وارث بھائی
بس ایک یہی قافیہ رہ گیا تھا جو دوران غزل کئی مرتبہ مدِ مقابل آکر جم گیا اور بڑی مشکل سے جان چھڑائی ۔ ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اس سے ہماری جان نہیں چھوٹے گی۔ :)
محسن بھائی
یہ بلا شبہ آپ کا حسنِ ذوق ہے کہ آپ کو اس عاجز کی ادنٰی کاوش کسی قابل لگی۔ آپ اور سنجیدہ تبصرہ! اچھا بھی لگا اور نہیں بھی۔ اچھا اس لیے لگا کہ آپ نے اپنی رائے دی جو میرے لیے حوصلہ افزا ہے اور بُرا اس لیے لگا کہ آپ اپنے اصلی رنگ میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ سو آئندہ ملا جُلا تبصرہ کردیجے گا...
تجھ سے بیگانہءاحساسِ الم کیا جانیں
کیا گزرتی ہے شب و روز کے زندانی پر
موج در موج بہے جاتا ہوں تہ داری میں
آج کل درد کا دریا بھی ہے طغیانی پر
چشمِ نم سے کہاں ممکن ہے نظارا دل کا
نقش بنتا ہی نہیں بہتے ہوئے پانی پر
واہ آصف صاحب،
بہت عمدہ غزل ہے ۔ خاص طور پر یہ تین اشعار بہت عمدہ...
غزل
اک تھکا ماندہ مسافر، وہ صحرا، وہی دھوپ
پھر وہی آبلہ پائی، وہی رستہ، وہی دھوپ
میں وہی رات، بہ عنوانِ سکوں، سازِ خاموش
تو وہی چاند سراپا، ترا لہجہ وہی دھوپ
پھر کتابوں کی جگہ بھوک، مشقت، محنت
پھر وہی ٹاٹ بچھونا، وہی بچہ، وہی دھوپ
میں شجر سایہ فگن سب پہ عدو ہوں کہ سجن
میرا ماضی...
غزل
عمرِ آخر میں سبھی اُس سے خفا ہونے لگے
رفتہ رفتہ پیڑ سے پتے جُدا ہونے لگے
شور اتنا تھا سماعت میں دراڑیں پڑ گئیں
ایسا سناٹا کہ سانس اپنی صدا ہونے لگے
اک دیا ہم نے جلا کر اُن کو بھی ترغیب دی
وہ دیا تو کیا جلاتے خود ہوا ہونے لگے
اِن دنوں میرا بدن زخموں سے کیوں محفوظ ہے
کیا نشانے...
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی اِبراھیم و علی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید ہ
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی اِبراھیم و علی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید ہ
غزل
پھرے دشت دشت شاید در و بام کی اُداسی
مرے بعد کیا کرے گی مرے نام کی اُداسی
مرے ہم سفر تھے کیا کیا، میں کسی کو اب کہوں کیا
کوئی دھوپ دوپہر کی، کوئی شام کی اُداسی
کہیں اور کا ستارہ مری آنکھ پر اُتارا
مجھے آسماں نے دی ہے بڑے کام کی اُداسی
مجھے یاد آرہی ہے وہ سفر کی خوش گواری
مرا دل دکھا رہی...
غزل
بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیا
رہ و رسمِ محبت چھوڑ دی کیا
یہ کیا اندر ہی اندر بُجھ رہے ہو
ہواؤں سے رقابت چھوڑ دی کی
مناتے پھر رہے ہو ہر کسی کو
خفا رہنے کی عادت چھوڑ دی کیا
لیے بیٹھی ہیں آنکھیں آنسوؤں کو
ستاروں کی سیاحت چھوڑ دی کیا
غبارِ دشت کیوں بیٹھا ہوا ہے
مرے آہو نے وحشت...
فاروقی بھائی
ہمارا پالا تو آپ سمیت سب ہی اچھے لوگوں سے پڑا ہے بس کچھ ہم سے ہی تقصیر ہوگئی ورنہ ہمیں خود بھی سوچنا چاہیے تھا کہ "اشاروں" پر تو اعتراض ہوتا ہی ہے :) وہ بھی ایک چھوڑ تین تین "اشارے"۔ :grin: سو یہ ہی وجہ ہے کہ
اشاروں ہی اشاروں میں اشارہ کردیا سب نے
کہ صاحب ان اشاروں سے بچا...