باقاعدہ تو کبھی نہیں پڑی، بس ادھر ادھر سے فارسی کلام ترجموں کے ساتھ کافی پڑھا ہے.
بہت میٹھی زبان ہے اور ہمارا بہت سا علمی و ادبی ورثہ اس میں ہے جو کہ مردہ ہو رہا ہے. ایک حسرت ہی ہے کہ کاش فارسی آ جاتی ....
اے بسا آرزو کہ خاک شد
بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا
اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا
اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا...