فاتح بھائی
آپ کی پزیرائی میرے لئے باعثِ اعزاز ہے۔ آپ کی محبتوں کا ممنون ہوں۔
جیسا کہ وارث صاحب نے کہا ہے۔ غزل کی جگہ نظم بحر کی مجبوری کی وجہ سے لکھا ہے اور شاید اسی بہانے کسی نطم کا سامان بھی ہو جائے۔
بہت شکریہ!
مخلص
محمد احمد
غزل حاضرِ خدمت ہے۔
صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام
دل نگری کی رات اداسی، چنچل چنچل شام
ڈالی ڈالی پھول ہیں رقصاں، دریا دریا موج
تتلی تتلی نقش ہیں رنگیں، کومل کومل شام
رنگِ جنوں دل دیوانے پر دید کے پیاسے نین
تیری گلی، تیری دہلیزیں، پاگل پاگل شام
نین ہیں کس کے، یاد ہے کس کی، کس...
غزل
تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا
مرے اندھیروں کی فکر چھوڑو تم اپنے گھر کا خیا ل رکھنا
اُجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ فصل بوئی تھی چاندنی کی
اب اُس میں اُگنے لگے اندھیرے تو کیسا جی میں ملال رکھنا
دیارِ الفت میں اجنبی کو سفر ہے درپیش ظلمتوں کا
کہیں وہ راہوں میں کھو نہ جائے...
غزل
یہ رتجگوں کا کسی طور سلسلہ نہ رہے
ملو تو یوں کہ بچھڑنے کا شائبہ نہ رہے
ہُو ا ہے فطرتِ ثانی یہ جاگتے رہنا
بلا سے خواب کا آنکھوں میں ذائقہ نہ رہے
ملا تو روئے گا اب بھی وہ لگ کے سینے سے
کہ اپنے حال کا ماضی سے فاصلہ نہ رہے
بچھڑنا شرط ہی ٹھہر ا تو یوں بچھڑ جائیں
کسی کو ترکِ تعلق...