فراق گورکھپوری

  1. طارق شاہ

    فراق فِراق گورکھپُوری ::::: دِیدار میں اِک طُرفہ دِیدار نظر آیا ::::: Firaq Gorakhpuri

    غزلِ فراؔق گورکھپُوری (رگھوپتی سہائے) دِیدار میں اِک طُرفہ دِیدار نظر آیا ہر بار چُھپا کوئی ، ہر بار نظر آیا چھالوں کو بیاباں بھی گُلزار نظر آیا جب چھیڑ پر آمادہ ہر خار نظر آیا صُبحِ شبِ ہجراں کی وہ چاک گریبانی اِک عالَمِ نیرنگی ہر تار نظر آیا ہو صبر ،کہ بیتابی، اُمِّید کہ،...
  2. طارق شاہ

    فراق فِراق گورکھپُوری ::::: آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے ::::: Firaq Gorakhpuri

    غزلِ فراؔق گورکھپُوری (رگھوپتی سہائے) آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے اِک شرحِ حیات ہو گئی ہے جب دِل کی وفات ہو گئی ہے ہر چیز کی رات ہو گئی ہے غم سے چُھٹ کر، یہ غم ہے مجھ کو ! کیوں غم سے نجات ہو گئی ہے ؟ مُدّت سے خبر مِلی نہ دِل کی شاید کوئی بات ہو گئی ہے جس شے پہ نظر پڑی ہے تیری تصویرِ حیات...
  3. طارق شاہ

    فراق فِراق گورکھپُوری ::::: دَورِ آغازِ جفا ، دِل کا سہارا نکلا ::::: Firaq Gorakhpuri

    غزلِ فِراق گورکھپُوری دَورِ آغازِ جفا ، دِل کا سہارا نکلا حوصلہ کچھ نہ ہمارا، نہ تمھارا نکلا تیرا نام آتے ہی، سکتے کا تھا عالم مجھ پر جانے کس طرح، یہ مذکور دوبارا نکلا ہےترے کشف و کرامات کی ، دُنیا قائل تجھ سے اے دِل! نہ مگر کام ہمارا نکلا عبرت انگیزہے کیا اُس کی جواں مرگی بھی ...
  4. طارق شاہ

    فراق فِراق گورکھپُوری ::::: لُطف نہیں کرَم نہیں ::::: Firaq Gorakhpuri

    غزلِ فِراق گورکھپُوری لُطف نہیں کرَم نہیں جور نہیں سِتم نہیں اب نہیں رُوئے مہ چَکاں گیسُوئے خم بہ خم نہیں برسرِ عالمِ وجُود کون سی شے عدم نہیں یُوں ہی نِکل گئی اِک آہ رنج نہیں، الَم نہیں قائلِ حُسنِ دِلفریب آپ نہیں کہ ہم نہیں میں تِرا موردِ عتاب اِس سے بڑا کرَم نہیں...
  5. طارق شاہ

    فراق فِراق گورکھپُوری ::::: یہ شوخئ نِگاہ کسی پر عیاں نہیں ! ::::: Firaq Gorakhpuri

    غزلِ فِراق گورکھپُوری یہ شوخئ نِگاہ کسی پر عیاں نہیں ! تاثیرِ دردِ عِشق، کہاں ہے کہاں نہیں عِشق اِس طرح مِٹا کہ عَدم تک نِشاں نہیں آ سامنے، کہ میں بھی تو اب درمیاں نہیں مُجھ کو بھی اپنے حال کا وہْم و گُماں نہیں تم راز داں نہیں تو کوئی راز داں نہیں صیّاد اِس طرح تو فریبِ سُکوں نہ دے اِس...
  6. طارق شاہ

    فراق فراق گورکھپوری::::: اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی ::::: Firaq Gorakhpuri

    غزلِ فراق گورکھپوری اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی ہماری زندگی! یارو ہماری زندگی کب تھی علائق سے ہُوں بیگانہ ولیکن اے دلِ غمگِیں تجھے کچھ یاد تو ہوگا، کسی سے دوستی کب تھی حیاتِ چند روزہ بھی، حیاتِ جاوِداں نِکلی ! جو کام آئی جہاں کے، وہ متاعِ عارضی کب تھی یہ دُنیا، کوئی پلٹا...
  7. طارق شاہ

    فراق فِراق گورکھپُوری ::::: آج بھی قافلۂ عِشق رَواں ہے کہ جو تھا ::::: Firaq Gorakhpuri

