ظہیراحمدظہیر

  1. ظہیراحمدظہیر

    لب پہ شکوہ بھی نہیں ، آنکھ میں آنسو بھی نہیں

    لب پہ شکوہ بھی نہیں ، آنکھ میں آنسو بھی نہیں مجھ سے دل کھول کے لگتا ہے مِلا تو بھی نہیں اُن کی آنکھوں کے ستارے توبہت دور کی بات ہم وہاں ہیں کہ جہاں یاد کے جگنو بھی نہیں جب سے گردن میں نہیں ہے کوئی بانہوں کی کمان میرے سینے میں کوئی تیر تراز و بھی نہیں یا تو ماضی کی مہک ہے...
  2. ظہیراحمدظہیر

    سنگِ ستم سے کوئی بھی شیشہ نہیں بچا

    سنگِ ستم سے کوئی بھی شیشہ نہیں بچا محفوظ وہ رہا جو دریچہ نہیں بچا بازیگرانِ شہر ِسیاست ہوئے خموش اب دیکھنے کو کوئی تماشہ نہیں بچا کیسی چڑھی ہے دھوپ سرِ شہر ِ بد لحاظ برگد ہرے بھرے ہوئے سایا نہیں بچا پھیلاؤ کی ہوس بھرے دریا کو پی گئی پانی چڑھا تو کوئی کنارہ نہیں بچا بجھنے لگے چراغ مرے جسم...
  3. ظہیراحمدظہیر

    بجھتے بجھتے بھی اندھیروں میں کرن چھوڑ گیا

    بجھتے بجھتے بھی اندھیروں میں کرن چھوڑ گیا وہ مرا شوخ ستارہ جو گگن چھوڑ گیا خواب تو خواب مجھے نیند سے ڈر لگتا ہے جانے والا مری پلکوں پہ شکن چھوڑ گیا اُس نے بھی چھوڑدیا مجھ کو زمانے کیلئے جس کی خاطر میں زمانے کے جتن چھوڑ گیا کسی زیور کی طرح اُس نے نکھارا مجھ کو پھر کسی اور کی جھولی میں یہ...
  4. ظہیراحمدظہیر

    طوفان میں جزیرہ ملا ہے ، زمیں ملی

    طوفان میں جزیرہ ملا ہے ، زمیں ملی پانی کی قید سے تو رہائی نہیں ملی ابر ِ رواں کے پیچھے چلے آئے ہم کہاں بارش ہوئی تو مٹی کی خوشبو نہیں ملی دوزخ سمجھ کے چھوڑی جو تپتی ہوئی زمین چھالے پڑے تو پاؤں کو ٹھنڈک وہیں ملی جھوٹی انا کا تخت ، زر ِ مصلحت کا تاج جب کھو دیئے تو دولتِ...
  5. ظہیراحمدظہیر

    سادگی ہوئی رخصت ، زندگی کہاں جائے

    سادگی ہوئی رخصت ، زندگی کہاں جائے زندگی کی خاطر اب آدمی کہاں جائے جرم ہے دیا رکھنا شب پرست گلیوں میں کس قدر اندھیرا ہے ، روشنی کہاں جائے ہر طرف مکان اونچے چیختی صداؤں کے آسمان تکنے کو خامشی کہاں جائے آنگنوں میں پہرے ہیں رات بھر اجا لوں کے دشت میں نہ جائےتو چاندنی کہاں جائے سُر...
  6. ظہیراحمدظہیر

    لوگوں نے ایک واقعہ گھر گھر بنادیا

    لوگوں نے ایک واقعہ گھر گھر بنادیا اُس کی ذرا سی بات کا دفتر بنادیا پہرے قیامتوں کے لگا کر زبان پر دل کو ترے خیال نے محشر بنادیا صادق تھے ہم بھی جذبہء منزل میں اسقدر رستے کا ہر سراب سمندر بنادیا لے لے کے نقشِ بندگی دہلیز سے تری ہم نے جبین ِ عشق کا زیور بنادیا شہر ِ وصال دیکھنا چاہا پلٹ کے...
  7. ظہیراحمدظہیر

