ایسی دنیا میں کب تک گزارا کریں، تم ہی کہہ دو کہ کیسے گوارا کریں
رات مجھ سے مری بے بسی نے کہا ،بے بسی کیلیے ایک تازہ غزل
منظروں سے بہلنا ضروری نہیں ،گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں
دل کو روشن کرو ، روشنی نے کہا، روشنی کیلیے ایک تازہ غزل
میں عبادت بھی ہوں ،میں محبت بھی ہوں ،زندگی کی نمو کی...
شکریہ آصف شفیع صاحب،
غزل مجھے بھی بے حد پسند آئی تھی۔ کیا مقبول عامر ہم میں موجود نہیں رہے جو آپ نے "تھے" کا لفظ استعمال کیا ہے۔ میں اُن سے واقف نہیں ہوں میرے لئے اُن کا پہلا تعارف یہ غزل ہی ہے۔
اللھم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی اِبراھیم وعلٰی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید ہ
اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی اِبراھیم وعلٰی آل اِبراھیم انک حمید مجید ہ
ہمدرد ۔۔۔ ایک درد مند دل کا فسانہ
از محمد احمد
یہ محض اتفاق ہی تھا کہ بس میں رش نہیں تھا ورنہ کراچی جیسے شہر میں اگر بس کے پائیدان پر بھی آپ کو جگہ مل جائے تواسے بڑی خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شاید دوپہر کے ساڑھے تین سے چار بجے کا وقت ہوگا عموماً اس وقت تک ٹریفک کا زیادہ بہاؤ رہائشی...
سلیمان جاذب صاحب،
ماشاء اللہ بہت اچھا قطعہ ہے آپ کی اور بھی غزلیں پڑھیں ہیں، اچھا لکھتے ہیں آپ۔
ناچیز کی جانب سے نذرانہء تحسین حاضرِ خدمت ہے۔
خوش رہیے۔