آج کا شعر۔۔۔۔(2)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

فرخ منظور

لائبریرین
گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار
لیکن تیرے خیال سے غافل نہیں رہا
(غالب، جو کبھی تھا نجات کا طالب)
 

مغزل

محفلین
وفا کی سلطنت، اقلیمِ وعدہ، سر زمینِ دل
نظر کی زد میں ہے خوابوں سے تعبیروں کے کشور تک

غلام محمد قاصر
 

فرخ منظور

لائبریرین
قسمت نے مجھ کو چاہا تھا لکھنا "خرابِ بادہِ الفت"
فقط خراب لکھا بس نہ چل سکا قلم آگے
(غالب، جو کبھی تھا نجات کا طالب)
 

فرخ منظور

لائبریرین
رہیں ہیں اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تک
مگر مجھے کیا ڈر کہ میری آستیں میں ہے یدِ بیضا
(اقبال، علامہ)
لیکن جب بھی میں اپنی جیب میں روشن موبائل ڈالتا ہوں میرے ذہن میں یہ شعر آجاتا ہے - پتہ نہیں کیوں-
 

زونی

محفلین
دورِ خزاں میں یوں مرے دل کو قرار ھے
میں جیسے آشنائے بہاراں نہ تھا کبھی



(ناصر کاظمی)
 

راجہ صاحب

محفلین
کوئی بھی وقت ہو ہنس کر گزار لیتا ہوں‌
خزاں کے دور میں عہدِ بہار لیتا ہوں

گُلوں سے رنگ ستاروں سے روشنی لے کر
جمالِ یار کا نقشہ اتار لیتا ہوں‌
 

فرخ منظور

لائبریرین
چاند میں ڈھال کر تیری صورت
گہرے پانی میں عکس دیکھیں گے
اور پھر ہلا کر ذرا سا لہروں کو
رات بھر تیرا رقص دیکھیں گے
 

چاند بابو

محفلین
کہنا جو چاھا زبان سے، وہ ستارے چمک سے گئے
باد صبا نے چھوا چہرہ، رخسار انکے دمک سے گئے

عبدالرحمن سید
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top