بہت شکریہ نایاب بھائی۔۔۔۔ !
یہ غزل مجھے بہت پسند تھی کل ایک رسالے میں نظر آئی سوچا محفل میں پوسٹ کر دی جائے۔
ریاض مجید کی ایک اور غزل بھی مجھے بہت اچھی لگی تھی جو اب کہیں سے نہیں مل رہی۔ اُس کے صرف دو شعر مجھے یاد ہیں۔
تمھارا غم مرے حق میں چراغِ راہ سہی
میں اس چراغ کو ضد میں بجھا بھی...
غزل
بدل سکا نہ جدائی کے غم اُٹھا کر بھی
کہ میں تو میں ہی رہا تجھ سے دُور جا کر بھی
میں سخت جان تھا اس کرب سے بھی بچ نکلا
میں جی رہا ہوں تجھے ہاتھ سے گنوا کر بھی
خُدا کرے تجھے دُوری ہی راس آجائے
تو کیا کرے گا بھلا اب یہاں پہ آکر بھی
ابھی تو میرے بکھرنے کا کھیل باقی ہے
میں خوش نہیں ہوں...
غزل
جب نمازِ محبت ادا کیجیے
غیر کو بھی شریکِ دعا کیجیے
آنکھ والے نگاہیں چُراتے نہیں
آئینہ کیوں نہ ہو سامنا کیجیے
آپ کا گھر سدا جگمگاتا رہے
راہ میں بھی دیا رکھ دیا کیجیے
آنکھ میں اشکِ غم آ بھی جائیں تو کیا
چند قطرے تو ہیں پی لیا کیجے
شانتی صباؔ
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
(سورة الإسراء)
ترجمہ : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