کتنا بوسیدہ دریدہ پیرہن ہے زیبِ تن
وہ جو چرخہ کاتتی رہتی ہے لڑکی رات کو
جب چلی ٹھنڈی ہوا بچّہ ٹھٹھر کر رہ گیا
ماں نے اپنے لال کی تختی جلا دی رات کو
مرغزارِ شاعری میں گم رہا سبطِ علی
سو گئی رہ دیکھتے بیمار بیوی رات کو
وارث صاحب
بہت عمدہ انتخاب ، اور بے حد لاجواب غزل ہے۔ اس خوبصورت پیشکش پر...