لاؤ تو قتل نامہ مرا
سننے کو بھیڑ ہے سرِ محشر لگی ہوئی
تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی
رندوں کے دم میں آتش ِ مَے کے بغیر بھی
ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی
آباد کرکے شہر خموشاں ہر ایک سُو
کس کھوج میں ہے تیغ ستمگر لگی ہوئی
آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام
بازی میان ِقاتل و خنجر...