یوں تو میں آپ کی بات ٹھیک طرح سے نہیں سمجھا لیکن اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ میں طنز کر رہا تھا تو ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے انعام صاحب کی تحریر واقعی بہت اچھی لگی سو میں نے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا تھا۔
آپ کی بات ٹھیک ہے۔ لیکن ہمارا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے کہ اس سلسلے میں عام لوگوں کو جو ابہام ہیں ہم اُنہیں دور کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کے اقبال کی عظمت اور لوگوں کے دل میں بھی اُجاگر ہو سکے۔ :)
(کچھ تدوین مزید کی ہے)
جو رعنائی نگاہوں کے لئے فردوسِ جلوہ ہے
لباسِ مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی
یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پرودہ
یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بد صورت نظر آتی
جون ایلیا
بالکل بلال ! اقبال نے ہر ممکن احتیاط کی ہے اور بحیثیت ِ مجموعی اس نظم میں پاسِ ادب کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ تاہم فتویٰ لگانے والوں نے کچھ جلدی کا مظاہرہ کیا۔
ان اشعار میں کوئی ایسی بات نہیں۔۔۔۔! سوائے بے باکی کے۔
اقبال کی نظم "شکوہ" میں اس طرح کے اشعار اُن لوگوں کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں کہ جو اپنے ہر مسئلے اور تکلیف کی وجہ قسمت (خدا ) کو گردانتے ہیں اور اپنے اعمال پر نظر نہیں کرتے۔ اس طرح کے لوگ کبھی بلواسطہ اور کبھی بلا واسطہ خدا سے شاکی نظر...