    پھر لگا ہے دوستوں کا تازیانہ مختلف

    پھر لگا ہے دوستوں کا تازیانہ مختلف تیر دشمن کی طرف ہیں اور نشانہ مختلف بے نیازی برطرف ، اب لازمی ہے احتیاط وقت پہلا سا نہیں اب ، ہے زمانہ مختلف آشیانہ چھوڑنے کی اک سزا یہ بھی ملی روز لاحق ہے تلاشِ آب و دانہ مختلف اک شکم پروَر زمیں رکھتی ہے پابستہ مجھے اور وفائیں مانگتی ہیں اک ٹھکانہ مختلف...
  8. ظہیراحمدظہیر

    رہبری کے زخموں کا چارہ گر نہیں ملتا

    رہبری کے زخموں کا چارہ گر نہیں ملتا واپسی کے رستے میں ہمسفر نہیں ملتا شہر ہے یا خواہش کی کرچیوں کا صحرا ہے بے خراش تن والا اک بشر نہیں ملتا ہر طرف ضرورت کی اک فصیلِ نادیدہ بے شگاف ایسی ہے جس میں دَر نہیں ملتا قہقہوں کے سائے میں بے بسی کا عالم ہے مرگِ آدمیت کو نوحہ گر نہیں ملتا انقلابِ...
  9. ظہیراحمدظہیر

    سرحدِ شہر ِقناعت سے نکالے ہوئے لوگ

    سرحدِ شہر ِقناعت سے نکالے ہوئے لوگ کیا بتائیں تمہیں کس کس کے حوالے ہوئے لوگ اپنی قیمت پہ خود اک روز پشیماں ہونگے سکّہء وقت کی ٹکسال میں ڈھالے ہوئے لوگ آئینوں سے بھی نہ پہچانے گئے کچھ چہرے آتشِ زر میں جلے ایسے کہ کالے ہوئے لوگ کب سے ہے میرے تعاقب میں دہن کھولے ہوئے ایک عفریت شکم جس کے...
  10. ظہیراحمدظہیر

    غم نیا تھا تو نیا عہدِ وفا رکھنا تھا

    غم نیا تھا تو نیا عہدِ وفا رکھنا تھا حوصلہ غم سے بہرحال سوا رکھنا تھا کیسے اُس پر میں مقدر کی سیاہی رکھتا جس ہتھیلی پہ مجھے رنگِ حنا رکھنا تھا ایسا کیا ڈر تھا بھلا تیز ہوا سے لوگو! بجھ گئیں شمعیں تو آنکھوں کو کُھلا رکھنا تھا ہم نہ خوشبو تھے ، نہ آواز ، نہ بادل کوئی پھر ہواؤں سے تعلق بھلا...
  11. ظہیراحمدظہیر

    عشق

    عشق پیکرِ خاک میں تاثیرِ شرر دیتا ہے آتشِ درد میں جلنے کا ثمر دیتا ہے اک ذرا گردشِ ایّام میں کرتا ہے اسیر دسترس میں نئے پھر شام و سحر دیتا ہے پہلے رکھتا ہے یہ آنکھوں میں شب ِ تیرہ وتار دستِ امکان میں پھر شمس و قمر دیتا ہے دل پہ کرتا ہے یہ تصویر جمالِ ہستی پھر مٹاکر اُسے اک رنگِ دگر...
  12. ظہیراحمدظہیر

    اہلِ دل چشمِ گہربار سے پہچانے گئے

    اہلِ دل چشمِ گہربار سے پہچانے گئے دیدہ ور تیرے ہی دیدار سے پہچانے گئے ہم نے کب دعویٰ زمانے میں کیا الفت کا ہم تو چپ تھے ، ترے انکار سے پہچانے گئے خود کو آزاد سمجھتے تھے مگر وقتِ سفر ایک زنجیر کی جھنکار سے پہچانے گئے معرکے جو بھی سمندر سے ہوئے ساحل تک میری ٹوٹی ہوئی پتوار سے پہچانے گئے...
  13. ظہیراحمدظہیر

    زندہ حقیقتوں سے چھپایا گیا ہمیں

    احباب ِ محفل ! اس مسلسل سی غزل میں نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر بتانے کی کوئی ضرورت ہے ۔ بس اس تلخ نوائی پر معذرت چاہتا ہوں۔ زندہ حقیقتوں سے چھپایا گیا ہمیں ماضی کی داستاں میں بسایا گیا ہمیں چھینا گیا لبوں سے تبسم بنامِ سوز قصے کہانیوں پہ رُلایا گیا ہمیں اپنے سوا ہر عکس ہی...
  14. ظہیراحمدظہیر