    غزلِ فِراق گورکھپُوری آج بھی قافلۂ عِشق رَواں ہے کہ جو تھا وہی مِیل اور وہی سنگِ نِشاں ہے کہ جو تھا آج بھی عِشق لُٹاتا دل و جاں ہے کہ جو تھا آج بھی حُسن وہی جِنسِ گراں ہے کہ جو تھا منزلیں گرد کے مانند اُڑی جاتی ہیں وہی اندازِ جہانِ گُزراں ہے کہ جو تھا منزلیں عِشق کی تا حدِ نظر سُونی ہیں...
  8. طارق شاہ

    فراق :::: سِتاروں سے اُلجھتا جا رہا ہُوں :::: Firaq Gorakhpuri

    غزل فراق گورکھپوری سِتاروں سے اُلجھتا جا رہا ہُوں شبِ فُرقت بہت گھبرا رہا ہُوں تِرے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہُوں جہاں کو بھی سمجھتا جارہا ہُوں یقیں یہ ہے حقیقت کُھل رہی ہے گُماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہُوں اگر مُمکن ہو، لے لے اپنی آہٹ خبر دو حُسن کو میں آ رہا ہوں حدیں حُسن و محبت کی مِلا...
  9. محمد عادل عزیز

    فراق سکوتِ شام مٹاو بہت اندھیرا ہے

    سکوتِ شام مٹاو بہت اندھیرا ہے سخن کی شمع جلاو بہت اندھیرا ہے دیارِ غم میں دل بیقرار چھوٹ گیا سنبھل کے ڈھونڈنے جاو بہت اندھیرا ہے یہ رات وہ کہ سوجھے جہاں نہ ہاتھ کو ہاتھ خیالو، دور نہ جاو بہت اندھیرا ہے لَٹوں کو چہرے پہ ڈالے وہ سو رہا ہے کہیں ضیائے رخ کو چراو بہت اندھیرا ہے ہوائیں نیم شبی ہوں...
  10. طارق شاہ

    فراق :::: کچھ اشارے تھے جنھیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم :::: Firaq Gorakhpuri

    فراق گورکھپوری غزل کُچھ اِشارے تھے جنھیں دُنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم اُس نِگاہِ آشنا کو ، کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئے واہ ری غفلت تُجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم ہوش کی توفِیق بھی ، کب اہلِ دل کو ہوسکی عِشق میں ، اپنے کو دِیوانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم پردۂ آزردگی...
  11. طارق شاہ

    فراق :::: زیر و بم سے سازِ خلقت کے جہاں بنتا گیا :::: Firaq Gorakhpuri

    فراق گورکھپوری غزل زیر و بم سے سازِ خلقت کے جہاں بنتا گیا یہ زمیں بنتی گئی ، یہ آسماں بنتا گیا داستانِ جورِ بیحد خُون سے لکھتا رہا قطرہ قطرہ اشکِ غم کا، بیکراں بنتا گیا عشقِ تنہا سے ہُوئیں ، آباد کتنی منزلیں اِک مُسافر کارواں در کارواں بنتا گیا ہم کو ہے معلوُم سب رودادِ علم و فلسفہ...
  12. طارق شاہ

    فراق :::: سرمیں سودا بھی نہیں، دل میں تمنّا بھی نہیں :::: Firaq Gorakhpuri

    فراق گورکھپوری غزل سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں لیکن اِس ترکِ محبّت کا بھروسہ بھی نہیں بُھول جاتے ہیں کسی کو مگر ایسا بھی نہیں یاد کرتے ہیں کسی کو، مگر اِتنا بھی نہیں تم نے پُوچھا بھی نہیں، میں نے بتایا بھی نہیں کیا مگر راز وہ ایسا تھا کہ جانا بھی نہیں ایک مُدّت سے تِری...
  13. طارق شاہ

    فراق :::: دل افسُردوں کے اب وہ وقت کی گھاتیں نہیں ہوتیں :::: Firaq Gorakhpuri

    فراق گورکھپوری غزل دل افسُردوں کے اب وہ وقت کی گھاتیں نہیں ہوتیں کسی کا درد اُٹّھے جن میں وہ راتیں نہیں ہوتیں ہم آہنگی بھی تیری دُورئ قربت نُما نِکلی کہ تجھ سے مِل کے بھی تجھ سے مُلاقاتیں نہیں ہوتیں یہ دَورِ آسماں بدلا، کہ اب بھی وقت پر بادل ! برستے ہیں، مگر اگلی سی برساتیں نہیں ہوتیں...
  14. طارق شاہ

