غزل
ہم رہے پر نہیں رہے آباد
یاد کے گھر نہیں رہے آباد
کتنی آنکھیں ہوئی ہلاک ِ نظر
کتنے منظر نہیں رہے آباد
ہم کہ اے دل سخن تھے سر تا پا
ہم لبوں پر نہیں رہے آباد
شہرِ دل میں عجب محلے تھے
جن میں اکثر نہیں رہے آباد
جانے کیا واقعہ ہوا، کیوں لوگ
اپنے اندر نہیں رہے آباد
جون ایلیا
غزل
ریت بھری ہے ان آنکھوں میں تم اشکوں سے دھو لینا
کوئی سوکھا پیڑ ملے تو اُس سے لپٹ کے رو لینا
اُس کے بعد بھی تم تنہا ہو، جیسے جنگل کا رستہ
جو بھی تم سے پیار سے بولے ساتھ اُسی کے ہو لینا
کچھ تو ریت کی پیاس بجھائو جنم جنم سے پیاسی ہے
ساحل پر چلنے سے پہلے اپنے پائوں بھگو لینا
ہم نے...
تین اچھی باتیں تو ڈھونڈنی پڑیں گی لیکن بری باتیں تو تین ہزار بھی مل جائیں گی۔
بقول شاعر۔۔۔
اک دن وہ میرے عیب گنوانے لگا فراز
جب خود ہی تھک گیا تو مجے سوچنا پڑا
بہت شکریہ اعجاز صاحب اس حوصلہ افزائی کا۔
یہ بات تو واقعی ٹھیک ہے کہ غزل میں قافیہ اور ردیف کی مجبوریوں کی وجہ سے شاعر کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے پر غزل پھر بھی غزل ہوتی ہے ۔ اور اس دامن کشی کم از کم میرے لئے ممکن نہیں۔