نتائج تلاش

  1. محمداحمد

    محاورے کی زبان میں بات کریں ۔۔!

    آ جائیں گے ذیشان بھائی بھی ۔ ہم سب ہی خمِ زلفِ روز گار کے اسیروں میں شامل ہیں۔ مصروف ہوں گے۔
  2. محمداحمد

    محاورے کی زبان میں بات کریں ۔۔!

    چشم ما روشن دلِ ماشاد۔ جم جم آئیے محترم ۔ آپ ہی کا انتظار تھا۔ :)
  3. محمداحمد

    انور شعور غزل ۔ توفیقِ علم و حلم و شرافت نہیں مجھے ۔ انور شعورؔ

    غزل توفیقِ علم و حلم و شرافت نہیں مجھے حاصل کسی طرح کی سعادت نہیں مجھے جب سے سنی ہیں متّقیوں کی کرامتیں اپنے کیے پہ کوئی ندامت نہیں مجھے دل چاہتا تو ہے کہ ہَوس کاریاں کروں لیکن یہ استطاعت و ہمّت نہیں مجھے خوبانِ شہر بھی نہ ہوئے مجھ پہ ملتفت میں بھی وہ بد دماغ کہ حسرت نہیں مجھے تا حشر...
  4. محمداحمد

    انور شعور غزل ۔ ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے ۔ انور شعورؔ

    غزل ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے آج کل ہیں وہ یاد آئے ہوئے میں نے راتیں بہت گزاری ہیں صرف دل کا دیا جلائے ہوئے ایک اُسی شخص کا نہیں مذکور ہم زمانے کے ہیں ستائے ہوئے سونے آتے ہیں لوگ بستی میں سارے دن کے تھکے تھکائے ہوئے مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے گو فلک پہ نہیں،...
  5. محمداحمد

    انور شعور غزل ۔ موضوعِ گفتگو تری تقریر ہو گئی ۔ انور شعورؔ

    غزل موضوعِ گفتگو تری تقریر ہو گئی پیدا زبانِ خلق میں تاثیر ہو گئی اے سعیِ پردہ درایء احوال مرحبا کس کس معاملے کی نہ تشہیر ہو گئی بُھولے سے آنکھ بھر کے اُسے دیکھ کیا لیا وہ زلفِ راہگیر، عناں گیر ہو گئی فیاضی و سخاوت وانعام و التفات یہ مملکت تو آپ کی جاگیر ہو گئی کیا ہو اُسے شعورؔ تجھے...
  6. محمداحمد

    وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے - حکیم آزاد انصاری

    خوبصورت کلام شاملِ محفل کرنے کا بے حد شکریہ کاشفی بھائی۔ جیتے رہیے۔ :)
  7. محمداحمد

    مصطفیٰ زیدی غزل ۔ یہ ایک بات کہ اُس بُت کی ہمسری بھی نہیں - مصطفیٰ زیدی

    انتخاب کی پسندیدگی، توجہ اور تبصروں کے لئے آپ دوستوں کا ممنون ہوں۔
  8. محمداحمد

    مصطفیٰ زیدی غزل ۔ ہر طرف انبساط ہے اے دل ۔ مصطفیٰ زیدی

    بہت شکریہ کاشفی بھائی، وارث بھائی اور فرخ بھائی۔۔۔۔!
  9. محمداحمد

    جمال احسانی غزل ۔ کوئی پُرساں ہی نہ ہم دل زدگاں کا نکلا ۔ جمال احسانی

    بہت شکریہ سارہ۔۔۔۔! 'دزد' چور کو کہتے ہیں سو میرا خیال ہے کہ 'دزدانہ' کا مطلب 'چوری چھپے' یا 'چوری چوری' ہونا چاہیے۔ :)
  10. محمداحمد

    جمال احسانی غزل ۔ کوئی بھی شکل ہو یا نام، کوئی یاد نہ تھا ۔ جمال احسانی

    غزل کوئی بھی شکل ہو یا نام، کوئی یاد نہ تھا عجیب شام تھی، اُس شام کوئی یاد نہ تھا جنہیں پلٹنے کی فرصت نہیں رہی وہ لوگ گھروں سے نکلے تھے تو کام کوئی یاد نہ تھا ستارہ ء سفر اپنے بچھڑنے والوں کو پکارتا رہا گو نام کوئی یاد نہ تھا تری گلی ہی نہیں تیرے شہر تک کو بھی ہم ایسا صاحبِ آرام کوئی یاد...
  11. محمداحمد

    جمال احسانی غزل ۔ کوئی پُرساں ہی نہ ہم دل زدگاں کا نکلا ۔ جمال احسانی

    غزل کوئی پُرساں ہی نہ ہم دل زدگاں کا نکلا شہر کا شہر اُسی دشمنِ جاں کا نکلا نئی بستی میں سبھی لوگ پُرانے نکلے ہم جہاں کے تھے کوئی بھی نہ وہاں کا نکلا زیست خمیازہ ء ادراک ہے اور کچھ بھی نہیں پسِ ہر سنگ اِک آئینہ زیاں کا نکلا دل عبث آرزوئے خاک میں پہنچا تہہِ آب عکس تک سروِ سرِ موجِ رواں کا...
  12. محمداحمد

    جمال احسانی غزل ۔ قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا ۔ جمال احسانی

    غزل قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا کسی نے پوچھا نہیں لَوٹتے ہوئے مجھ سے میں آج کیسے بھلا گھر میں شام سے آیا ہم ایسے بے ہنروں میں ہے جو سلیقہ ء زیست تیرے دیار میں پل بھر قیام سے آیا جوآسماں کی بلندی کو چھونے والا تھا وہی منارہ زمیں پر دھڑام سے آیا...
  13. محمداحمد

    تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا۔۔۔۔ مرغوب حسین طاہر

    اجنبی فضاؤں میں اجنبی مسافر سے اپنے ہر تعلق کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ لینا اور جب بچھڑ جانا مانگنا دعاؤں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے شاید یہاں کسی لفظ کی کمی ہے، میں پہلے بھی شاید یہ کلام پڑھ چکا ہوں شاید یہاں 'دائمی' یا اس سے ملتا جلتا کوئی لفظ ہونا چاہیے۔
Top