آج کا شعر - 3

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

فہیم

لائبریرین
حُسن بے پروا کو خود بین و خود آرا کردیا
کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کردیا

(حسرت موہانی)
 

زینب

محفلین
جھوٹی سچی تعبیروں‌کی‌خواہش میں

کیسے کیسے خواب بکھر جاتے ہیں

پھر سے ٹوٹ کے رونے کی رت آئی ہے

پھر سے دلوں‌کے زخم نکھرتے جاتے ہیں
 

زینب

محفلین
درد سینے میں بہت شور بپا کرتا ہے

اک سناٹا سا چہرے پے صدا کرتا ہے

اولین نقش محبت بھی عجب شے ہے بتول

آخری سانس تلک ہم سے وفا کرتا ہے
 

فہیم

لائبریرین
تو میرے جسم سے دل کو نکال لے گیا ہے
لیکن اس کے اندر جان ابھی باقی ہے
بہت دکھ و درد دیے تو نے مجھ کو
لیکن ان دکھوں کا علاج ابھی باقی ہے
 

عین عین

لائبریرین
رستے مجھ سے واقف ہیں
آتا جاتا رہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال سنانا مشکل ہے
شعر سناتا رہتا ہوں

کاشف حسین غائر
 

مغزل

محفلین
ذرا سی میں دل میں‌ اترنے والے لوگ
ذرا سی دیر میں دل سے اتر بھی جاتے ہیں

کاشف حسین غائر
(راستے گھر نہیں‌جانے دیتے سے ۔)
 

زینب

محفلین
پلکوں پے رکھے وعدوں کے دیے سو بار جلے سو بار بجھے

ہم روز ریے چوکھٹ‌پے کھڑے وہ روز ہی آنا بھول گئے
 

زینب

محفلین
میں چاہتا نہ تھا لاجواب کرنا اسے
ورنہ جواب میرے پاس اس کے ہر سوال کا تھا
اس کی جیت سے ہوتی ہے خوشی مجھ کو
یہی جواز میرے پاس اپنی ہار کا تھا
 

زینب

محفلین
وہ بلایئں تو کیا تماشا ہو

ہم نہ جایئں وت کیا تماشا ہو

وقت کی چند ساعتیں ساغر

لوٹ آیئں تو کیا تماشا ہو۔
 

مغزل

محفلین
یوں تلوار کو دیکھ رہا ہوں حیرت سے
جیسے یہ سر پہلی بار اترنا ہے

نجم الحسن نجمی
 

محمداحمد

لائبریرین

پھر کہیں دور سے اک بار صدا دو مجھ کو
میری تنہائی کا احساس دلا دو مجھ کو
تم تو ہو چاند تمھیں میری ضرورت کیا ہے
میں دیا ہوں کسی چوکھٹ پہ جلا دو مجھ کو

 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top