معزز اراکینِ محفل، آپکی خدمت میں اپنی پہلی رباعی پیش کر رہا ہوں، امید ہے اپنی رائے سے نوازیں گے.
بکھرے ہوئے پھولوں کی کہانی سُن لے
ہے چار دنوں کی زندِگانی سُن لے
پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق
کرتا ہے خراب کیوں جوانی، سُن لے
بدل اُڈے تے گم اسمان دسیا
پانی اتریا تے اَپنا مکان دسیا
اوتھوں اگے فراق دیاں منزلاں سَں
جتھے پہنچ کے تیرا نشان دسیا
کم اوہو منیر سی مشکلاں دا
جہیڑا شروع وچ بوت اسان دسیا
(منیر نیازی)
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
پہلے دیتے ہیں دلاسہ کہ بہت کچھ ہے یہاں
اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے
کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے...