فرقان احمد

محفلین
حیرت غرورِ حُسن سے شوخی سے اضطراب​
دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام​

دل خون ہو چکا ہے، جگر ہو چکا ہے خاک​
باقی ہوں میں مجھے بھی کر، اے تیغ زن تمام​
 

فرقان احمد

محفلین
ہم سے بھاگا نہ کرو
دور غزالوں کی طرح

اسکا شاعر کون ہے

جانثار اختر
ہم سے بھاگا نہ کرو دُور غزالوں کی طرح
ہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرح

اور کیا اِس سے زیادہ، بھلا نرمی برتوں
دل کے زخموں کو چُھوا ہے تِرے گالوں کی طرح

تیری زلفیں، تِری آنکھیں، تِرے اَبرُو، تِرے لب
اب بھی مشہور ہیں دُنیا میں مِثالوں کی طرح

ہم سے مایُوس نہ ہو اے شبِ دَوراں! کہ، ابھی
دل میں کچُھ درد چمکتے ہیں، اُجالوں کی طرح

مجھ سے نظریں تو مِلاؤ، کہ ہزاروں چہرے !
میری آنکھوں میں چمکتے ہیں سوالوں کی طرح

اور تو، مجھ کو مِلا کیا مِری محنت کا صلہ !
چند سِکّے ہیں مِرے ہاتھ میں چھالوں کی طرح
 

گلزار خان

محفلین
urdu-ghazal-in-urdu-fonts.jpg
 

فرقان احمد

محفلین
چُپ چاپ سر ِ شہر ِ وفا سوچ رہے ہو
لگتا ہے کوئی اپنی خطا سوچ رہے ہو

وہ کون ہے گُذرا تھا جو اِس راہگزر سے
کِس کے ہیں نقوش ِ کف ِ پا سوچ رہے ہو
 

showbee

محفلین
فلک میں آگ لگ جاتی جو دونوں روبرو ہوتے
غروب شمس لازم تھا طلوع چاند سے پہلے
 

فرقان احمد

محفلین
تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں
کسی کا ساتھ دینا تھا، کسی کو چھوڑ آیا ہوں

کہاں تک میں لئے پھرتا محبت کا یہ اِکتارا
سو اب جو سانس ٹوٹی، گیت آدھا چھوڑ آیا ہوں

محمد احمد
 

showbee

محفلین
مدد کرنی ہو اُس کی
یار کی ڈھارس باندھنا ہو
بہت دیرینہ راستوں پر
کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں


کسی کو موت سے پہلے
کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور کچھ تھی
اُس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
 

فرقان احمد

محفلین
ضبط کا عہد بھی ہے، شوق کا پیماں بھی ہے
عہد وپیماں سے گُزر جانے کو جی چاہتا ہے

درد اِتنا ہے کہ ، ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
 

گلزار خان

محفلین
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے

اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہو گی​
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے
پتھروں آج میرے سر پر برستے کیوں ہو
میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے
اب میری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے
تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے
غم نہیں گل جو کیئے گھر کے ہواؤں نے چراغ
ہم نے دل کا بھی دیا ایک جلا رکھا ہے
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصر

غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے
 

فرقان احمد

محفلین
وفا کی بات الگ، پر جسے جسے چاہا!
کسی میں حُسن، کسی میں ادا زیادہ تھی

فراؔز اُس سے وفا مانگتا ہے، جاں کے عِوَض
جو سچ کہیں تو ۔۔۔۔۔۔ یہ قیمت ذرا زیادہ تھی
 

فرقان احمد

محفلین
مُدّت سے تو دِلوں کی مُلاقات بھی گئی
ظاہر کا پاس تھا، سو مدارات بھی گئی

پِھرتے ہیں میر خوار کوئی پُوچھتا نہیں
اِس عاشقی میں عزّتِ سادات بھی گئی
 
Top