غزل - کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے - صغیر ملال

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 6, 2007

  1. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,011
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے
    شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے

    ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
    پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے

    پہلے دیتے ہیں دلاسہ کہ بہت کچھ ہے یہاں
    اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے

    کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
    واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے

    دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں
    کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے

    جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا
    دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے

    زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملال
    کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے

    صغیر ملال
     
  2. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    "کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
    واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے"

    بہت خوب۔
     
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,011
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed

    بہت شکریہ آپ کا


     

اس صفحے کی تشہیر