فراق فِراق گورکھپُوری ::::: دَورِ آغازِ جفا ، دِل کا سہارا نکلا ::::: Firaq Gorakhpuri

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 23, 2016

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm


    غزلِ
    [​IMG]
    فِراق گورکھپُوری

    دَورِ آغازِ جفا ، دِل کا سہارا نکلا
    حوصلہ کچھ نہ ہمارا، نہ تمھارا نکلا

    تیرا نام آتے ہی، سکتے کا تھا عالم مجھ پر
    جانے کس طرح، یہ مذکور دوبارا نکلا

    ہےترے کشف و کرامات کی ، دُنیا قائل
    تجھ سے اے دِل! نہ مگر کام ہمارا نکلا

    عبرت انگیزہے کیا اُس کی جواں مرگی بھی !
    ہائے وہ دِل، جو ہمارا نہ تمھارا نکلا

    عقل کی لو سے فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں
    رشکِ خورشیدِ قیامت یہ شرارا نکلا

    رونے والے ہُوئے چُپ، ہجر کی دُنیا بدلی
    شمع بے نور ہُوئی، صُبح کا تارا نکلا

    اُنگلیاں اُٹّھیں فراؔقِ وطن آوارہ پر
    آج جس سمت سے، وہ درد کا مارا نکلا

    فراؔق گورکھپوری

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
    تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

    مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
    نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

    جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
    اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں

    نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
    تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

    طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
    ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

    خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
    اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

    حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہ
    وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں

    ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی
    مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں

    تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت
    کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

    اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں
    خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں

    جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا
    عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

    تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں
    ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

    ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگندھ کھاتی ہے
    تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں

    رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہے
    ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

    زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہے
    اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

    فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
    کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں

    فراؔق گورکھپوری
     
  3. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
    لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں

    دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں
    لیکن اس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں

    مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
    آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں

    ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
    اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

    آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا
    آج ہی خاطر بیمار شکیبا بھی نہیں

    بات یہ ہے کہ سکون دل وحشی کا مقام
    کنج زنداں بھی نہیں وسعت صحرا بھی نہیں

    ارے صیاد ہمیں گل ہیں ہمیں بلبل ہیں
    تو نے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں

    آہ یہ مجمع احباب یہ بزم خاموش
    آج محفل میں فراقؔ سخن آرا بھی نہیں

    یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور
    یہ بھی سچ ہے کہ ترا حسن کچھ ایسا بھی نہیں

    یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانۂ عشق
    مگر اے دوست کچھ ایسوں کا ٹھکانا بھی نہیں

    فطرت حسن تو معلوم ہے تجھ کو ہمدم
    چارہ ہی کیا ہے بجز صبر سو ہوتا بھی نہیں

    منہ سے ہم اپنے برا تو نہیں کہتے کہ فراقؔ
    ہے ترا دوست مگر آدمی اچھا بھی نہیں

    فراق گور کھپوری
     
  4. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں
    اف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاں

    بیتابی و سکوں کی ہوئیں منزلیں تمام
    بہلائیں تجھ سے چھٹ کے طبیعت کہاں کہاں

    فرقت ہو یا وصال وہی اضطراب ہے
    تیرا اثر ہے اے غم فرقت کہاں کہاں

    ہر جنبش نگاہ میں صد کیف بے خودی
    بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں

    راہ طلب میں چھوڑ دیا دل کا ساتھ بھی
    پھرتے لیے ہوئے یہ مصیبت کہاں کہاں

    دل کے افق تک اب تو ہیں پرچھائیاں تری
    لے جائے اب تو دیکھ یہ وحشت کہاں کہاں

    اے نرگس سیاہ بتا دے ترے نثار
    کس کس کو ہے یہ ہوش یہ غفلت کہاں کہاں

    نیرنگ عشق کی ہے کوئی انتہا کہ یہ
    یہ غم کہاں کہاں یہ مسرت کہاں کہاں

    بیگانگی پر اس کی زمانے سے احتراز
    در پردہ اس ادا کی شکایت کہاں کہاں

    فرق آ گیا تھا دور حیات و ممات میں
    آئی ہے آج یاد وہ صورت کہاں کہاں

    جیسے فنا بقا میں بھی کوئی کمی سی ہو
    مجھ کو پڑی ہے تیری ضرورت کہاں کہاں

    دنیا سے اے دل اتنی طبیعت بھری نہ تھی
    تیرے لئے اٹھائی ندامت کہاں کہاں

    اب امتیاز عشق و ہوس بھی نہیں رہا
    ہوتی ہے تیری چشم عنایت کہاں کہاں

    ہر گام پر طریق محبت میں موت تھی
    اس راہ میں کھلے در رحمت کہاں کہاں

    ہوش و جنوں بھی اب تو بس اک بات ہیں فراقؔ
    ہوتی ہے اس نظر کی شرارت کہاں کہاں

    فراؔق گورکھپوری
     

اس صفحے کی تشہیر