وبا
ایک دفعہ شہر میں سخت وبا پھیلی، میر مہدی مجروح نے پوچھ بھیجا کہ حضرت، وبا شہر سے دفع ہوئی یا ابھی تک موجود ہے۔
اس کے جواب میں لکھتے ہیں، "بھئی کیسی وبا، جب ایک ستر برس کے بڈھے اور ایک ستر برس کی بڑھیا نہ مار سکے تو تُف بریں وبا۔"
روزہ
رمضان کا مہینہ تھا، ایک سُنی مولوی مرزا سے ملنے آئے، عصر کا وقت تھا۔ مرزا نے خدمتگار سے پانی مانگا۔ مولوی صاحب نے تعجب سے کہا۔ "کیا جناب کا روزہ نہیں ہے؟"
مرزا نے کہا۔ "سُنی مسلمان ہوں، چار گھڑی دن رہے تو روزہ کھول دیتا ہوں۔"
رتھ
دلی میں بعض رتھ کو مؤنث اور بعض مذکر بولتے تھے، کسی نے مرزا سے پوچھا تو انہوں نے کہا۔۔۔۔
"بھیا، جب رتھ میں عورتیں بیٹھی ہوں تو مؤنث کہو، اور جب مرد بیٹھے ہوں تو مذکر سمجھو۔"
یزید اور با یزید
ایک روز مرزا سے ملنے ان کے کچھ دوست آئے ہوئے تھے کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا۔
دستر خوان بچھا اور کھانا آ گیا، برتن تو بہت زیادہ تھے لیکن کھانا نہایت قلیل تھا۔ مرزا نے مسکرا کر اپنے دوستوں سے کہا۔۔۔
اگر برتنوں کی کثرت پر خیال کیجیے تو میرا دستر خوان یزید کا دستر خوان...
قید
مرزا جب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں محمد نصیرالدین عرف میاں کالے صاحب کے مکان میں آ کر رہے۔
ایک روز کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارک باد دی۔
مرزا نے کہا۔ "کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے؟ پہلے گورے کی قید میں تھا، اب کالے کی قید میں ہوں۔"
گالی
مرزا کے مخالف انہیں خطوط میں گالیاں لکھتے رہتے تھے۔ ایک بار کسی مخالف نے انہیں ماں کی گالی لکھ دی۔
مرزا اسے پڑھ کر ہنسے اور بولے، اس بیوقوف کو گالی دینے کا بھی شعور نہیں ہے۔ بوڑھے اور ادھیڑ عمر شخص کو بیٹی کی گالی دینی چاہئیے تاکہ اسے غیرت آئے۔ جوان آدمی کو ہمیشہ جورو کی گالی دو کہ...
دادہ نہیں دلدادہ
ایک نو عمر نے غالب کو ایک خط لکھا جس میں انہیں دادا کے لفظ سے مخاطب کیا۔ نو عمر نے اپنی دانست میں غالب کے ادب و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا تھا۔ لیکن غالب نے اس نو عمر کو جوابی خط میں لکھا۔
میاں میں تمہارا دادا نہیں بلکہ دلدادہ ہوں۔
سپردِ خدا
ریاست رام پور کے نواب کلب علی خان انگریز گورنر سے ملاقات کیلئے بریلی گئے تو مرزا اسد اللہ خان غالب بھی انکے ہمراہ تھے، انہیں دلی جانا تھا بوقت روانگی نواب صاحب نے مرزا سے کہا۔۔
مرزا صاحب الوداع خدا کے سپرد
مرزا غالب جھٹ بولے۔
حضرت خدا نے تو مجھے آپ کے سپرد کیا تھا، اب آپ الٹا...
ذوق سودائی ہیں۔
ایک محفل میں لوگ میر تقی میر کی تعریف کر رہے تھے۔ اس محفل میں مرزا غالب بھی موجود تھے۔ اچانک شیخ ابراہیم ذوق بھی آ گئے اور بحث میں حصہ لیتے ہوئے مرزا رفیع سودا کو میر تقی میر پر ترجیح دینے لگے۔
غالب نے یہ سنا تو بے ساختہ بولے۔
میرا تو خیال تھا کہ آپ میری ہیں لیکن اب پتہ چلا...
غالب کی نماز
غالب کی مفلسی کا زمانہ چل رہا تھا، پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی اور قرض خواہ مزید قرض دینے سے انکاری۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک شام انکے پاس پینے کیلیے بھی پیسے نہ تھے، مرزا نے سنِ شعور کے بعد شاید ہی کوئی شام مے کے بغیر گزاری ہو، سو وہ شام ان کیلیے عجیب قیامت تھی۔
مغرب کی اذان کے...
آدھا مسلمان
غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ کر پوچھا۔
ویل، ٹم مسلمان ہے۔
مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔
کرنل بولا۔ کیا مطلب؟
مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔
کرنل...