تاشقند
بھٹکتا ہوا شوق کا کارواں
ہوا خیمہ زن آکے دیکھو کہاں
یہ عاشق کے سینے سے چوڑی زمیں
سما جائیں جس میں کئی آسماں
کہاں باغِ جنت کہاں تاشقند
یہ زندہ حقیقت وہ مردہ گماں
یہ نشہ ہی نشہ ہے اور وہ خمار
یہ شعلہ ہی شعلہ ہے اور وہ دھواں
درخت اس کے سارے مسافر نواز
پہاڑ اس کے سب مشفق و مہرباں
عزیزوں...