1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جمال احسانی غزل ۔ کوئی بھی شکل ہو یا نام، کوئی یاد نہ تھا ۔ جمال احسانی

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 13, 2012

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غزل
    کوئی بھی شکل ہو یا نام، کوئی یاد نہ تھا​
    عجیب شام تھی، اُس شام کوئی یاد نہ تھا​
    جنہیں پلٹنے کی فرصت نہیں رہی وہ لوگ​
    گھروں سے نکلے تھے تو کام کوئی یاد نہ تھا​
    ستارہ ء سفر اپنے بچھڑنے والوں کو​
    پکارتا رہا گو نام کوئی یاد نہ تھا​
    تری گلی ہی نہیں تیرے شہر تک کو بھی​
    ہم ایسا صاحبِ آرام کوئی یاد نہ تھا​
    متاعِ عمر ہوئی خرچ اور بتاتے ہوئے​
    نہ وہ دریچہ نہ وہ بام کوئی یاد نہ تھا​
    جمال احسانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
    • زبردست زبردست × 1
  2. سارہ خان

    سارہ خان محفلین

    مراسلے:
    15,819
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت خوب ۔۔۔۔
     
  3. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    :)
     
  4. ابرار حسین شاہ

    ابرار حسین شاہ محفلین

    مراسلے:
    3
    بہت خوب مزا آگیا
     
  5. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive

اس صفحے کی تشہیر