طارق شاہ

محفلین

دیواروں سے مِل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہوجائیں گے، ایسا لگتا ہے

کِتنے دِنوں کے پیاسے ہونگے یارو سوچو تو
شبنم کا قطرہ جن کو دریا لگتا ہے

آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن
آتے جاتے جو مِلتا ہے تم سا لگتا ہے

اِس بستی میں کون ہمارے آنسو پُونچھے گا
جو مِلتا ہے اُس کا دامن بِھیگا لگتا ہے

دُنیا بھر کی یادیں ہم سے مِلنے آتی ہیں !
شام ڈھلے اِس سُونے گھر میں میلہ لگتا ہے

قیصرالجعفری
 

طارق شاہ

محفلین

یہ تنہا رات، یہ گہری فضائیں
اُسے ڈھونڈیں، کہ اُس کو بُھول جائیں

خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں !
گھُلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں

یہ رستے رہرووں سے بھاگتے ہیں
یہاں چُھپ چُھپ کے چلتی ہیں ہوائیں

یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اِسے دیکھیں، کہ اِس میں ڈُوب جائیں

جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا میں
اُنہیں، پھر اپنے سینے سے لگائیں

چلو ایسا مکاں آباد کر لیں !
جہاں لوگوں کی آوازیں نہ آئیں

احمد مشتاق
 

طارق شاہ

محفلین

موسمِ گُل ہو کہ پت جھڑ ہو، بَلا سے اپنی !
ہم کہ شامل ہیں نہ کِھلنے میں نہ مُرجھانے میں

احمد مشتاق
 

طارق شاہ

محفلین

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے
ہم بھی ایسی ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

احمد مشتاق
 

طارق شاہ

محفلین

اپنی مستی، کہ تِرے قُرب کی سرشاری میں
اب میں کچھ اور بھی آسان ہُوں دُشواری میں

کتنی زرخیز ہے نفرت کے لیے دل کی زمیں
وقت لگتا ہی نہیں فصل کی تیاری میں

وہ کسی اور دوا سے مِرا کرتا ہے علاج
مُبتلا ہُوں میں، کسی اور ہی بیماری میں

اے زمانے میں تِرے اشک بھی رو لوُں گا ، مگر
ابھی مصرُوف ہُوں خود اپنی عزاداری میں

اپنی تعمیر اُٹھاتے، تو کوئی بات بھی تھی
تم نے اِک عمر گنوادی مِری مسماری میں

ہم اگر اور نہ کچھ دیر ہَوا دیں تو، یہ آگ !
سانس گُھٹنے سے ہی مرجائے گی چنگاری میں


ثنااللہ ظہیر
 

کاشفی

محفلین
اہلِ کراچی کے لیئے منظر بھوپالی کی طرف سے
تم بھی بُلبل ہو اس باغ کے اور ہم شانِ گلزار ہیں
ساری سانسیں تمہاری نہیں، ہم بھی جینے کے حقدار ہیں

تنگ کردی گئی ہے زمیں، ہم پہ اس واسطے آج کل
ہم پجاری ہیں سچائی کے، آئینوں کے طرف دار ہیں

دُور سے ہم کو سمجھو گے کیا، پاس آکر تو دیکھو ہمیں
ہم وفا ہی وفا دوستو، ہم فقط پیار ہی پیار ہیں

کردیا قتل ایک شہر کو اور مظلوم بھی بن گئے
جھوٹ کو سچ بناتے ہیں یہ، کتنے اچھے اداکار ہیں


یہ اذیت بھی ذلت بھی ہے، ہم پہ یہ غم قیامت بھی ہے
جس زمیں کے لیئے مر مٹے، اس زمیں پر ہی غدار ہیں
۔۔۔۔۔۔
 

طارق شاہ

محفلین

کہاں ڈھونڈیں اُسے، کیسے بلائیں
یہاں اپنی بھی آوازیں نہ آئیں

پُرانا چاند ڈُوبا جا رہا ہے
وہ اب کوئی نیا جادُو جگائیں

اب ایسا ہی زمانہ آ رہا ہے
عجب کیا وہ تو آئیں ہم نہ آئیں

ہَوا چلتی ہے پچھلے موسموں کی
صدا آتی ہے اُن کو بُھول جائیں

بس اب لے دے کے ہے ترکِ تعلّق
یہ نسخہ بھی کوئی دن آزمائیں

احمد مشتاق
 

طارق شاہ

محفلین

انتظارِ صبا رہا برسوں
اِک دریچہ کُھلا رہا برسوں

فاصلے کم نہ ہو سکے قیصر
آمنا سامنا رہا برسوں

قیصرالجعفری
 

طارق شاہ

محفلین

ﺍﻣﯿﺮِ ﺳﻤﺖ ﺳﺮِ ﺭﮦ ﮔﺰﺭ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﭼﺮﺍﻍِ ﺑﻘﺎﺋﮯ ﺳﻔﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ

ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺥِ ﻭﻗﺖ ﭘﮧ ﮐﻨﺪﮦ ﮐﻮﺋﯽﻋﺒﺎﺭﺕ ﺗﮭﺎ
ﺟﺴﮯ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﺒﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻻﺷﮯ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﻧﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﮯ ﮔﺌﮯ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﯿﮟ ہمسفر ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ

ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﺠﮭﮯ دیکھ ﮐﺮ ﺗﻮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﺗِﺮﺍ ﺟﻤﺎﻝ ﺗﺠﮭﮯ دیکھ ﮐﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ

ﺷﺐِ ﻓﺮﺍﻕ ﮐﯽ ﻭحشت ﺳﮯ ﺭﮦ ﮔُﺰﺭ ﻧِﮑﻠﯽ
ﻭﺻﺎﻝِ ﺻُﺒﺢ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﺭ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ

ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﻓﻘﻂ ﺗﺠﺮﺑﮯہُوئے مجھ پر
ﻣِﺮﺍ ﻋﻼﺝ ﻧﮩﯿﮟ، ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ

ﻣُﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍِﻣﺘﺤﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﻧﻘﺸﮧ
ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺷﺠﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿا

سرفراز آرش
 

طارق شاہ

محفلین

سِینے میں جَلن، آنکھوں میں طوُفان سا کیوں ہے
اِس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے

دِل ہے تو دھڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے !
پتّھر کی طرح بے حس و بے جان سا کیوں ہے

شہریار
 
Top