یعنی بقول شاعر:
جس بستی میں ہم رہتے ہیں پتھر گیت سناتے ہیں
اتنی سرد ہوا ہے باہر آنسو تک جم جاتے ہیں
آپ کہیں گے پھر شاعری کہاں سے آگئی کہ آپ شاعری سے دور بھاگتے ہیں اور ہم شاعری کے بنا رہ نہیں سکتے ۔ :)
اور ہم آپ سے بات کیے بنا بھی نہیں رہ سکتے۔ :) مجبوری ہے۔ :cautious:
بھیا کفر و ایمان میں تو ہم آپ کی کیا رہنمائی کریں گے کہ آپ خود ہی بنیادی باتوں سے آگاہ ہوں گے۔ سو جیسا آپ کے دل میں آئے ویسا ہی خیال کیجے۔ دراصل کچھ شعراء میں زیادہ بے باکی ہوتی ہے سو وہ اس طرح کے اشعار لکھ جاتے ہیں۔ اُن کا معاملہ اُن کے ساتھ ہے ہم کیا کر سکتے ہیں۔
عسکری بھائی جس مُلا کا ذکر کر رہے ہیں ۔ اس کا ذکر اقبال نے کچھ یوں کیا ہے:
اقتباس از "حکمت خیرکثیر است " ۔ (جاوید نامہ)۔
دین حق از کافری رسوا تر است
زانکہ ملا مؤمن کافر گر است
کم نگاہ و کور ذوق و ہرزہ گرد
ملت از قال و اقولش فرد فرد
مکتب و ملا و اسرارِ کتاب
کورِ مادر زاد و نورِ آفتاب...
اصل میں سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک شعر اور دیکھیے یہاں اس سلیقے کی فرمائش کی گئی ہے۔
وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں اُن سے
حُضور آہستہ آہستہ، جناب آہستہ آہستہ
:)
یا پھر یوں سمجھ لیجے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