    فراق :::: کچھ اپنا آشنا کیوں اے دلِ ناداں نہیں ہوتا :::: Firaq Gorakhpuri

    فراق گورکھپوری غزل کچھ اپنا آشنا، کیوں اے دلِ ناداں نہیں ہوتا کہ آئے دن، یہ رنگِ گردشِ دَوراں نہیں ہوتا ریاضِ دہرمیں جُھوٹی ہنْسی بھی ہم نے دیکھی ہے گُلِستاں دربغل ہر غنچۂ خنداں نہیں ہوتا یقیں لائیں تو کیا لائیں، جو شک لائیں توکیا لائیں کہ باتوں میں تِری سچ جُھوٹ کا اِمکان نہیں ہوتا...
  15. طارق شاہ

    فراق :::: فسردہ پا کے محبّت کو مسکرائے جا -- Firaq Gorakhpuri

    فراق گورکھپوری غزل فسُردہ پا کے محبّت کو ، مُسکرائے جا اب آ گیا ہے تو، اِک آگ سی لگائے جا اِس اِضطراب میں رازِ فروغ پنہاں ہے طلوعِ صبْح کی مانِند تھرتھرائے جا جہاں کو دیگی محبّت کی تیغ آبِ حیات ابھی کچُھ اور اِسے زہر میں بُجھائے جا مِٹا مِٹا کے، محبّت سنْوار دیتی ہے بگڑ بگڑ کے یونہی...
  16. طارق شاہ

    فراق :::: مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے

    غزلِ فراق گورکھپوری مجھ کو مارا ہے ہر اِک درد و دوا سے پہلے دی سزا عشق نے، ہر جُرم و خطا سے پہلے آتشِ عشق بھڑکتی ہے ہوا سے پہلے ہونٹ جلتے ہیں محبّت میں دُعا سے پہلے فِتنے برپا ہوئے ہرغنچہٴ سر بستہ سے کھُل گیا رازِ چَمن چاکِ قبا سے پہلے چال ہے بادہٴ ہستی کا چَھلکتا ہُوا جام ہم کہاں تھے...
  17. طارق شاہ

    فراق اب اکثر چُپ چُپ سے رہے ہيں، يونہی کبھی لب کھولے ہيں

    غزل فراق گورکھپوری اب اکثر چُپ چُپ سے رہے ہيں، يونہی کبھی لب کھولے ہيں پہلے فراق کو ديکھا ہوتا، اب تو بہت کم بولے ہيں دن ميں ہم کو ديکھنے والو، اپنے اپنے ہيں اوقات جاؤ نہ تم ان خُشک آنکھوں پر، ہم راتوں کو رو لے ہيں فِطرت ميری عِشق و محبّت، قِسمت ميری تنہائی کہنے کی نوبت ہی نہ آئی، ہم بھی...
  18. طارق شاہ

    فراق کسی کا یوں تو ہُوا کون عمر بھر پھر بھی -- فراق گورکھپوری

    غزل فراق گورکھپوری کسی کا یوں تو ہُوا کون عمر بھر پھر بھی یہ حُسن وعشق تو دھوکہ ہے سب، مگر پھر بھی ہزار بار زمانہ اِدھر سے گزرا ہے نئی نئی سی ہےکچھ تیری رہگزر پھر بھی خوشا اشارہٴ پیہم، زہے سکوتِ نظر دراز ہوکے فسانہ ہے مختصر پھر بھی جھپک رہی ہے زمان ومکان کی آنکھیں مگر ہے قافلہ،...
  19. طارق شاہ

    فراق تہوں میں دل کے جہاں کوئی واردات ہوئی (رگھو پتی سہائے فراق گھورکھپوری)

    غزل فراق گورکھپوری تہوں میں دل کے جہاں کوئی واردات ہوئی حیاتِ تازہ سے لبریز کائنات ہوئی تم ہی نے باعثِ غم بارہا کِیا دریافت کہا تو رُوٹھ گئے یہ بھی کوئی بات ہوئی حیات، رازِ سُکوں پا گئی ازل ٹہری ازل میں تھوڑی سی لرزِش ہوئی حیات ہوئی تھی ایک کاوشِ بے نام دل میں فِطرت کے سِوا ہوئی...
  20. پ

    فراق غزل - رکی رکی سی شب ہجر ختم پر آئی - فراق گورکھپوری

    غزل رکی رکی سی شب ہجر ختم پر آئی وہ پو پھٹی وہ نئ زندگی نظر آئی یہ وہ موڑ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی نہ ساتھ مسافروں سے کہو ، اس کی راہگزر آئی کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی تھی امیدواروں میں کل موت بھی نظر آئی کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے کہ یہ بلا بھی ترے عاشقوں کے سر آئی...
Top