    کوئی بھی آگ ہو شانہ بشانہ جلتا ہے

    کوئی بھی آگ ہو ، شانہ بشانہ جلتا ہے وہ میرےساتھ ہے جب سے ، زمانہ جلتا ہے کوئی تو رہتا ہے دل کے کھنڈر مکانوں میں چراغ شام کو اکثر پرانا جلتا ہے دراز دستیء بادِ ستم کا شکوہ کیا چراغ یادوں میں اب جاودانہ جلتا ہے یہ انتظار شبستان ِ دل میں ہے کس کا نہ بجھ کے دیتا ہے کوئی...
  15. ظہیراحمدظہیر

    منظر وہی پرانا ہے ، موسم نیا نیا

    منظر وہی پرانا ہے ، موسم نیا نیا بدلا جو میں نے زاویہ ، عالم نیا نیا تازہ ہے دوستی ابھی لہجے نہ جانچئے کھُلتا ہے تار تار یہ ریشم نیا نیا دل کی خلش بڑھی ہے تری قربتوں سے اور زخموں کو جیسے ملتا ہے مرہم نیا نیا ہر عکس کرچیاں سی چبھاتا ہے آنکھ میں پتھر اور آئنے کا ہے سنگم نیا نیا یارب ہو...
  16. ظہیراحمدظہیر

    یہ طبیعت مجھے اپنا نہیں بننے دیتی

    یہ طبیعت مجھے اپنا نہیں بننے دیتی جیسے سب ہیں مجھے ویسا نہیں بننے دیتی آنکھ ایسی ہے کہ دیکھے نہیں جاتے حالات سوچ ایسی ہے کہ اندھا نہیں بننے دیتی دُوراندر سے کہیں ایک اُبھرتی ہوئی چیخ میرے احساس کو بہرا نہیں بننے دیتی ظلم ایسا ہے کہ دنیا کی زبانیں خاموش یہ خموشی مجھے گونگا نہیں بننے دیتی...
  17. ظہیراحمدظہیر

    سارا سفر ہے کرب ِ مسلسل کی قید میں

    سارا سفر ہے کرب ِ مسلسل کی قید میں چھوٹی سی جیسے کشتی ہو بوتل کی قید میں اپنے بدن کی آگ میں جل کر مہک اٹھی خوشبو جو بیقرار تھی صندل کی قید میں اے فصل ِ تشنہ کام نویدِ رہائی دے پانی کو دیکھ کب سے ہے بادل کی قید میں گہرائی اُس کے ضبطِ الم کی بھی دیکھئے ساگر رکھے ہوئے ہے...
  18. ظہیراحمدظہیر

    گرمئ شہر ِ ضرورت سے پگھل جاؤ گے

    گرمئ شہر ِ ضرورت سے پگھل جاؤ گے نہیں بدلے ہو ابھی تک تو بدل جاؤ گے اس چمکتے ہوئے دن کو نہ سمجھنا محفوظ اپنے سائے سے بھی نکلو گے تو جل جاؤ گے گردش ِ وقت ہے آتی ہے سبھی کے سر پر وقت گزرے گا تو اس سے بھی نکل جاؤ گے یہ محبت کے مقامات ہیں اے جان ِ نظر اتنا محتاط چلو گے تو...
  19. ظہیراحمدظہیر

    دیدہ وروں سے کور نگاہی ملی مجھے

    دیدہ وروں سے کور نگاہی ملی مجھے ایسے پڑھے ورق کہ سیاہی ملی مجھے کس دشت میں چلا ہوں کہ احساس مر گیا صورت دکھائی دی نہ صدا ہی ملی مجھے خالی پیالے سینکڑوں ہاتھوں میں ہر طرف تشنہ لبی اور ایک صراحی ملی مجھے ہمزاد میرا مرگیا میری انا کے ساتھ ورثے میں تخت ِ ذات کی شاہی ملی مجھے اپنی نظر...
  20. ظہیراحمدظہیر

    دعا

    دُعا مری نظر میں تری آرزو نظر آئے مجھے وہ آنکھ عطا کر کہ تو نظر آئے کلام اپنا سمودے وجود میں ایسا کہ میری چپ میں تری گفتگو نظر آئے میں جب بھی آئنہ دیکھوں غرورِ ہستی کا تو ایک عکسِ عدم روبرو نظر آئے ہٹادے آنکھ سے میری یہ خواہشات کے رنگ جو چیز جیسی ہے بس ہوبہو نظر آئے ہجوم ِشہر...
Top