154
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    غزل شاندار ہے۔مجھے آخرش کا مطلب بتادیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,606
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    شکریہ!!
    آخرش کے معنی ہوتے ہیں— آخرکار، انجام کار
     
  4. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    18,154
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت اعلی
     
  5. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,036
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اچھی غزل ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر