غزل
جز رشتۂ خلوص یہ رشتہ کچھ اور تھا
تم میرے اور کچھ، میں تمھارا کچھ اور تھا
جو خواب تم نے مجھ کو سنایا، تھا اور کچھ
تعبیر کہہ رہی ہے کہ سپنا کچھ اور تھا
ہمراہیوں کو جشن منانے سےتھی غرض
منزل ہنوز دور تھی، رستہ کچھ اور تھا
اُمید و بیم، عِشرت و عُسرت کے درمیاں
اک کشمکش کچھ اور تھی، کچھ تھا،...
غزل
حریمِ لفظ میں کس درجہ بے ادب نکلا
جسے نجیب سمجھتے تھے کم نسب نکلا
سپاہِ شام کے نیزے پہ آفتا ب کا سر
کس اہتمام سے پروردگارِ شب نکلا
ہماری گرمیِ گفتار بھی رہی بے سود
کسی کی چپ کا بھی مطلب عجب عجب نکلا
بہم ہوئے بھی مگر دل کی وحشتیں نہ گئیں
وصال میں بھی دلوں کا غبار کب نکلا...
غزل
کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے
بس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائے
ہوا بھی ہوگئی میثاقِ تیرگی میں فریق
کوئی چراغ نہ اب رہگزر میں رکھا جائے
اُسی کو بات نہ پہنچے جسے پہنچنی ہو
یہ التزام بھی عرضِ ہنر میں رکھا جائے
نہ جانے کون سے ترکش کے تیر کب چل جائیں
نشانِ مہر کمانِ...
غزل
میرا شرف کہ تو مجھے جوازِ افتخار دے
فقیرِ شہرِ علم ہوں زکواۃ ِ اعتبار دے
میں جیسے تیسے ٹوٹے پھوٹے لفظ گھڑکے آگیا
کہ اب یہ تیرا کام ہےبگاڑ دے سنوار دے
مرے امین آنسوؤں کی نذر ہے قبول کر
مرے کریم اور کیا ترا گناہگار دے
نگاہداریِ بہار آرزو کے واسطے
ہمارے نخلِ جاں کو بھی کوئی...
مکالمہ
"ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
جو خلعتِ انتساب پہنا کے وقت کی رَو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
حجاب کو رمزِ نور کہتا ہے اور پَرتو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہو گا"
"کوئی نہیں ہے
کہیں نہیں ہے
یہ خوش یقینوں کے ، خوش گمانوں کے واہمے ہیں جو ہر سوالی سے...
کم ہے جس درجہ کیجئے وحشت
گونجتا ہے دماغ سا دل میں
آخر آخر نوید صادق بھی
آن بیٹھا، رہا سہا، دل میں
سبحان اللہ ! نوید صادق صاحب،
بہت اچھی غزل ہے۔ داد حاضرِ خدمت ہے۔