غزل
کہہ رہے تھے لوگ صحرا جل گیا
پھر خبر آئی کہ دریا جل گیا
دیکھ لو میں بھی ہوں، میرا جسم بھی
بس ہُوا یہ ہے کہ چہرہ جل گیا
میرے اندازے کی نسبت وہ چراغ
کم جلا تھا، پھر بھی اچّھا جل گیا
شارٹ سرکٹ سے اُڑی چنگاریاں
صدر میں اک پھول والا جل گیا
آگ برسی تھی بدی کے شہر پر
اک ہمارا بھی شناسا جل...
غزل
اک اپنے سلسلے میں تو اہلِ یقیں ہوں میں
چھ فیٹ تک ہوں، اس کے علاوہ نہیں ہوں میں
روئے زمیں پہ چار ارب میرے عکس ہیں
اِن میں سے میں بھی ایک ہوں، چاہے کہیں ہوں میں
ویسے تو میں گلوب کو پڑھتا ہوں رات دن
سچ یہ ہے اک فلیٹ ہے، جس کا مکیں ہوں میں
ٹکرا کے بچ گیا ہوں بسوں سے کئی دفعہ
اب کے جو...
غزل
سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
آسیب اپنے کام سے، ہم اپنے کام سے
نشّے میں ڈگمگا کے نہ چل، سیٹیاں بجا
شاید کوئی چراغ اُتر آئے بام سے
غصّے میں دوڑتے ہیں ٹرک بھی لدے ہوئے
میں بھی بھرا ہُوا ہوں بہت انتقام سے
دشمن ہے ایک شخص بہت، ایک شخص کا
ہاں عشق ایک نام کو ہے ایک نام سے
میرے تمام...
غزل
اوپر بادل، نیچے پربت، بیچ میں خواب غزالاں کا
دیکھو میں نے حرف جما کے نگر بنایا جاناں کا
پاگل پنچھی بعد میں چہکے پہلے میں نے دیکھا تھا
اُس جمپر کی شکنوں میں ہلکا سا رنگ بہاراں کا
بستی یوں ہی بیچ میں آئی اصل میں جنگ تو مجھ سے تھی
جب تک میرے باغ نہ ڈوبے، زور نہ ٹوٹا طوفاں کا
ہم املاک...
غزل
سفر میں جب تلک رہنا سفر کی آرزو کرنا
گھروں میں بیٹھ کر بیتے سفر کی گفتگو کرنا
جنھیں روٹھے ہوئے دلدار کی بانہیں سمجھتے ہو
وہ شاخین کاٹ لانا پھر انہیں زیبِ گلو کرنا
تمہیں دیکھیں نہ دیکھیں ایک عادت ہے ، کہ ہر شب کو
تمہارے خواب کی سونے سے پہلے آرزو کرنا
غمِ نا آگہی، جب رقصِ وحشت کا خیال...
غزل
پھول زمین پر گرا، پھر مجھے نیند آگئی
دُور کسی نے کچھ کہا، پھر مجھے نیند آگئی
ابر کی اوٹ سے کہیں، نرم سی دستکیں ہوئیں
ساتھ ہی کوئی در کُھلا، پھر مجھے نیند آگئی
رات بہت ہوا چلی، اور شجر بہت ڈرے
میں بھِی ذرا ذرا ڈرا، پھر مجھے نیند آگئی
اور ہی ایک سمت سے، اور ہی اک مقام پر
گرد نے شہر کو...
غزل
راتوں کو دن سپنے دیکھوں، دن کو بِتاوں سونے میں
میرے لیے کوئی فرق نہیں ہے، ہونے اور نہ ہونے میں
برسوں بعد اُسے دیکھا تو آنکھوں میں دو ہیرے تھے
اور بدن کی ساری چاندی چُھپی ہوئی تھی سونے میں
دھرتی تیری گہرائی میں ہوں گے میٹھے سوت مگر
میں تو صرف ہُوا جاتا ہوں کنکر پتھر ڈھونے میں
گھر میں...
واقعی۔۔۔۔! غریب ساری عمر روتا ہے پھر بھی اُس کے آنسو ختم نہیں ہوتے۔
ایسی ہی ایک دھمکی جاذب قریشی نے بھی کسی کو دی تھی۔
ورنہ دریا ترے گھر تک آتا
آنسوؤں سے کبھی رویا نہیں میں
ایک اور جگہ یہ تین اشعار بھی ملے ہیں:
خرامِ عمر، ترا کام پائمالی ہے
مگر یہ دیکھ، ترے زیرِ پا تو میں بھی ہوں
تلاشِ گم شدگاں میں نکل چلوں، لیکن
یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہوا تو میں بھی ہوں
مرے لیے تو یہ جو کچھ ہے، وہم ہے لیکن
یقیں کرو نہ کرو، واہمہ تو میں بھی ہوں